عورت نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟۔۔سعدفاروقی

اگر ہم فرض کریں کہ روئے زمین پہ عورت نہ ہوتی توپھر کیا ہوتا؟ عورت نہ ہوتی تو میں ہوتا، نہ آپ ہوتے اور نہ ہی دنیا کی یہ رنگینی ہوتی۔بقول شاعر۔
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِدروں

میں تو یہ کہوں گا کہ خود تصویر ِ کائنات عورت کے وجود کے بغیر ادھوری اور نا مکمل ہے۔ عورت نہ ہوتی تو نہ ماں کی بے لوث محبت ہوتی، نہ بہن کا بے مثال ایثارہوتا، نہ بیوی کی غمگساری ہوتی اور نہ بیٹی کا والہانہ پیار ہوتا۔

عورت نہ ہوتی تو کھیتوں سے لہلہاتی فصلیں کیسے حاصل ہوتیں؟ ہسپتالوں سے مریض کیسے شفاء پاتے؟ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی تربیت اور ذہنی آبیاری کون کرتا؟ ان روایتی کاموں کے علاوہ موجودہ دور میں ہمارے ادارے کون چلاتا؟ ہماری رہنمائی اور رہبری کون کرتا؟ عورت نہ ہوتی تو رنگ برنگے آنچل کون اوڑھتا؟ سولہ سنگھار کون کرتا؟ اور انواع و اقسام کے جوتے کون پہنتا؟ عورت کے عدم وجود سے ملبوسات، میک اپ اور بیوٹی پارلرز کی صنعتوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا۔ ہمارے بازار ویران اور شاپنگ مالز ویران ہوتے۔ ہمارے کھانے پھیکے اور مزاج تیکھے ہوتے۔ ہم جذبات سے عاری چلتے پھرتے روبوٹ ہوتے۔ عورت کے دلاسے کے بغیر مرد ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوتے۔

عورت نہ ہوتی تو معصوم بچوں کو لوری کون سناتا؟ انسان بولنا کیسے سیکھتا؟ زبان و بیان کی چاشنی، یہ مباحثے، یہ تحریریں، ان گنت کہانیاں اور دلربا داستانیں سب عورتوں کے دم سے ہیں۔ عورتوں کو گھروں میں مقید کرنے سے ہم مادام کیوری جیسی قابل سائنسسدان، مدر ٹریسااور ڈاکٹر رتھ فاؤ جیسی غمخوارِ انسانیت، فاطمہ جناح اور بے نظیر بھٹوجیسی زیرک سیاستدان اور جین آسٹن اور بانو قدسیہ جیسی عظیم ناول نگار خواتین سے محروم رہتے۔ یہ خواتین نا  صرف عورتوں بلکہ مردوں کے لئیے بھی مشعلِ راہ ہیں۔ مختصر یہ کہ گود سے لے کر گور تک عورت کا وجود انسانیت کی بقاء اور ارتقاء کا ضامن ہے۔
بقول جمیل الدین عالی

ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے
ہم بانی مہرووفاہم کشمکش ہم ارتقاء
تاریخ نے خود لکھ دیا
ان کی عبارت ہم سے ہے
ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں
قوموں کی عزت ہم سے ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *