• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • غامدی صاحب کا ‘بےنام نظریہ’ اور برادرم فرنود عالم کا بے وزن مصرع۔۔حسنین اشرف

غامدی صاحب کا ‘بےنام نظریہ’ اور برادرم فرنود عالم کا بے وزن مصرع۔۔حسنین اشرف

SHOPPING
SHOPPING

برادرم فرنود عالم نے کل شب محفل پبا کی اور مطلع پر ہی مشاعرہ لوٹ لیا۔جب تنقید کے مضامین اس خوبی سے رقم ہوں کہ قلم کی سیاہی بھی بھلی معلوم ہوتو کیا کہنے۔ قربان قلمِ یار کہ ایک بار پڑھا، دو بار پڑھا، سہ بار پڑھا، معلوم ہوا کہ شکوہ بھی کیا اور کلہ کج کیے بھی گزر بھی گئے۔ نہ اپنا گریباں چاک نہ دامن یزداں چاک۔ایک ایک سطر داد دینے کے لائق تھی اورایسی مشق عشق کا جواب تو عشاق ہی د ے سکتے ہیں۔ ہم ایسے کوڑھیوں سے تو کچھ نہ بن پڑے گی۔ دل ہی دل میں لڈو بھی پھوٹتے ہیں کہ بابا سے ملاقات پر فرنود بھائی بھی موجود ہوئے تو لطف ہی دوبالا ہوجاوے گا۔ ہم تو بس بیڈمنٹن کے شائقین کی طرح گردن گھما گھما کر شٹل کبھو دائیں تو کبھو بائیں جاتے دیکھیں گے۔

سردست تو بس یہ اشارہ کرنا ہے کہ کچھ اشعار میں وزن گرتا معلوم ہوا، ایک آدھ انترے پر سر سے نکلتے سے معلوم ہوئے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ ‘ریاست کا مذہب نہیں ہوتا’ لیکن ‘ریاست کا نظریہ ہوتا ہے’ تو مصرع وزن سے خارج ہوجاتا ہے۔ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ در دست نہ تیر است نہ بردوش کمان است تو مصرع وزن میں بیٹھتا ہے۔ جب آپ یہ کہیں کہ دردست نہ تیر است ولی بردوش کمان است ، اب ایک ماترا اضافی ہے۔ ریاست کے ہاتھ میں مذہب کا تیر اور کمر پر نظریے کی کمان دونوں نقصان دہ ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ وہ تیر تو گرا دے لیکن کمان کمر پر باقی رکھے، پھر جب وقت آئے تو کمر کی اتری کمان منہ پر پڑتےہی فاشزم ہوجاتی ہے،عجبا!۔ یوسفی صاحب کی طرح صفائی کے پورے نمبر مل جائیں گے لیکن امتحان میں ریاست پھر ناکام ہوجائے گی۔

اسلام اور ریاست ایک جوابی بیانیہ جس دن چھپا ، خاکسار اس دن بھی پریشان تھا کہ احباب نے پوری غزل میں بس ایک مصرع اٹھایا اور’ ویبقی وجہ ربک’ کو ‘ہم دیکھیں گے’ کرکے بیٹھ رہے۔ ریاست کے مذہب نہ ہونے کا یہ مطلب کب ہوا کہ ریاست کا نظریہ ہوسکتا ہے اور وہ اس نظریے کے تحت لوگوں کو پابند کرسکتی ہے؟آپ کہیں گے ہوسکتا ہے، بھئی کیوں؟ اس لیے کہ آپ سیکولرازم کو نیوٹرل تسلیم کرتے ہیں؟ شنید ہے کہ اس کے نیوٹرل نہ ہونے پر زور شور سے بحث جاری ہے، مثال کے طور پر لوٹسی اور اٹلی والا کیس دیکھیں اور اس نے جو بحث پیدا کی اس پر نظر کیجیے۔

آپ نے کہی اور خوب کہی اور کہنے کا سلیقہ بھی تو ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیے کہ نظریہ اور علم میں فرق ہوتا ہے۔ نظریہ نفاذ کا متقاضی ہوتا ہے، نظریہ  سٹرکچرکی بنا ہوتا ہے، علم  سٹرکچر کی بنا نہیں ہوتا۔ ملحدین کے پیر و مرشد ڈاکنز سے کسی نےپوچھا کہ آپ کو ملحدین کی ایک ریاست بنانے کا موقع ملے تو کیا آپ ریاست کو الحاد کے پرچار میں جوت دیں گے؟ فرمایا ہرگز نہیں، ہم علم و شعور کو فروغ دیں گے۔ کہیے یہ بھی الحادی سیکولرازم ہوئی؟

اب آئیے یورپ اور ترکی کے مسئلے کی طرف، مسلم امت اس وقت چودہ صدیاں خلافت کے رومان میں مبتلا گزار چکی ہے۔ یورپ میں سیکولرزم کے نفاذ کی کوشش یوں نہیں تھی کہ جیسے پرانی سلطنتوں میں مسیحیت کے نفاذ کی کوشش تھی کہ عمارت پر چاند ستارے اتار کر صلیب ٹانگ دی لو آج سے رومی سلطنت مقدس رومی سلطنت ہوگئی۔ یہ تو بتلائیے کہ ویٹی کن سٹی اور برطانیہ کا شاہی خاندان، علامت ہی سہی لیکن موجود کیوں ہیں؟ ایک مذہبی استبداد کی نشانی اٹلی کے دل میں پڑی ہے اور ایک بادشاہت کی نشانی یورپ کے دل میں پڑی ہے۔

اس پر بھی ایک پُرلطف بات، مسیحیوں کے مقابل یہ کام دو رخ سے آسان تھا۔ اوّل ان کے ہاں قومی ریاستوں کی بنیاد مذہبی نہیں بلکہ قومی تھی، یہی وجہ ہے کہ وہاں سیکولرازم فطری عوامل کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ دوم وہ خود ریاست سے مذہب کی جدائی کو قبول کرکے دنیاوی اور روحانی بادشاہتوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں سیکولرازم کا تجزیہ کرتے وقت بہت سے مصنف مسیحی روایت کو سیکولرازم کی پری کنڈیشن قرار دیتے ہیں۔

ترکی کی عوام میں یہ رومان موجود تھا وہ رومان جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے استاذ نے کہا کہ یورپ میں چرچ کے مقابل سیکولرازم جب آیا تواسے استدلال کا مقابلہ نہیں تھا۔ بلکہ عوام ازخود چرچ کے استبداد سے تنگ آ چکی تھی۔ یہاں مسئلہ الٹ تھا، اس لیے ترکی کا یہ تجربہ ایک بُرا خواب ثابت ہوا۔ پاشا نہ تو ردِ عمل کا شکار ہوا اور نہ فاشزم کا۔ جس معاشرے میں اس نے یہ قدم اٹھایا تھا اس کی بنا کو سمجھے بغیر نفاذ کے لیے طاقت کا اس طرح استعمال ناگزیر تھا۔ یہی مسئلہ پاکستان میں بھی ہے۔ بالکل ایسے جیسے ایک سیکولر معاشرے میں مذہب کا نفاذ ہوگا تو طاقت کا استعمال ناگزیر ہے کیونکہ سماج میں یہ عمل غیر فطری ہے۔ میرے نزدیک یہاں قرآن کے مدمقابل کھڑے ہونے کا مطلب اصلا اس رومانویت اور مذہبی جذبات کی طرف اشارہ ہے جو قرآن سے استدلال لیتا ہے۔ یہ صفت مسیحیت میں ناپید تھی۔ اس بات کو شاید اتاترک نے بھی نظر انداز کئے یا اسے بہتری کا راستہ صرف یہ نظر آیا۔

بہتر یہی معلوم ہوتا ہے کہ خاص طور پر مسلم معاشروں میں ریاست کو کسی کھونٹے سے باندھ کر چلانے کی بجائے کسی نظریے میں فریق نہ بننے دیا جائے۔ ریاست اکثریت و اقلیت کے تمام معاملات میں معاون کا کردار ادا کرے نہ کہ نفاذ کی جگہ پر آ کر کھڑی ہوجائے، ورنہ ہماری پارلیمنٹ اس بحث میں صدیاں گزار دے گی کہ کیا عورت برقع پہن کر بازار جائے یا ننگے سر۔ اور ننگے سر والی کا سرڈھانپا جائے یا کھلا ہی چھوڑ دیا جائے۔

SHOPPING

کسی بھی ازم کو لے کر ریاست کو مشرف بہ نظریات کرنے کی ہر کوشش شہریوں کے استحصال پر مجبور ہوکر رہ جائے گی۔ کیونکہ یہ وہ معاشرے ہیں جو روایت کا کئی سو سالہ بوجھ اپنی کمر پر لاد کر گھومتے ہیں۔ ریاست کے از م کے مد مقابل جب لوگوں کا ازم آتا ہے تو ریاست کو نفاذ کے مقام پر کھڑے ہونا ہی پڑتا ہے، وہی نفاذ جسے یار دوست پاشا کا فاشزم قرار دیتے ہیں۔

SHOPPING

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *