جوگن کا خواب۔۔سلمیٰ سیّد

یہیں کچھ دور ۔۔ ایک بازار کے آخری سِرے پر وہ اکثر آتی۔ کبھی اکیلی کبھی سکھیوں کے سنگ ،ہنستی گاتی مجمع لگاتی۔
اپنے سارے درد چھپا کے گھر رکھ آتی ۔۔۔کتنے ہی لوگوں کی نظریں اس کی خاطر گھات لگاتیں پر وہ سب کو جل دے جاتی ،اس کے ساتھ پرندہ تھا جو کوّا نہیں ،پر تھا سیانا ۔مٹھو نام بڑا شاطر تھا۔
لڑکی لکڑی کے تختے پر سکّے بچھاتی ، کچھ ڈبوں میں پڑیا رکھ کر گھر سے لاتی۔ ان پڑیوں میں ایک سی باتیں قسمت کھلنے کی سوغاتیں۔
کھیل تماشا چلتے چلتے اک دن اس بازار سے آگے آخری سِرے سے جوگی گزرا ۔۔
صحراؤں کی خاک میں لپٹا پلک پلک پر جگراتوں کے نخلستاں تھے ۔لہجہ شریں لب پیاسے تھے ۔۔۔جوگی کی قسمت تھی کھوٹی پھر بھی بولا ۔۔۔
سن لڑکی یہ ڈبہ  کھول اور میری قسمت میں جو ہو سچ سچ بول ۔ مٹھو تختے پر بیٹھا تھا، چلتا آیا ،ڈبے سے سکّہ جو بندھا تھا ،مٹھو نے لڑکی کو تھمایا، پڑیا نکلی ۔۔۔ پڑیا میں تھا ۔۔۔
جوگی تیرا جوگ سدا کا۔۔۔ تھوڑی رعایت ہوسکتی ہے ۔ تجھ کو محبت ہوسکتی ہے ۔

لڑکی بولی۔۔۔۔ لا میرا پیسہ تجھ کو روشن کل بخشا ہے ۔جوگی بولا ۔۔۔۔ لڑکی پیسہ پاس نہیں ہے پر میں تجھ کو کچھ نہ کچھ تو دے سکتا ہوں ۔۔ اور میں آنکھیں پڑھ لیتا ہوں ۔۔ سچ کہتا ہوں ۔۔۔
تم کو اب تک شاید وہ معلوم نہیں ہے جس کو سن کر اپنے اس دنیا میں اس قصبے اور ان گلیوں میں پیدائش کو جان سکو گی ۔

اپنے آپ کو پوری طرح پہچان سکوگی۔ کیا تم میرے ساتھ چلوگی ،اس نگری میں جہاں تمھارے دم سے سورج اُگ آئے گا ۔ بے شک واپس لوٹ آنا پر ایک دفعہ تو چل کر دیکھو ۔

لڑکی کی آنکھوں میں سب تھا، خواب نہیں تھا۔ جوگی کی باتوں پر بھی ایمان نہیں تھا ،پھر بھی لڑکی سارا کھیل تماشا اپنے ہاتھ اور کپڑوں کو جھاڑے کھڑی ہوئی اور بولی۔۔جوگی چل مجھ کو اس نگری لے چل۔۔۔ ذاد راہ میں کیا رکھوں میں ؟ چادر چپل گہنے باندھوں ؟ جوگی سن کر مسکایا تھا۔۔۔۔ بولا جھلی ایک ہی پل بس دور ہے منزل ۔ لڑکی چل دی ۔۔
آگے لمبی پگڈنڈی تھی جوگی کے چولے کو تھامے اس کے قصوں کے جادو میں لڑکی سب کچھ بھول گئی تھی ندی کنارہ شروع ہوا تو لڑکی بولی۔۔۔۔۔
جوگی کتنی دور ہے نگری ،شام پڑی اب کھول دے گٹھڑی ۔۔

لا میرا احسان مجھے دے میرا کھویا خواب مجھے دے۔۔۔ جوگی بولا۔۔۔۔۔ یہ ہی ہے منزل ۔۔۔۔آجا تجھ کو تاج پہناؤں تجھ کو تیرا راج دکھاؤں ۔۔
اتنا میرا کہنا مان کر بند آنکھیں لا ایمان ۔۔۔
پل میں منظر بدل گیا تھا ۔۔۔۔ نہ کوئی جوگی، نہ روگی ۔۔
کتنا روشن دن نکلا تھا سورج نیلا رنگ بدلا تھا ۔ سفید پرندے گھاس درخت اور پھول گلابی۔۔۔۔
دریا ہلکا جامنی رنگ سا ۔۔۔
اک شہزادہ اک شہزادی دونوں فیروزی پیراہن میں اک دوجے کی بانہوں میں تھے۔۔۔ لمس سے سانسیں مہک رہیں تھی شہزادی کی آنکھوں اوپر سرخ سنہری لٹ پڑی تھی ۔۔۔شہزادے نے سبزی مائل ہاتھوں کے پیالے میں شہزادی کا چہرہ تھاما چہرے پر سب رنگ دھنک کے اپنے لبوں سے ہر اک رنگ کو جذب کرنے میں ایسا مگن تھا۔
آس اور پاس کی ساری دنیا بھول کے لڑکی رنگوں کی اَن مٹ برکھا میں بھیگ رہی تھی ۔۔۔
بجلی چمکی آنکھ کھلی تو جوگن تنہا ۔۔۔۔
تنہائی کو بھوگ رہی تھی ۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *