شکست ۔ سلطنتِ عثمانیہ (9)۔۔وہارا امباکر

عثمانیوں کے لئے جنگِ عظیم اول کے چار محاذ تھے جو آپس میں خاصے فاصلے پر تھے۔ ڈرڈینلینس (درہ دانیال) جو شمال مغربی ترکی میں ہے۔ مشرقی اناطولیہ اور قفقاز، عراق اور شام و فلسطین۔ جنگ اچھی نہیں رہی۔ برطانوی افواج نے بصرہ نومبر 1914 میں حاصل کر لیا اور عراق کے شمال تک جا پہنچے۔ کمال پاشا کی فوج کا سوئز نہر کو حاصل کرنے کے لئے کیا جانے والا حملہ کامیاب نہ رہا۔ روسی افواج کے خلاف بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا جس میں سے کچھ جنگ کی وجہ سے تھا اور دسیوں ہزار 1916 کی سردی سے۔ برطانیہ کے خلاف 1917 کی بہار میں فلسطین پر حملہ پسپا کر دیا گیا لیکن دسمبر میں یروشلم برطانوی آرمی کے پاس تھا۔ الکوت میں فتح ہوئی لیکن اس سے چھ ماہ بعد بغداد چھن چکا تھا۔ عثمانی فوج کو واحد بڑی کامیابی ڈرڈیینلیس کے کامیاب دفاع میں ہوئی جب چرچل کے قیادت میں حملہ کرنے والی افواج کو شکست دی گئی اور نہ صرف آبنائے میں بلکہ گالیپولی میں ملٹری لینڈنگ کو ناکام بنایا گیا۔ لیکن یہاں پر ہونے والا جانی نقصان بہت زیادہ تھا۔

چار سال میں اس جنگ میں سوا تین لاکھ فوجی میدان جنگ میں ہلاک جبکہ چار سے سات لاکھ کے درمیان زخمی ہوئے۔ چار لاکھ فوجی بیماری کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھے۔ 1916 میں کل فوج کی تعداد آٹھ لاکھ تھی جبکہ جنگ بندی تک سوا لاکھ رہ چکی تھیں۔ دسیوں ہزار بھگوڑے ہو چکے تھے۔ فوجی بھرتیوں کا مطلب یہ نکلا کہ زمینوں پر کام کرنے والوں کی کمی تھی۔ اس نے غذائی قلت پیدا کر دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس جنگ نے عرب اور ترکوں کے تعلقات کشیدہ کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ کمال پاشا نے کئی عرب راہنماوٗں پر شک ظاہر کیا کہ یہ برطانیہ کے جاسوس ہیں اور ان کو سزائے موت دی گئی۔ کئی اہم خاندانوں کو حکومت کا وفادار نہ ہونے کے الزام میں جلاوطن کیا گیا۔ شام میں پڑنے والے قحط نے صورتحال مزید خراب کی۔ اور کمال پاشا کی ان مشکل اقتصادی حالات میں بھی یادگاریں تعمیر کروانے کی پالیسی نامقبول رہی۔ بلقان ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ٹیکسوں کا بوجھ عربوں پر تھا۔ جون 1916 میں حجاز میں عرب بغاوت شروع ہو گئی۔ یہ مکہ کے شریف حسین کی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش تھی۔ شریف حسین کی جگہ حیدر آئے اور انہوں نے خود عرب میں بادشاہت قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ برطانیہ نے آزادی تسلیم کر لی۔ عثمانی اس کے خلاف کچھ نہ کر سکے۔ برطانوی مورخین نے اس میں ٹی لارنس کے کردار کا رومانس تخلیق کیا ہے جن کے کردار کو بڑھا چڑھا کر بتایا جاتا رہا ہے۔ لارنس آف عریبیہ کی افسانوی کہانیوں سے زیادہ عرب اور ترک کشیدگی کی اپنی ایک تاریخ تھی۔

سلطنت کے حصے بخرے کس طریقے سے کئے جائیں گے؟ اس پر اتحادی افواج میں بات چیت ہوتی رہی۔ قسطنطنیہ معاہدے میں 1916 میں طے کیا جا چکا تھا کہ استنبول اور سٹریٹس کا علاقہ روس کے پاس آئے گا۔ جنوب مغربی اناطولیہ اٹلی کے پاس۔ فرانس اور برطانیہ نے شام کو اپنے پاس رکھنے کے اپنے اپنے حق کا دعوٰی کیا تھا۔ عرب صوبوں کے بارے میں کئی تجاویز زیرِ غور رہیں۔ ایک تجویز یہ تھی کہ شریفِ مکہ کو خلافت اور آزاد عرب ریاست دے دی جائے۔

لیکن حالات 1917 تک بدل چکے تھے۔ عثمانی فوج کولیپس ہو رہی تھی۔ روس میں سرخ انقلاب کی آمد تھی۔ بالشویک انقلاب نے روس کا نقشہ بدل دیا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پانچ “گریٹ پاورز” فرانس، برطانیہ، روس، آسٹریا اور پرشیا (جرمنی) تھے۔ بیسویں صدی میں ابھرنے والی نئی عالمی طاقت امریکہ تھی۔ اسی سال یہ طاقت بھی درمیان میں کود پڑی۔ اس کے صدر ولسن کالونیل ازم کے خلاف تھے۔ ولسنین ازم کی عالمی امن کی اپنی چودہ نکاتی پالیسی تھی جس نے حقِ خود ارادیت جیسا نیا اور عجیب لفظ عالمی سیاست کی لغت میں داخل کر دیا تھا۔

ستمبر 1918 جنگ کے لئے اہم موڑ ثابت ہوا۔ یہ عثمانیوں کے اتحادی بلغاریہ کا گر جانا تھا۔ اتحادی افواج کے لئے اب استبول کا راستہ صاف تھا۔ 2 نومبر کو سی یو پی کے عثمانی لیڈر انور پاشا، کمال پاشا اور طلعت پاشا ملک چھوڑ کر فرار ہو چکے تھے۔ 13 نومبر 1918 کو اتحادی افواج نے استنبول پر قبضہ کرلیا۔ پہلے برطانوی پہنچے، پھر فرنچ اور اطالوی۔ 1453 میں سلطان مہمت دوئم کے اس شہر پر قبضے کے بعد یہ شہر اب عثمانیوں کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلطان مہمت پنجم کی وفات 5 جولائی 1918 کو ہوئی۔ ان کے بعد ان کے بھائی مہمت ششم اگلے سلطان بنے۔ جنوری 1919 میں انہوں نے عثمانیوں کی طرف سے کئے گئے جنگی جرائم میں ملوث افراد کے لئے جنگی ٹریبونل بنایا۔ اپنی نوعیت کے اس پہلے ٹرائل میں سی یو پی کے 120 وزراء اور عہدیداران کو کٹہرے میں لایا گیا۔ سات لیڈروں کو غیرحاضری میں سزائے موت سنائی گئی۔ 67 کو جلاوطن کر کے مالٹا بھیج دیا گیا۔ اسی طرز کے دوسرے ٹرائل صوبوں میں شروع ہو گئے۔

گریس کی افواج 15 مئی 1919 کو ازمیر میں داخل ہو گئیں۔ گریس نے استنبول ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ استنبول اتحادی افواج کے قبضے میں تھا۔ گریس کی افواج ازمیر سے آگے بڑھنے لگی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سب زمین پر ان کا حق ہے۔ درپردہ انہیں برٹش کی حمایت حاصل تھی۔ مقامی آبادی مزاحمت کر رہی تھی۔ 16 مئی کو عثمانی فوجی مصطفیٰ کمال استنبول سے ایک سٹیمر میں نکلے اور تین روز بعد سیمسون پہنچ گئے۔ انہوں مقامی آبادی کو غیرمسلح کروانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ان کا ارادہ ایسا کرنے کا نہیں تھا۔ برطانویوں نے بھانپ لیا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ عثمانیوں کو مصطفیٰ کمال کو واپس بلانے کے لئے کہا گیا۔ حکومت کی طرف سے واپس آنے کے احکامات جاری ہو گئے۔ مصطفٰی کمال نے حکم عدولی کی۔ ساتھیوں کو ملا کر جنگِ آزادی شروع کر دی۔ ٹیلی گراف کے ذریعے عثمانی فوج کے افسران کو اس تحریک کا پیغام پہنچانے لگے۔ اناطولیہ میں یورپی قبضہ آوروں کے خلاف تحریکِ آزادی شروع ہو گئی۔ مقامی آبادی ان کا ساتھ دینے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نئے انتخابات ہوئے۔ جنوری 1920 میں نئی پارلیمنٹ بنی۔ دسمبر 1919 کو مصطفٰی کمال نے تقریر میں کہا کہ عرب آبادی کو اپنا مستقبل خود دیکھنا ہو گا اور وہ ترکوں کے ساتھ نہیں۔ ترک اور کرد اکٹھے ہیں۔ نیشنلزم کا مطلب یہ ہے کہ ترک اور کرد عثمانی سلطنت کے وارث ہیں۔ قومی معاہدے کے تحت عثمانی ریاست کا نام “ترکی” رکھ دیا گیا۔

برطانوی ان قوم پرستوں کے شدید مخالف تھے۔ اہم راہنما گرفتار کر کے جلاوطن کر دئے گئے۔ پارلیمنٹ نے احتجاجاً خود کو تحلیل کر لیا۔ ممبران استنبول چھوڑ کر انقرہ چلے گئے۔ 23 اپریل کو انقرہ میں 84 ممبران ملے اور مصطفٰی کمال کو سربراہ چن لیا۔ اس سے بارہ روز پہلے شیخ الاسلام نے قوم پرستوں کو مرتد اور واجب القتل قرار دیا تھا۔ یکم مئی کو مصطفٰے کمال اور ساتھیوں کو غیرحاضری میں سزائے موت سنا دی گئی۔

دوسری طرف گریس کی افواج بڑھ رہی تھیں۔ 1920 کے موسمِ گرما تک اردنہ اور بورصہ گریک افواج کے پاس جا چکے تھے۔ 2 جولائی کو مصطفٰی کمال نے اعلانِ جہاد کر دیا۔ “غاصب قوتوں کے خلاف مزاحمت اسلامی فریضہ ہے۔ یہ مقدس جہاد ہے”۔ یہ اعلامیہ مصطفٰی کمال نے جاری کیا۔ جبکہ دوسری طرف استبول میں اتحادی، سلطان اور حکومت قوم پرستوں کے خلاف فتوے دے چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانی سلطنت کے اپنی تاریخ میں تین بڑے حریف رہے تھے جن کے ساتھ اس کی جھڑپیں مسلسل رہتی تھیں۔ مشرق میں صفوی سلطنت، شمال میں روس کے زار اور مغرب میں ہیبسبرگ۔ عثمانی ان تینوں سلطنتوں کے بعد ختم ہوئے۔ صفویوں کا انہدام افغانیوں کے ہاتھوں 1736 میں ہوا۔ جس کے بعد اس طرف سے جھڑپوں کا خاتمہ ہو گیا۔ جب کمیونسٹ انقلابیوں نے زارِ روس نکولس دوئم اور ان کے خاندان کو مار کر یہ سلطنت ختم کی، عثمانی سلطنت ابھی باقی تھی۔

ہیبسبرگ اور عثمانی آپس میں مسلسل نبرد آزما رہے تھے۔ جنگیں برسوں تک چلا کرتی تھیں۔ لیکن عثمانیوں کی آخری جنگ میں یہ دونوں اتحادی تھے۔ پہلی جنگِ عظیم تھی جس میں عثمانی، ہیبسرگ اور جرمن اتحاد بنا تھا۔ آسٹروہنگری ایمپائیر کی قیادت ہیبسبرگ کے پاس تھی۔ یہ خاندان جنگ کے خاتمے سے پہلے ختم ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عثمانی حکومت نے 10 اگست کو سیورس میں امن معاہدہ کر لیا۔ تھریس کا علاقہ گریس کو دے دیا گیا۔ ازمیر پر اگلے پانچ سال تک گریس کا قبضہ تسلیم کر لیا گیا جس کے بعد مقامی آبادی نے طے کرنا تھا کہ یہ کس کے ساتھ رہنا چاہیں گے۔ کردوں کا مستقبل لیگ آف نیشنز پر چھوڑ دیا گیا۔ بالشویک روس کو مشرق میں وان اور بتلیس کے صوبے چاہیے تھے جن کو آرمینیا صوبے کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔ کونسا علاقہ روس میں جائے گا اور کونسا ترکی میں؟ یہ کام امریکہ کے سپرد ہوا۔ سیورس معاہدے کی توثیق پارلیمنٹ نے کرنا تھی۔ پارلیمنٹ موجود نہیں تھی۔ اس معاہدے کی توثیق کے لئے اور امن قائم کرنے کے لئے قوم پرستوں کی حمایت درکار تھی۔ اور اگر امن نہ ہوتا تو گریس کی افواج ایک کے بعد اگلا علاقہ فتح کر رہی تھیں۔ استنبول زیادہ دور نہیں تھا۔

اب سوال عثمانی سلطان کا نہیں، ترک مستقبل کا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساتھ لگی تصویر میں عثمانی اتحادی جرمنی کے بادشاہ قیصر ولہلم کی 1917 میں ہے جب یہ درہ دانیال کے محاذ اور استنبول کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ تصویر باسفورس میں کھینچی گئی۔ قیصر سب سے بائیں طرف والی قطار میں درمیان میں ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *