کرونا وائرس:چند ضروری معلومات

وائرس کی اپنی بائیو سنتھیٹک مشینری (biosynthetic machinery) نہیں ہوتی۔ جس کا مطلب ہے یہ خوراک نہیں کھا سکتا۔ یہ خوراک کو توڑ کر اس سے اپنی روزمرہ کی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے انرجی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ خود سے اپنی تعداد نہیں بڑھا سکتا۔ یہ اپنے نیوکلیک ایسڈز کو ریپلیکیٹ (replicate) نہیں کر سکتا۔ حرکت نہیں کر سکتا۔ وائرس کو یہ سارے کام سرانجام دینے کے لئے ایک ہوسٹ (host) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لئے تمام وائرسز کو (obligate endoparasites) کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ کسی دوسرے زندہ جاندار کے جسم کے اندر رہ کر ہی افزائش کرسکتے ہیں۔ عمل تولید کر سکتے ہیں۔ انہیں لیبارٹری میں آرٹی فيشل ميڈيا پر grow نہیں کیا جاسکتا۔ وائرس چونکہ خود سے حرکت بھی نہیں کر سکتا اس لئے یہ passively ہی کسی ہوسٹ تک پہنچتا ہے۔ ہوسٹ تک پہنچ کر سب سے پہلے یہ اس کے جسم کے سیلز میں گھستا ہے۔ وائرس کی آمد سے پہلے ہوسٹ کے جسم کے سیلز ہوسٹ کے لئے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے لئے انرجی یعنی ATP پیدا کر رہے ہوتے ہیں۔ بیماریوں کے خلاف لڑ رہے ہوتے ہیں۔

مختصر یہ کہ جسم کو توازن یعنی homeostasis میں رکھنے کے لئے اپنا اپنا بہترین کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جونہی وائرس ہوسٹ کے ان سیلز میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے ان کا مکمل کنٹرول اپنے اختیار میں کرتا ہے۔ سیلز کے میٹابولزم یعنی وہ ری ایکشنز جو ہوسٹ کے سیلز ہوسٹ کے لئے کر رہے ہوتے ہیں اب وہ وائرس کے لئے کرنا شروع کردیتے ہیں۔ وائرس اپنے ہوسٹ کے سیلز سے سب سے پہلے اپنے نیوکلیک ایسڈز کی کاپیز تیار کرواتا ہے۔ ایک سے دو,دو سے چار اور اسی طرح وائرس کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ ایک ہوسٹ سیل جس کو آغاز میں ایک وائرس نے ہائی جیک کیا تھا اب وہ ہزاروں وائرسز کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ہے۔ اسی دوران یہ ہوسٹ سیل پھٹ جاتا ہے جسے لائسز (lysis) کہا جاتا ہے۔ ایک سیل کے پھٹنے سے ہزاروں وائرسز برآمد ہوکر ہوسٹ کے جسم کے ہزاروں نئے سیلز میں گھس جاتے ہیں۔ ایک بار پھر سے وہ تمام سیلز وائرس کی تعداد بڑھانے میں لگ جاتے ہیں۔ اور لاکھوں نئے سائیکلز شروع ہوجاتے ہیں۔ ان سارے مراحل کے دوران ابھی تک ہوسٹ بظاہر صحت مند رہتا ہے۔ کیونکہ ہوسٹ کا اپنا جسم بھی کھربوں سیلز کا بنا ہے اور لاکھوں سیلز تباہ ہوجانے کے باوجود نارمل دکھائی دیتا ہے۔ ان مراحل کو وائرس کا انکیوبیشن پیریڈ (incubation period) کہا جاتا ہے۔ بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک یہ انکیوبیشن پیریڈ جاری رہتا ہے۔ جب ہوسٹ کے باڈی سیلز ایک خاص تعداد تک تباہ ہو جائیں تب جسم نارمل فنکشنز نہ کر سکنے کی وجہ سے بیماری کی علامات ظاہر کرنا شروع کرتا ہے۔

اس ساری معلومات کا مقصد آپ کو یہ یقین دلانا ہے کہ اگر آپ اب تک کرونا میں مبتلا نہیں بھی ہیں پھر بھی آپ خود کو اور دوسروں کو بچائیں۔ آپ میں سے کوئی بھی وائرس کا کیرئیر ہوسکتا ہے مگر وائرس انکیوبیشن پیریڈ میں ہونے کے باعث علامات ظاہر نہیں کر رہا۔

بہت سے لوگ سوال کر رہے ہیں کہ اگر کرونا وائرس کا اب تک کوئی خاص علاج دریافت نہیں ہوا ہے تو کرونا میں مبتلا لوگوں کی ایک خاص تعداد ہسپتالوں سے صحتیاب ہو کر کیسے ڈسچارج ہو رہی ہے؟

تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہسپتالوں اور قرنطینہ سنٹرز (quarantine) قائم کرنے کا واحد مقصد کرونا میں مبتلا لوگوں کو صحت مند لوگوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔ تاکہ بیمار لوگ اپنے اردگرد صحت مند لوگوں تک وائرس کی منتقلی کا سبب نہ بنیں۔ آئسولیشن سنٹرز میں داخل مریضوں کو دنیا بھر میں صرف سادہ پین کلرز دی جا رہی ہیں۔ سانس اکھڑنے پر وینٹی لیٹرز پر شفٹ کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ صحتیاب ہورہے ہیں وہ اپنے جسم کے مدافعتی نظام کے باعث ہورہے ہیں۔ مدافعتی نظام یا امیون سسٹم بیماری پیدا کرنے والے جراثیموں کے خلاف ہمارے جسم کا ایک قدرتی حفاظتی نظام ہے۔ اور یہی قدرتی حفاظتی نظام ہی لوگوں کو کرونا سے محفوظ کر رہا ہے۔

لوگوں کا ایک دوسرا سوال بھی ہے کہ کرونا وائرس جسم کے کن حصوں کو متاثر کرتا ہے؟ کرونا وائرس سانس کی نالیوں اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ شروع میں جب وائرس سانس کی نالیوں کی دیواروں کے سیلز میں گھستا ہے تو ری ایکشن کے طور پر ریسپائیریٹری نالیاں میوکس پیدا کرتی ہیں جس سے نزلہ، زکام، کھانسی اور چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جسم وائرس کا قلع قمع کرنے کے لئے نارمل باڈی ٹمپریچر جوکہ 37 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے کو بڑھا دیتا ہے۔ اس وجہ سے بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ ان سارے عوامل سے یا تو وائرس کا قلع قمع ہوجاتا ہے اور مریض کے کرونا ٹیسٹس منفی آنے لگ جاتے ہیں۔ یا پھر اگر یہ سارے عوامل کام نہ دکھا پائیں تو ہم کہتے ہیں کہ مریض کا امیون سسٹم کمزور ہے اور پھر پھیپھڑوں کی تباہی شروع ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہر لمحہ مریض کو بچا پانا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس عالمی وبا کے خلاف کھڑے ہوکر خود کو بچانا ہے۔ اپنے اہل خانہ کو بچانا ہے۔ اپنے ملک کو بچانا ہے۔ اور تمام نسل انسانی کو اس بحران سے پار اتارنا ہے۔ اپنے گھروں میں قیام کریں۔ اپنے ہاتھوں کو دھوتے رہیں۔ مصافحے اور معانقے سے پرہیز کریں۔ پُرہجوم جگہوں سے دور رہیں۔ سیر سپاٹے ترک کردیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *