• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • آدم خور قبیلے،پُراسرار جادوگر وائرس اور اس کے علاج کی تلاش کی کہانی۔۔ضیغم قدیر

آدم خور قبیلے،پُراسرار جادوگر وائرس اور اس کے علاج کی تلاش کی کہانی۔۔ضیغم قدیر

”انسانی گوشت بہت مزیدار ہوتا ہے ، بس اوپری جلدی تھوڑی کڑوی ہوتی ہے ۔“ جنگلی قبیلے کی عورت کیمرے کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی ” جب بھی ہمارا کوئی عزیز مرتا ہے تو اسکے قریبی رشتہ دار اس کی لاش کو پکا کر کھاتے ہیں ، خاندان کی سب سے بڑی عورت اس لاش کو پکاتی ہے۔ لاش کے ہاتھ بہو کو کھلاۓ جاتے ہیں اور یہ اسکے لئے قابل فخر بات ہوتی ہے۔“

یہ الفاظ پاپوانیوگینیا کے ایک جنگجو قبیلے کے افراد کے تھے جو کہ آدم خور بھی تھے۔ سب کچھ روٹین کے مطابق چل رہا تھا۔ آدم خوری بھی اور زندگی کاسفر بھی، لیکن پھر ایک نامعلوم بیماری سامنے آگئی۔ یہ بیماری انتہائی عجیب تھی اس میں پہلے مریض کے سر میں درد ہوتا ، یوں لگتا کہ بخار ہورہا ہے مگر پھر اس مریض کا جسم کانپنا شروع ہوجاتا اور وہ مریض لڑکھڑانے لگ جاتا ، اور آخر میں مکمل بے جان ہوجاتا۔ چونکہ دور دراز علاقے کے لوگ تھے سو توہم پرست بھی تھے۔ انہوں نے اس بیماری کو جادو کا نام دے دیا اور ایک گاؤں کا کوئی شخص بیمار پڑتا تو اس گاؤں کے لوگ تعویز دھاگے اور جادو کا الزام لگا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں پہ حملہ کردیتے اور ان کو اس گھناؤنے فعل پہ قتل کر دیتے۔ لیکن بیماری تھی کہ پھیلتی ہی جارہی تھی۔ اس بیماری کا شکار عورتیں اور بچے زیادہ ہورہے تھے۔ جبکہ بہت کم مرد اس بیماری کا شکار ہورہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سن1957ہے میڈیکل کالج کے طالب علم ڈاکٹر مائیکل الپس نے آج اخبار پڑھتے ہوۓ ایک حیران کن خبر دیکھی .خبر یہ تھی کہ ایک نامعلوم بیماری کی وجہ سے جنگلی ضلع اوکاپا کے ”فور“ لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں اس نامعلوم بیماری کا کچھ بھی علم نہیں، یہیں سے ڈاکٹر مائیکل کی جستجو کا سفر شروع ہوتا ہے اور حیران کن طور پہ اسکی اپوائنمنٹ بھی اسی علاقے میں کروا دی جاتی ہے اور یہ اس علاقے کا پہلا میڈیکل آفیسر بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر مائیکل اپنے آفس کو چھوڑ کر ان جنگلی لوگوں میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ وہ کرو نامی اس بیماری کو زیادہ سے زیادہ جان سکے۔ وہاں کافی تجربات کے باوجود اس بیماری کے لنک کا کچھ بھی نہیں پتا چلتا۔ جبکہ اسی طرح کی ایک بیماری بھیڑوں میں بھی ملتی ہے۔ ان کے دماغ کے تجزیے کے بعد پتا چلتا ہے کہ انکے دماغ میں سوراخ بن چکے تھے مگر کیا یہ بیماری انسانوں میں بھی ایک سےدوسرے میں ٹرانسفر ہوتی ہےکہ نہیں؟ مگر اس تجربے کے لئے ٹیسٹ کیس ملنے کے لئے دس سال انتظار کرنا پڑا۔ آخرکار دس سال بعد ایک ٹیسٹ کیس بچی جس کو ڈاکٹر فالو کررہا تھا وہ فوت ہوجاتی ہے اور ڈاکٹر اسکے دماغ کے ٹشو لیکر سیدھا نیویارک چلا جاتا ہے جہاں لیبارٹری میں دو بندروں کا پہلے سے انتظام ہوچکا تھا۔ اب اس نامعلوم وائرس والے ٹشو بندروں میں ٹرانسپلانٹ کردئیے جاتے ہیں اور ایک بار پھر سے انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ یہ انتظار زیادہ لمبا نہیں تھا بلکہ دوسال کے عرصے میں بندروں میں یہ علامات شروع ہونا ہوچکی تھیں۔ اور اب یہ بات   کنفرم ہوچکی تھی  کہ یہ ایک نیوروڈیجنرٹیو بیماری تھی۔ اور میڈیسن میں یہ دریافت ایک حیران کُن دریافت تھی جسکی بنیاد پر مائیکل کو نوبل انعام ملا۔ مگر ابھی سفر ادھورا تھا سوال باقی تھے۔ یہ بیماری کیسے پھیلتی تھی اسکا پتا لگانا تھا اور اس بیماری کو پھیلانے والے جادوگر وائرس کا بھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائیکل واپس پاپوانیوگینیا پہنچ گیا تھا اب کی بار اس کا کام تھوڑا آسان تھا کیونکہ اسکو کنفرم ہوچکا تھا کہ یہ بیماری آدم خوری سے پھیلتی تھی۔ اس بار اس پر حیران کن انکشاف بھی ہوا وہ انکشاف یہ تھا کہ جب کوئی  قریبی عزیز مرتا ہے تو اسکی لاش کو عورتیں پکاتی ہیں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد اس لاش کو کھاتی ہے، جبکہ مرد خاص کر جنگجو مرد اس لاش کو نہیں کھاتے تھے کیونکہ یہ انکو کمزور کر سکتی تھی۔ سو مائیکل کو یہ جواب بھی مل گیا کہ یہ بیماری آدم خوری سے پھیلی۔ مگر اس بیماری کا پہلا کیس کیسے سامنے آیا، اس سوال کا جواب مائیکل کو نہیں  ملا۔ اور ملتا بھی کیسے؟ جبکہ ان جنگجوؤں کے پاس کوئی  ڈیٹا موجود ہی نہ تھا ،اپنی تاریخ محفوظ نہ  تھی۔ سو مائیکل اس پزل کو حل نہ  کرسکا۔ اٌدھر انگلینڈ میں پاگل گاۓ کا گوشت کھانے سے بہت سے لوگ بیمار ہونا شروع ہوگئے ،ڈیڑھ سوکیس سامنے آۓ جن کی علامات “کرو” کیساتھ ملتی تھی۔اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اس بیماری کو پھیلانے والا اور کرو کو پھیلانے والا  ایجنٹ ایک ہی ہے، تجزیوں سے پتا چلا کہ یہ وائرس کی اک نئی قسم تھی بائیوکیمسٹ سٹینلی نے اس کو وائرس کہنے کی بجاۓ پریون کا نام دیا اور بیس سال بعد نوبل انعام جیتا۔ لیکن یہ بیماری کیسے پھیلتی تھی اورکیوں اس کا جواب نہیں ملا تھا۔۔۔لیکن اب ہمارے پاس اس سوال کا جواب موجود ہے۔ ہمارے دماغ میں موجود پروٹین کی مس فولڈنگ کی وجہ سے یہ بیماری شروع ہوتی ہے لیکن جب ان انفیکٹڈ لوگوں یا جانوروں کا گوشت انسانوں نے کھایا تو یہ غلط پیک شدہ پروٹین انکے جسم میں بھی چلے گئے وہاں سے یہ دماغ تک پہنچے  اور دماغ کے ایک سیل پر حملہ کرکے اسکو بھی میوٹنٹ سیل بنا دیا اور یہ اک سیل سے شروع ہونے والا سلسلہ پورے دماغ کے پروٹین سیلز کو خراب کرنے لگا۔ اور یوں یہ بیماری شروع ہوئی۔

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

1980  کے بعد اس قبیلے نے آدم خوری کم کر دی جس کے نتیجے میں یہ بیماری تو تقریباً ختم ہوگئی ۔ لیکن ہمیں ایک نئے بیماری پھیلانے والے عنصر کا پتہ دے گئی جسے ہم پریون کہتے ہیں۔ یہ پریون غلط انداز میں لپٹنے والے پروٹینز (لحمیات) کے بنے ہوتے ہیں۔یہ انسانوں اور جانوروں ،سب میں بیماری پھیلانے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی لئے کُرو کی بیماری بھی انسانی گوشت کھانے کی وجہ سے پھیلی تھی۔ کیونکہ وہ لحمیات (پروٹین) صحیح طرح سے لپٹنے نہیں ہوئےتھے۔
ہیں
مزید پڑھیے
fore قبیلے کے بارے میں
https://en.wikipedia.org/wiki/Fore_people
کرو کے بارے میں
https://medlineplus.gov/ency/article/001379.htm
https://en.wikipedia.org/wiki/Kuru_(disease)
ڈاکٹر الپیرس کا تعارف
https://cosmosmagazine.com/…/solving-the-mystery-of-laughin…

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply