انسان کی مادری زبان۔۔محسن علی خان

سینٹ رافیل ہسپتال (فیصل آباد) میں سفید لباس میں مَلبوس نرس، جس نے اپنا آدھا چہرہ ماسک سے ڈھانپ رکھا تھا، ہاتھ میں اک ننھی رُوح پکڑے ہوۓ، جو ابھی کائنات میں اُتری تھی، مسلسل اپنی مخصوص آواز میں“ اوئیں اوئیں” کر رہی تھی، نرس نے اس نرم وجود کو اُسکی ماں کی آنکھوں کے قریب کیا، ماں نے موت کی شِدت جیسی تکلیف میں بھی مُسکرا کے اُس شبنم کے قطروں میں بھیگے ہوۓ پھول کو دیکھا، آنکھیں بند کیں، سکون اور شُکر میں ڈوبتی چلی گئی۔

اگر آپ الاسکا کی منفی ساٹھ ڈگری میں پیدا ہوۓ ہوں، کینیڈا کی نیاگرافال کے قریبی ہسپتال میں ہوں، امریکی مین ہٹن، گولڈن برِج، کیلیفورنیا، نیو یارک واشنگٹن کے علاقے میں ہوں، لاس ویگاس کے گیمبلنگ کسینو، کیوبا کے سگار کے کارخانے میں ہوں، برازیل کے جنگلات میں ہوں، افریقی قبائل میں ہوں، اہرام مصر کے پاس ہوں، مکہ و مدینہ جیسے مقدس ترین شہروں میں ہوں، ویٹی کُن میں رومن کیتھولک چرچ میں ہوں، آپ برمنگھم پیلس میں ہوں، اٹلی کے کسی جزیرے پہ ہوں، پیرس میں ایفل ٹاور کے سایہ میں ہوں، شانزے لیزے  سٹریٹ میں ہو، یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں ہوں، مونٹی کارلو جیسے تفریحی مقام، روس کی جھیل بائیکل، دیوار چین ہو، جاپان کے روبوٹک ہسپتال ہوں، برما اور تھائی لینڈ کے بدھا کے مجسمہ، براعظم آسٹریلیا و نیوزی لینڈ کے دریاؤں کا بحرالکاہل کے سمند سے ملاپ کی جگہ ہو، ہندوستان کے کسی قدیم مندر، افغانستان کے سنگلاح پہاڑ، ایران کے آتش کدہ میں ہوں یا پھر آپ پاکستان کے کسی شہر، گاؤں میں پیدا ہوۓ ہوں یا سینٹ رافیل ہسپتال فیصل آباد کے وارڈ میں پوری دنیا سے بے نیاز ہو کر اپنی حقیقی دنیا اپنی ماں کی آغوش میں سو رہے ہوں۔

دُکھ دے بھانبڑ، چار چفیرے
سُکھ بس تیرا پیار نی مائیں۔

دراصل یہ صرف کسی بچے کی پیدائش کا عمل نہیں تھا، یہ اِک زبان کے وجود میں آنے کا بھی عمل تھا، جو کہ صدیوں سے انسان کی تخلیق کے ساتھ چلتا آرہا ہے۔ کائنات میں جہاں بھی انسانی پیدائش ہو گی، انسان کی ہر حرکت اس کی زبان بن جاۓ گی، چونکہ آدم وحوا کی اولاد سے یہ عمل شروع ہوا اور کائنات کے آخری پیدائش تک جاری رہنا تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں اس پوری کائنات کی مشترکہ مادری زبان“ رونا اور مسکرانا“ ہے۔

جب ہم دنیا کی قدیم ترین زبانوں کو دیکھیں تو اس کے متعلق مختلف آراء ہیں، تامل کہتے ہیں ان کی زبان قدیم ہے، سنسکرت والے کہتے چونکہ آدم کا پہلا پڑاؤ ہندوستان میں تھا اس لئے سنسکرت انسان کی قدیم زبان ہے، عبرانی کہتے چونکہ آخری نبی سے پہلے سب انبیاء کی زبان عبرانی ہے، تورات، زبور جیسی مقدس کتابیں بھی عبرانی میں اُتری اس لئے عبرانی ہی دنیا کی قدیم زبان ہے، افریقی بربر قبائل اپنی برتری ثابت کرتے، چینی قوم اپنی زبان کا حوالہ دیتی، یونانی قوم اپنے فلسفہ کی بنیاد پہ یونانی زبان کو قدیم زبان ثابت کرتے، عربی والے اپنی زبان کی فضاحت وبلاغت کا حوالہ دیتے، میرا اپنا یقین بھی یہی ہے کہ عربی ہی قدیم ترین آسمانی و زمینی زبان ہے۔ وجود زمین و آسمان و جنت سے ایک ہزار سال پہلے کائنات کے مالک نے سورت یاسین کی تلاوت فرمائی تھی، حضرت آدم و حوا کی جنت میں زبان بھی عربی تھی اور عقیدہ اسلام کے مطابق آخرت میں بھی اہل جنت کی زبان عربی ہی ہو گی۔ لیکن یہ سب زبانیں آپس میں روابط کے لئے وجود میں آئی ہیں۔ انسان کی مادری زبان وہی ہے جو اسکو اپنی ماں کی گود میں، اپنے ماحول کا مشاہدہ کرتے ہوۓ ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حسب نسب اور علاقائی نسبت بھی مادری زبان کا ایک اہم جُز بن جاتا ہے۔

آج مادری زبان کا اکیسواں بین الاقوامی دن ہے، یہ ہر سال اکیس فروری کو منایا جاتا ہے۔ یونیسکو نے سنہ انیس سو ننانوے سے اس دن کو بین الاقوامی سطح پہ متعارف کروایا تھا، تاکہ دنیا بھر سے افراد اپنی مادری زبان کی شیرنی محسوس کر سکیں۔

پنجابی میری مادری زبان ہے، یہ بہت نرم بھی ہے اور آپ اس میں سختی بھی دیکھ سکتے ہیں۔ دلچسپ بات ہے کہ پنجابی میں شکریہ کا کوئی لفظ نہیں ملا اور نہ ہی پنجابی میں معافی کا کوئی لفظ ملا۔ اس کو ہم یوں بھی کہہ سکتے کہ پنجابی اپنا دل اتنا کشادہ رکھتے ہیں کہ کسی کو معافی مانگنی نہیں پڑتی اور کسی پر نوازشات کی اتنی حد کر دیتے ہیں کہ اس کو شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ملتے۔ پنجابی صوفیاکرام کی زبان بھی ہے، صوفیا کرام نے اپنی پنجابی زبان میں شاعری کے ذریعہ تصوف اور تبلیغ کا کام کیا، سکھ مذہب کے بانیوں نے بھی پنجابی شاعری کا سہارا لیا۔ سکھ شعراء میں بڑے نام گرو نانک، آگند، امر داس، تیغ بہادر اور مسلم بزرگ بابا فرید، شاہ حسین، بابا بلھے شاہ، جبکہ جدید دور کے شعرا میں، امرتا پریتم، سرجیت پاترا، شیو کمار بٹالوی، منیر نیازی، استاد دامن، انور مسعود شامل ہیں۔

پنجابی کی یہ خوبی بھی ہے آپ کسی بھی بڑے سے بڑے دریائی فقرہ کو ایک کوزہ میں سمو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پہ ایک استاد نے اپنے شاگرد کو کہا کہ وہ کلاس میں آنے سے پہلے انگلش، اردو، پنجابی میں اجازت طلب کر ے۔ طالبعلم نے ایسے اجازت طلب کی۔
انگلش میں ( ریسپیکٹڈ ٹیچر۔ مے آئی کم اِن )
اردو میں (جناب استاد محترم۔ کیا میں اندر آ سکتا ہوں)
پنجابی میں (استادجی۔ آواں)

اسی طرع ایک انگریز لائلپور(فیصل آباد) میں کسی گاؤں میں اپنے دوست کو ملنے آیا گاؤں کے راستے پر اس نے ایک کسان کو فصل کاٹ کر اس کے گٹھے بناتے دیکھا۔
انگریز نے پوچھا: تم یہ کیا کرتا؟
کسان نے جواب دیا: میں فصل “وٹ” رہا ہوں۔
انگریز سمجھ گیا کہ پنجابی میں فصل کاٹنے کو “وٹ” کہا جاتا ہے۔
انگریز آگے چل دیا، آگے ایک شخص چارپائی کا بان بنا رہا تھا۔
انگریز نے پوچھا: تم یہ کیا کرتا؟
اس آدمی نے جواب دیا: میں وان “وٹ” رہا ہوں ، انگریز نے حساب لگایا کہ ٹوئسٹ کرنے کو پنجابی میں “وٹ” کہتے ہیں۔
انگریز اس شخص کو چھوڑ کر آگے چلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک دکاندار اداس بیٹھا ہے۔
انگریز نے پوچھا: تم اداس کیوں بیٹھا؟
دکاندار بولا: سویر دا کج وی نئیں “وٹیا”۔
انگریز سمجھا پنجابی میں پیسے کمانے کو “وٹ” کہتے ہیں۔
خیر انگریز کچھ اور آگے چلا تو ایک شخص کو دیکھا، جو پریشانی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا.
انگریز نے پوچھا: کیا ہوا؟
وہ شخص بولا: گورا صاب اج موسم بڑا “وٹ” ہے۔
انگریز سوچنے لگا کہ پنجابی میں مرطوب موسم کو بھی “وٹ کہتے ہیں۔
انگریز اسے چھوڑ کر آگے چلا، سامنے چودھری کا بیٹا کلف لگے کپڑے پہنے چلا آ رہا تھا۔
انگریز اس سے گلے ملنے کے لئے آگے بڑھا۔
وہ لڑکا بولا: گورا صاب، ذرا آرام نال، کپڑیاں نوں “وٹ” ناں پا دینا۔
انگریز سر پر ہاتھ پھیرنے لگا کہ شکنوں کو بھی “وٹ” ہی کہا جاتا ہے-
کچھ آگے جا کر انگریز کو ایک شخص پریشانی کے عالم میں لوٹا پکڑے کھیتوں کی طرف بھاگتا ہوا نظر آیا-
انگریز نے کہا: ذرا بات تو سنو-
وہ شخص بولا: واپس آ کر سنتا ہوں، بڑے زور دا “وٹ” پیا اے۔
انگریز کو پسینہ آنے لگا یعنی پنجابی میں پیٹ میں گڑ بڑ ہو تو اسے “وٹ ” کہتے ہیں۔
کچھ اور آگے گیا تو کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں بری طرح لڑ رہے ہیں۔
گورا لڑائی چھڑانے کے لئے آگے بڑھا، تو ان میں سے ایک بولا، تسی وچ نہ آؤ میں اج ایدھے سارے “وٹ” کڈ دیاں گا۔
انگریز پریشان ہو گیا کہ کسی کی طبیعت صاف کرنا بھی “وٹ نکالنا” ہوتا ہے۔
انگریز نے لڑائی بند کرانے کی غرض سے دوسرے آدمی کو سمجھانے کی کوشش کی تو وہ بولا، او جان دیو بادشاؤ، مینوں تے آپ ایدھے تے بڑا “وٹ” اے۔
انگریز ششدر رہ گیا کہ غصہ کو بھی پنجابی میں “وٹ” کہا جاتا ہے۔
قریب ایک آدمی کھڑا لڑائی دیکھ رہا تھا، وہ بولا، تسی اینوں لڑن دیو، ایدھے نال پنگا لیا تے تہانوں وی “وٹ” کے چپیڑ کڈ مارے گا۔
انگریز آگے چل دیا، تھوڑی دور گیا تو کیا دیکھا کہ ایک شخص گم سم بیٹھا ہے۔
انگریز نے کسی سے پوچھا، یہ آدمی کس سوچ میں ڈوبا ہے؟
جواب ملا: یہ بڑا میسنا ہے، یہ دڑ “وٹ” کے بیٹھا ہے۔
انگریز سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا، کچھ دیر بعد طبیعت کچھ بحال ہوئی، تو اس نے دیکھا ایک بزرگ حقہ پکڑے سامنے سے آتا دکھائی دیا۔
قریب آنے پر انگریز نے پوچھا: واپس لائلپور شہر کتنی دور ہے؟
وہ بولا: “وٹو وٹ” ٹری جاؤ، زیادہ دور نئیں اے۔
انگریز کو غش آتے آتے بچا کہ پنجابی میں راستہ بھی “وٹ” کہلاتا ہے۔
واپس انگلستان پہنچ کے اس نے کہا کہ دنیا کی تاریخ میں اتنی مختصر اور جامع زبان نہیں دیکھی جہاں اک لفظ“ وٹ“ پہ ہی پورا گاؤں زندگی گزار رہا ہے۔۔

مادری زبان کا سب سے اہم مرحلہ وہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے رب کو اپنی مذہبی زبان میں پکارتا ہے لیکن ایک ایسا وقت بھی آجاتا ہے جب اُس کی پکار فریاد میں بدلنا شروع ہو جاتی ہے، پھر وہ اپنی مادری زبان کا سہارا لیتا ہے، گڑگڑاتا ہے، پھر الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، پھر ہچکیوں سے آواز رندھ جاتی ہے، آنسوؤں کی جھیل بن رہی ہوتی ہے، یہ کیفیت تب تک رہتی ہے جب تک اس کے دل کو اپنے رب کی طرف سے تسلی نہ مل جاۓ اور پھر اس کا رونا اس کی مسکراہٹ میں بدل جاتا ہے۔ اور آنکھیں بند کر کے سکون اور شکر میں ڈوب جاتا ہے۔ تب اس پر یہ راز کُھلتا ہے کے اس پوری کائنات کی مشترکہ مادری زبان“ رونا اور مسکرانا“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *