• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خوشحالی سے آدم خوری تک ۔ تہذیب کا خاتمہ ۔ ایسٹر آئی لینڈ (6) ۔۔وہاراامباکر

خوشحالی سے آدم خوری تک ۔ تہذیب کا خاتمہ ۔ ایسٹر آئی لینڈ (6) ۔۔وہاراامباکر

ایسٹر آئی لینڈ کی تاریخ جنگلات اور ماحول کی تباہی کی بڑی مثال ہے۔ پورے جنگل کا نام و نشان مٹ گیا۔ درختوں کی انواع معدوم ہو گئیں۔ یہاں کے باسیوں پر اسکا نتیجہ خام مال کے ختم ہو جانے، جنگلی جانوروں کے ناپید ہو جانے کی وجہ سے خوراک کے خاتمے اور زرعی پیداور میں کمی کی صورت میں نکلا۔

لکڑی، چھال، رسی، کپڑے اور پر ختم ہو گئے۔ بڑے درخت ختم ہو جانے کی وجہ سے کشتیاں ختم ہوئیں اور ساتھ ہی مجسموں کی ٹرانسپورٹ۔ جب یورپی یہاں پہنچے تو ان کے پاس ایک سے دو اشخاص کے بیٹھنے کی چند کمزور کشتیاں باقی تھیں۔ سرد اور گیلی راتوں کے وقت جلانے کے لئے لکڑی بھی نہیں تھی۔ گنے، گھاس اور فصلوں کی باقیات کو جلا کر ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ جو لکڑی والی جھاڑیاں بچی تھیں، ان تک رسائی کے لئے شدید مقابلہ آرائی تھی۔ گھر بنانے، جسم ڈھکنے اور اوزار بنانے کے لئے ان کی ضرورت تھی۔ مرنے کے بعد جلائے جانے کی بھی
رسم ختم ہو گئی۔

کشتیاں ختم ہو جانے کے بعد بڑی مچھلیوں کی ہڈیاں اور مچھلی پکڑنے کے کانٹے بھی کچرے سے غائب ہوتے گئے۔ پام کے میوے، مالے سیب اور جنگلی پھل غذا سے نکل گئے۔ واحد جنگلی غذا چوہے رہ گئے۔ فصلوں کی پیداور کم ہو گئی۔ اس کی ایک وجہ بارش اور ہوا کی وجہ سے ہونے والا کٹاوٗ تھا۔ شروع میں فصل پام کے درخت کے سائے میں اگائی جاتی تھی جو اس کو ہوا اور بارش سے محفوظ رکھتا تھا۔ پام ختم ہو جانے کے بعد پوئکے میں کھیٹوں سے مٹی کے کٹاوٗ اور بہاوٗ نے آہو اور عمارتوں کو بھی مٹی میں دفن کر دیا۔ مٹی کی غذائیت کم ہو گئی۔ جنگلی درختوں سے گلے سڑے پتوں، پھلوں اور شاخوں کی کھاد ختم ہو گئی۔

اس کا نتیجہ فاقہ زدگی، آبادی کے کریش اور آدم خوری شروع ہو جانے کی صورت میں نکلا۔ ایک چھوٹے مجسمے موائی کاوا کاوا پر کسی آرٹسٹ نے اس دور کی تصاویر کھودی ہیں۔ پسلیاں نکلی ہوئی، پچکے گال، فاقہ زدہ لوگ۔ کیپٹن کُک جب ان جزیرے کا باشندوں سے ملے تو ان کو “چھوٹے، کمزور اور اداس” کہا۔ ریائش گاہوں کی تعداد اپنے عروج کے مقابلے میں ایک چوتھائی رہ چکی تھی۔ کھنڈر ہوتے خالی پڑے گھر باقی گئے تھے۔ کھانے کی آخری چیز انسان تھے۔ ایسٹر آئی لینڈ میں کچرے کے آخری ڈھیروں میں توڑی گئی انسانی ہڈیاں ہیں جن کو مرنے والے کی ہڈی کا گودا چوسنے کے لئے توڑا گیا ہے۔ زبانی روایات میں آدم خوری کا تذکرہ نظر آتا ہے۔ یہاں کی گالیوں میں بھی ملتا ہے۔

سیاسی اور مذہبی قیادت کے اونچے مرتبے کا انحصار خوشحالی پر ہوتا ہے۔ یادگاریں بھی خوشحالی کی علامت ہوتی ہیں۔ لدے پھندے درخت، زرخیز زمین سے اگتی فصلیں اور اضافی خوراک سے بنائے گئے پراجیکٹ۔ یہ سلسلہ جب ختم ہونا شروع ہوا تو انقلاب آیا۔ عسکری قیادت، ماٹاٹوا، نے روایتی قیادت کا تختہ 1680 میں اُلٹا دیا۔ خانہ جنگی چھڑ گئی اور سیاسی اکائی ٹوٹ پھوٹ گئی۔ اس دور کی لڑائی کے نیزے آج بھی ایسٹر آئی لینڈ پر بکھرے نظر آتے ہیں۔ اشرافیہ، ہاری پائینگا، کے علاقوں میں عام لوگ رہنے لگے۔ غاروں میں رہائش شروع ہو گئی۔ ان کو کشادہ کر لیا گیا۔ داخلہ حفاظت کے لئے تنگ کر لیا گیا۔ یہاں پر خوراک کی باقیات، ہڈی سے بنی سوئیاں، لکڑی کے اوزار، کپڑا مرمت کرنے کے اوزاروں کا ملنا واضح کرتا ہے کہ غار چھپنے کے لئے نہیں، بلکہ رہائش کے لئے استعمال ہونے لگے تھے۔ منہدم ہونے والے معاشرے بھاری انسانی قیمت وصول کرتے ہیں۔ یہ رفتہ رفتہ نہیں ہوتا۔ انقلاب، خانہ جنگی اور قتل و غارت سے ہوتا ہے۔ ایسٹر آئی لینڈ بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔

روایتی نظریات اور راہنماوٗں کو مسترد کر دیا گیا۔ ان کی طاقت ختم ہو گئی اور ساتھ ہی ان کے پراجیکٹ بھی۔ آخری آہو اور آخری موائی 1620 میں کھڑا کیا گیا۔ یہ معاشرے کے انہدام کا ابتدائی دور تھا۔ 1600 سے 1680 کے درمیان آبادی کم ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی زمین ترک کی جاتی رہی۔ 1680 کے فوجی انقلاب کے بعد قبائل نے اپنے حریفوں کے موائی گرانا شروع کر دئے۔ ان کو آگے کی طرف دھکیل کر اوندھے منہ گرایا جاتا تا کہ سخت جگہ پر گریں اور ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہو۔

ہر منہدم ہونے والے معاشرے کی طرح زوال عروج کے کچھ ہی عرصے بعد اور بہت تیزی سے آیا۔ روایات کے مطابق گرایا جانے والا آخری مجسمہ سب سے بڑا پارو تھا جس کو 1840 میں گرایا گیا۔ یہ ایک خاتون نے اپنے شوہر کی یاد میں تعمیر کروایا تھا۔ اس کو گرانے والا ان کا ایک حریف خاندان تھا۔

بہت سے آہو توڑے گئے۔ ملبے کا ڈھیر رہ گئے۔ آج بھی یہاں پر گاڑی چلاتے ہوئے ٹوٹے ہوئے یہ آہو اور مجسمے نظر آتے ہیں۔ جب اس کو دیکھ کر آپ یہ سوچتے ہیں کہ اس جزیرے کے باسیوں نے یہ خود کیا تھا۔ اپنے آباء کے صدیوں کے کام کو تہس نہس کیا تھا تو پھر اس جزیرے کی ٹریجڈی اور دُکھ کا ٹھیک طرح سے احساس ہوتا ہے۔

جیسے کمیونزم کے انہدام کے بعد رومانیہ یا روس کے شہریوں نے چاوٗشیسکو یا سٹالن کے مجسمے الٹائے گئے تھے۔ شاید ویسے ہی یہاں رہنے والوں نے اپنا غصہ ان پر اتارا ہو یا پھر نئے انقلابیوں، ماٹاٹوا، کے احکام کی پیروی کی گئی ہو۔

یہاں پر رہنے والوں کا طرزِ زندگی تباہ ہو گیا۔ بھوک سے معاشرہ تباہ ہو گیا۔ لوگ ختم ہو گئے۔ خانہ جنگی آبادی میں ایک دوسرے کو مار دیا گیا۔ ایک دوسرے کو کھانے لگے۔ لیکن انسان رہنے کا طریقہ بھی ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ہمیں مرغیوں کی تعداد میں اضافہ نظر آتا ہے۔ نئے نظریات نظر آتے ہیں۔ آرٹ ورک اب تصاویر کھودنے والا نظر آتا ہے۔ خواتین کی “دلچسپ” تصاویر سب سے زیادہ کھدی نظر آتی ہیں، لوگوں کے معمولات کی تصاویر اور پرندوں کی تصاویر نظر آتی ہیں۔ گرے ہوئے مجسمے اس نئے آرٹ کی جگہ بن گئے۔ ہر سال سرد پانی میں ایک میل کی تیراکی کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ سالانہ چیمپئن کا اعزاز دیا جاتا تھا۔ یہ مقابلے 1867 تک ہوتے رہے۔ جب ایسٹر آئی لینڈ کی باقی ماندہ ثقافت کو باہر سے آنے والی دنیا نے ختم کر دیا۔

ایسٹر آئی لینڈ کے راپا نوئی معاشرے کی کہانی باہر کی دنیا سے رابطے نے ختم کر دی۔ کیپٹن کک کے 1774 کے مختصر پڑاوٗ کے بعد یہاں یورپی آتے رہے۔ 1805 میں یہاں کے لوگوں کو جبری مشقت کے لئے پکڑا گیا۔ سب سے برُا سال 1862 کا رہا۔ اس جزیرے کی آبادی اپنے عروج کے وقت کی تیس ہزار سے کم ہو کر تین ہزار تک آ چکی تھی۔ اس برس پیرو سے آنے والے جہاز ان میں سے نصف کو غلام بنا کر لے گئے۔ ڈیڑھ ہزار لوگ نیلامی میں بک گئے۔ ان کو پیرو میں گوانو کی کانوں پر کام کرنے اور دوسری مشقتوں کے لئے لے جایا گیا۔ زیادہ تر اسی اسیری میں چل بسے۔ عالمی پریشر کے تحت پیرو نے درجن بھر بچ جانے والوں کو رہا کر کے واپس جزیرے پر بھیج دیا۔ یہ واپس پلٹنے والے اپنے ساتھ چیچک کی وبا لے آئے، جس نے باقی آبادی کو نشانہ بنا لیا۔ 1872 میں یہاں پر صرف 111 مقامی لوگ بچے۔

یورپی تاجر اپنے بھیڑیں لے آئے اور زمین کی ملکیت کا دعویٰ کر دیا۔ 1888 میں چلی کی حکومت نے اس جزیرے کو اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ یہ جزیرہ عملی طور پر بھیڑوں کی چراہ گاہ بن گیا۔ چلی میں بننے والی سکاٹش کمپنی کو اس کا ٹھیکہ مل گیا۔ تمام مقامی لوگ ایک گاوٗں تک محدود رہ گئے اور کمپنی کے لئے کام کرتے۔ 1914 میں بغاوت کی۔ چلی کی فوج نے اس کو ختم کر دیا۔ بھیڑ بکریوں اور گھوڑوں نے باقی ماندہ نباتات کو بڑی حد تک ختم کر دیا۔ آخری ہوہو اور ٹورومیرو یہاں سے 1934 میں ختم ہوئے۔ 1966 میں مقامی لوگوں کو چلی کی شہریت مل گئی۔ آج چلی سے آنے والے اور مقامی لوگ برابر کی تعداد میں یہاں پر ہیں۔ ہر ہفتے کئی پروازیں سیاحوں کو لے کر آتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *