• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بلراج ساہنی!ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے چلی دنیا۔۔۔اسدمفتی

بلراج ساہنی!ہمارے بعد ہمیں ڈھونڈنے چلی دنیا۔۔۔اسدمفتی

بلراج ساہنی نے فلموں میں جو کردار ادا کیے وہ ہیرو سے لے کر کریکٹر ایکٹر تک محدود تھے۔ایک اندازے کے مطابق انہوں نے لگ بھگ ۱۳۰ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے،1940سے لے کر 1970تک یعنی تین دہائیوں تک فلمی اُفق پر چھائے رہے،کبھی تارے اور کبھی چاند سورج بن کر۔۔سماجی آگہی کا ادراک رکھنے والا یہ سدا بہار اداکار ایک سکول آف تھاٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔
بلراج ساہنی سوشلسٹ تھا۔کمیونسٹ تھا،شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی پیدائش کا دن بھی”یومِ مئی”چُنا۔مزدوروں،کسانوں،اور ٹریڈ یونینوں کا دن۔

یومِ مئی یعنی یکم مئی 1913کو اس نے راولپنڈی میں ہر بنس لال ساہنی کے گھر میں جنم لیا،یہ پہلی اولادِ نرینہ تھی،ا س سے پہلی اس کی پانچ بہنیں اس دنیا میں آچکی تھیں،اس کے والد ہربنس لال ایک کامیاب بزنس مین تھے۔اس زمانے میں بزنس مین کو بیوپاری کہاجاتا تھا۔سو باپ نے بلراج کو بھی بیوپار لگانے کی پوری کوشش کی،لیکن یہ فنکارانہ سوچ رکھنے والا آنکھوں میں ذہانت کی چمک پالنے والا شخص تمام رسّے تڑوا کر فن کی دنیا میں چلا آیا۔

یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بلراج  کا نام یدھشٹر رکھا گیا تھا،لیکن اس کی ایک سیدھی سادی پھوپھی کی زبان پر ہر کوشش کے باوجود یہ نام نہ چڑھ سکا،وہ اسے اکثر”رجسٹر”بول دیتی تھیں۔(یہ بات بلراج ساہنی نے مجھے ایک خط میں لکھی تھی)لہذا بلراج کے والد ہربنس لال ساہنی نے بہن کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے بلراج نام رکھوا دیا۔(یاد رہے کہ سنیل دت کا اصل نام بلراج ہی ہے)
ہر ذہین و فطین نوجوان ی طرح بلراج ساہنی بھی1932میں لاہور آگیا۔لاہور جیسا کہ آپ جانتے ہیں،یہ شہر نہ صرف تعلیم میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے،بلکہ ثقافتی،سیاسی،سماجی،ادبی اورفلمی حوالے سے بھی برصغیر کے تمام بڑے شہروں میں اسے فوقیت حاصل ہے۔کہتے ہیں کچھ ادیب و شاعر تواپنے گاؤں سے لاہور کی “بتیاں “دیکھنے آئے تھے اور پھر واپسی کا سفر ہی بھول گئے۔
بلراج ساہنی نے 1934میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے کیا،وہ اپنے پاکستان کے سفرنامے میں لکھتا ہے..

“گورنمنٹ کالج کے ہال میں جو میرے لیے ایک برتھ استھان ہے،ڈرامہ سوسائٹی نے مجھے ڈنر کی دعوت دی،سید امتیاج علی تاج،امدادحسین اور دوسرے کئی پرانے ساتھی میرے سامنے بیٹھے ہیں،لیکن میری نظریں بار بار خلا پرجاٹکتی ہیں جہاں احمد شاہ بخاری کے بے خروش قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی”۔

سکول اور کالج کے زمانے ہی سے اسے ڈرامہ لکھنے اور اسے پیش کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگئی تھی۔گورنمنٹ کالج میں آنے کے بعد اسے ادب سے بھی لگاؤ پیدا ہوا،اس کی کئی نظمیں کالج کے مجلہ”راوی”میں شائع ہوئیں۔کالج کی تعلیم ہی کے دوران اس نے انگریزی ڈرامے میں عورت کا رول بھی ادا کیا۔

گورنمنٹ کالج میں رہتے ہوئے اس نے آخری سال میں سٹوڈنٹس یونین کے صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔
1936میں بلراج نے انگریزی کے پروفیسر اور اپنے دوست جسونت رائے کی بہن دمینتی سے شادی کرلی۔جیسا کہ میں نے پہلے لکھا ہے کہ ان کے والد کی خواہش تھی کہ و ہ خاندان کاروبار سنبھالیں،لیکن بلراج کی اپنی ہی ترجیحات،خواہشیں،امنگیں اور ولولے تھے۔اس سے قبل بھی اس کی اپنے والد سے ایک “جھڑپ” ہوچکی تھی،اس نافرمان نے انگلش لٹریچر پڑھنے کو ترجیح دی۔شادی کے بعد 1937میں اپنی دوست جمع بیوی دمنیتی کے ساتھ راولپنڈی کو خیر آباد کہہ کر مستقبل میں ڈارامے اور سکرپٹس لکھ کر عملی زندگی کا گزارنے کا فیصلہ کرلیا۔یہ فیصلہ اسے اسں انڈین پیلز تھیٹر ایسوسی ایشنIPTAتک لے گیا۔میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں،جو ماں باپ کے مشورے کے خلاف عمل کرکے کامیاب زندگی گزار چکے ہیں یا گار رہے ہیں،ان میں ایک بلراج ساہنی بھی تھا۔۔

آٹھ سال تک وہ دونوں “اٹپا”کے تخلیقی مگر پیچیدہ راستوں پر ہاتھ میں ہاتھ دیے چلتے رہے
یہاں انکی زندگی کی کئی پرتیں ظاہر ہوئیں۔
لاہور۔جس میں داخل ہونے کے تو کئی دروازے ہیں،باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں یہاں۔انہوں نے ثقافتی و فنی سرگرمیوں کے علاوہ اپنے کالج کے دوستوں جن میں پریم بھاٹیہ(جن کے بیٹے شیام بھاٹیہ نے بینظیر بھٹو پر حال ہی میں کتاب شائع کی ہے،جس کا عنوان ہے گڈ بائی شہزادی)جگ پرومیشن حیدر اور پی ایل او بیدی اور فریڈا بیدی (اداکار کبیر بیدی کے والدین جوان دنوں ماڈل ٹاؤن لاہور میں رہتے تھے اور کمیونسٹ پارٹی رہنما پنجاب کے عہدہ دار تھے)شامل تھے،کے تعاون سے ایک ہفت روزہ رسالہ شائع کیا جس کا نام تھا Monday Mornings۔اس کا پس منظر یہ تھا کہ ا دور کے دو بڑے اخبار ٹریبیون اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جو سوموار کے روز شائع نہیں ہوا کرتے تھے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اپنے ہفت روزہ کا ڈول ڈالا تاہم یہ ویکلی زیادہ دیر چل نہ سکا۔اور پھر بند ہوگیا،اس واقعہ کے تھوڑے عرصے بعد یہ میاں بیوی ٹیگور کے شانتی نکشن میں چلے گئے،جہاں بلراج کو ہندی ٹیچر کی نوکری مل گئی۔وہاں رہتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کے عظیم شاعر اور اولین نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور کی صلاحیتوں کا براہ راست مشاہدہ کیا۔

یہاں کچھ عرصہ وقت گزارنے کے بعد دوسری عظیم ہستی گاندھی کے آشرم میں چلے گئے،آشرم میں گاندھی کی ہمہ وقت موجودگی کاان پر بہت اثر ہوا،اس تربیت نے ان کی شخصیت میں پہلے سے موجود بلند آواز کو مزید بڑھا دیا،گاندھی جی کی آشیر باد سے دوسری جنگ عظیم کے دوران بلراج ساہنی لندن چلا گیا،جہاں اس نے چار سال تک بی بی سی ہندی سروس میں خدمات سرانجام دیں۔۔یہاں اس کی شخصیت کی ایک اور پرت کُھلی۔

لندن رہتے ہوئے اس نے کمیونسٹوں کی سرگرمیاں اور کمیونزم کا بغور مطالعہ کیا،کارل مارکس کی داس کیپیٹل کے علاوہ دوسرے ترقی پسند،سوشلسٹ اور کمیونسٹ لٹریچر اسکی نظروں سے گزرا،اور وہ بائیں بازو کا ایک سکہ بند دانشور بن گیا،اس انٹیلکچوئل نے ایک بار اپنے ایک انٹر ویو میں کہا تھا”ٹیگور اور گاندھی سے بے حد متاثرہوں،لیکن میرے اصلی گرو کارل مارکس اور لینن ہیں،جبکہ فلم میں مَیں اپنا استاد سٹین لا وسکی کو مانتا ہوں ”
اداکار بننے۔ کے لیے وہ کسی ادارے یا انسٹی ٹیوشن کارہونِ منت نہ تھا،ہاں لیکن سٹین لاوسکی کی کتاب سے اُس نے بھرپور استفادہ کیا،جسے وہ اپنی فلمی بائبل مانتا تھا۔

جنگ عظیم کے بعد وہ برطانیہ سے واپس ہندوستان آگیا۔بمبئی پہنچنے پر وہ “اٹپا”میں شامل ہوگیا،جہاں اس نے اپنے ارد گرد ترقی پسندوں اور کمیونسٹوں کا ایک جھمگٹا دیکھا،خواجہ احمد عباس،چیتن آنند،ضیا سرحدی،۔۔۔بلراج نے یہاں بائیں بازو کے حوالے سے بہت کام کیا،ادب(میری ایک پنجابی کہانی لالو نائی،کی اس نے خط کے ذریعے تعریف کی تھی)۔فلم ڈرامہ اور اداکاری ان سب شعبوں میں بلراج نے اپنی دھاک بٹھا دی۔

یہاں اس نے شروع شروع کے ڈراموں میں نہ صرف اداکاری کے جوہر دکھائے بلکہ ڈرامے پروڈیوڈ بھی کیے،
یہاں ایک دلچسپ واقعہ یاد آرہا ہے۔ان دِنوں بمبئی میں اس کے دوڈرامے “انسپکٹر جنرل”اور “ڈوس ہاؤس”بے حد مقبول ہوئے۔ہوا یوں کہ خواجہ احمد عباس کے لکھے ہوئے ایک ڈرامہ کی ڈیمانڈ کے مطابق ایک شادی کی برات کی ضرورت تھی،بلراج اس ڈرامے کی ہدایت دے رہا تھا،اس نے ایک سچ مچ کی برات کا بندوبست کرلیا اور کسی کی شادی کو اسٹیج پر لے آیا،جس کے ہمراہ پیتل کا روایتی بینڈ باجہ،سفید رنگ کے گھوڑے پر سوار دولہا راجہ بھی موجود تھا۔بلراج نے اپنے ایک ڈرامے آخری شمع میں مرزا غالب کا کردار بھی ادا کیا،جو ہر اعتبار سے مکمل کردار مانا گیا۔اور بے حد کامیاب رہا۔
اور پھر اداکاری کی یہ شمع 19اپریل 1971کو بُجھ گئی۔

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *