کرونا کا خوف پھیلانے والے مجرم ہیں۔۔سید شاہد عباس

چائنہ گلوبل ٹیلی ویژ ن نیٹ ورک (CGTN)، چین کا بہت بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے۔ صرف ایک سوشل میڈیا فورم پہ اس کے فالوورز دس کروڑ کے قریب ہیں۔ اور اسی طرح تمام سوشل میڈیا فورمز کو جمع کیا جائے تو یہ تعداد اربوں تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نیٹ ورک کو چین کے حوالے سے معلومات و اطلاعات کا انتہائی اہم اور قابل اعتبار ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ ہانگ کانگ میں مرکز رکھنے والے ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ (SCMP) کو دیکھیے۔ یہ بھی ایک وسیع میڈیا نیٹ ورک ہے جو وجود رکھنے کے علاوہ سوشل میڈیا پہ بھی مکمل اثر قائم رکھے ہوئے ہے۔ ان دونوں اداروں کی کرونا وائرس کی رپورٹنگ بہت دلچسپ رہی ہے۔ اور آپ ان کے سوشل میڈیا پیجز، ان کی ویب سائٹس، ان کا وجود رکھنے والا ذریعہ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ یہ دونوں چین میں اس وباء کی تباہ کارویوں کے بجائے چین کی کوششوں کو دنیا میں سامنے لاتے رہے۔ اور مزید حیرت انگیز پہلو یہ رہا رپورٹنگ کا، کہ آپ کو ان کے توسط سے چین میں ایک ہفتے میں بننے والا ہزار بستروں کا ہسپتال ہو یا نرسنگ سٹاف کے اپنے بچوں کے ساتھ ملاقات کے جذباتی مناظر ،یہ نیٹ ورکس اور دیگر تمام مقامی نیٹ ورکس چین کا نا صرف مثبت اور جہد مسلسل کا چہرہ دیکھنے کو ملتا رہا بلکہ اس حوالے سے غیر ضروری ہیجان کا باعث بھی نہیں بنے۔ یہ نہ صرف درست اعدادو شمار دکھاتے رہے بلکہ ووہان شہر کے اندر کی صورتحال بھی ان کے توسط سے سامنے آتی رہی۔ اور دنیا کے دیگر نشریاتی ادارے بھی ان کی سٹوریز چلاتے رہے۔ دیگر غیر ملکی ادارے جو ووہان سے جڑے رہے ان کی رپورٹنگ میں بھی ہمیں ہیجان، خوف، ڈر، سراسیمگی کا پہلو دنیا کو بتانے کی رپورٹنگ بہت کم دیکھنے کو ملی۔ اور اکثریت ایسی رہی جو چین کی اس وباء سے نمٹنے کی کوششوں کو دنیا کے سامنے لاتی رہی۔ ووہان لاک ڈاؤن ہوا، لیکن اس کو منفی انداز سے نہیں دکھایا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ ووہان شہر ہو یا چین کے دیگر شہر ،وہاں سے پاکستانیوں کی ویڈیوز بھی زیرِ گردش رہیں کہ وہ کیسے وہاں ہمت کا نشان بنے رہے۔

اب ذکر خیر پاکستان کا سُنیے۔۔ ہمارے تمام میڈیا چینلز، اخبارات، سوشل میڈیا فورمز ہیجانی کیفیت سے بھرے پڑے ہیں۔ پاکستان میں ایک رجحان پایا جاتا ہے کہ اکثریت صارفین کی پوسٹ کی تفصیلات میں جانا پسند نہیں کرتی۔ وہ سوشل میڈیا پہ سرخی دیکھتے ہیں اور رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اور بطور مجموعی اس عوامی رجحان کو ادارے خوب کیش کرواتے ہیں۔ سرخی اس قدر ہیجان انگیز ہوتی ہے کہ عوام اس سرخی پہ ہی رائے بنا لیتے ہیں۔ جیسے ابھی فوری ایک سرخی ایک مشہور و معروف میڈیا گروپ کی سوشل میڈیا پوسٹ پہ تھی کہ “ملک میں لاک ڈاؤن کے حوالے سے اہم حکومتی شخصیت کا بیان” اور جب لنک پہ کلک کیا تو معلوم ہوا کہ اس شخصیت کا بیان تھا کہ لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں ہے۔ اب اگر یہ سرخی صرف اس طرح ہوتی کہ “ملک میں لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں، اہم حکومتی شخصیت کا بیان” تو جو لوگ صرف سرخی پڑھ کے رائے بنا لیتے ہیں ان کا بھی بھلا ہو جاتا۔ لیکن ہم تجسس پیدا کرنے کے ماہر ہیں۔ اور تجسس کی ماری عوام میں خوف پھیلانے کی وجہ بنتے ہوئے لائیکس اور شیئرز جمع کرتے ہیں۔ ایک اور خبر ملاحظہ کیجیے  جس کی  سرخی تھی “کرونا کا ڈر، لوگوں نے سٹور خالی کر دیے”۔ اب یہ خبر پاکستان کی تھی نہیں۔ کسی اور ملک میں ایسا ہوا۔ لیکن ایسا معلوم تو تب ہونا ہے ،جب لنک اوپن کیا جائے گا۔ میرے جیسے جو طالبعلم صرف پوسٹ دیکھ کے اپنی سوچ کا معیار قائم کر کے فیصلہ کرنے لگتے ہیں ان کے لیے تو یہ خبر یقیناً ہیجان، خوف اور بے چینی کا باعث بنے گی۔ اور ناجانے اس خبر سے کتنے اذہان متاثر ہوں گے۔ یہ خبر یوں بھی ہو سکتی تھی کہ “فلاں ملک میں لوگوں نے کرونا کے خوف سے سٹور خالی کر دیے”۔ لیکن اس خبر سے ہمیں شاید کم لائیکس ملتے۔ اب سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ اخبارات بھی اسی روش پہ چل نکلے ہیں۔ آپ شہہ سرخی یا ذیلی سرخی پڑھیں آپ پہ حالات واضح نہیں ہوں گے۔ لیکن تفصیل میں جائے بناء صرف سرخیاں پڑھنے والے کہاں جائیں؟ اب اگر کوئی ایسا صارف جو جلدی جلدی میں انگلیوں کی پوروں کو موبائل یا لیپ ٹاپ پہ حرکت دینے کا عادی ہے وہ جب پڑھے گا کہ “کرونا نے ملک کا نظام جام کر دیا” تو وہ اسے پاکستان کی ہی کوئی خبر سمجھتے ہوئے نہ صرف ہیجان میں مبتلا ہو جائے گا بلکہ اس ہیجانی کیفیت میں نا جانے اور کیا کیا ہنگامی فیصلے کرنے پہ ذہن سازی کا عمل مکمل کر لے گا۔ لیکن وہ سرخی کی تفصیلات میں یہ نہیں پڑھ پائے گا ،کہ ایسا اٹلی میں ہوا ہے پاکستان میں نہیں۔ لیکن لینے والا لائیکس لے چکا ہے۔ ادارہ تشہیر حاصل کر چکا ہے۔ ایک عام شخص مگر مکمل خبر جانے بناء ذہن سازی کر چکا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ عوام کو بھی خبر کی تفصیلات پڑھنی چاہیے۔ لیکن جہاں یہ عمومی رویہ بن چکا ہے کہ تفصیلات پہ نظر نہیں ڈالی جاتی ،وہاں زیادہ ذمہ داری میڈیا گروپس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس وباء کے حوالے سے ملک میں خوف پھیلانے کے بجائے اس وباء کے مقابلے کے لیے عوام کو تیار کریں۔

ہم ایسی کہانیاں فخر سے شیئر کرتے رہے کہ کیسے چین میں ہسپتال بنا، کیسے وہاں ڈاکٹروں نے تین تین ماہ ڈیوٹیاں سر انجام دیں۔ کس طرح نرسنگ سٹاف کے چہروں پہ ماسک لگانے سے پڑنے والے نشانات کو بھی وہاں کے میڈیا گروپس نے مثبت انداز سے پیش کیا۔ اور ایک ہم ہیں کہ ہیجان انگیزی کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنائے بیٹھے ہیں۔ پوری دنیا میں اس وقت محدودے چند ممالک میں پاکستان شامل ہے جہاں اس وباء سے موت واقع نہیں ہوئی۔ ہم سندھ حکومت کی توصیف کو مثبت چہرہ کیوں نہیں بناتے کہ کیسے انہوں نے فوری اقدامات کیے اور ابھی بھی جو کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے وہ تفتان سے سندھ حکومت کی درخواست پہ زائرین بھجوانے سے ہوا ،جن میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔ وہ بھی سندھ حکومت نے خود وفاق سے درخواست کی کہ سندھ کے شہریوں کو سندھ بھیج دیا جائے۔

سروسز ہسپتال لاہور کی ایک کہانی ایک سوشل میڈیا صارف نے شیئر کی کہ کیسے وہاں بے عدم توجہی  المیے کا باعث بن سکتی ہے تو اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں عفت رضوی نے ایک مثبت کام کیا غلطیوں کی وہاں نشاندہی کر کے۔ ہم تو اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں یہ بھی بھول گئے کہ نسٹ یونیورسٹی میں اشتراکی کوشش میں پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیصی کٹ تیار کر لی گئی ہے۔ ہم تو ہیجان پھیلانے اور خوف کی فضاء قائم کرنے میں یہ تک بھول گئے کہ چین میں اگر پاکستانی ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر فرائض سر انجام دے رہا ہے تو پاکستان میں خوف و سراسیمگی پھیلانے کی وجہ سے بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں تیرہ ڈاکٹرز نے فرائض سر انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

ہم دنیا سے مثبت کہانیاں شیئر کرتے ہیں لیکن خود کسی مثبت کہانی، کسی روشن مثال کا کردار بننے کو کیوں تیار نہیں ہیں۔ چینی ارب پتی جیک ما پوری دنیا میں ماسک تقسیم کر رہا ہے اور پاکستانی ارب پتی ستو پی کر سو گئے ہیں ہم بجائے خوف پھیلانے کے ان لوگوں کو بیدار کیوں نہیں کرتے۔ کوئی شک نہیں کہ کرونا ایک عالمی وباء ہے اور پاکستان میں اس کے مریض بڑھ رہے ہیں۔ لیکن حکومتی سطح پہ ضرورت اس بات کی ہے کہ کرونا کو ملک میں خوف اور دہشت کی علامت بنانے والے ہر میڈیا گروپ کو بین کر دیجیے۔ ایسے تمام سوشل میڈیا پیجز کو پی ٹی اے بلاک کر دے جو خوف پھیلا کے لائیکس سمیٹ رہے ہیں۔ عالمی نشریاتی اداروں کے آفیشل صفحات کھنگالیے، وہاں آپ کو صرف معلومات و اطلاعات ملتی ہیں لیکن ہمارے ہاں معلومات و اطلاعات کے لبادے میں اور بہت کچھ زبردستی پیش کیا جاتا ہے۔

قومی ذمہ داری یہ ہے کہ عوام کو معلومات و اطلاعات دیجیے ان میں خوف نہ بانٹیے۔ پاکستانیوں کو اس وباء کے تدارک کے لیے احتیاطی تدابیر بتائیے، انہیں ڈرا کے اپنی شہرت مت  بڑھائیے۔ کرونا جیسی وباء سے نمٹنے کے لیے کردار ادا کرنے والے اداروں کے اہلکار ہیرو ہیں، سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیرو ہیں جو اس وباء کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ دفتر کے باہر کھڑا وہ گارڈ ہیرو ہے جو دفتر آنے والے ملازمین اور ملاقاتیوں کو چھوئے بناء بخار چیک کرنے والا آلہ لیے کھڑا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسے تمام لوگ، جتھے، ادارے، گروپس قومی مجرم ہونے کے ضمرے میں گردانے جا سکتے ہیں جو اس وباء کے حوالے سے خوف پھیلا رہے ہیں۔ جو 150 روپے کا سینیٹائزر 480 روپے کا بیچ رہے ہیں۔ جو ماسک کی قلت پیدا کرنے کا سبب بنے ہیں۔ جو ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کیے بیٹھے ہیں۔ جو انسانیت کے بجائے اپنے منافع کو ترجیح دیے بیٹھے ہیں۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *