مستقبل کی دنیا کیسی ہو گی۔۔۔۔۔نیّر نیاز خان

آج سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے ہماری دنیا بدل کر رہ گئی ہے۔ اطلاعاتی نظام سیکنڈوں میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے باہمی اور اجتماعی روابط میں تیزی لانے کا سبب بن رہا ہے۔ مالیاتی سرمائے کی نقل و حرکت سے لے کر معلومات کی روانی تک ٹیکنالوجی نے قومی ریاستوں، سرحدی اور جغرافیائی تقسیم کو عملی طور پر ختم کر دیا ہے۔ اسی لیے عرف عام میں سات براعظموں اور دو سو سے زائد قومی ریاستوں کو گلوبل ویلج کہا جاتا ہے۔ گراسری سٹورز، بینکنگ، ریستورانوں اور ماہانہ بلوں کی ادائیگی سے لے کر فضائی سفر کے لوازمات تک ایک خودکار نظام نے انسانی عمل دخل کی ضرورت کو ایک طرح سے بے معنی بنا دیا ہے۔ مشینی روبوٹ افرادی قوت کے نظام کو زندگی کے بیشتر شعبوں میں غیر ضروری بنا چکے ہیں،لیکن اس سب کے باوجود ابھی تک کہیں نہ کہیں اس ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرنے کے لیے  اور اس میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے انسانی ذہانت اور محنت کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ پھر بھی خودکار نظام ہر گزرتے لمحے بہتر سے بہترین ہو رہا ہے۔ حتیٰ کہ پیچیدہ امراض کی تشخیص سے لے کر علاج تک انسان اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے آلات کے مرہون منت ہے۔ سراغ رسانی کے آلات سے لے کر جنگی میدان میں استعمال ہونے والے ڈرونز ایک نئے دور کے کواڑوں پر دستک دے رہے ہیں۔

اس چیز کا ادراک ان لوگوں کو ہے کہ انسان کی تخلیق کردہ ٹیکنالوجی کی بدولت وجود میں آنے والا یہ خودکار نظام چند دہائیوں بعد اپنے طور پر ایک آزاد نظام بننے کی صلاحیت سے لیس ہو سکتا ہے جہاں یہ انسانی ان پٹ کے بغیر مکمل طور پر خودانحصاری کی طرف جا سکتا ہے۔ اس نظام کو مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا نظام کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ کیلی فورنیا میں گوگل کی بنائی ہوئی خودکار گاڑیاں تجرباتی طور پر بغیر ڈرائیور کے کامیابی سے چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ ان خودکار گاڑیوں نے ٹریفک کے بہت سارے قوانین پر عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ لیکن ابھی بہتری کے مدارج میں مزید پروگرامنگ جاری ہے۔

مصنف :نئیر نیاز خان

کسی بھی عہد کے مقابلے میں آج کے عہد کا سائنسی انقلاب انسانی دماغ کے نیورانز اور خلیوں کی سکیننگ اور میپنگ کے پیچیدہ نظام پر کام کر رہا ہے۔ تاکہ استعمال شدہ اور غیر استعمال انسانی دماغی صلاحیتوں کو ڈی کوڈ کر کے ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ بیدار مغز اور متحرک ترین نیورانز والے انسانوں کی فطری صلاحیتوں کو ڈی کوڈ کر کے مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے متبادل نظام میں محفوظ کیا جا سکے۔ جس نظام میں خودکار عمل کے ذریعے مزید سوچنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔ اگر مستقبل کی ٹیکنالوجی یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو سوچ لیجئے ہماری دنیا کتنی مختلف ہو گی؟

یہ سطور لکھتے وقت مجھے پتہ ہے کہ ہمارے عہد کی ایک بڑی اکثریت اس سچائی کو ہمیشہ کی طرح جھٹلانے کے لیے جنگی بنیادوں پر شوروغل بھی کر رہی ہے۔ لیکن سائنس و ٹیکنالوجی شور و غل سے یا پروپیگنڈے سے اپنا سفر کبھی نہیں روکتی۔ انسانی دماغ کے نیورانز اور خلیوں کے پیچیدہ نظام کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں ٹرانسفر اور محفوظ کرنے کے عمل میں یقینی طور پر ہمارے عہد کے چند ایک ادارے متحرک ہیں۔ وہ اس لیے کہ انہیں آنے والے وقت کا علم ہے اور ان کی سوچ جغرافیے اور عہد حاضر کی سچائیوں سے بہت آگے جھانکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آرٹیفیشل انٹیلیجنس ترقی کرتے ہوئے ہیومین انٹیلیجنس پر سبقت لیتے ہوئے خودکار نظام تک پہنچ گئی تو نئے عہد کی سچائی کا فیصلہ اور اس پر حاکمیت نئے انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان نئے پیچیدہ جنگی حالات پیدا کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں بہت سارے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا اس لیے کہ شاید ہم پہاڑ کی چوٹی کے اس پار دیکھنے کی یا تو صلاحیت نہیں رکھتے یا اس مشکل کام کے عادی ہی نہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ہیومین انٹیلیجنس پر سبقت مثبت انداز میں انسانی زندگی کو سہل بنانے میں حددرجہ معاون و مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے دنوں اور ہفتوں کے کام چند منٹوں میں مکمل ہو کر نئی دنیا کی تشکیل کر رہے ہیں۔ گوگل، بنگ، یاہو اور دیگر کمپنیوں کے سرچ انجن سیکنڈوں میں معلومات کا پورا تاریخ اور جغرافیہ ریفرنس اور سائیٹیشن سمیت ڈھونڈھ نکالتے ہیں۔ ایک ایک روبوٹ ہزارہا انسانی ہاتھوں کے مقابلے میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں زیادہ بہتر پیداوار کا سبب بن رہا ہے۔ پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے جدید آلات کے ذریعے انجیوگرافی، سی ٹی سکین، بائیاپسی، آٹوپسی اور ٹرانسپلانٹیشن جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔ ابھی تک اس میں کہیں نہ کہیں کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انسانی ہاتھ میں ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ٹیکنالوجی خودکاری اور خودانحصاری کی طرف بڑھ کر انسانی عمل دخل کی ضرورت سے آزاد ہو جائے گی۔

اس سارے عمل میں ایک انجانا خوف بھی پنہاں ہے۔ وہ یہ کہ بالفرض وار ٹیکنالوجی آنے والے دور میں انسانی فوج کو ترقی یافتہ ممالک میں مکمل طور پر روبوٹس اور خودکار ڈرونزسے بدل دیا جاتا ہے۔ تو کیا ہماری دنیا میں رائج جنگی قوانین، مسلح مزاحمت کا عالمی نظام اور جنگی اخلاقیات کا نظام کس حد تک کارگر ثابت ہو سکے گا؟ مکمل طور پر خودکار ڈرونز اور روبوٹس پر مشتمل فوج جب کسی انسانی بستی میں اترے گی تو مسلح مزاحمت کاروں، فوج، عام شہریوں، بیماروں، بچوں اور بوڑھوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے لیس ہو گی یا پھر اس مشینی عہد کو بھی ارتقائی عمل سے گزر کر ایک نیا نظام تشکیل دینا ہو گا؟ اگر نیا نظام جنگ میں پیش آنے والے حادثات کی روشنی میں تشکیل دیا جاتا ہے تو یقینی طور پر فاتح ہی اپنی مرضی کا نظام لائے گا اس وقت جدید ٹیکنالوجی سے محروم انسانی گروہ اپنے حقوق اور شرائط کے لیے خودکار ٹیکنالوجی کے نظام سے کس طرح اور کیسے مذاکرات کریں گے؟

یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب تلاش کیے بغیر ٹیکنالوجی کی مستقبل میں ترقی انسانی زندگی کی مجموعی بقا کو تحفظ دینے کے مسئلے پر خوف کی صورتحال بھی پیدا کرتی ہے۔

ٹیکنالوجی یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ترقی مثبت تبدیلوں کے ساتھ ساتھ منفی اثرات سے بھی بھرپور ہے۔ اور یہ اثرات ہماری سماجی اور معاشرتی زندگی پر ابھی سے دکھائی دے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں لانے والے دماغی طور پر بھی عہدِ حاضر میں یا بعض صورتوں میں اپنے عہد سے بھی آگے کی دنیا میں جی رہے ہیں اور اسے صرف استعمال کرنے والے جن کی اکثریت کا تعلق اس ٹیکنالوجی کے بنانے سے نہیں ہے بلکہ وہ صرف صارفین کے زمرے میں آتے ہیں۔ صارفین کی ایک بڑی اکثریت کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اپنے عہد سے بچھڑی ہوتی ہے اسی لیے انسانوں کی ان دو اقسام کے ہاں جدیدیت کے اثرات بھی مختلف اور بعض صورتوں میں متضاد ہوتے ہیں۔

صورتحال اس وقت بھیانک ہو جاتی ہے۔ جب مستقبل کی جنگوں میں خودکار روبوٹس کی افواج کا خیال آتا ہے۔ جو پہلے سے کی گئی پروگرامنگ یا کچھ حالات میں خودکار نظام کے ذریعے انسانوں پر مشتمل افواج کا مقابلہ کرنے میدان جنگ میں اترتے دکھائی دیتے ہیں

آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی ہیومین انٹیلیجنس پر سبقت ہر دو صورتوں میں ایک نئی دنیا ہو گی۔ جس میں آج کے عہد کی بہت ساری سچائیاں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکیں گی اور انسانوں کے وہی گروہ بقا کی جنگ میں کامیاب ہوں گے جو نئے عہد کی نئی سچائیوں سے مطابقت رکھنے کے اہل ہوں گے۔ یہ بھی بہت حد تک ممکن ہے کہ قومی ریاستوں کا وجود سرے سے ہی مٹ جائے یا پھر آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ہیومین انٹیلیجنس ایک دوسرے پر سبقت لینے کی غرض سے نئی دنیائیں دریافت، تخلیق یا آباد کر لیں۔ لیکن ایک بات یقینی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گا۔ اور اس سارے عمل میں بہت سارے رجحانات، تصورات اور خیالات ہمیشہ کے لیے حرف غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *