• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امریکی انجمن ِ دانشوراں اور نظریاتی جھٹکے۔۔۔۔ڈاکٹر شاہین مفتی

امریکی انجمن ِ دانشوراں اور نظریاتی جھٹکے۔۔۔۔ڈاکٹر شاہین مفتی

وائٹ ہاؤس سے عظیم قوم کے عظیم لوگوں کا سب سے مقبول لیڈر دم ِ رخصت صدر ٹرمپ کے نرم ہاتھوں کی گرم تھپکیاں  وصول کرتے ہوئے جس قدر مسرور تھا امریکی ادارہء امن کے تھنک ٹینک کی تقریب میں اتنا ہی تھکا تھکا اورمضطرب نظر آیا۔روسڑم پر گزشتہ کئی  برس کی تقریر کے الفاظ سمیٹتے ہوئے اس نے خطاب مختصر کرنے میں عافیت محسوس کی۔۔۔
میزبان خاتون نے وقفہء سوالات میں وہ تابڑ توڑ حملے کیے کہ خان صاحب کو اضطراب اور برہمی کے قریب پہنچا دیا۔۔

پہلا سوال تو اسی اقلیتی گروہ کے بارے میں تھا جس کے سرگرم اراکین نے واشنگٹن میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا تھا۔لیکن خان صاب نے کمال ہشیاری سےاس کا رخ آسیہ بی بی کی رہائی  اور غیر ملکی پرواز کی طرف موڑ تے ہوئے مظاہرہ کرنے والے خادم حسین اور ساتھیوں کی نظر بندی کی جانب اشارہ دےدیا۔۔۔

دوسرا سوال پاکستان میں این جی اوز کو محدود کرنے سے متعلق تھا جسے شکیل آفریدی کی پولیو مہم اور جاسوسی کے حوالے کرتے ہوئے وہ اگلے سوال کی طرف بڑھ گئے ،جو پاکستان میں آئی  ایم ایف کے قرضوں اور نئی  ٹیکسیشن پالیسی سے متعلق تھا۔کرپشن، منی لانڈرنگ، ملک کے دیوالیہ پن،دوست  ملکوں کی مدد کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی حیرت انگیز انکشاف کیا کہ وہ کسی ملک سے قرضہ مانگنے اور دوسرےدرجے کی زندگی گزارنے کے تصور سے بھی نفرت کرتےہیں۔۔وہ ملک کے جاگیر داری نظام ،دو پارٹی سسٹم اور میرٹ کی عدم انصافی پر بھی نالاں ہیں ۔۔ وغیرہ وغیرہ

کچھ سوالوں کے جواب پر انکی زبان بری طرح لڑکھڑا گئی۔۔ ان میں سے ایک سوال افغان طالبان سے مذاکرات سے متعلق تھا ۔

انہوں نے اعتراف کیا جنرل مشرف انہیں بغیر داڑھی کے طالبان کہتے تھے۔یہیں وہ حافظ سعید کی بندش اور حوالگی پر بھی جزبز ہوئے ۔ماضی کی حکومتوں اور امریکی تعلقات کی کشیدگی پر بھی انہوں نے کچھ حیرت انگیز انکشافات کیے۔یعنی پرانی حکومتوں میں فوج ایک خودمختار اور سرکش ادارہ  تھی ۔آئی ایس آئی  نے اسامہ  بن لادن کی مخبری کی ۔وہ ایک زمانے میں پی ٹی ایم کے ساتھ تھے اور اب ملکی مفادات کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو ملک میں دیکھنا نہیں چاہتے۔فوج جس سویلین علاقے میں جاتی ہے اسے تباہ کر دیتی ہے اب جبکہ فوج ان کی مٹھی میں ہے بلکہ ان کے نیچے ہے فوج کا رول بہت مثبت اور صحت مند ہے۔

ایک سوال جو پاکستان میں میڈیا سنسر شپ سے متعلق تھا۔ان کو بہت ناگوار گزرا اور نہایت متشدد لب ولہجے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان میں کسی نہ کسی طرح اس پریکٹس کو جاری رکھا جائے گا۔۔۔یہیں وزیرِ اعظم محترم ایک جج کی وڈیو کیس میں وکالت کرتے پائے گئے ۔انہوں نے میڈیا مالکان کو خوب لتاڑا اورصحافیوں کی مختلف لابیوں کے بارے سخت جملے استعمال کیے ۔ایک جمہوری وزیر ِاعظم ہوتے ہوئے ان کا رویہ مخالف سیاسی جماعتوں کے لیے بھی معاندانہ رہا۔

افغان ثالثی سے بات پاکستان انڈیا تعلقات پر آ رُکی۔ان کا عجیب سا بیان سامنے آیا کہ انڈیا اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں سے ہاتھ اٹھا لے تو پاکستان بھی اپنے جوہری تجربوں کو روک دے گا۔یہیں کشمیر مسئلے پر صدر ٹرمپ کی ثالثی کا ذکر ہوا۔۔۔موصوف نے اعادہ کیا کہ فیصلہ وہ ہوگا جو کشمیر کے عوام چاہیں گے۔۔گویا امریکہ کو افغان علاقہ خالی کرنے کے بعد کشمیر کی راہ سجھا دی گئی ۔۔۔ایران سے امریکی مخدوش تعلقات کے بارے خان صاب نے سُنی اور شیعہ تضادات کا ذکر کرتے ہوئے عراق کی تباہی کا تذکرہ کیا گویا اس ضمن میں اپنی علاقائی  سلامتی کے خطرے کو اچھی طرح بھانپ لیا۔۔۔کچھ سوالات انکی حکومت کی مختلف پالیسوں کے بارے تھے جس کا وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔۔۔۔۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کا یہ اپنی درخواست پر کیا گیا دورہ فوج کی امداد اور کچھ تجارتی فائدہ تو دے گا۔۔۔۔لیکن شاید پاکستان ایک بار پھر ڈو مور کی سرحد پر آن کھڑاہوا ہے۔۔اور امریکہ کی محبت ایک بار پھر چین ،روس اور انڈیا کی تثلیث کے خلاف پاکستان کا سینڈوچ تیارکرنے والی ہے۔

اس سلسلہء سوال وجواب میں حاضرین کی موجودگی صیغہء راز ہی رہے گی!

ڈاکٹر شاہین مفتی
ڈاکٹر شاہین مفتی
پروفیسر ڈاکٹر اردو ادب۔۔شاعر تنقید نگار کالم نگار ۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *