ڈیجیٹل اندھیر نگری۔۔حمزہ زاہد

جمہوریت، آزادیِ اظہار کے بنا اپنا وجود نہیں رکھ سکتی۔ آج کل کے ڈیجیٹل دور میں زیادہ ترسیاسی سرگرمیاں آن لائن ہی سر انجام دی جاتی ہیں۔ ایک مفت اور آزاد ڈیجیٹل جگہ، صحتمند اور مثبت سیاسی عمل کیلئے بہت ضروری ہے، کیونکہ اِس طرح ایک آدمی بھی عالمی سامعین تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور بہت ساری جگہوں سے مختلف تناظر میں وسیع معلومات حاصل کر سکتا ہے۔ اِس دنیا کے بہت سارے استبدادی حصوں میں جہاں آمروں کی حکومتیں قائم ہیں، وہاں عوام کی معلومات تک رسائی کو بہت خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ حکمران اِس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ جہاں تک ہو سکے عوام اور صحافیوں کے پریشان کُن سوالوں سے بچ سکیں۔ جیسے جیسے عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی زیادہ ہو رہی ہے اور لوگ سوشل میڈیا استعمال کرنے لگے ہیں، ویسے ویسے انٹرنیٹ سے متعلق نت نئے قوانین بھی آتے جا رہے ہیں۔ ایسے صحافی جو حکومتی بیانیے سے انحراف کرتے ہیں اُن پر ”جھوٹی خبر“ پھیلانے کا الزام لگا کر مقدمات درج کر لئے جاتے ہیں۔ سیاسی حریفوں پر ”شدت پسند“ ہونے کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں حفاظت کا ایک بنیادی ذریعہ ہے جسے ”اِنکرپشن“ کہا جاتا ہے، جو ہمیں انٹرنیٹ کی دنیا میں محفوظ رکھتا ہے۔ حکومتوں سے ہماری حفاظت کا یہ ہتھیار بھی ہضم نہیں ہوتا، کیونکہ اِنکرپشن حکومت   اپنی عوام کی جاسوسی کرنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ بعض اوقات اِن حکومتی ہتھکنڈوں کا بالکل اُلٹ نتیجہ نکل آتا ہے اور جس مقصد کیلئے حزب اختلاف کی آواز دبائی جاتی ہے اُس مقصد میں بھی ناکامی ہوتی ہے اور اُلٹا حزب ِ اختلاف کے بیانیے کو پذیرائی ملنے لگتی ہے۔

غالباً ایک مہینہ پہلے جب پاکستانی حکومت نے نئے سائبر قوانین (Citizens Protection Against Online Harm Rules 2020) کا اجراء کیا، تو اِس نے پورے ملک کو ایک فیصلہ کُن مرحلے پر پہنچا دیا تھا۔ کیا یہ قوانین آج کے ڈیجیٹل دور میں جمہوریت کو صحتمند اور مثبت انداز میں پنپنے دیں گے؟

کیا اِن قوانین کی موجودگی میں ہم وہ معاشی، ثقافتی اور انسانی حقوق سے متعلق وہ فوائد و ثمرات حاصل کر سکیں گے جو انٹرنیٹ ہمیں مہیا کرتا ہے؟

یا یہ سارے معاملات اُلٹے ہو کر پیچھے کی جانب چل پڑیں گے؟

آزادیِ اظہار پر قدغن لگائی جائے گی؟

اور جمہوریت، استبدادی قوتو ں کے پنجوں  میں  پھڑپھڑانے لگے گی؟

مسئلہ خالی یہ نہیں ہے کہ نئے قوانین کو جائز تقاریر اور آزادیِ اظہار کو نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے (جو کہ لازماً ہو کر رہے گا)، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک نئے، مکمل طور پر غیر جوابدہ، اور استثنا کے حامل طاقتور حکومتی ادارے کے ایک اشارے پرسوشل میڈیا سے ایسے کسی بھی مواد کوپلک جھپکنے میں خذف کیا جا سکے گا جو ریاست کے بنیادی اقدار سے متصادم ہو گا۔ غالباً یہاں پر یہی فرض کیا گیا ہے کہ صرف حکومت کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اِس بات کا فیصلہ کرے کہ وہ بنیادی اقدار کون سی ہیں اور مختلف مقرروں پر اُن کا اطلاق کیسے ہو گا۔ یہ قوانین سوشل میڈیا کمپنیوں سے اِس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے فلٹرز کی تنصیب کریں جو توہین آمیز، ’جھوٹی خبروں‘ اور دوسرے ممنوع زمرے میں آنے والے مواد کو جیسے ہی اپلوڈ کیا جائے، پکڑ لیں۔ تاہم، اِس حقیقت سے تو صرفِ نظر ہی کریں کہ ایک آٹو میٹک فلٹر کیلئے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ بتا سکے کہ کون سا مواد توہین آمیز ہے یاغلط اور صحیح ہے۔

سب سے بڑا خطرہ جو اِن قوانین سے لاحق ہو گیا ہے، وہ اِس چیز کا مطالبہ ہے کہ تمام سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے سسٹم کو اِس طرح ڈیزائن کریں گی کہ جب بھی حکومت کوئی ڈیٹا مانگے گی، سوشل میڈیا کمپنیاں وہ ڈیٹا ڈِی کِرپٹ(decrypted) اور پڑھے جانے والی حالت(readable format) میں حکومت کو مہیا کریں گی۔ یعنی کہ اِس کا مطلب ہوا، کہ نا صرف پاکستا ن بلکہ پوری دنیا میں مضبوط اور محفوظ اِنکرپشن ٹیکنالوجی کا خاتمہ ہے۔ کوئی بھی ٹیکنالوجی کمپنی اپنی صحیح دماغی حالت میں صرف ایک ملک کی مارکیٹ کے پیچھے اپنے عالمی آپریشنز کو تباہ نہیں کر سکتی۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ کام تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو پاکستان سے باہر دھکیلنے کے مترادف ہو گیا ہے۔ اِس طرح تو پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے گا، اورمیرا نہیں خیال کہ پاکستان اپنے لئے ایسا مستقبل چاہتا ہے۔

آن لائن دنیا، پوری انسانیت کا عکس ہے، جہاں مثبت کیساتھ ساتھ منفی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ اِس حقیقت سے بھی انکار نہیں ہے کہ لوگ انٹرنیٹ کو بُرے مقاصد کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کو نقصان دہ پیغامات پھیلانے کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اِن تمام نقصان دہ کاموں سے عالمی انسانی حقوق کے متعین کردہ معیارات کے تناطر میں ہی نبٹنا چاہیے۔ ابھی تک حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ابھی وہ اِن قوانین کے اطلاق کو موخر کر رہی ہے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے، لیکن اِن قوانین کے مسودے میں بہت ساری تبدیلیاں کرنی پڑیں گی تب جا کر یہ عالمی قوانین سے مطابقت اختیار کر پائیں گے۔ کوئی بھی یہ نہیں کہہ رہا کہ انٹرنیٹ ایک لاقانونیت کی حامل جگہ بنی رہے، لیکن سائبر جرائم سے لڑنے کیلئے بنیادی جمہوری اقدار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہی اقدامات کیے جانے چاہئیں ۔

Avatar
حمزہ زاہد
پیشے کے لحاظ سے پروفیشنل اکاونٹنٹ ہیں، اکاونٹنگ اور فائنانس کے شعبے میں ایم فل کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اُردو زبان میں ابلاغ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ راقم کچھ سال ماہنامہ گلوبل سائنس ، کراچی سے بھی قلمی تعاون کرتے رہے ہیں۔اس کیساتھ ساتھ فلسفہ، اسلامی موضوعات، حالات حاضرہ اور بین الاقوامی سیاست و تعلقات سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *