مدینہ ثانی اور قریظہ کے سفیر ۔۔۔۔۔فہد احمد

پچھلے کچھ دنوں میں مبینہ طور پہ اسرائیلی سفارتی عملے کے پاکستان میں ڈرامائی طور پہ آنے کا ذکر چل  رہا ہے ، اس موضوع پہ شروع میں دھیان نہیں دیا کہ افواہ ہو سکتی ہے مگر اسی شام دنیا نیوز پہ  کامران خان کےپروگرام کو دیکھا جس میں انہوں نے بار ہا یہ سوال اٹھایا کہ ہمیں اسرائیل سے تعلقات  نہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ جہاز کے معاملے سے اس وقت  آگاہ  نہ ہونے کے با وجود پہلا
خیال جو میرے ذہن میں آیا کہ پاکستان میں اچانک سے اس حساس موضوع کو اس   انداز میں سرِ عام    زیرِ  بحث لانا کوئی روایتی یا معمولی بات نہیں۔ اس کے پیچھے آراء سازی کا ایک مکمل پلان ملوث ہے
اگلے ہی دو دن میں معاملہ ثابت ہو گیا، جہاں اس معاملے کے خلاف آوازیں اٹھیں وہیں اس معاملے نے  کئی عام پاکستانیوں کو متاثر کیا کہ ہم آخر کیوں اسرائیل کو تسلیم نہیں کر لیتے ہماری ان سے دشمنی کیا ہے۔

یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ نوعیت کا ہے ۔ اس کو دیکھنے کے لیے  لبرل دانشوروں کے انداز و روایتی مذہبی نظریے سے ہٹ کر ایک نظر اس موضوع پہ ڈالتے ہیں۔
جہاں بنی اسرائیل کی انتھک محنت و ملک اسرائیل کی بنیادوں پہ نظر ڈالتے ہیں۔
چلیے  تاریخ کے صفحے الٹتے ہوئے  ہم دو ہزار سال پیچھے چلتے ہیں، جب بنی اسرائیل کو انکی زمین سے بے دخل کیا جاتا ہے اور اللہ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ کبھی بھی تم یروشلم کی طرف لوٹ کر مت   آنا ، اور زمین میں منتشر ہو جاؤ  اور اپنے دشمنوں سے محفوظ رہو، یہ بنی اسرائیل کے لیے  مشکل کی گھڑی تھی۔

بنی اسرائیل کا حضرت موسی کے ساتھ دریا پار کرنا۔

یہاں سے   آگے بڑھتے ہیں، چودہ صدیاں قبل پہنچتے ہیں۔جہاں پہ بنو قریظہ کے یہودی اپنی غداری کے سبب مدینہ سے بے دخل کیے جا رہے ہیں، وہیں جنگ خیبر کا معرکہ بھی یہود کو ایک بار پھر بے گھر کر چکا ہے۔ بنی اسرائیل مختلف علاقوں میں ہجرت کر چکے ہیں۔

بنو قریظہ کی بد عہدی کے بعد قتال کا منظر
وہیں بنی اسرائیل و اہل یہود کے چند لوگ اس بات کا تہیہ کر لیتے ہیں کہ نہ صرف امت مسلمہ سے اس سبکی کا بدلہ لینا ہے بلکہ تمام اہل یہود کو ایک جگہ پہ اکٹھا کر کے ایک ریاست کا قیام عمل میں لانا ہے جہاں یہود کو  حقوق حاصل ہوں اور انکو کوئی بے دخل نہ کر سکے اور ایک دن وہ مدینہ واپس لوٹیں۔

چند صدیاں  آگے بڑھتے ہیں، صلیبی جنگیں شروع ہو چکی ہیں، بیت المقدس کے حصول کی لڑائی شروع ہو چکی ہے ، بالاخر مسلمان یروشلم فتح کر لیتے ہیں۔۔۔

صلاح الدین ایوبی و فتح یروشلم، بیت المقدس

اگلی صدی میں ، فرزندان اسرائیل پھر دوبارہ منظم ہوتے ہیں، بازنطین سمیت مختلف ریاستوں میں اپنا  اثر و رسوخ قائم کرتے ہیں ،ترکوں کے ساتھ گوریلا جنگیں چلتی ہیں۔ (ایک ترک و صلیبی جنگ کا منظر)

خلافت عثمانیہ وجود میں آچکی ہے ، بظاہر امن قائم ہو چکا ہے مگر عالم اسلام کے اندر ایک خاموش طوفان برپا ہے، بڑی تعداد میں غیر مسلم طالب علم اسلامی تعلیمات پہ عبور حاصل کر رہے ہیں ۔
( ترک سلطان محمد فاتح قسطنطیہ)

خلافت سپین کا خاتمہ ہوتا ہے ، خلافت عثمانیہ اندرونی محلاتی سازشوں کا شکار ہوتی ہے ، ٹیمپلرز  اپنا کام کر رہے ہیں۔ یہ اپنی قوم سے جتنے کل مخلص تھے  آج بھی ہیں۔

( سپین پہ مسلم حکومت کے خاتمے کا منظر )

یہ انیسویں صدی ہے ، حالات بدل رہے ہیں ، مسلمانوں کی مضبوط ریاستیں ، برطانوی ، فرنچ، ولندیزی پرتگیزی سامراجوں کے سامنے سرنگوں ہو رہی ہیں، خلافت عثمانیہ اپنے  آخری دن گن رہی ہے
( مغل ، پرتگالی جنگیں)


اتنے میں پہلی عالمی جنگ ہوتی ہے ، اس سے قبل عرب قوم پرست تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں، حجاز استنبول
کے ہاتھ سے نکل رہا ہے ،

لارنس آف عربیہ ، مشہور برطانوی جاسوس عرب قوم پرستوں کے ساتھ Lawrence of Arabiaترک جانثار اپنے خون سے ابیاری کر رہے ہیں بیت المقدس میں رئیس یہودی امراء ترک خلیفہ کے دربار میں اتے ہیں ، سونے اور زر کے ساتھ ترک ریاست کی  مدد و ہر صورت جنگی کامیابی کے لیئے کوشش کا یقین دلاتے ہیں، مقصد صرف ایک۔  کہ بیت المقدس ہمیں دے دیا جاے ، ترک خلیفہ انکار کرتا ہے کہ قدس میری ذاتی جاگیر نہیں۔

آخری عثمانی خلیفہ کا خط

برطانیہ ریئس یہودی قبائل سے مذاکرات کرتا ہے ، مالی امداد و جنگی رسد کے بدلے فتح کی صورت میں  قدس یہودیوں کو دینے کا وعدہ کرتا ہے ،

جنگ عظیم اول کا ایک اشتہار۔


آخر خلافت ختم ہوتی ہے ، ترک فوجیں ترکی کے اندرونی علاقوں تک لوٹ جاتی ہیں، حجاز و عرب اب  آزاد ریاستیں بن چکی ہیں، فلسطین بھی ایک ریاست کی حیثیت رکھتی ہے ، مگر ساتھ ہی اسرائیل کے قیام کا پروانہ یہود کو دے دیا جاتا ہے جس کے لیئے انہوں نے کئی ہزار سال تک مال و خون کی قربانی دی ہے ،

پوری دنیا سے اہل یہود اسرائیل کا رخ کرتے ہیں۔ اسرائیل پھیلنا شروع کرتا ہے چند بستیوں سے لے کر بڑھتے بڑھتے کئی شہروں تک پھیلنا شروع ہو رہا ہے ، ابتدا میں مقامی عرب عیسائیوں و مسلمانوں سے زمینیں منہ مانگے دام پہ خریدی جاتی ہیں، نئی ریاست کے لیئے مالدار یہود نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیے ہیں، اس کے بعد ریاست کا انتظام منظم کیا جاتا ہے ، مختلف ممالک سے رابطہ کاری کی جاتی ہے ، نوزائیدہ ریاست کو سائنس و ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل سیاست دانوں و شاطر کاروباریوں کا سہارا ہے ،ہر یہودی کو وطن سے محبت کا درس دیا جاتا ہے ، ہر شہری کے لیئے فوجی تربیت لازم ہے کہ بوقت ضرورت وہ اپنی ماں دھرتی کی حفاظت کے لیئے سر دھڑ کی بازی لگانے سے گریز نہ کرے ،ان سب معاملات کے بیچ بر صغیر میں، جہاں علامہ اقبال رح سقوط خلافت پہ نوحہ کناں ہیں وہیں قائد اعظم محمد علی جناح رح نے نوزائد یہودی ریاست کے لیئے ایک جملہ کہا، اسرائیل امت مسلمہ کے کے دل میں خنجر کے طور پہ پیوست کیا گیا ہے ،
پاکستان کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے ، اور روز اول سے ہی ہم اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، کیوں کہ انکی اصل ایک محکوم قوم پہ جابرانہ بلکہ تاجرانہ قبضہ ہے ، بلکل ویسے جیسے انگریز نے کشمیر ڈوگرہ راج کے ہاتھوں بیچا ویسے ہی قدس و فلسطین یہود کے ہاتھوں بیچا، دونوں جگہوں پہ اب یہود  و ہنود ان ریاستوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہو چکے ہیں،فاتح قوموں کے پاس دو راستے ہوتے ہیں، یا تو فتح کے بعد جبر و ظلم کا راستہ اختیار کر کے اپنی مرضی مسلط کی جائے بصورت دیگر مقامی محکومت آزادی کے ساتھ اچھے تعلقات بنا کر نئے مستقبل کی بنیاد رکھی جاے انہیں اپنا ہم نوا یا کم از کم پر امن غلام بنایا جائے ،اسرائیل و کشمیر کی حکومتوں نے ابتدا نرمی سے کی مگر وقت کے ساتھ ان کی حاکمانہ سوچ نے کسی بھی صورت طاقت کا ارتکاز خود تک محدود کرنے کی سعی کی ، و توسیع پسندانہ منصوبوں نے اس آگ کا بھڑکایا۔وہیں دوسری طرف  محکوم قوموں کے پاس دو ہی آپشن ہوتے ہیں، یا تو محکومی تسلیم کر لی جائے ، اور باقی کی زندگی امن سے گزاری جاے ، یا پھر ایک مستقل مزاحمت کی بنیاد رکھی جاے، اس کے طریقہ کار میں اختلاف ہو سکتا ہے ،مسلمان قوم کے خون میں ہی محکومی و غلا می کو قبول کرنے کا عنصر نہیں ہے ۔

نتیجے   میں فلسطین نے پر امن مزاحمت شروع کی، وقت کے ساتھ یہ مزاحمت کچھ حد تک مسلح ہوئی اور باقی اس میں دشمن کے تربیت یافتہ افراد شامل کیئے گئے جو ہنگامہ خیزی جاری رکھیں اور عالمی طور پہ یہ تاثر جائے کہ پر امن حکومتوں کی رٹ کا چیلنج کیا جا رہا ہے ، اس کے لیئے ، مستعربین Musta’ribeen,


کا استعمال بھی معمول بن گیا ہے ، یہ در اصل وہ لوگ ہیں جو اسرائیلی حکومت کے لیے کام کرتے ہوے حکام پہ پتھر بازی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مشتعل ہونے کے بعد عام پر امن فلسطینی اسکا نشانہ بنتے ہیں۔ اور حکومت مظلومیت کا کارڈ کھیلتی ہے ، مستعربین سے ہی ملتا جلتا طریقہ کشمیر میں اپنایا جاتا ہے ،آپریشنز کے ذریعے پر امن کشمیریوں کو بھی شد ت پسند دکھایا جاتا ہے ۔ False Flag اور   مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، ابتدا میں جن فلسطینیوں نے اپنی زمینیں اسرائیلیوں کو مہنگے داموں بیچیں ان سے قطع نظر اب ہر کس و ناکس بے گناہ فلسطنیوں کو انکی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے ۔
اس صورت حال میں جہاں فلسطین و کشمیر کی اخلاقی مدد و حمایت ہمارا قومی فرض ہے وہیں بطور ملت اسلامیہ اسرائیل کو تسلیم کرنا یا اسکے ہی طریقے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ ماننے کے مترادف ہے ، ہمیں اسرائیل کی مخالفت یا حمایت کے لیئے کسی عرب ملک کی پیروی کی حاجت نہیں۔ہم اسلام و اقدار و احکامات اسلام کے پابند ہیں کسی عرب یا دیگر مسلم ریاست یا حکمران کے نہیں۔ بخدا چاہے ساری دنیا اسرائیل کو تسلیم کر لے تو بھی یہ حقیقت رہے گی کہ فلسطین کو خریدا گیا اور اب خریدی گئی زمین سے کہیں زیادہ پہ قبضہ ہو رہا ہے اور اسرائیلی ظلم و جبر کو کوئی اخلاقی جواز نہیں۔Legitmate چاہے ہم وہ آخری مسلمان پاکستانی ہوں جو اسرائیل کوریاست تسلیم نہیں کریں گے۔

https://en.wikipedia.org/wiki/Borders_of_Israel
فلسطین کو تقسیم کرنے کا معاہدہ

https://en.wikipedia.org/wiki/Sykes%E2%80%93Picot_Agreement
اگر لفظ امت، ملت، اخلاقی فرض اپکو گراں گزر رہے ہیں تو اس معاملے کو پاکستان کے قومی مفاد کے تناظر  میں دیکھتے ہیں۔اسرائیل کا قیام عمل میں آتے ہی قائد اعظم کے الفاظ پہ غور کیجیئے ، جن کے بقول قائد اعظم ایک سیکولر  شخصیت تھے، انکے مذہبی نظریات سے قطع نظر پاکستان کے بانی کی نظریے کو دیکھتے ہیں۔میں اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات بنانے کی کوششوں قائد کے الفاظ مہر ہیں

1947

پاکستان اپنے قیام کی بنیاد کے نظریے کے طور پہ کبھی اسرائیل کو ایک جائز ریاست تسلیم نہیں کرے گا۔ اس سے قبل خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور معاہدہ بلفور پہ قائد کے یہ الفاظ حرف ہماری پالیسی پہ حرف آخر کی حیثیت رکھتے ہیں۔” اسرائیل امت مسلمہ کے سینے میں خنجر کی طرف پیوست کیا گیا ہے ۔ ”
On 26 December 1938, in his presidential address to the All-India Muslim League at Patna, Muhammad Ali Jinnah declared:
“I know how deeply Muslim feelings have been stirred over the issue of Palestine. I know Muslims will not shirk from any sacrifice if required to help the Arabs who are engaged in the fight for their national freedom. You know the Arabs have been treated shamelessly — men who fighting for the freedom of their country, have been described as gangsters, and subjected to all forms of repression. For defending their homelands, they are being put down at the point of the bayonet, and with the help of martial laws. But no nation, no people who are worth living as a nation, can achieve anything great without making great sacrifices, such as the Arabs of Palestine are making. All our sympathies are with those valiant martyrs who are fighting the battle of freedom against usurpers. They are being subjected to monstrous injustices which are being propped up by British Imperialism with the ulterior motire of placating the international Jewry which commands the money-bags…[8]
([8] Ibid. p. 307.)

یہ معاملہ ایک دوسرے کو تسلیم کرنے سے متعلق یہاں اختتام پذیر ہوتا ہے ، اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس سے مراد مستقل دشمنی نہیں ۔

اب ایک نظر اسرائیل کی نظر سے پاکستان کو دیکھتے ہیں۔ پوری دنیا میں صرف دو ریاستیں مکمل طور پہ مذہبی نظریات کی بنیاد پر وجود میں آئی ہیں۔یہودی مذہبی نظریے و یہودی ملت کی ریاست ، اسرائیل اور اسلامی و مسلمان ملت کے حقوق کی آواز بننے والی ریاست پاکستان ، اور اپنے قیام سے ہی یہ ریاستیں ایک دوسرے کے وجود سے انکاری رہی ہیں۔ مگر چند باتیں دونوں قوموں و ممالک میں مشترک ہیں۔دونوں ریاستوں کے قیام میں دو دانشوروں اور دو سیاست دانوں کا کردار مماثلت رکھتا ہے  جنکے نظریات کو Theodore Herzl مصور اسرائیل، تھیوڈر ہرزیل ،  ڈیوڈ بن گوریون بابائے اسرائیل۔ David Ben-Gurion عملی جامہ پہنایا۔مصور پاکستان ڈاکٹر محمد اقبال ؒ، جنکے نظریات کو عملی جامہ پہنایا ، قائد اعظم محمد علی جناح ؒ بابائے پاکستان نے ۔یا صیہونی تحریک کا قیام عمل میں لایا گیا۔Zionist اسرائیل کے قیام کے لیئے یہودی قوم پرست تنظیم  علامہ اقبال کے نظریات اس متعلق کیا تھے ۔ ،ملاحظہ کیجیئے
“We must not forget that Palestine does not belong to England. She is holding it under a mandate from the League of Nations, which Muslim Asia is now learning to regard as an Anglo-French institution invented for the purpose of dividing the territories of weaker Muslim peoples. Nor does Palestine belong to the Jews who abandoned it of their own free will long before its possession by the Arabs. Nor is Zionism a religious movement…. Indeed the impression given to the unprejudiced reader is that Zionism as a movement was deliberately created, not for the purpose of giving a National Home to the Jews but for the purpose of giving a home to British Imperialism on the Mediterranean littoral.
“The Report amounts, on the whole, to a sale under duress to the British of the Holy Places in the shape of the permanent mandate which the Commission has invented in order to cover their imperialist designs. The price of this sale is an amount of money to the Arabs plus an appeal to their generosity and a piece of land to the Jews. I do hope that British statesmen will abandon this policy of actual hostility to the Arabs and restore their country to them.”[2]
) [2] Speeches, Writings and Statements of Iqbal, ed. Latif Ahmed Sherwani, (Lahore, 1977), pp. 244-245.(
Muslim Zion ماضی پہ اپنی اس شناخت پہ نازاں اس قوم نے پاکستانیوں کے لیئے بھی ، مسلم صیہون  کی اصطلاح متعارف کرا دی ہے ، جو شائد ہمارے لیے پسندیدہ نہ ہو ، مگر یہودی صیہونی پاکستانی نظریہ کو اپنے مخالف کھڑا ہوا مضبوط مد مقابل نظریہ سمجھتے ہیں، جس کی بنا پہ ہمیں طنزاً ، عربوں سے زیادہ عرب کہا جاتا ہے کہ اور ہم امت کے لیئے لڑنے مرنے کے لیئے تیار رہتے ہیں، جس کی مثال عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان کا اہم کردار ہے ، جس میں اسرائیل کو نقصان پہنچایا گیا، جس کا جواب اسرائیلی ایجنسیز نے بھارت کے ساتھ مل بنگلہ دیش کی علیحدگی میں بلوچستان وشمالی علاقوں کی شورشوں میں کردار ادا کیا ،  سفارتی اصطلاحات میں، کسی ملک سے دوستی ، ہم آہنگی ، سفارتی تعلقات میں اور بوقت ضرورت رابطہ کاری میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ، اسرائیل کے ساتھ ہمارے اختلافات شروع سے ہیں اور رہیں گے،  جس طرح مسئلہ کشمیر پہ بات کے بغیر بھارت سے سو فیصد امن نہیں قائم ہو سکتا اسی طرح مسلئہ فلسطین کو حل کیے بغیر یہ عداوت و مخالفت ختم ہونا ممکن نہیں، وہیں اسرائیل کی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو بھی مد نظر رکھنا اہم ہے ، جس کے لیئے بلواسطہ امریکہ  کا کور استعمال کیا جاتا ہے ۔مذاکرات کے ذریعے امن ممکن ہے جس کی مثال آپ مندرجہ ذیل پیرا گراف سے لے سکتے ہیں،
Their related ideological origin have never prompted the two nations(Israiel & Pak) to develop long-lasting diplomatic ties, contending as they were on the Palestinian issue. (There was a brief “Karachi spring” during the Musharraf-Ariel Sharon era, soon after Israel’s disengagement from Gaza, when their Prime ministers s and Foreign ministers engaged in public Handshake diplomacy.)

اگر اپ کو ا س معاملے میں ہمارے نظریات ناقابل عمل لگتے ہیں تو خود پہلے اسرائیلی وزیر اعظم کو سنیں
Israel’s first prime minister David Ben-Gurion told the Zionist leader Nahum Goldmann: “Why should the Arabs make peace? If I was an Arab leader I would never make terms with Israel. That is natural. We have taken their country.
ان سب کے باوجود اگر مسئلہ فلسطین کو درمیان سے نکالا جاے تو ہم مسئلہ کشمیر سے بھی دستبردار ہوں گے جو واضح لفظوں میں پاکستان کی اخلاقی پستی ، ہزاروں شہیدوں کے خون سے غداری کے ساتھ ساتھ اقتصادی و معاشی موت کے مترادف و پاکستان کو دریائی پانی کی عدم موجودگی میں پیا سا مارنے کے پروانے پہ دستخظ کرنا ہے ، کیا ہم اس کے متحمل ہو سکتے ہیں ؟ شائد نہیں!

امن کی بات ہمیشہ دو طرفہ ہوتی ہے ، ہمارا ریاستی بیانیہ کبھی بھی اعلانیہ طور پہ اسرائیل کے خلاف نہیں رہا، جب کہ اس کے برعکس اسرائیل کی آفیشیل ویب سائٹ پہ پاکستان کے لیئے کن الفاظ کا استعمال کیا جا تا ہے


وہیں اول اسرائیلی سربراہ سے منسوب ایک قول بھی مشہور ہے

ان سب حالات میں ، میں چند نکات پہ سوال اٹھانا چاہتاہوں ان دوستوں سے جو سمجھتے ہیں اسرائیل سے تعلقات نا گزیر ہیں۔ بلکہ تعلقات سے بڑھ کر سفارتی تعلقات و ریاست کو تسلیم کر لینا چاہیے ۔
1۔ پاکستان اسرائیل سے بعض معاملات پہ بیک ڈور ڈیپلومیسی کے ذریعے بقد ر ضرورت تعلقات پہلے ہی رکھتا ہے جو کوئی پوشیدہ بات نہیں۔ اس کے با وجود کیا اسرائیل سے کھلے عام تعلقات کے متحمل ہم ہو سکتے ہیں؟
2۔ پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فوری بعد خطے میں اسکے کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟ ایران و افغان طالبان سمیت دنیا بھر میں جاری مظلوم مسلمان ممالک و کشمیر کی حمایت ممکن رہے گی ؟پاکستان کے اندر اسکے اثرات کیا ہوں گے ؟ کیا 98 فیصد مسلمان آبادی کا ملک یہ تسلیم کرے گا ؟
3۔ اسرائیل سے تعلقات کی صورت میں پاکستان میں کھلے عام اسرائیلی ویزہ پالیسی مرتب کرنے کے بعد دونوں ملکوں میں جاسوسوں کی بھرمار کو روکا جا سکتا ہے ؟ بھارتی سفارت کاری کے لبادے میں جاسوس ، و سی آئی اے و دیگر کے ہوتے کیا ہم مزید کوئی سردرد مول لے سکتے ہیں ؟
4۔ آخر اسرائیل کو پاکستان سے دوستی سے کیا فوائد ہیں؟ کیا انہیں ہم میں دلچسپی ہے ؟ کیا ہم ان کے لیئے نا گزیر ہیں ؟ کیا ہم ان کے ساتھ ایک بڑا تجارتی حجم قائم کر سکتے ہیں ؟ جب کہ ہم سے بڑی منڈی بھارت کے ساتھ انکے قدیم تعلقات و اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پہلے ہی موجود ہے ، بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدوں کی موجودگی سے کیا کسی قسم کے واضح فوائد موجود ہیں ؟
5 – اسرائیل اپنے مالی طاقت سے ہٹ کر افرادی قوت کی کمی رکھتا ہے ، جس کی کمی کو امریکی فوجی طاقت سے پورا کیا جاتا ہے ، اور اس طرح اسرائیل امریکہ کے دست راست کے طور مشرق وسطی میں کام کر رہا ہے ، ایسے میں پاکستان میں انکی آمدسی پیک و چینی مفادات کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
6۔ کیا ستر سال کی اس جنگ کے نتیجے میں دونوں اقوام کی ایک دوسرے کے خلاف دشمنی اچانک سے ختم
جذبات اچانک سے ختم ہو جایں گے ۔ ؟ Hostile ہو جاے گی ؟ کیا ایجنسیز ایک دوسرے کے خلاف کام کرنا بند کر دیں گے ؟ خفیہ ایجنسیز دوستوں سمیت دشمن ممالک ہر  جگہ نظر رکھتی ہیں اور جہاں ملکی مفادات کے متصادم کوئی مسلئہ ہو نمٹتی ہیں۔ ایسے میں اس خطرناک کام کی کیا ضرورت ہے ؟ سی ائی اے کی دوستی کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں، کلبھوشن سے جان نہیں چھوٹ رہی ایسے میں آ بیل مجھے مار کے مصداق کسی کام کی کیا ضرورت ہے ۔؟

میں ذاتی طور پہ نہ ہر یہودی سے نفرت کرتا ہوں ، نہ اسرائیل پہ ایٹم بم مارنے کے دعوے ، یہودی اپنی ریاست میں رہیں اپنی پر امن زندگی گزاریں، اپنے مذہبی عقائد کے ذمے وار و ہ خود ہیں ۔ بطور انسان مجھے ان سے کوئی غرض نہیں سوا اس کے کہ وہ فلسطین کے معصوم انسانوں پہ ظلم ڈھا رہے ہیں اور میرے ملک میں عدم استحقام کا باعث انکی ملکی پالیسیاں ہیں، وہیں ان سے تعلق میرے ملک کے مفاد میں نہیں۔
پاکستان مدینہ ثانی ہے ، بنوقریظہ کے جانشینوں سے سفارت کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
الغرض میری ناقص رائے میں پاکستان کسی قسم  کے  ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا ، اور نہ یہ کوئی فائدہ مند سودا ہے ، جس میں دنیاوی و دینی لحاظ سے خسارہ کے سوا کچھ نہیں، اج ضرورت اس امر کی ہے کہ عام عوام کو ان حقائق سے آگاہ کیا جاے کہ کیا وجہ ہے کہ ہم نے اج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، اور کیا وجہ ہے کہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے، یہ معاملہ ہماری قومی غیرت کا بھی ہے ، شہدا کے خون کا تقاضا بھی سیدی رسول اللہ کے فرمان بھی اور احتیاط بھی ۔ اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *