این اے ۔ 120 کا تھرما میٹر۔۔۔ علی اختر

SHOPPING

این ۔اے120 سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا انتخابی حلقہ تھا جہاں سے وہ پچھلے الیکشن میں قومی اسمبلی کے ممبر  منتخب ہوئے تھے اور پھر تقریبا ًچار سال تک وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر رہنے کے بعد سپریم کورٹ کے مطابق نا اہل قرار پائے اور گھر بھیج دیئے گئے ۔نواز شریف پر بہت سے الزامات لگے جن میں سے سب تو مجھے یاد بھی نہیں ہیں بس دو تین دن بعد جب ٹی وی دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو پتا چلتا ہے کے الزامات کی فہرست مزید طویل ہو چکی ہے ۔ان میں سے کتنوں کے کیس عدالت میں چل رہے ہیں ۔ کتنے صرف الیٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہیں ۔ یہ الگ مکمل اسٹڈی سبجیکٹ ہے ۔ چند ایک الزامات درج ذیل ہیں۔
عوام کا پیسہ لوٹنا اور غیر ملکی جائیدادیں اور بزنس قائم کرنا۔
منی لانڈرنگ۔
موروثی سیاست اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو نوازنا۔وغیرہ وغیرہ
درج بالا موٹے موٹے الزامات کے علاوہ سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ صرف الزامات ہی نہیں ہیں، بلکہ اس میں ایک اقامہ والےالزام کے نتیجہ میں حضرت تا حیات نااہل ہو چکے ہیں ۔ صرف وہی نہیں بلکہ ان کی بیٹے، بیٹی، داماد وغیرہ بھی نا اہل قرار دیئے گئے اور الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔اچھا اب ایک اور بات یہ کہ صرف عدالتیں نہیں، بلکہ عوام اور میڈیا بھی موصوف کے خلاف ہے ۔ ریلیاں اور جلوس نکالے جا رہے ہیں جو گلی گلی میں شور ہے سارا ٹبر چور ہے، اور مجھے کیوں نکالا جیسے نعرے بھی لگا ئے جا رہے ہیں۔
اب گھر میں کوئی بچا نہیں تھا تو خالی ہونے والی سیٹ پر بیگم صاحبہ جو کہ ایک گھریلو خاتون ہیں جن کو صحت کے مسائل بھی درپیش ہیں انہیں کھڑا کر دیا گیا۔ کیونکہ موروثی سیاست کو بھی تو زندہ رکھنا تھا اور الیکشن مہم چلانے کے لیئے صاحب زادی کو بھیجا گیا جن کی تقریر کے ٹوٹے سننے کا کئی بار اتفاق ہوا ،لیکن آپ کی بہن، آپ کی بیٹی اور نواز شریف کو کس بات کی سزا دی گئی کے علاوہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ ساتھ ہی ساتھ اس حلقہ کی دگرگوں صورت حال بھی میڈیا پر دکھائی جاتی رہی، ٹوٹی سڑکیں، بھرے گٹر، صحت اور تعلیم کا فقدان وغیرہ وغیرہ ۔
اب آتے ہیں مقابلہ کرنے والوں کی طرف، تو سینے پر سادگی، ایمانداری اور خدمت خلق کےکئی تمغے سجائے عمران خان اور سراج الحق کی جماعتیں موجود تھیں، یہی نہیں پی ٹی آئی کی خاتون امیدوار کی قابلیت کا ،ن لیگی خاتون خانہ سے موازنہ بھی میڈیا کی زینت بنا۔ مختصر یہ کہ ہر طرح سے حق و باطل کا معرکہ تھا۔ اور پھر الیکشن کا دن آن پہنچا اور عوام نے ایک بار پھر بتا دیا کہ وہ باطل ہی کے ساتھ ہیں ۔
یہاں یہ بات صاف کر دوں کہ میرا تعلق کراچی سے ہے، اور یہاں شیر کئی دہائیوں سے نا پید ہے۔ یہاں کے لوگ پچھلے الیکشن تک پتنگ اڑایا کرتے تھے۔ جسکا بو کاٹا ہو چکا۔ یہ سب بتانا اس  لیےضروری تھا کہ لوگ پٹواری. پٹواری کے نعرے نہ لگائیں ،لیکن حقیقت تو یہ ہے کے این۔ اے 120 کا تھرما میٹر غیر جمہوری قوتوں(سمجھ تو آپ گئے ہی ہونگے) کی تمام تر کوششوں کے بعد بھی کچھ اور ہی رزلٹ دے رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کے اس کرپٹ سسٹم کو 2018 کے الیکشن میں جڑ سے اکھاڑنے کے لیئے وہ خفیہ قوتیں مزید کیا اقدامات کرتی ہیں۔ کیونکہ عوام تو بتا چکی ہے کہ وہ انہی کرپٹ لیڈروں کے ساتھ ہے۔

SHOPPING

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *