کہانی میں جھول ہے

“جھول” کا لفظ بول چال میں بہت عام ہے ۔ جب بھی کسی جگہ کوئی خامی ، کمی یا کمزوری نظر آئے تو اس کے لیے اکثر یہ لفظ بول چال میں عام ہے۔ ٹین ڈبہ بنانے والوں کے ہاں تو اس کا استعمال عام لوگوں سے بھی بہت زیادہ ہے ۔ یہ لفظ بہت سے حوالوں سے بولا جاتا ہے۔ کسی کے کردار میں خامی ہو تو کہا جاتا ہےفلاں کے کردار میں جھول ہے۔ کسی شے کی بناوٹ میں کمی رہ جائے تو کہا جاتا ہےفلاں شے میں بنانے والے نے جھول چھوڑ دیا ہے۔ کچھ ایسا ہی آج کل پاکستان میں نظر آ رہا ہے کہ جہاں لوگوں کی سوچ میں جھول نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ اور خاص طور پر پاکستان کے سیاستدانوں کے قول و فعل کا جھول واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ وہ اپنی کہی ہوئی باتوں سے ہی پیچھے ہٹتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
کردار کشی پاکستان کی سیاست میں کامیابی کا زینہ ضرور بن گئی ہے مگر عائشہ گلالئی کی حالیہ کہانی میں جھول بہت واضح ہے۔ ان کا اپنا تعلق ایک ایسے علاقے سے کہ جہاں عورتوں کا ووٹ ڈالنا ممنوع، تعلیم کی ممانعت اس علاقے سے وہ قومی اسمبلی کی ممبر اور، ارشاد کہ کپتان عورتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ ارے بی بی اہمیت نہیں دیتا تو آپ کیسے ایوان کی رکن بن گئیں؟ محترمہ ناز بلوچ نے جو گلہ کیا تھا فیصلہ سازی میں نہ شریک کرنے کا وہ تو کسی حد تک قابل فہم ہے مگر پورے چار سال آپ کا راہنما آپ کو غیر اخلاقی میسیجز بھیجتا رہے اور آپ پھر بھی جلسوں میں اُس کے نام کے نعرے لگاتی رہی ہوں تو قصور وار کون ہوا آپ یا وہ ؟(یاد دہانی کہ راقم کا آج بھی عمران خان سے بہت حوالوں سے اختلاف ہے)۔عورتوں کے لیے وہ پارٹی محفوظ نہیں جس کا کل تک آپ خود حصہ تھیں؟ اور جس پارٹی نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی خاتون کو پاکستان کے اہم ترین حلقے میں امیدوار نامزد کر دیا؟ جھول ہے بھئی بہت بڑا جھول ہے۔
پاکستان میں لسانیت بکتی ہے۔ لہٰذا پٹھان بھی دو نمبر کہہ دیا۔ پاکستان میں مذہب پہ لوگ کٹ مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کو مغربیت کا دلدادہ بھی قرار دے دیا۔ صنف نازک کے حوالے سے خیالات بھی نازک ہوتے ہیں۔ خواتین کی عزتوں کا چور بھی اپنی باتوں سے کہہ دیا۔ نہ جانے لکھنے والے نے اتنا بڑا کہانی میں جھول کیوں چھوڑ دیا کہ شاید لانچنگ کی جلدی تھی کہ وہ پٹھان دو نمبر ہے اور آپ پٹھان ایک نمبر ہیں جو چار سال غیر اخلاقی پیغامات سہتی بھی رہیں اور اسی بندے کے نام کے نعرے بھی لگاتی رہیں۔ اس کی پارٹی میں عزتیں محفوظ نہیں جہاں فاٹا سے پہلی خاتون رکن قومی اسمبلی اس کی پارٹی سے ہے۔ (مخصوص سیٹ پر جو خالصتاً پارٹی سربراہ کی عنایت ہے)۔ اور حد تو یہ کہ حالیہ منظر نامے میں پاکستان کے اہم ترین حلقے سے امیدوار بھی خاتون کو کر دیا۔ واقعی بھئی عزت تو وہ واقعی نہیں دیتا خواتین کو۔ آپ پہلے بھی دوسیاسی پارٹیوں کا حصہ تھیں تحریک انصاف سے پہلے مگر کو آرڈینیٹر سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ اور واقعی یہ تو بہت بڑا ظلم کیا اس شخص نے کہ آپ کو ایوان میں پہنچا دیا، اور عالمی شہرت دے ڈالی۔ مغربیت کا تو یقیناًوہ دلدادہ ہو گا کوئی رائے نہیں۔ مگر کیا مغربیت کو آپ برا کہہ سکتی ہیں؟
ایک دن پہلے گو نواز گو کا نعرہ، اور ایک دن بعد گڈ نواز گڈ کی سوچ، بی بی آپ کسی کے کہنے پہ شاید اپنی سیاست کو داؤ پہ لگا گئی ہیں۔ مصنف کوئی شاید میری طرح کا نااہل ہو گا کہ بھئی پہلی پریس کانفرنس میں ہی اس کو فرشتہ تو نہ ثابت کرواتا کہ ایک دن پہلے جس کے خلاف نعرے اسلام آبادکی سڑکوں پہ لگائے تھے۔ بی بی پہلے کیا جاوید ہاشمی صاحب کم تھے ہماری سماعتوں کا امتحان لینے کو کہ آپ بھی ایسی کہانی لے کے آ گئیں کہ جس میں جھول ہی جھول ہیں؟تقاضائےغیرت تو یہ تھا کہ جس وقت پہلا قدم اٹھایا گیا تھا اخلاق باختگی کا آپ فوراً پہلا قطرہ بنتیں اور باقی عورتوں کے لیے مشعل راہ بنتیں۔ مگر اب تو کہنا یہی پڑے گا کہ ان کا دعویٰ اگر سچ بھی ہے تو وہ اپنے مفاد کے لیے خاموش رہیں، کہ شاید مفاد غیرت سے زیادہ اہم ہو گیا تھاکہ آپ نے ایسا سچ چار سال چھپائے رکھا جو شاید بہت سی خواتین کی عزتیں بچا سکتا تھا؟
کوئی اختلاف نہیں الزامات سچے ہیں یا جھوٹے ۔ مگر عرض ڈاکٹر شیریں مزاری(چیف وہیپ)، ڈاکٹر یاسمین راشد(امیدوار حلقہ NA120)، آصفہ ہاشمی(پی ٹی آئی فرانس)، اور ان جیسی دیگر تحریک انصاف کی کارکنان سے ہے کہ چیئرمین کو سچائی سامنے لانے کے لیے نہ صرف قائل کریں۔ بلکہ خود بھی ہر فورم پر بطور عورت موقف پیش کریں اور تمام تحریک انصاف کی خواتین کارکنان کی نمائندہ بن کر یہ واضح کیجیے کہ موقف میں عائشہ گلالئی سچ پہ ہیں یا عمران خان۔ اور کوشش کریں کہ پاکستان کی سیاست میں سے پگڑیاں اچھالنے کا رجحان ختم ہو پائے،اور کہانی کے مصنف سے بس اتنی سی التجا ہے کہ بھئی کہانی لکھو تو ذرا تگڑی لکھو، جھول زدہ کہانی پہ بنا ڈرامہ فلاپ ہوتا ہے۔

Avatar
سید شاہد عباس
مکتب صحافت کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھنے کی کوشش ہے۔ "الف" کو پڑھ پایا نہیں" ی" پہ نظر ہے۔ www.facebook.com/100lafz www.twitter.com/ssakmashadi

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *