پہلی جنگ عظیم (نویں قسط)آخری بازی۔۔۔۔آصف خان بنگش

انقلاب نے روس کو جنگ سے باہر کر دیا تھا اور جرمنی کی قریب 5 لاکھ فوج مشرقی محاذ سے مغرب روانہ کر دی گئی تھی۔ کچھ عرصہ کے لئے اب جرمنی نے اتحادیوں کوفوجی تعداد میں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اب اس کے پاس موقع تھا جنگ جیتنے کا۔ جرمنی کو معلوم تھا کہ اب ایک زوردار وار کر کے دشمن کو ہرانا ہے اس سے پہلے کہ امریکہ اپنی فوجیں میدان میں اتار دے۔ جرمن اب مائیکل اوفنسیو (Michael Offensive) کی تیاری میں جڑ گیا۔ جرمنی اور رائل ایئر فورس ایک سی طاقت کی تھی لیکن جرمنی کے پاس لیجنڈری ایس بیرن (Baron Manfred von Richthofen) تھا، جو ریڈ بیرن سے مشہور ہوا۔ اس کی سکوڈرن کے پائلٹس ہیرو تھے۔ انہی میں مستقبل کا لفٹ ویف کے نازی لیڈر (Nazi Leader of Luftwaffe, Hermann Goering) بھی تھے۔ ریڈ بیرن کا کتا بھی اس کے ساتھ فلائنگ گیئر پہنے ہوتا تھا۔ فان ریچٹوفن (Von Richthofen) پہلے ہی دشمن کے 66 جہاز گرا چکا تھا۔ وہ مائیکل آپریشن کو اپنا اگلہ ہدف دیکھ رہا تھا۔ اتحادی جانتے تھے کہ جرمن ان پر وار کرنے والے ہیں لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ کہاں کرینگے۔ فرانس نے (Chemin Des Dames Ridge) پر بھاری نفری تعینات کی اور برطانیہ نے چینل پورٹ پر پہرہ بڑھا دیا تھا۔ جرمن کی نظر ان دونوں کے بیچ 12 میل کے کمزور سیکٹر پر تھی۔ یہاں 5ویں آرمی کی خدقیں زیادہ گہری نہ تھیں اور نامکمل بھی تھیں۔ جنرل سر ہوبرٹ گف کے پاس ریزرو فوج بھی نہ تھی۔ جرمنی نے خوب انتخاب کیا تھا۔
ہنڈنبرگ (Paul von Hindenburg) اور (Erich Ludendorff) لوڈنڈورف جرمنی کی امیدوں کا محور تھے۔ 21 مارچ 1918 کو حملہ ہوا، صرف 5 گھنٹوں میں 10 لاکھ گولے داغے گئے اور جرمن پیش قدمی کرنے لگے۔ اب ان کے حوصلے بلند تھے وہ جنگ جیتنے کی امید سے حملہ آور ہوئے تھے۔ جرمنوں کے غول دشمن کی طرف لپکے اور 21000 برطانوی قیدی بنا لئے گئے۔ جنرل گف نے باقی کی 5 آرمی کو پسپا ہونے کا حکم دیا۔ یہ (Trench Warfare) میں 3 سال میں سب سے بڑی کامیابی تھی۔ برطانوی سوم (Somme) پر سے ہوتے ہوئے پسپا ہوئے جس کے لئے اس نے بیش بہا خون اور قربانی پیش کی تھی۔ جرمنی نے (Peronne, Bapaume, Beaumont Hamel) پر قبضہ کر لیا اور پیرس دنیا کی سب سے بڑی توپ سے بس کچھ ہی فاصلے پر رہ گیا تھا۔ کرپ توپ سے 183 شیل پیرس شہر پر داغے گئے۔ جرمن کائزر نے خوشی میں بیان جاری کیا ” جنگ جیتی جا چکی ہے، دشمن کو بری طرح شکست ہوئی ہے” 24 مارچ 1918 کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ ہنڈنبرگ اور لوڈنڈورف کو اعلی ترین فوجی اعزاز سے نوازا گیا۔

ہفتوں بعد تک جرمن فوج اب بھی پیش قدمی کر رہی تھی، اب برطانوی اس ڈر میں رہنے لگے کہ شائد وہ واقعی جنگ ہار جائیں گے۔ لیکن مائیکل آپریشن میں کامیبابی پر پردہ گھمبیر اندرونی معاملات نے ڈال دیا تھا۔ جرمنی کا سب سے بڑا دشمن خود اس کے باسی تھے۔ 1918 میں دھاتوں کی شدید کمی تھی ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک افسوس ناک واقعہ ہوا۔ 300 سال پرانی چرچ کا گھنٹہ اتارا گیا۔ لوگوں نے افسردگی میں اس کا جنازہ بھی پڑھایا اور پھولوں میں ڈھک کر اسے رخصت کیا۔ سیسے کے پائپ شہروں اور قصبوں سے اکھاڑے گئے اور گولیاں بنانے میں استعمال ہوئے۔ لوگ اب جنگ سے تنگ آچکے تھے وہ کسی بھی صورت میں اس کا خاتمہ چاہتے تھے۔ لوگ بغاوت پر اتر آئے تھے۔ روس کی مثال ان کے سامنے تھی جنہوں نے اپنے حکمرانوں کو اٹھا پھینکا تھا اور جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا تھا۔ ایک سپاہی جو مشرقی سرحد سے مغرب بلایا گیا لکھتا ہے کہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہم لڑے لیکن جب ہماری ٹرین بستیوں سے گزرتی اور ہم اپنے شہریوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے تو قریب سب ہی گلے پر ہاتھ پھیر کر نفرت کی نگاہ سے ہمیں دیکھتے۔ لوڈنڈورف نے اب پروپیگنڈا کر کہ قوم کا مورال بلند کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جھوٹ پر مبنی فلم بنا کر اور ملی نغمے بجا کر انہیں دھوکے میں رکھا جانے لگا۔

جولائی 1917 میں جرمن پارلیمنٹ، دی رائیک سٹیگ (The Reichstag) نے اتحادیوں سے امن کیلئے ایک قرارداد پاس کی۔ لوڈنڈورف نے فادرلینڈ پارٹی کی حمایت کی اسے انڈسٹری اور فوج کی حمایت حاصل تھی اور انہوں نے اینٹی وار لوگوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا۔ اب جرمنی ملٹری ڈکٹیٹرز کے ہاتھ میں تھا، کائزر تقریبا مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ لوگوں کو اب جرمن حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنا پڑا، 4 لاکھ لوگ احتجاج میں شامل ہوئے۔ بس بہت لاشیں گرا دی گئیں سرحد پر اب جنگ کا خاتمہ ہونا چاہئے، سب کی یہی صدا تھی، اب اور بھوک برداشت نہیں ہوتی۔ احتجاج کرنے والے 150 لیڈران کو گرفتار کر کے ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا گیا۔ 3000 کو محاذ پر بھیج دیا گیا۔ مارچ 1918 میں جرمنی کے اتحادی آسٹریا-ہنگری قحط کا شکار تھا اس کے لئے جنگ جاری رکھنا مشکل تھا۔ شاہ فرانز جوزف 1916 میں وفات پا گیا تھا اسکا جانشین کارل ایک لبرل تھا اور اس کی فرانسیسی بیوی جرمنی سے نفرت کرتی تھی۔ انہوں نے فرانس سے امن کی بات کی۔ جرمن آسٹریا کو اٹلی کا محاذ سنبھالنے پر مطمئن تھے جہاں اٹلی کو شکست ہوئی تھی لیکن اب وہ مزید وہاں اپنی فوجوں کو سپلائی نہیں کر سکتے تھے۔ ویانا میں حالت خراب تھی انہوں نے جرمنی سے اناج کی ایک کھیپ چرا لی۔ لوڈنڈورف اس پر وہ غضب ناک ہوا کہ قریب تھا وہ آسٹریا پر بھی چڑھ دوڑتا۔

مشرق وسطی میں جرمنی کا انحصار ترکوں پر تھا، لیکن 600 سال بعد خلافت عثمانیہ اب بکھر رہی تھی، برطانیہ نے بغداد، یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا۔ یروشلم پر قبضہ کی خبر خاندان میں موت کی طرح پھیلی۔ ترک کہتے ہم یروشلم میں ترکوں کی طرح لڑے، بنی اسرائیل کی طرح چھوڑ کر نہیں گئے۔ ترکی نے 7 سال سے امن نہیں دیکھا تھا، جنگ عظیم تو پرانی جنگوں میں ایک نیا اضافہ تھا۔ لوگ اب جنگ سے نڈھال ہو گئے تھے ان میں اور سکت باقی نہ تھی۔ جہاں جنرل مصطفی کمال جنگ کے خاتمے کی سعی کر رہا تھا وہاں انور پاشا جنوب میں برطانیہ سے مار کھانے کے بعد مشرق کی طرف دیکھ رہا تھا کہ ترک مملکت کو وسطی ایشیا تک پھیلایا جائے جہاں ہماری بنیادیں ہیں۔ لوڈنڈورف نے مئی 1918 میں انور کو انڈیا پر حملہ کرنے کے لئے اکسایا، لیکن انور نےاپنی نئی بنائی اسلامی فوج سے باکو پر حملہ کیا۔ یورپ ترکی کے اس اچانک اور برق رفتار پیش قدمی سے سخت پریشان ہوا۔ جرمنی اور برطانیہ کی نظریں بھی تیل سے مالامال باکو پر تھیں۔ اس لئے ترکوں اور جرمنی کی ہائی کمان میں معاملات خراب ہونے لگے۔

لوڈنڈورف کی فوج اب بھی پیش قدمی کر رہی تھی لیکن جہاں وہ میدان میں ایک کمال کا افسر تھا وہیں وہ ملکی سٹریٹیجک محاذ پر ناکام تھا۔ جس رفتار سے وہ آگے گیا پیچھے صرف ویرانے تھے کوئی منظم نظام نہ تھا جو آگے بڑھنے والے دستوں کو مضبوط کرتا۔ سپلائی لائن ناکافی تھی۔ جتنا آگے وہ بڑھتے گئے اتنی فوج کی حالت خراب ہوتی گئی۔ ایمینز (Amiens) ایک اہم شہر تھا جس پر جرمن کی نظریں تھیں، اس پیش قدمی میں ایک عجیب واقعہ ہوا اچانک پیش قدمی رک گئی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایسا کیوں ہوا؟ فوجیوں کی ٹولیاں البرٹ کے قریب قصبہ سے خوراک اور شراب کے بوتلیں بغل میں لئے برامد ہو رہی تھیں۔ انہوں نے سالوں بعد ایسا کھانا دیکھا تھا بے مقصد جنگ کے پس پشت ڈالتے ہوئے کھانے پر ٹوٹ پڑے اور سیکنڈ آرمی اپنی رفتار کھو بیٹھی۔ برطانوی اور آسٹریلین فوج نے ان کی پیش قدمی روک دی تھی۔ جہاں لوڈنڈورف اب دماغی توازن کھو بیٹھا تھا، وہاں سپاہی بھی مسلسل جنگ کی وجہ سے رائفل چلانے سے قاصر تھے۔ 80 جہاز گرانے کے بعد جرمن ہیرو رکٹوفن بھی اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔ اتحادی فوج نے اسے مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا۔

مشرق میں جنگ ختم ہونے کے باوجود 15 لاکھ جرمن فوج اب بھی وہاں تھی جو اہم وسائل کھا رہی تھی، جرمنی اب افرادی قوت کا شکار تھا۔ ایک مہینے میں 230،000 جرمن مارے گئے تھے۔ فرانس میں جرمن پیش قدمی رک گئی تھی کہ امریکہ نے اپنی ڈھائی لاکھ فوج فرانس میں اتار دی۔ امریکی تازہ دم تھے لیکن جنگ میں ابھی ماہر نہ تھے لیکن ان کے آنے سے اتحادیوں کو طاقت ملی تھی۔ جرمن عوام اب اپنی ہی فوج کے خلاف ہو گئی تھی ان کی گاڑیوں پر پتھراو ہوتا، ٹیلی فون کے کھمنے اکھاڑ دیئے گئے، ٹرین سٹیشن پر سگنل بدل دیئے جاتے جس سے مشکل پیش آنے لگی۔ لوڈنڈورف اب بھی پروپیگنڈا کا سہارہ لے رہا تھا لیکن جولائی 1918 میں اس کے اعصاب جواب دےگئے، اس کا سوتیلا بیٹا مارا گیا تھا۔ اس کو دفنانے سے بھی انکار کرتا رہا کہ اسے میرے پاس رہنے دو۔ وہ اب تمام امید ہار چکا تھا۔ چار سال میں اس نے صرف 3 دن آرام کیا تھا۔ 15 جولائی کو اس نے ایک آخری ضرب لگانے کی کوشش کی یہ جنگ کا آخری حملہ تھا۔ لیکن صرف 3 کلومیٹر پیش قدمی ہی ہوئی تھی کہ اتحادیوں نے جوابی حملہ کر دیا۔ یہ ایک شدید ترین حملہ تھا اور ایک مضبوط اتحادی فوج نے تھکی ہاری جرمن فوج کے پرخچے اڑا دیئے۔ مارچ میں ہونے والی کامیابی کے بعد سے اسے اب تک 10 لاکھ سپاہیوں کا نقصان ہوا تھا۔ لوڈنڈورف کی آخری بازی ناکام ہو گئی تھی۔ اب جنگ کا پانسہ اس کے خلاف پلٹ گیا تھا۔

جاری ہے

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Advertisements
julia rana solicitors london

اگلی قسط – جنگ کا خاتمہ اور حرف آخر

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply