• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اکیسویں صدی میں سوشلزم کی خصوصیات کیا ہوں گی؟۔۔ترجمہ :شاداب مرتضٰی

اکیسویں صدی میں سوشلزم کی خصوصیات کیا ہوں گی؟۔۔ترجمہ :شاداب مرتضٰی

از: ماکیس پاپاڈوپولس (رکن پولٹ بیورو،مرکزی کمیٹی، یونانی کمیونسٹ پارٹی)

نوٹ: پچھلے سال(2019) میں دسمبرکے آغاز میں ترکی کے شہرانقرہ میں ترکی کی سائنس اورروشن خیالی کی اکیڈمی (BAA) نے “سوشلسٹ مستقبل اورمنصوبہ بندی” پرایک مذاکرے کا اہتمام کیا جس میں یونانی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کےپولیٹیکل بیورو کے رکن، ماکیس پاپاڈوپولس ،نے یونانی کمیونسٹ پارٹی کا نکتہ نظرپیش کیا۔ ذیل میں ان کے خطاب کا ترجمہ پیش کیا جا ررہا ہے:

tripako tours pakistan

یونانی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی جانب سے میں آپ لوگوں کا شکرگزارہوں کہ آپ نے ہمیں مدعو کیا اور کانفرنس کے لیےآپ نے جس موضوع کا انتخاب کیا ہے اس پرمیں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ ایسا موضوع ہے جوبتاتا ہے کہ آپ کی پارٹی انقلاب کے ہراوّل دستے کا کردارادا کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

اکیسویں صدی میں سوشلزم کی نمایاں خصوصیات کا جائزہ لینے کے لیے ہمیں مارکس ازم-لینن ازم کے نظریاتی اصولوں کی بنیاد پر، ایک جانب بیسویں صدی کے سوشلزم کا ، اوردوسری جانب، ڈیجیٹل اکانومی اورنام نہاد چوتھے صنعتی انقلاب کے تحت پیدا ہونے والے نئے حالات کا، سائنسی اورتیکنیکی ترقی کے نتیجے میں سامنے آنے والے نئے مسائل اورنئے معروضی حقائق کا، لازماً جائزہ لینا چاہیے۔

خصوصی طورپر، ہمیں جدلیاتی وتاریخی مادیت اورمنطقی-تاریخی طریقہ کارکی بنیاد پر،ان تضادات کا ضرور جائزہ لینا چاہیے جوسوشلسٹ معاشرے کی تحریک کا تعین کرتے ہیں۔ ہمیں بیسویں صدی میں سوشلزم کی تعمیر کے تاریخی ارتقاء کے عمل کا لازمی طورپرجائزہ لینا چاہیے۔ہمیں ان کاوشوں کالازمی طورپر مطالعہ کرنا چاہیے جن کے ذریعے اورجس حدتک سوویت اقتدارنے سوشلزم کے بنیادی اقتصادی قانون کو شعوری طورپربرتا یعنی پیداوارکے تمام مقاصد کو سماجی ضرورتوں کی مکمل تسکین کےلیے مربوط کرنا۔ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ یہ بنیادی قانون پیداواری قوتوں کی ترقی کی سطح اورسماجی ضرورتوں کے مسلسل، اٹوٹ پھیلاؤ کے درمیان تضاد کو حل کرنے کی محرک قوت کے طورپرکس حد تک فعال رہا ۔ ہمیں یہ جائزہ لینا چاہیے کہ معاشرے کے تمام افراد کی آزادنہ ترقی اورخوشحالی کے تحفظ کے لیے سماجی پیداوار کی منصوبہ بند، طے شدہ انتظام کاری کوکس حد تک فروغ دیا گیا۔

ردانقلابی پیش رفتوں کے بعد، یونانی کمیونسٹ پارٹی نے 1990 کی دہائی میں اس پیچیدہ اورمشکل موضوع کے مطالعے میں شراکت کے لیے سنجیدہ کوشش کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے۔ آج کی مختصرگفتگو میں ہم چند اہم نکات پراپنی توجہ مرکوز کریں گے۔

روس میں 1917 کے اکتوبرسوشلسٹ انقلاب کی فتح نے یہ بات عملی طورپرثابت کردی کہ پیداوار کے سوشلسٹ رشتے ہی پیداواری قوتوں کی ترقی کی آزادی کی ضمانت ہیں۔ 1917 کے اکتوبرنے مزدور طبقے کے اقتداراورذرائع پیداوار کی سماجی ملکیت کی ٹھوس بنیاد پر پیداواری قوتوں کی ترقی میں مرکزی سائنسی منصوبہ بندی کی برتری کونمایاں کردیا۔ بیروزگاری اورناخواندگی کا خاتمہ، عمومی، لازمی اورمفت تعلیم، آٹھ گھنٹے کا یومِ کار، کام اورزندگی میں مردوزن کی حقیقی برابری، نسلی تعصبات سے آزادی، دوسری عالمی جنگ سے پہلے اوراس کے دوران امن کے زمانے کی صنعت کی جنگ کے زمانے کی صنعت میں عہد آفریں منتقلی، یہ سب سوویت اقتدارکے ابتدائی دورکی کچھ نمایاں مثالیں ہیں اورپھرخلائی کھوج میں چھلانگ اس کے بعد کے دورکی۔

اس تاریخی دور میں، سماجی پیداوار کے کردار کوزیادہ سے زیادہ سائنسی بنانے کے لیے سماجی پیداوار کی بامقصد،مرکزی منصوبہ بند سمت متعین کرنے اور دسیوں لاکھوں سوویت مزدوروں کی مشترکہ کاوشوں کی ربط سازی اورانتظام کاری کوبہتربنانے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ معیشت کی مرکزی منصوبہ بندی کی اثرپذیری کو بڑھانے کے لیے ، متحدہ ریاستی منصوبے پرعملدرآمدکی، جمہوری مرکزیت کے اصول کی،اورکام کے طریقہ کارکے طورپرسوشلسٹ مسابقت کے استعمال کی ضرورت کو درست ثابت کیا گیا۔

سوویت یونین کی ان کامیابیوں کی اہمیت کوسمجھنے کے لیے ہمیں ان تاریخی حالات پرغورکرنے کی ضرورت ہے جن کے تحت انہیں حاصل کیا گیا۔ سوویت اقتدارکی فتوحات کوسامراجی دراندازی، سامراجی حلقہ بندی، مستقل بین الاقوامی دھمکیوں اورپیداوارکی اندرونِ خانہ بیخ کنی کی کوششوں سے پیدا ہونے والے حالات میں حاصل کیا گیا۔ انہیں مادی اثاثوں کی اورمخصوص سائنسی ماہرین کی شدید کمی کے تحت اوروقت کے اس دباؤ کے تحت حاصل کیا گیا کہ سوویت یونین کو بین الاقوامی سامراجی نظام کی مسابقت میں تذویراتی اہمیت کے حامل اپنے شعبوں کی ترقی کو تیزکرنا تھا۔ سوویت اقتدارنے زارشاہی دورکے روس اورترقی یافتہ سرمایہ دارملکوں، جیسے کہ امریکہ، برطانیہ اورجرمنی کے درمیان موجودترقی کی بہت بڑی خلیج کوتیزی سے عبورکرلیا۔

ابتدائی دہائیوں میں سوویت یونین نے جوتیزترترقی حاصل کی وہ یہ ثابت کرتی ہے کہ زرائع پیداوارپرسماجی ملکیت کے پھیلاؤ سے اورمعیشت کی سائنسی مرکزی منصوبہ بندی سے محنت کی افزودگی اورمعیشت میں ٹیکنالوجی کے تخلیقی اطلاق میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ پیداواری قوتوں کی ترقی کا مقصد اوررفتارتبدیل ہوگئی۔ محنت کرنے والا فرد، بنیادی پیداواری قوت،اپنی زنجیروں سے آزادہوگیا، کیونکہ اب اسے اپنی قوتِ محنت بیچنے کے لیے سرمایہ دارانہ مارکیٹ کے جنگل میں کسی مالک کوتلاش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مزدورطبقےاورغریب کسانوں کے بچوں سے سائنسدانوں کی ایک نئی فوج تخلیق کی گئی۔ مزدورطبقے کے سوویت اقتدارکی بنیاد 1920 کی دہائی میں سوویتوں کی ٹھوس بنیاد پررکھی گئی تھی جوکام کی ہرجگہ پرمزدوروں کی عام انجمنیں تھیں۔ ان کے منتخب نمائندے حکومت کے بالائی اداروں میں ہرشعبے میں بھیجے جاتے تھے۔ اورانہیں منتخب کرنے والے کسی بھی وقت ان سے نمائندگی کا حق واپس لے سکتے تھے۔مزدوراقتدارکی مرکزی منصوبہ بندی کی سرمایہ دارانہ مارکیٹ پربرتری کو عملا ثابت کیا گیا، سرمایہ دارانہ مارکیٹ جہاں اجارہ دارگروہ منصوبہ سازی کرتے ہیں اورایک دوسرے سے مسابقت کرتے ہیں تاکہ منافعے کی زیادہ شرح ، زیادہ حصہ حاصل کرسکیں۔

سوویت تاریخ کاتجربہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ سوشلزم کی تعمیر کا راستہ کوئی آسان چال نہیں ہے، کہ یہ ہمواراندازسےاور سیدھی لکیر میں نہیں چلتا۔بہت سے پیدا ہونے والے مسائل، مثلاً  صنعت کی تیکنیکی جدت میں تاخیر، جنہوں نے اشیاء کی مطلوبہ مقداراورمعیارپرمنفی اثرات ڈالے، ان کی غلط تشریح کرتے ہوئے انہیں پیداوارکے سوشلسٹ رشتوں کی دائمی کمزوری قراردیا گیا۔ سوویت تخمینوں کے مطابق، 1950 کی ابتداء میں سوویت یونین کی صنعتی پیداوارکا حجم اسی دوران امریکی پیداوارکے ایک تہائی حصے سے کم تھا۔ اورجوہری ہتھیاروں کی ترقی میں امریکی فوج کی برتری کا توذکرہی کیا۔ خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین کو اپنی پیداواراورخدمات کو سماجی ضرورتوں کی نئی اوربلند ترسطح کی وجہ سے جدید بنانا پڑا۔ اسے اس مسئلے کو ایسے حالات میں حل کرنا پڑاجب اس نے اپنی ترقی کے بہترین دورمیں انسانی جانوں کے خوفناک زیاں کا سامنا کیا تھا۔ یہ ایک خصوصاً پیچیدہ مسئلہ تھا جس کا تعلق پیداوارکے تمام شعبوں کی متناسب ترقی کی ضمانت سے، عام استعمال کی اشیاء کے معیارمیں اضافے سے، ذرائع پیداوارکی پیداوارکی ترجیح سے، معیشت کے کئی شعبوں میں خودکاریت کے پھیلاؤ سے، منیجراورایگزیکیٹو سطح کے محنت کاروں کے درمیان موجود تضاد کو تیز ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے وغیرہ سے تھا۔ زیادہ عمومی طورپر، اس کا تعلق اس صلاحیت سے تھا کہ ذرائع استعمال کے مقابلے میں جدید ذرائع پیداوارکی ترقی کوترجیح دینے کویقینی بنایا جائے، معیشت کے تمام حصوں اورعناصرکے بنیادی تناسب کو برقراررکھا جائے، پیداوارکا معیار اورکارکردگی بڑھائی جائے، نئی سائنسی اورتیکنیکی کامیابیوں کا فوری اطلاق کیا جائے، سوشلسٹ شعور اورمزدوروں کی تخلیقی پہلکاری کو فروغ دیا جائے۔

اس اہم تاریخی موڑ پرمسئلے کا حل مستقبل کی جانب نگاہ مرکوزرکھتے ہوئے پیداوارکے کمیونسٹ رشتوں کے منصوبہ بند پھیلاؤ میں تھا۔ نتائج کی بنیاد پرفیصلہ کرتے ہوئے دیکھا جائے تو 1950 کی دہائی میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ ان مسائل کو مؤثرانداز سے حل کرنے کے لیے اس وقت کوئی مشترکہ فتحیاب نظریاتی استعدادموجود نہیں تھی۔

فلسفے اورسیاسی معیشت کے میدانوں میں سنجیدہ نظریاتی بحث مباحثہ سوویت یونین کے تاریخی ارتقاء کے دوران ہوا۔ اس حوالے سے 29-1927 کے دوران پیداواری قوتوں اور پیداواری رشتوں کے درمیان جدلیاتی تعلق اورباہمی عمل پرہونے والی نظریاتی بحث اہمیت رکھتی ہے۔ اس بحث نے پیداواری قوتوں کی ترقی میں پیداوارکے سوشلسٹ رشتوں کے سرگرم کردارکواجاگر کیا۔ پیداواری رشتوں کے سرگرم کردارکوان کوششوں کے ذریعے حقیقت میں ڈھالا جاتا ہے جن کے ذریعے مزدوراقتدارنجی ملکیت کی باقیات کا خاتمہ کرتا ہے اورپیداواری قوتوں کی ترقی کی راہ کوسماجی ضرورتوں کی مکمل تسکین کے مقصدسے ہم آہنگ کرتا ہے۔

تاہم، بدقسمتی سے، اس نظریاتی مباحثے کا جوہراس ضرورت پرمرتکزرہا کہ سیاسی معیشت کے سائنسی موضوع کی خاکہ کشی جدلیاتی وتاریخی مادیت کے وسیع ترموضوع سےالگ کی جائے اوراس نے نظریاتی تحقیق کواس سمت میں متعین نہیں کیا کہ پیداواری قوتوں کی ترقی اورپیداواری رشتوں کے درمیان باہمی عمل کے اہم مسئلے کی سمجھ بوجھ کو گہراکیا جائے۔

اسی عرصے کے دوران (1929-1924)، “جدلیات پسندوں” اور”میکانیت پسندوں” کے درمیان فلسفیانہ مباحثہ جدلیاتی تضاد کے تصورکواورسماجی و فطری مظاہرکی ترقی میں اس کے کردارکوسمجھنے کے لیے اہم تھا۔ 1930 کی دہائی کے آغازمیں، “غیرمخاصمانہ تضادات” کا نظریاتی تصورپہلے ہی ابھرچکا تھا۔ سوویت فلسفی، الیانکوف، نے بعد میں نشاندہی کی کہ یہ فلسفیانہ رجحان سیاسی معیشت کے مسائل پرہونے والی سوشلزم کی بحث پراثراندازہوسکتا تھا اوراس بات کی ضرورت پر بھی کہ مرکزی منصوبہ بندی کے لیے اجناس اورپیسے کے باہمی تعلقات اجنبی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مارکیٹ اوراجناس کی معیشت کے خاتمے کی فیصلہ کن جدوجہد کرنے کے بجائے، یہ تصورات آہستہ آہستہ غلبہ پاتے گئے کہ مزدورطبقے کے اقتدارکی مرکزی منصوبہ بندی کے ذریعے مارکیٹ کے افعال کا نفوذ، محدود پیمانے پرانضمام اوراستعمال ممکن ہے۔

سٹالن نے 1950 کی دہائی میں اس تنازعے کا اختصار اپنی تصنیف “سوویت یونین میں سوشلزم کے اقتصادی مسائل” میں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بالشویک پارٹی میں ایک نظریاتی بحث جاری تھی، جس میں انقلابی طاقتوں نے مارکیٹ کے طرفداروں کے خلاف جدوجہد کی۔ لیکن سماجی ضرورتوں کی ترجیح کا تعین اوران کی تسکین کے لیے درکارمؤثرمنصوبہ بندی سے تعلق رکھنے والے مسائل کا سامنا کرنے کے لیےسوشلزم کی مارکسی سیاسی معیشت کی ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ناکافی تھے۔ بڑھتی ہوئی سماجی ضرورتوں اورسماجی پیداوارکے نئے مطالبوں کی روشنی میں ، وہ سوشلسٹ صنعت اورذرعی پیداوارکی کارکردگی اورترقی کوجانچنے اورماپنے کے لیے نئی ہدایات، طریقے اوراشاریے وضع کرنے کے قابل نہیں تھے۔

یقیناً، نظریاتی خامیوں پرقابو پانے میں دشواری اوراس کے ساتھ سوویت یونین کی اورباقی کمیونسٹ پارٹیوں میں موجود نظریاتی تنازعے کے پس پشت مختلف سوشلسٹ ملکوں میں مختلف سماجی قوتوں کی اورمختلف مادی مفادات کی موجودگی تھی۔ بہت سے سوشلسٹ ملکوں میں زرعی پیداوارکی نجی ملکیت کو اس وقت تک ختم نہیں کیا گیا تھا۔ حتی کہ اجرتی محنت لینے کا حق بھی مکمل طورپرختم نہیں ہوسکا تھا۔ خود سوویت یونین میں، زرعی شعبے میں اجتماعی کھیتوں کی اجتماعی ملکیت کو قائم رکھنے کے علاوہ، مزدوروں کی شرکت اوراختیارمیں کمزوری اورآمدنی میں تفریق واقع ہوئی۔ منیجر اورایگزیکیٹو درجے کے ملازموں کے درمیان تضاد بڑھا۔

جنگ کے بعد، اورخصوصاً 1956 میں سوویت کمیونسٹ پارٹی کی 20ویں کانگریس کے بعد، ردانقلاب کی جانب، تاریخ کا پہیہ الٹا گھمانے کے لیے راستہ کھولاگیا۔ 1960 میں ہونے والے اقتصادی بحث مباحثوں میں “مارکیٹ سوشلزم” کے موقع پرست خیالات کا غلبہ رہا جس کا نتیجہ 1965 کی کوسیجن اقتصادی اصلاحات تھیں۔ اسی دور میں، مزدورریاست کے مارکسی-لیننی تصورمیں ترمیم کی گئی۔ سوویت کمیونسٹ پارٹی کی 22ویں کانگریس (1961) نے سوویت یونین کو “تمام لوگوں کی ریاست” اورسوویت کمیونسٹ پارٹی کو “تمام لوگوں کی پارٹی” قرار دیا۔

پیش قدمی کی سمت میں مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے ، پیداوارکے سوشلسٹ رشتوں کووسیع اورگہرا کرنے کی جانب پیش قدمی کے بجائے، مسائل کا حل پسپائی میں، سرمایہ دارانہ پیداواری رشتوں اورآلات کے استعمال میں ڈھونڈا گیا۔ منصوبہ بند معیشت کی مرکزی انتظام کاری کمزورپڑ گئی۔ ہرانفرادی پیداواری یونٹ ، سماجی پیداوار کے مجموعی اہداف کوبنیاد ی طورپرٹکڑوں میں تقسیم کرکے، اپنی کارکردگی کے اہداف آزادانہ طورپرطے کرنے لگا۔ مارکیٹ اوراجناس کی پیداوارنے پھر سے میدان مارلیا،آمدنی میں تفریق بڑھی، انفرادی اورگروہی ملکیت ، خصوصاً زرعی شعبے میں، مضبوط ہوئی۔

سماجی پیداوارکی ترقی کی نئی سطح پرپیدا ہونے والے مشکل مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے اگربروقت اجتماعی نظریاتی اورسیاسی تیاری کی جاتی تو ردانقلاب کو کامیابی نصیب نہ ہوتی۔

اکتوبرسوشلسٹ انقلاب، 1917، کی فتح کے بعد، بیسویں صدی کے منفی اورمثبت، دونوں قسم کے تاریخی تجربے،پیداواری قوتوں کی ترقی میں سوشلسٹ پیداواری رشتوں کی آزادنہ فطرت کوعملی طورپرثابت کرتے ہیں جن کا مقصد سماج کی ضروریات کی تسکین کرنا ہوتا ہے۔

اکتوبرسوشلسٹ انقلاب، 1917، کی فتح سے لیکرردانقلاب کی فتح اور1990 کی ابتداء میں ردانقلابات تک کا تاریخی سفرسوشلزم کی تعمیر میں لیننی اصولوں کے تخلیقی اطلاق کی اہمیت کواجاگرکرتا ہے۔ یہ ایک قابلِ قدرتاریخی تجربہ ہے جو ایک جانب ان مفید نتائج پرروشنی ڈالتا ہے جنہیں اس وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب انقلابی ہراوّل دستہ سوشلزم کی تعمیر کے قوانین سے واقف ہو اورانہیں درست انداز سے استعمال کرے اوردوسری جانب ان منفی نتائج پرروشنی ڈالتا ہے جب طاقتوں کے منفی توازن کے دباؤ اوراس کے نتیجے میں ابھرنے والی اہم مشکلات کا سامنا ہو،جب مشترکہ سیاسی اورنظریاتی کمزوری درپیش ہواورکمیونسٹ پارٹی میں موقع پرست تصورات فتحیاب ہوجائیں.یہ ان معروضی رکاوٹوں اورمشکلات کا بھی عملی مظاہرہ کرتا ہے جو معیشت کی منصوبہ بند انتظام کاری کی کوششوں میں پیش آتی ہیں اورجنہیں ایک خاص وقت پرپیداواری قوتوں کی ، تیکینکی ترقی کی اورمحنت کی افزودگی کی ترقی کی سطح ضروری بنا دیتی ہے۔

نہایت مختصرطورپر، بیسویں صدی کے تجربے نے ہمیں کیا سکھایا ہے؟

اس نے عمومی طورپراس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوشلزم کی تعمیرکوئی آسان، سیدھا سادہ ترقی کا راستہ نہیں ہے اوراس میں واپس پلٹنے کا خطرہ بھی ہے۔ اس نے ان بہت سی مشترکہ بنیادی اصطلاحوں اورشرائط کی بھی تصدیق کی ہے جواس مشکل راستے کے نتائج کا تعین کرتی ہیں۔ خصوصاً ان کی:

اس نے اس بات کی اہمیت کی تصدیق کی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی اورمزدوراقتدارکوثابت قدمی اورمستقل مزاجی کے ساتھ سماجی ملکیت کے قیام کے لیے ، پیداوارکے سوشلسٹ رشتوں کے پھیلاؤ اورمکمل غلبے کے لیے اوراجناس کی پیداوارکی تمام انفرادی اورگروہی قسموں کے خاتمے کے لیے اپنی راہ متعین کرنی چاہیے۔ اس نے ناپختہ کمیونزم سے پختہ کمیونزم میں منتقلی کے لیے عبوری راستے کے طورپر”مارکیٹ سوشلزم” کے تاریخی دیوالیہ پن کونمایاں کیا ہے۔

سوشلزم کی تعمیر میں انقلابی سمت بند ی کا تعین اس نظریاتی سمجھ بوجھ کا تقاضاکرتا ہے کہ قدر کا قانون سوشلسٹ معیشت کا قانون نہیں ہے، کہ یہ اپنے تناسبات کوخود فعال نہیں کرسکتا۔ یہ بات نظریاتی سوجھ بوجھ کا تقاضاکرتی ہے کہ جب تک اجناس اورپیسے کے درمیان موجود رشتے بحال رکھے جائیں گے تب تک ردانقلابی سماجی قوتوں کونئی کمک کی فراہمی کا خطرہ موجود رہے گا۔ معاشی زندگی پرقدرکے قانون کا اثرمرکزی منصوبہ بندی سے متضاد ہےاور تمام پیداوارکی براہ راست سماجی پیداوارمیں منصوبہ بند منتقلی کے ذریعے فیصلہ کن انداز سے اس پرقابو پانا چاہیے۔

قدرکے قانون کے اثرکومحدود رکھنے کے لیے سوشلسٹ ریاست کی جانب سے اٹھائے گئے بعض اقدامات جیسے کہ قیمت اورپیداوارکے منصوبوں کی حدبندی وغیرہ،اختیار کرنا اس مسئلے کا ایسا بنیادی اورمستقل حل نہیں ہے جس کے ذریعے مزدورطبقے کے اقتدارکی بیخ کنی کے خطرےسے طویل المدتی طورپر نپٹا جا سکے۔

تجربے نے اس بات کی فیصلہ کن اہمیت کو بھی نمایاں کیا ہے کہ مرکزی منصوبہ بندی کو سائنسی تجدید کی مستقل کوشش کرنا چاہیے اورسماجی پیداوارکی ترقی کے نئے مرحلے سے پیدا ہونے والی نئی ضرورتوں کے مطابق خود کو تخلیقی اندازسے مستقل ڈھالتے رہنا چاہیے۔

مرکزی منصوبہ بندی سماجی رشتہ ہے جو ذرائع پیداوارپرسماجی ملکیت سے متعین ہوتا ہے۔ یہ اس طرزکی بالکل مختلف اندازسے عکاسی کرتا ہے جس میں مزدور، مارکیٹ کی درمیان میں موجودگی کے بغیر، ذرائع پیداوارسےمتحد ہوتے ہیں۔ یہ اس پرمزدوروں کا اختیارقائم کرتا ہے کہ کس چیز کی پیداوارکی جائے گی،اس کی پیداوارکس طرح کی جائے گی اوراسے پیداوارکے مختلف حصوں کے درمیان کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔

یہ(مرکزی منصوبہ بندی) معروضی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہے کیونکہ پیداواری قوتوں کی ترقی کی سطح وقت کے ہرمقام پرضرورت کے اصول کے مطابق (لوگوں کو) سماجی پیداوار(سے استفادہ کرنے کی ) یکساں طورپررسائی نہیں دیتی اورنہ ہی یہ منیجر اورایگزیکیٹوسطح کی محنت کے درمیان تضاد پر، اورذہنی اورجسمانی محنت کے درمیان عمومی تضاد پر،براہ راست قابو پانے کی اجازت دیتی ہے۔

معروضی مشکلات، متفرق سماجی مادی مفادات اورنظریاتی اورسائنسی کوتاہی کے دباؤ کے تحت منصوبوں میں پیداوارکے اہداف متعین کرنے میں، پیداواری شعبوں کی متناسب ترقی کی ترجیحات کا تعین کرنے میں، مزدوروں کی عمومی اورخصوصی پیشہ ورانہ تربیت کرنے میں اورطبقاتی تفریق کا خاتمہ کرنے کی کوششوں میں ہمیشہ موضوعی غلطیاں کرنے کا خطرہ رہتا ہے۔

بیسویں صدی کے تاریخی تجربے نے سوشلزم کی تعمیر کے لیے مزدورطبقے کی آمریت کےناگزیرکردار کو اوراس کے ساتھ “تمام لوگوں کی ریاست” کے موقع پرست تصورکے تاریخی دیوالیہ پن کوبالکل واضح کردیا ہے۔ سوویت تجربے نے اپنی ترقی اورتنزلی دونوں طرح سے یہ دکھایا ہے کہ مزدورطبقے کی آمریت اپنا فرض تبھی نبھا سکتی ہے جب یہ مزدوروں کی سرگرمی پربھروسہ کرے تاکہ عوام کی وسیع اکثریت ہدایات اوراہداف کوتندہی اورجانفشانی کے ساتھ اپنا سکے۔

اسی لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ اقتدارکی نچلی ترین سطح سے لے کرمرکزی سطح تک اس کے عضورسمی انداز سے کام کرنے کے بجائے پختگی کے ساتھ کام کریں۔ کام کی ہرجگہ پرجنرل اسمبلی مؤثراندازسے کام کرے،یعنی کنٹرول، احتساب، اورحاکمیت کی اعلی ترین سطح پرموجود منتخب نمائندوں کوواپس بلانے کے اصولوں کی بنیاد پر۔ اس طرح سے رسمی انتخابی حقوق ، سرمایہ دارانہ جمہوریت کی رسمی برابری، سرمائے کی آمریت کے برخلاف بنیادی انتخابی حقوق قائم کیے جاسکتے ہیں۔ مرکزی منصوبہ بندی کے تناظرمیں یہ عمل سوشلزم کی تعمیر کے راستے کو موضوعی غلطیوں سےاورمنصوبے کے ڈیزائن اورنفاذ سےانحراف سے بچا سکتا ہے۔

یہ خطرہ اس کردار کی اہمیت کو اجاگرکرتا ہے جو مزدورطبقے کے انقلابی اقتدارکو، مزدورطبقے کی آمریت کو لازما ادا کرنا چاہیے۔پیداوارکے کمیونسٹ رشتوں کے استحکام کے لیے مزدوروں کا باشعورعمل اولین شرط ہے۔ اس کام کے لیے جمہوریت کی ایک اعلی شکل درکار ہے جس میں فیصلے کرنے، ان پرعملدرآمد اوران پرکنٹرول کے لیے مزدوروں کی سرگرم شراکت ضروری ہے۔ کام کی جگہ کو مزدوراقتدارکے تنظیمی مرکزے میں تبدیل کرنا اس اعلی معیار کی جمہوریت کا مرکزی عنصر ہے۔ لیکن، انقلاب کی فتح کے ساتھ سوشلسٹ شعورلوگوں میں مکمل طورپرنفوذ نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہراوّل دستے کی حیثیت سے کمیونسٹ پارٹی کی مداخلت اس معاملے میں فیصلہ کن کرداراداکرتی ہے۔

کمیونسٹ پارٹی مزدوروں کے انقلابی اقتدارکے نمائندہ مرکزے کی ترجمانی کرتی ہے کیونکہ یہی وہ واحدقوت ہے جو سوشلسٹ-کمیونسٹ معاشرے کے تغیرکے قوانین کے مطابق شعوری اندازسے عمل کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ہر طرح کے حالات میں لازمی طورپر اس قابل ہونا چاہیے کہ یہ مزدورطبقے کے تاریخی مقصد کوحاصل کرنے میں اس کی رہنمائی کرسکے۔ طبقاتی جدوجہد جو نئی شکلوں میں اورنئے حالات میں جاری رہتی ہے اس کے اوزارکے طورپرسوشلسٹ ریاست کو دونوں طرح سے اپنا کردار ادا کرنا چاہییے، دفاعی ۔انسدادی بھی اورتخلیقی، اقتصادی اورثقافتی بھی۔ سیاسی غلبے کے میکانزم کے طورپر،مزدورریاست اس وقت تک ضروری ہے جب تک تمام سماجی رشتے کمیونسٹ رشتوں میں نہ ڈھل جائیں، جب تک مزدوروں کی کثیراکثریت میں کمیونسٹ شعورتشکیل نہ پاجائے، اورجب تک دنیا کے وسیع ترین حصوں میں پیداوارکے سوشلسٹ رشتے رائج نہ ہوجائیں۔

سوویت تجربے نے یہ دکھایا ہے کہ مندرجہ بالا شرائط کو پورا کرنے کے لیے کمیونسٹ پارٹی پرلازم ہے کہ وہ اپنی پالیسی کو سائنسی اورطبقاتی اندازسے تشکیل دینے کے لیے اپنی استعداد برقراررکھے۔ ، دوسرے لفظوں میں کمیونسٹ پارٹی کوانقلابی نظریے اورعمل کے جدلیاتی اتحاد کے بارکش کے طورپراپنے کردارکی مستقل طورپرتجدیدکرنا چاہیے۔ اسے مارکسی-لیننی عالمی نکتہ نظر کی ترقی میں تعاون کرنا چاہیے کیونکہ نظریہ جس معروض کا مطالعہ کرتا ہے یعنی زندگی اوراس کی تمام اقسام، وہ تبدیل ہورہا ہے۔ نظریے کو عقائد اورنکتہ نظر کے کسی مذہبی مجموعے کی طرح نہیں برتنا چاہیے جو تاریخی وقت سے الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ مارکسی عالمی نکتہ نظر نے جو نظریاتی قوانین اوراصول اجاگرکیے ہیں ان کی موقع پرست ترمیم کے مدمقابل تخلیقی ترقی بہت ضروری ہے۔ ہمیں یہ ہرگزفراموش نہیں کرنا چاہیے کہ نظریاتی ترمیم کی کوشش اکثروبیشترنئے اورپیچیدہ مسائل اورمظاہر سے نبردآزما ہونے کی جھوٹی نمائش کے تحت کی جاتی ہے۔نظریے کی تخلیقی ترقی یقیناً ایک مشکل کام ہے۔سوشلزم کی معیشت کی ساخت اورقوانین کے ارتقاء پرنظریاتی تحقیق کی مخصوص معروضی مشکلات ہیں، جب اس کا موازنہ سرمایہ داری کی سیاسی معیشت کی مارکسی نظریاتی تشکیل سے کیا جائے۔

ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ جب مارکس سرمایہ دارانہ معیشت کے افعال اورقوانین کی تحقیق کررہا تھاتب سرمایہ دارانہ پیداوارکوجاگیردارانہ معاشرے کے بطن سے ظہورمیں آئے کئی صدیاں گزرچکی تھیں۔ سرمایہ دارانہ رشتے پہلی بارسولہویں صدی میں نمودارہوئے۔ سولہویں صدی کے اختتام پرنیدرلینڈ میں پہلی سرمایہ دارانہ ریاست وجود میں آئی اورسترہویں صدی میں برطانیہ میں پہلا سرمایہ دارانہ انقلاب رونما ہوا۔ اٹھارویں صدی کے اختتام پرانقلابِ فرانس کی فتح سے سرمایہ دارانہ طریقہِ پیداوار پورے مغربی یورپ میں غلبہ حاصل کرچکا تھا۔

مارکس اوراینگلز نے سرمایہ دارانہ نظام کاعلم کے ایک موضوع کے طورپراس وقت مطالعہ کیا جب یہ ایک نسبتاً پختہ اورترقی یافتہ حالت میں تھا ،جب بے ترتیب تاریخی واقعات اوراس کی مخصوص، تاریخی شکلوں کے بجائے سرمایہ داری کے ظہوراورارتقاء کےلیے درکار تمام ضروری حالات کو، اس کے ارتقاء کے اندرونی اورلازمی افعال کو،سائنسی طورپرمتعین کیا جا سکتا تھا۔ مارکس اور اینگلز نے (ایڈم) اسمتھ اورر(ڈیوڈ) ریکارڈو کے سرمایہ دارانہ نظریاتی مطالعوں پرجوان سے پہلے موجود تھے بحث مباحثہ کرکے، انہیں استعمال میں لاکران کی کایا پلٹ دی۔

سوشلزم کی مارکسی سیاسی معیشت کو تشکیل دینے کے لیے لینن کی کاوش محدود وسائل سے شروع ہوئی:سرمایہ داری کی مارکسی سیاسی معیشت،جدلیاتی وتاریخی مادیت کاطریقہ کاراورنظریاتی اصول۔ اسے ایک بڑی معروضی مشکل سے نپٹنا پڑا جس کی نشاندہی بعد میں ہونے والے سوویت فلسفیانہ فکر(الیانکوف، وازولین وغیرہ) کے مباحثوں میں ہوئی۔ وہ پیداوار کے سوشلسٹ رشتوں کے ظہور کی ابتداء کا ٹھوس اندازسے مطالعہ روس میں سوشلسٹ انقلاب کے بعد ہی کرسکا۔ وہ ایک نئے طریقہ پیداوارکی، سوشلزم، کی صرف بنیادوں کا ہی مطالعہ کرسکا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کے ذمے قوانین کو دریافت کرنا اوران اہم مسائل کی پیش بینی کرنا تھا جوبین الاقوامی حالات کے تحت جہاں پیداوارکے سرمایہ دارانہ رشتوں کا کردارہنوز فیصلہ کن اورمقتدرتھا، سوشلزم کی تعمیر کے دوران مستقبل میں سامنے آسکتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں، نظریاتی تحقیق مخصوص اندازسے خود کو(نئے پیداواری طریقے کی) ناپختہ حالت پرہی مرکوزکرسکی، جبکہ سرمایہ داری کی مارکسی سیاسی معیشت نے پختہ حالت پرنظرڈالی جب پیداوارکے سرمایہ دارانہ رشتے پہلے ہی غلبہ حاصل کرچکے تھے اوردنیا کی ترقی کے عمل میں فیصلہ کن کردارادا کررہے تھے۔

سرمایہ دارانہ طریقہ پیداوارکے مطالعے کے مقابلے میں سوشلزم کی تعمیر کے راستے کی نظریاتی تحقیق کی یہ زبردست مشکل اس لیے معروضی ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ انقلاب کے برعکس جس میں سرمایہ دارانہ رشتوں کی شکلیں پہلے ہی سے تیارہوتی ہیں، مزدورطبقے کا اقتدارپہلے سے موجود پیداواری رشتوں کو وراثت میں نہیں پاتا۔ سماجی ملکیت کے سوشلسٹ-کمیونسٹ رشتے صرف مزدورطبقے کے اقتدارکے انقلابی سیاسی نتیجے کے طورپرہی ظہورمیں آسکتے ہیں۔ وہ نظریاتی تحقیق جسے کسی بھی مرحلے پرانقلابی عمل کی اس لیے حمایت کرنا چاہیے تاکہ پیداوارکے نئے سماجی رشتے تشکیل پائیں، وسیع اورگہرے ہوں اس کا بنیادی مقصد ایک ایسی چیز کا مطالعہ کرنا ہے جونئی نئی وجود میں آرہی ہے۔اگر نظریاتی ہوشیاری اوراجتماعی تیاری نہ ہو تو اس معروضی مشکل کی وجہ سے تجربیت پسندی اور ثبوتیت پسندی کے “سعی وخطا” کے مختلف رجحانوں کو غلبہ حاصل کرنے میں سہولت مل سکتی ہے۔

تاہم، آج ہم کمیونسٹوں کے پاس مواقع اورہمارے فرائض بھی زیادہ ہیں کیونکہ ہم بیسویں صدی کے تجربے کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ دہائیوں پرمشتمل تاریخی عمل پرنظرڈال کرہم سوشلزم کی سیاسی معیشت کے مسائل کی تفتیش اوران کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ ہم سوشلزم کی تعمیر کے لیے ان زبردست معروضی ممکنات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں جدید عہد کی ڈیجیٹل معیشت نے اور”چوتھے صنعتی انقلاب” نے تخلیق کیا ہے۔ یہ دیکھنا قابل قدر ہے کہ پیداوارکے سوشلسٹ رشتوں کواورمرکزی منصوبہ بندی کو کامیاب کرنے کے لیے کتنی ہی ایسی تیکنیکی اورسائنسی رکاوٹیں آج موجود نہیں ہیں جو 1950 کی دہائی کے سوویت یونین میں اور1917 کے روس میں موجود تھیں۔

ان مواقعوں کے بارے میں سوچیں جن کے ذریعے محنت کی افزودگی کا اضافہ آج مزدوروں کے لیے، جوہرعہد میں بنیادی پیداواری قوت رہے ہیں، آرام کے وقت میں اضافے کا اوران کی محنت کےتخلیقی عنصر میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہاں ہمیں تنخواہ دارسائنسدانوں کی فوج پربھی غورکرنا چاہیے جو معروضی طورپرجدید مزدورطبقے سے تعلق رکھتی ہے یا ان تک پہنچ رہی ہے، ایک ایسی فوج جو1917 کے اکتوبرمیں موجود نہیں تھی۔

سائنسی منصوبہ بندی کے نئے امکانات کے بارے میں سوچیں۔ سوسائٹی کی مجموعی ضروریات سے تعلق رکھنے والی معلومات اورڈیٹا کے بڑے ذخیروں کا تیزی سے حصول اورسبک رفتاری سے ان کی پروسیسنگ کرنے کی جدید سہولیات کا استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے بہترین اندازسےجلد ازجلد فیصلے کرنے کی سہولت۔ ان نئی تیکنیکی اورسائنسی سہولتوں کے بارے میں سوچیں جو نہ صرف اشیاء کی وافرمقدارمیں پیداوارکوبلکہ ان کے معیارمیں بہتری کو بھی ممکن بناتی ہیں۔ پیداوارکوتیزی سے بہتراورکنٹرول کرنے کی نئی صلاحیتیں، ہزاروں لوگوں کے لیے خطرہ بن جانے والے “بڑے” صنعتی حادثوں سے نپٹنے اورانہیں روکنے کی صلاحیتیں۔

اس سلسلے میں ایک اورپہلو کا تعلق بین المضامین تحقیق کے امکانات سے ہےجو مارکیٹ میں موجود مسابقت کی زنجیروں سے، سرمایہ دارانہ منافع خوری کے تحفظ کے مقصد کی گرفت سے آزاد ہوجائے گی۔ معیشت کی ترجیحات کی شناخت اورمستقبل کی سماجی ضرورتوں کی بروقت اوردرست انداز سے پیش گوئی کرنا بین المضامین تحقیق کی صلاحیت ہے۔ ہمیں اس قوتِ محرکہ پربھی غورکرنا چاہیےجو ، سوشلزم کی تعمیر کے ڈھانچے کے اندر،مارکسزم کی تخلیقی ترقی جدید تحقیق کواورعمومی طورپرعلم کے حصول کوفراہم کرسکتی ہے۔

تمام سائنسی مضامین میں اوربین المضامین اشتراک میں مارکسی سائنسی تحقیق کی ترقی سوشلسٹ معیشت کی منصوبہ بند ترقی کےمخصوص پنج سالہ منصوبوں کی سائنسی دستاویزسازی کی بہتری میں کارآمد ہوگی۔ علمی نوعیت کی رکاوٹیں جو سوشلزم کی تعمیر کےقوانین کے مطالبوں اوران سے تعلق رکھنے والی منصوبہ بندی کے درمیان مکمل مطابقت میں رکاوٹ بنتی ہیں ان پرقابو پایا جاسکے گا۔

معیشت کے اہم شعبوں کے درمیان اورملک کے مختلف علاقوں کےمابین متناسب نشوونما کوبرقراررکھنے کے لیے درکارمقداری تناسب کوزیادہ درست اندازسےمتعین کرنے کے لیے سائنسی ترقی مددگارہوگی اوراس کے ساتھ ساتھ، اس صورت میں کہ اگرملکوں کا کوئی گروہ سوشلزم کی تعمیر کی راہ پردوبارہ چلنا شروع کردے، تویہ ریاستوں کے مابین محنت کی تقسیم کے مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد دے گی۔

یقیناً، نئے مواقعوں کے پیدا ہونے کے ساتھ، محنت کے کئی مخصوص فرائض میں اوراوران سے متعلق تعلیمی مواد میں بھی پیداوارمیں ہونے والی ان تبدیلیوں سے جنم لینے والے مسائل سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ چوتھے صنعتی انقلاب کے نئے دور سے ابھرنے والے نئےاہم مسائل کا سامنا کرتے ہوئے،سوشلزم کی تاریخی مناسبت اورلازمیت زیادہ اجاگرہوجاتی ہے، کیونکہ یہ صرف مزدورطبقے کا اقتدارہی ہے جو سماجی خو شحالی کے نکتہ نظر سے ان مسائل کے پائیدارجواب فراہم کرسکتا ہے۔ سوشلزم اس طرح سےمحنت کی نوعیت میں تبدیلیوں، محنت کے نئے مقاصد اورفرائض اورنئے شعبوں کے لیے مزدوروں کی ضروری تحریکوں کاتعین کرسکتا ہے کہ مزدوربیروزگارہوجانے، غیربیمہ شدہ رہ جانے، صحت وعلاج کے بغیررہ جانے کے خوف اورخطرے میں مبتلا نہ ہوں جیسا کہ سرمایہ داری کے تحت ہوتاہے۔

سماجی ملکیت کے حالات کے تحت، مرکزی منصوبہ بندی، مارکیٹ کے جنگل کے برعکس، سائنسی اورمنصوبہ بند اندازسے،پورے ملک میں ، ہر علاقے میں اورہرشعبے میں ذرائع پیداوار، سائنسی قوت اورمحنت کی تقسیم کا تعین اوران میں تبدیلی کرسکتی ہے۔سوشلزم ضروری مہارتوں اورازسرِنوتربیت ، مزدوروں کی صلاحیتوں اورمعلومات میں ترقی کو مستقل اندازسے یقینی بنا سکتا ہے۔یہ ان کی مخفی اوردبی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کوآزاد کرسکتا ہے کیونکہ یہ انہیں اجتماعی انداز سے سماجی آزادی کی تاریخی ترقی کے محاذ پرلے آتا ہے۔ یہ اجتماعی کوشش کی طاقت کواستعمال میں لاسکتا ہے جو سوشلسٹ مسابقت کی محرک قوت ہے۔

تمام مندرجہ بالا نکات مارکس ازم –لینن ازم کی تخلیقی ترقی کے لیے تحقیق اورمطالعے کے ان اہم فرائض کواجاگرکرتے ہیں جو ہمارے سامنے ہیں تاکہ ہم اکیسویں صدی میں انقلابی ہراول دستے کا کردارمؤثراندازسے ادا کرسکیں۔ ہماری پارٹیاں، یونانی کمیونسٹ پارٹی اورترکی کی کمیونسٹ پارٹی،اس سمت میں فیصلہ کن اورتخلیقی اشتراک کرتی ہیں۔ دنیا کو سمجھنے اوربدلنے کے لیے مزدورطبقے کی قوت، اپنے تاریخی فریضے کو انجام دینے اورسوشلزم کے لیے انقلابی جدوجہد کی قیادت کرنے کی قوت – اسی کے ذریعے کمیونزم کی تجدید ہوگی۔(ختم شد)

ماخذ:

Advertisements
merkit.pk

http://www.idcommunism.com/2020/02/which-characteristics-will-socialism-have-in-the-21st-century.html

  • merkit.pk
  • merkit.pk

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply