بوٹ کو عزت دو۔۔طارق علی

جس دن میں لاہور پہنچا، اخبارات کے صفحہ اول پر دو خبریں نمایاں تھیں۔ سپریم کورٹ نے ریلوے کو ملک کا سب سے زیادہ کرپٹ ادارہ قرار دیا تھاتاہم اس میںحیرت کی کوئی بات نہیں کیوں کہ ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں، گذشتہ تین دہائیوں سے تقریباً ہر حکومت کا حصہ بنتے آ رہے ہیں، اس وقت بھی وہ عمران خان کی تحریکِ انصاف کے اتحادی ہیں، رکنِ پارلیمان ہیں اور اِن دنوں خوب پیسے کما رہے ہیں۔

یہ بات بڑے پیمانے پر مشہور ہے کہ محکمہ ریلوے کی نوکری حاصل کرنے کیلئے رشوت ادا کرنا پڑتی ہے اور رقم کا تعین عہدے کی مناسبت سے ہوتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پچھلے سال کے جاری کردہ اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں ”اوپر کی آمدنی“ بڑھتی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے تحت بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سالانہ بدعنوانی انڈیکس میں پاکستان تیسرے درجے کے بد عنوان ممالک میں شامل ہے۔

دوسری خبر کہیں زیادہ دلچسپ تھی۔ 4 جنوری کو، ایک امریکی فوجی طیارہ مشرقی افغانستان میں طالبان کے زیر کنٹرول ایک پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا یا اسے زمین سے حملہ کر کے گرادیا گیا تھا۔ کافی تاخیر کے بعد امریکا نے اعتراف کیا کہ تباہ شدہ طیارہ ای 11 اے بمبار طیارہ تھا جو مواصلات اور انٹیلیجنس جمع کرنے والا جیٹ تھا۔ اس خبر میں بھی کچھ عجیب نہیں لیکن ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں سی آئی اے ایران مشن سینٹر کا سربراہ اور قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمہ دار مائیکل ڈی آندریا شامل تھا۔

اسلام قبول کرنے والا اور مائیک پومپیو کا منظور نظر ڈی آندریا سی آئی اے میں ”ڈارک پرنس“ اور ”آیت اللہ مائیک“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ 48 گھنٹوں کے بعد پینٹاگون نے بتایا کہ خراب موسم کی وجہ سے تحقیقات میں تاخیر ہوئی تاہم یہ واقعہ ’حادثاتی طور پر‘ پیش آیا۔ یہ موقف ایرانی رپورٹنگ کے بعد سوالیہ نشان بن گیا۔ سی آئی اے نے ابھی اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا ڈی آندریا طیارے میں تھا یا نہیں، صرف اتنا کہا گیا ہے کہ جائے وقوعہ سے عملے کے دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

فروری کے آغاز میں سی آئی اے کے ایک ریٹائرڈ افسر فلپ جیرالڈی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کہ بہت سے لوگ جو اس خبر کی تفصیلات جاننا چاہتے تھے وہ ایران اور دیگر ذرائع ابلاغ کی طرف مائل تھے کیونکہ امریکا کا ریکارڈ ہے کہ اس نے ہر واقعہ سے متعلق جھوٹ ہی بولا۔ اگر تہران کا موقف درست ہے تو اس سے ایران اور طالبان کے مابین ایک حیرت انگیز اور باہمی تعاون کا پتہ چلتا ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکا فوج کے انخلا کے بارے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات میںمصروف ہے، ایران کا یہ تاثر کہ طالبان نے اس کی انٹلیجنس کی مدد سے ایک امریکی طیارے کو مار گرایا ہے، امریکا کے لئے ایک سنگین چیلنج سے کم نہیں۔ اگر آیت اللہ مائیک مارا گیا ہے تو سی آئی اے کیلئے یہ پیغام بالکل واضح ہے: آنکھ کے بدلے آنکھ۔

خود پاکستان میں کم از کم سرکاری سطح پر معاملات ایک ہی ڈگر پر جاری رہتے ہیں۔ متضاد عزائم اور باہمی شکوک و شبہات رکھنے والے سیاستدان آتے اور جاتے ہیں، سکے اچھال کر سیاسی جماعتوں کے کردار متعین کئے جاتے ہیں۔ نئی جماعتیں تبدیلی کا وعدہ کرتی ہیں لیکن تبدیلی نہیں آتی۔ اگر کچھ آتی بھی ہے تو اس سے چیزیں مزید خراب ہو جاتی ہیں۔ جب عمران خان نے 2018ء میں روایتی جماعتوں کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کیا تو متوسط طبقے کے ہزاروں پیشہ ور افراد اور طلبہ کی انہیں حمایت حاصل ہوئی جنہیں امید تھی کہ بھٹوزکی پاکستان پیپلز پارٹی، شریف برادران کی مسلم لیگ اور مولانا فضل الرحمان (جو اپنے مشکوک پرمرمٹ کی وجہ سے ”ڈیزل“ کہلاتے ہیں) کی جمعیت علمائے اسلام جو پہلے ان کے والد مولانا مفتی محمود کی زیرِقیادت تھی، کی خاندانی اجارہ داری سے نجات ملے گی۔ اپنے دور کی طاقتور جماعت پیپلز پارٹی اب اپنی بدعنوانی کی قیمت ادا کررہی ہے۔ اس کی طاقت اب صوبہ سندھ میں زرداری، بھٹوز کے گڑھ، تک محدود ہے۔ قومی اسمبلی کی دوسری سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) نے گذشتہ انتخابات میں 84 نشستیں کھو دی تھیں۔

لیکن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے عمران خان کی عوامی مقبولیت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی۔ ”ڈیزل“ اور اس کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے ہیں جس میں عمران خان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا (جیسا کہ عمران خان نے بھی نواز شریف سے یہی مطالبہ کیا تھا) اور روایتی مذہبی معاشرے کا نہ ختم ہونے والا دفاع کیا۔ پندرہ روز قبل دو خواتین پولیو ورکرز کو روایت پسندوں نے ہلاک کردیا۔ ان کا جرم ویکسینیشن نہیں تھا، بلکہ ان کی جنس تھی۔ اس بدانتظامی کے ماحول میں سیاستدان خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ پولیس خود ’روایت پسند‘ ہے لہذا اس سے مردوں کے تشدد کے خلاف خواتین کے دفاع کی امید نہیں کی جا سکتی جو پاکستانی معاشرے کا حصہ بن چکا ہے۔

پی ٹی آئی کی زیرِقیادت وفاقی اور صوبائی حکومتیں نااہل ہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا بڑے پیمانے پر مذاق اڑایا جاتا ہے، جس میں پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان یہ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے عہدے پر برقرار رہنے کی وجہ خان صاحب کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا یہ انتباہ ہے کہ بزدار کی رخصتی ان کے شوہر کی رخصتی کا باعث بن سکتی ہے۔ جرنیل گھبرائے ہوئے ہیں۔ لندن میں موجود شریف برادران تک حکومت کی تبدیلی کی اطلاعات اس تاثر کے ساتھ پہنچائی جا رہی ہیں کہ عمران خان کا متبادل شہباز شریف ہو سکتے ہیں لیکن پاکستانی خوب جانتے ہیں کہ معاملات بہتر بنانے کیلئے فوج یا خدا میں سے کس پر بھروسہ کرنا ہے۔ ایک مشہور حدیث میرے ذہن میں گردش کرنے لگی۔ ایک دن پیغمبر ِاسلام نے دیکھا کہ ان کے ایک صحابی نے نماز میں شرکت کرنا چھوڑ دی ہے۔ پیغمبر نے اس صحابی سے اس کی وجہ پوچھی تو صحابی نے جواب دیا، ’مجھے معاف کیجئے لیکن جب بھی میں نماز کیلئے آتا ہوں تو میرا اونٹ غائب ہو جاتا ہے۔ ‘

” تم اسے باندھتے کیوں نہیں ؟ “ پیغمبر نے پوچھا۔

صحابی نے کہا:”میں خدا پر بھروسہ کرتا ہوں“۔

پیغمبر نے کہا: ” پہلے اپنے اونٹ کو باندھو، پھر خدا پر بھروسہ کرو“۔

دو چیزیں مستقل ہیں۔ پاک فوج کا ملکی سیاست میں سرایت کرتا مستقل کردار اور بڑے پیمانے پر بدعنوانی۔ 1958ء میں پہلی فوجی بغاوت کے بعد معروف پنجابی شاعر استاد دامن نے لکھا:

پاکستان دیاں موجوں ای موجوں
جدھر ویکھو فوجاں ای فوجاں

فوج اب بھی موجود ہے لیکن ہمیشہ نظر نہیں آتی۔ فوجی حکمرانی کے تین تباہ کن ادوار کے بعد جس میں پہلا دور بنگلہ دیشیوں کی آزادی کا سبب بنا، فوج نے بدنامی سے بچنے کیلئے معاملات سیاستدانوں کے ہاتھ تھما دیئے ہیں لیکن ملک کا اصل حکمران فوج کا سربراہ ہی ہوتا ہے جیسا کہ موجودہ جنرل قمر جاوید باجوہ جنہیں آئی ایس آئی کے سربراہ سمیت اپنے ساتھی جرنیلوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ معمول بن گیا ہے کہ فوج کا اپنی تین سالہ مدت میں توسیع کے لئے سربراہ پارلیمان پر دباو ڈالے۔ یہ طرزِ عمل فوج میں مقبول نہیں ہے۔ اس سے ترقیوں کے عمل میں خلل پڑتا ہے تاہم سیاست دان انکار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ گذشتہ نومبر میں ایک نامعلوم درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کو مسترد کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس کے بعد وہ درخواست گزار گھبرا گیا اور اپنی اپیل واپس لینے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس نے اصرار کیا کہ اس مقدمے کی سماعت ہو گی۔ اس درخواست کا فیصلہ جلدی سنا دیا گیا۔ پارلیمان کو حتمی فیصلہ کرنے کی ہدایت کے ساتھ جنرل باجوہ کی مدت میں چھ ماہ کی توسیع کی اجازت دیدی گئی۔ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے توسیع کے حق میں ووٹ دیا۔

گزشتہ ماہ حزبِ اختلاف کی جانب سے عمران خان کو فوج کا کٹھ پتلی قرار دینے کے ردِعمل میں ان کا ایک تیز طرار وزیر فیصل واﺅڈا ایک ٹی وی مباحثے فوجی بوٹ لے کر پہنچ گئے۔ انہوں نے بوٹ میز پر رکھا اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے شرکا سے کہا کہ صرف ہمیں الزام دینا درست نہیں آپ بھی یہ بوٹ چاٹتے رہے ہیں۔ فیصل واﺅڈا نے درست کہا۔ جب میں نے لوگوں سے پوچھا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کیوں عہدے پر قائم رہنے کے لئے بے چین ہیں تو صرف ایک خاتون نے رائے دی کہ وہ سیاستدان بن چکے ہیں۔ ” مزید دو یا تین سال میں وہ خوب رقم کما سکتے ہیں، زیادہ تحائف قبول کرسکتے ہیں، غیر ملکی بینک اکاونٹس کو مستحکم کرسکتے ہیں اور مزید اراضی پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کیا وجہ ہوسکتی ہے؟“۔ خاتون کو اچھی طرح معلوم ہو گا کیونکہ ان کا بیٹا ایک ریٹائرڈ جنرل ہے۔

فوج فی الحال نسبتاً ایک نئی سیاسی تحریک، پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو دبانے پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ یہ چالیس سالہ افغان جنگ کا شکار پشتونوں کے شہری اور معاشرتی حقوق کا دفاع کرنے والی، سیکولر، عدم تشدد پر یقین رکھنے والی اور جنگ مخالف تحریک ہے۔ یکے بعد دیگرے امریکی حکومتیں اور تھنک ٹینکس مجموعی طور پر طالبان اور پشتون آبادی میں فرق کرنے میں ناکام رہے۔ نائن الیون کے بعد امریکیوں کو خوش کرنے کے لئے پاک فوج نے اربوں ڈالر کے عوض وزیرستان میں آپریشن کیا جس سے ہزاروں پشتون بے گھر ہوئے۔ کچھ کو مہاجر کیمپوں میں ڈال دیا گیا تھا۔ بعض لاہور اور کراچی بھاگ گئے جہاں 1960ء اور 1970ء کی دہائی سے پشتون ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں۔

نوجوان پشتون جو مایوس کن حالت میں رہتے ہیں اور جنہیں فوج اور پولیس حریف سمجھتی ہے اور مشکوک نظروں سے دیکھتی ہے، انہوں نے حیرت انگیز طور پر مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ کراچی میں ایک معروف ماڈل 27 سالہ نقیب اللہ محسود پر پولیس تشدد اور قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد پی ٹی ایم تین سال قبل اہمیت اختیار کر گئی تھی۔ ان کے مطالبات میں لاپتہ افراد کی تلاش کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ بھی شامل ہے جنھیں آئی ایس آئی کی خفیہ جیلوں میں ہلاک یا نظربند کیا گیا۔ پاکستانی اور امریکی نگرانی کا خاتمہ بھی مطالبات کا حصہ ہے۔ اس تحریک کا حجم اور کامیابی یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اس کے دو ارکان ہیں، جن کو اکثر ہراساں اور گرفتار کیا جاتا ہے۔ دوسری تحریکوں کے برعکس پی ٹی ایم خفیہ ایجنسیوں کے کنٹرول میں نہیں ہے اور اس کا ایسے علاقوں میں اثرورسوخ ہے جو تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اس کا سیاسی نکتہ نظر ان متعدد بنیاد پرست گروہوں سے انتہائی مختلف ہے جن کی فوجی اسٹیبلشمنٹ پرورش اور حمایت کرتی ہے۔ پی ٹی ایم پشتونوں اور غیر پشتونوں کے لئے ایک امید بن چکی ہے، جس نے پاکستان میں ہر ترقی پسند کو متحد کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کے بعض حصوں میں نوجوان خواتین رہنماﺅں کا بھی ظہور ہوا ہے جہاں نسلی شناخت کا دعویٰ طویل عرصے سے پدرانہ اجارہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ عمران خان پہلے اس تحریک کا خیرمقدم کرتے نظر آئے لیکن جلد ہی اپنا خیال بدل لیا۔ ان کے کچھ وزرا ءنجی طور پر تشدد کا الزام فوج پر لگاتے ہیں۔ اگر وہ ریاستی ظلم و ستم کو روک نہیںسکتے تو پھر ان کے اقتدار میں ہونے کا کیا مطلب ہے؟

میرے پاکستان پہنچنے سے کچھ دن قبل پی ٹی ایم کے ہر دلعزیز رہنما منظور پشتین کو پھر سے گرفتار کرلیا گیا۔ اسی دن اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں احتجاج شروع ہوا۔ متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا اور ان پر بغاوت کا الزام لگایا گیا (استعماری دور کے قوانین تاحال پورے جنوبی ایشیا میں استعمال ہوتے ہیں)۔ وکلا نے اپیلیں داخل کیں اور 3 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ضمانت منظور کرلی اور ڈپٹی کمشنر کی سرزنش کی جس نے ظاہر ہے خفیہ ایجنسیوں کی ہدایت پر گرفتاریاں کی تھیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد نے پوچھا: آپ نے کس بنیاد پر ان کے خلاف الزام عائد کیا؟کس نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا؟

اطمینان بخش جوابات آنے والے نہیں تھے۔ اطہرمن اللہ کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ ریاست کی جانب سے پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ہونے والی واحد مثبت سیاسی پیش رفت کو ریاست ہی کی جانب سے سنگین خطرہ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور اگر سی آئی اے سن رہی ہے تو ڈرونز یقینی طور پر اس کا جواب نہیں ہیں۔

ترجمہ : ایف ایس

یہ مضمون ’لندن ریویو آف بُکس‘ میں شائع ہوا۔

بوٹ کو عزت دو

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *