دیکھو ہمیں اب بیٹھ گئے پاس تمھارے
کر آؤ منادی ،نہ ہمیں کوئی پکارے
محفل کے یہ آداب کہیں دیکھے ہیں تم نے؟
کرتے ہو ہمیں دور سے آنکھوں کے اشارے
ہر شکل میں توہے، تری خوشبو تری آواز
جائیں تو کہاں جائیں، ترے درد کے مارے
تم کو نہیں معلوم میرے ٹھاٹھ بڑے ہیں
تنہائی نے دی چائے، مرے بال سنوارے
میں نے تو کہانی میں میری موت لکھی تھی
پھر تازہ محبت نے دیئے مجھ کو سہارے
جیتے ہیں مگر جینے کے اسباب تو دیکھو
پلو سے بندھے لمس ،ہمیں جان سے پیارے
چاہت کی گھنی بیل جو پھولوں سے لدی تھی
نوچا ہے اسے ،کس نے میرے خواب اجاڑے!
Facebook Comments
بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں