اُردو کے سو پسندیدہ شعر۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ/4،آخری قسط

پاکستان کے مشہور ماہر تعلیم اختر شمار کا شعر دیکھیے کہ جس نے خاموشی کے پس جواز تلاشنے میں مدد دی کہ:

میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں

رجسٹر میں عباس رضوی کے نام سے درج یہ شاندار شعر دیکھیے کہ:

میں جو چپ تھا ہمہ تن گوش تھی بستی ساری
اب مرے منہ میں زباں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

جموں کشمیر کے احمد شناس کے بارے میں امجد اسلام امجد نے لکھا تھا کہ “بہت سادگی سے کئی فکر انگیز سوال اٹھائے گئے ہیں لیکن اس ’’عالم گیر‘‘ حیرت کے اظہار میں عام طور پر شعریت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا کہیں کہیں ضرورت سے زیادہ سادگی یا موضوع کی رعایت سے استعاراتی پیچیدگی ضرور در آتی ہے مگر اس نواح میں ایسا اکثر ہو جاتا ہے کہ اس شہادت گہہ الفت میں بڑے بڑوں کے قدم بھی شروع شروع میں ایسے ہی پڑتے دیکھے گئے ہیں”۔۔ آئیے احمد شناس کا شعر دیکھیے کہ:

پھول باہر ہے کہ اندر ہے مرے سینے میں
چاند روشن ہے کہ میں آپ ہی تابندہ ہوں

جناب عباس تابش کا شعر بھی یادگار ہے کہ:

ہجر کو حوصلہ اور وصل کو فرصت درکار
اک محبت کے لیے ایک جوانی کم ہے

حبیب امروہی کا درج زیریں شعر بھی رجسٹر کی شان بڑھاتا ہے کہ:

کیوں مجھ کو نذر آتش احساس کر دیا
کیوں جان ڈال کر مری مٹی خراب کی

“لوگوں کو کتاب کی طرف مائل کرنا بھی جہاد ہے” جیسی کہاوت کے موجد پاکستان کے مشہور شاعر اور مصنف خالد شریف کا یہ شعر بھی بلا کی کاٹ کا حامل ہے کہ:

دلچسپ واقعہ ہے کہ کل اک عزیز دوست
اپنے مفاد پر مجھے قربان کر گیا

ادے پور ہندوستان کے اردو شاعر عابد ادیب کا کمال شعر ملاحظہ فرمائیں کہ:

جہاں پہنچ کے قدم ڈگمگائے ہیں سب کے
اسی مقام سے اب اپنا راستہ  ہوگا

بہاولنگر کے گورنمنٹ کالج میں تدریس سے وابستہ عامرسہیل کی شاعری نہ صرف منفرد اور نئی ہے بلکہ ہمعصروں کو چیلنج بھی کرتی ہے. اُن کا شعر قابل داد ہے کہ:

میں بے زباں نہیں جو بولتا ہوں لکھ لکھ کر
مری زبان تلے زہر کا بتاشا ہے

ایک دفعہ ایک طالب علم نے عجیب سا سوال کر دیا کہ ”آپ کو نوبل پرائز کیوں نہیں ملا؟“ طلباء کی سوچ تھی کہ جب دنیا کی بڑے بڑے ادیبوں فنکاروں اور خصوصاً ہندوستان میں بنگالی شاعر ٹیگور کو نوبل پرائز مل رہا ہے تو علامہ اقبال اس سوال پہ سٹپٹا جائیں گے مگر علامہ اس دن قدرے مسکرائے اور کہا ”اگر نوبل پرائز مل چکا ہوتا تو آپ مجھ سے یہ سوال کر رہے ہوتے کہ میں نے کون کون سے کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں جن کی بدولت اس کا مستحق سمجھا گیا ہوں، نہ ملنے پر تو ایسا مشکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا”. علامہ اقبال کا یہ شعر بھی احقر کے رجسٹر میں کچھ یوں موجود ہے کہ:

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

بی بی سی کے میزبان نے احمد فراز سے سوال کیا کہ جب آپ نے لکھنا شروع کیا تھا اور پہلی چیز جو آپ نے لکھی تھی کیا وہ آپ کو یاد ہے؟ ​”ہاں یاد ہے، اس لیے کہ بہت بچپن کا واقعہ ہے اس لیے بھول نہیں سکتا۔ میں نویں سے دسویں میں تھا اور میرے بڑے بھائی محمود دسویں سے کالج میں داخل ہوئے تھے تو والد صاحب ہمارے لیے کچھ کپڑے لائے، اس کے لیے تو سوٹ لائے اور میرے لیے کشمیرے کا پیس کوٹ کے لیے لے آئے، تو وہ مجھے بالکل کمبل سا لگا. چیک تھا، آج کل تو بہت فیشن ہے لیکن اس وقت وہ مجھے کمبل سا لگا اور میں نے ایک شعر لکھا جو یہ تھا (سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے ۔۔ لائے ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے)۔ تو بعد میں یہ میرا بنیادی شعر اس اعتبار سے بھی ہوا کہ کلاس کا جو فرق تھا وہ میرے ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا اور جب ہم فیملی سے ہٹ کر دنیا کے اور مسائل میں آئے تو پتہ چلا کہ بڑا کنٹراڈکشن (تضاد) ہے تو اسی طرح شاعری بھی میں نے شروع کی، دو طرح کی. ایک تو اسی زمانے میں وہ بھی ہوا جسے عشق کہتے ہیں اور ایک یہ بلا بھی تھی. تو اس طرح میری زندگی دو چیزوں کے گرد گھومتی رہی”.۔اردو کے عظیم شاعراحمد فراز کا شعر ملاحظہ فرمائیں کہ:

ابرو کھچے کھچے سے آنکھیں جھکی جھکی سی
باتیں رکی رکی سی، لہجہ تھکا تھکا سا

ابراہیم ذوق کا زبان زد عام شعر دیکھیے کہ:

رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

علامہ محمد اقبال کا یہ شعر بھی رجسٹر میں یوں درج ہے کہ:

تھا جو نہ خوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

دہلی اور لکھنو کے بعد اردو کو جو زمین زرخیز ملی وہ رام پور ہے۔ رام کے والی نواب یوسف علی خان ناظم کے شاگرد نظام رام پوری کا شعر بھی رجسٹر میں یوں درج ہے کہ:

دینا وہ اس کا ساغرِ مئے یاد ہے نظام
منہ پھیر کر اُدھر کو، اِدھر کو بڑھا کے ہاتھ

الطاف حسین حالی کا شعر بھی داد سے بالا تر ہے کہ:

ہم نہ کہتے تھے کہ حالی چپ رہو
راست گوئی میں ہے رسوائی بہت

ن م راشد کی شاعری اردو ادب سے ایک واضح بغاوت کی داد سے بالاتر مثال ہے۔ شدید بغاوت کا حتمی حلیہ مشکل ترین شکل اختیار کر گیا. کلاسیکل موسیقی کے لطف کا حصول ادب کے حقیقی شعور کے بغیر ناممکن ہے۔ نذر محمد جنجوعہ کا یہ شعر قابل غور ہے کہ:

پلا ساقیا مئے جاں پلا کہ میں لاؤں پھر خبر جنوں
یہ خرد کی رات چھٹے کہیں نظر آئے پھر سحر جنوں

عشق کی منازل طے کرنی ہیں اور زاد راہ میں قتیل کی شاعری نہیں، سمجھیے عشق نامکمل رہ گیا ہے، یقیں نہیں تو یہی شعر دیکھ لیں کہ:

آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

ہائے اقبال بھی مضمون کے ایسے ایسے پہلو سے آشنائی کا سبب ہے کہ نظیر نہیں ملتی، ایسی ایسی راہیں، کیسی کیسی یگانگت سے لبریز مضمون بھی انفرادیت سے پہلو تہی نہ کر سکے، علامہ سیالکوٹی کا شعر پڑھیے اور سر دھنیے کہ:

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

اقبال ہی کا ایک دوسرا شعر ملاحظہ فرمائیں کہ

علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

ماسکو میں تقریر کرتے ہوئے مندرجہ ذیل شعر کے شاعر نے حقیقت بیان کی تھی جس کا تذکرہ قابل قبول ہونا چاہیے کہ “انسانوں کو فطرت کے ذخائر پر اتنی دسترس اور پیداوار کے ذرائع پر اتنی قدرت نہ تھی کہ ہر گروہ اوربرادری کی ضرورتیں پوری طرح تسکین پاسکتیں۔اس لئے آپس میں چھین جھپٹ اور لوٹ مار کا کچھ نہ کچھ جواز بھی موجود ہے، لیکن اب یہ صورت حال نہیں ہے، انسانی عقل، سائنس اور صنعت کی بدولت اس منزل پر پہنچ چکی ہے کہ جس میں سب تن بخوبی پل سکتے ہیں اور سبھی جھولیاں بھرسکتی ہیں۔بشرطیکہ قدرت کے یہ بے بہا ذخائر پیداوار کے یہ بے اندازہ خرمن، بعض اجارہ داروں اور مخصوص طبقوں کی تسکینِ ہوس کے لئے نہیں، بلکہ جملہ انسانوں کی بہبود کے لئے کام میں لائے جائیں”۔۔ فیض احمد فیض کا شعر دیکھیں کہ:

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے

غالب نے عشق کے جو پہلو قاری کی نظروں کے سامنے رکھے ہیں اُن کا معنی پا کر وہ سرشار ہوا پھرتا ہے گویا غالب کا ادراک ادب پہ اجارہ سے کم نہیں. مرزا کا شعر پڑھیں کہ

عشق نے غالبؔ نکما کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

غالب کا ایک یہ پہلو بھی دیکھ لیجیے کہ:

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

غالب سمیت کئی اساتذہ جس کا تذکرہ کرنے پہ مجبور ہوئے اُس میر تقی میر کا شعر رجسٹر مذکورہ میں یوں درج ہے کہ:

بے خودی لے گئی کہاں ہم کو
دیر سے انتظار ہے اپنا

جبکہ خواجہ میر درد کا شعر یوں درج ہوا پڑا ہے کہ

نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو

بھوپال سے متعلق شاہد میر جو ہندوستانی موسیقی کے استاد اور کمال گلوکار ہیں کا اعلیٰ شعر پڑھتے ہیں کہ

پہلے تو چھین لی مری آنکھوں کی روشنی
پھر آئینے کے سامنے لایا گیا مجھے

بمطابق ذاتی رائے عاجز ہذا جس نے کلیم عاجز کا مشاعرہ سن لیا اُس نے اردو شاعری کا نچوڑ اپنی آنکھوں سے دیکھ اور کانوں سے سن لیا. کلیم عاجز کے شعر کے ساتھ سلسلے کا آخری شعر ملاحظہ ہو کہ

بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا
سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے!

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *