یہ مظاہرہ ہے مشاعرہ نہیں۔۔اشعر نجمی

آپ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں دہلی سے اتنی دور رہنے کے باوجود اپنی تحریروں کے ذریعہ شاہین باغ کے بہت قریب رہا ہوں، وہاں بیٹھی خواتین اور رضاکاروں کے ایثار اور جذبے کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جہاں ہمیں کبھی کبھی اپنے آس پاس کے ماحول کے پیش نظر حکمت عملی کا بھی سہارا لینا پڑتا ہے، اس کی ایک مثال تو صلح حدیبیہ ہی ہے جو رسول اللہ کی بے پناہ دوراندیشی کا ایک نایاب نمونہ ہے۔

آج یعنی 19 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے دو نمائندگان سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندرن شاہین باغ کے مظاہرین سے گفتگو کرنے کے لیے پہنچے۔ دونوں ہی سپریم کورٹ کے سینئر وکلا ہیں۔ شاہین باغ کی خواتین نے اپنی روایتی شائستگی اور خوشدلی کے ساتھ ان کا پھولوں سے استقبال کیا۔سادھنا رام چندرن نے بڑی ہی نرم روی سے مائک پر خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے آغاز کیا اور انھیں یقین دلایا کہ ایک جمہوری ملک میں احتجاج کرنا آپ کا حق ہے جو برقرار رہے گا لیکن کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم دوسروں کا حق غصب کرکے اپنے حق کو برقرار رکھیں؟ خواتین نے ایک زبان ہو کر “نہیں” کہا۔ سادھنا رام چندرن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تو پھر آئیے ہم اور آپ دونوں سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی ایسا بیچ کا حل نکال لیں ،جس سے دوسرے شہریوں کا حق بھی نہ مارا جائے اور آپ کا احتجاج بھی برقرار اور سلامت رہے۔ اس کے بعد سادھنا نے میڈیا سے درخواست کی کہ وہ یہاں سے باہر چلے جائیں تاکہ ہم دوستانہ ماحول میں خواتین سے گفتگو کرسکیں۔ اس کے بعد ظاہر ہے کہ مظاہرے میں موجود لوگوں کی چھوٹی چھوٹی موبائل کلپس پر ہی اکتفا کرنا پڑا، لیکن صورت ِحال واضح ہوگئی۔ سادھنا رام چندرن کا اختتامی جملہ کہ ہمارے پاس کافی وقت ہے گفتگو جاری رہے گی، بتا رہا ہے کہ ابھی کسی حتمی حل کی طرف تو گفتگو نہیں پہنچی ہے لیکن یہ خوش آئند ہے کہ گفتگو کی پہل ہوچکی ہے جس پر صرف ہندوستان بھر کے کروڑوں لوگوں کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نظر ہے۔ لیکن آج جو گفتگو ہوئی ہے، اس تناظر میں اپنے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے پہلے تو یہ جان لیجیے کہ بے شک مظاہرے غیر منظم ہوسکتے ہیں بلکہ کامیاب بھی ہوسکتے ہیں لیکن گفتگو یا مکالمے منظم ہونے چاہئیں۔ دوسری بات یہ بھی یاد رکھیے مکالمہ ہمیشہ کسی حل کی تلاش میں ہونا چاہیے نا کہ اپنی ضد منوانے کے لیے۔ تیسری اہم بات یہ کہ فریق ثانی کو آپ مکالمہ کرتے ہوئے کمزور یا مجبور ہرگز نہ سمجھیں۔

شاہین باغ کے مسئلے پر سپریم کورٹ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے لیکن دو ماہ سے زائد سڑک کو روکنا جمہوری حق نہیں ہے، اس لیے اگر گفتگو سے مسئلے کا حل نہیں نکلتا تو پھر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سڑک کو بحال کرے۔ آپ جانتے ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ حکومت سڑک کو ‘بحال’ کرنے کے لیے شاہین باغ کے ساتھ کیا کرے گی، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ کیا ہم ان شاہین باغ کی خواتین کی سلامتی کے رِسک پر ایسا کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں؟ کیا یہ ضروری نہیں ہوجاتا کہ اپنے احتجاج کو برقرار رکھتے ہوئے ہم میانہ روی اختیار کریں تاکہ دنیا کو ایک پیغام بھی جائے کہ شاہین باغ کو خالی نہیں کرایا گیا بلکہ وہاں کی خواتین نے صرف عوام الناس کے حقوق کے احترام میں یہ فیصلہ کیا۔ لیکن فیصلہ کیا ہو، جس میں شاہین باغ کا وقار بھی سلامت رہے اور مسئلے کا حل بھی نکل جائے؟

میں اس پر بات کروں گا لیکن سب سے پہلے تو یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ نمائندگان سے بات کرنے کے لیے بردباری کی ضرورت ہے نا کہ مقررین کی طرح مبالغہ آمیزی کی۔آج موبائل کلپس میں مجھے تھوڑا بہت جو نظر آیا، اسے دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں کہ مجھے گفتگو کے پیٹرن پر سخت اختلاف ہے۔ یہ پیٹرن prejudiced ہے جس سے کوئی معقول حل برآمد ہونے کی مجھے امید نہیں ہے۔ کلپس میں ایک خاتون مائیک پر اپنی بات نمائندگان کے سامنے رکھ رہی تھیں، ان کی منطق بھی اچھی تھی اور شائستہ بھی تھی لیکن وہ بہرحال تقریر کررہی تھیں، نا کہ گفتگو۔ بیچ بیچ میں مشاعروں کی طرح تالیاں بھی بجائی جارہی تھیں، داد اور فقرے بھی کسے جا رہے تھے۔ اسی طرح سادھنا رام چندرن نے جب خواتین کو مخاطب کیا تو درمیان میں خواتین کے فقرے کسنے کی آواز بھی overlap ہو رہی تھی۔ معاف کیجیے گا، مکالمہ ایسے نہیں ہوتا، مشاعرہ ہوتا ہو تو ہو۔ آپ کو چاہیے تھا کہ آپ مکالمے سے پہلے سر جوڑ کر بیٹھتیں اور باقاعدہ اہم نکات پر غور و خوض کرنے کے بعد کچھ نکات مرتب کرتیں اور پھر اپنے بیچ میں سے متفقہ طور پر صرف پانچ ایسی عورتوں کا انتخاب کرتیں جو آپ کی جانب سے نمائندگان سے ہر پوائنٹ پر گفتگو کرنے کی قابلیت رکھتی ہیں۔ میرے ذہن میں کچھ معتدل آپشن موجود ہیں اور میرے خیال میں نمائندگان کو اس پر راضی ہوجانا چاہئیں:

(1) اگر سپریم کورٹ اس بات پر راضی ہوجائے کہ جب تک CAA ؛ جو زیر سماعت ہے، اس کا فیصلہ نہیں آجاتا تب تک سپریم کورٹ اس پر عملدرآمد ہونے کے لیے STAY لگا دے۔

(2) اگر حکومت پورے ہندوستان میں NPRکی جگہ صرف Census پر اکتفا کرلے جیسا کہ اس سے پہلے ہوتا آیا ہے، اس میں کوئی اضافی سوال نہ ہو۔

(3) اگر سپریم کورٹ اپنی ماتحت عدالتوں اور حکومت کو ایک نوٹس جاری کردے کہ کالے قوانین کے خلاف پُر امن احتجاج کرنے والوں پر سے تمام دفعات ہٹالیے جائیں اور پولیس کی گولی سے مرنے والوں کے پسماندگان کو مرکزی یا صوبائی حکومت کی جانب سے ایک معقول رقم ادا کی جائے۔

(4) اگر سپریم کورٹ 144 کی دھارا اور انٹرنیٹ کی معطلی کے خلاف اپنے ہی دیے گئے سابقہ فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے مرکز اور صوبائی حکومتوں پر دباؤ ڈالے چونکہ ان فیصلوں پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔

(5) ملک میں قیام پذیر تمام شاہین باغوں اور پُر امن مظاہروں کے تحفظ کو سپریم کورٹ یقینی بنائے۔

اگر یہ تمام باتیں نمائندگان تسلیم کرلیتے ہیں تو پھر آپ شاہین باغ کے مظاہرے کو موجودہ مقام سے تقریباً آدھا کلو میٹر دور جمنا کنارے کالندی کنج پارک اور اس کے سامنے اوکھلا ہیڈ جانے والی سڑک پر اسے منتقل کرنے پر راضی ہوسکتے ہیں، جہاں آپ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ میں دہلی پولیس اور مرکزی حکومت کو “ایفی ڈیوٹ” پیش کرنا ہوگا۔یاد رکھیے کہ آپ کے لیے احتجاج مقدم ہونا چاہیے نہ کہ کوئی مخصوص سڑک۔ میں اس بات سے بھی باخبر ہوں کہ پولیس کے بیری کیڈ سے کافی دور آپ کا مظاہرہ چل رہا ہے جب کہ آپ ایک جگہ سمٹی ہوئی ہیں لیکن اس بارے میں جذباتی ہونے کی بجائے قانونی طور پر سوچیے۔ شاہین باغ کا مظاہرہ دنیا بھر میں چل رہے مظاہروں کی کلید بن چکا ہے، یہاں کئی حملے بھی ہوچکے ہیں، شرپسندوں کی ابھی بھی اس پر نظر ہے، لہٰذا یہ کوئی عام مظاہرہ نہیں ہے کہ بیری کیڈ صرف مظاہرہ گاہ تک ہی محدود کردیا جائے، اس طرح کے بڑے مظاہروں کی حفاظت کے لیے اس کی حد بندی کی جاتی ہے اور انتظامیہ اپنے فہم و دور اندیشی کی روشنی میں بیری کیڈ لگانے کا فاصلہ طے کرتی ہے ورنہ کل اگر کوئی ناخوشگوار حادثہ پیش آجائے تو اس کا الزام اسی کے سر پر آئے گا۔ دوسری بات یہ کہ شاہین باغ کے اطراف میں جو دکانیں ہیں، وہ گزشتہ دو ماہ سے بند ہیں، آپ کو ان کی روزی روٹی کے بارے میں سوچنا چاہیے چونکہ یہ آپ کے ہی خیر خواہ ہیں اور آپ ہی کے درمیان رہتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر اور آپ کی محبت میں اسے بند کیے ہوئے ہیں لیکن آپ کو بھی اسی محبت سے ان کے اور ان کے بچوں کے لیے سوچنا چاہیے چونکہ زندگی کی رفتار کسی کے لیے سست نہیں پڑنی چاہیے کہ اجتماعی زندگی اپنی جگہ اہم ضرور ہے لیکن نجی زندگی کے بغیر اس کا تصور ہی ممکن نہیں ہے۔

میرے خیال میں فی الحال یہ نکات کافی سے زیادہ ہوں گے، جسے شاید ہی سرکار اور عدالت تسلیم کرے لیکن اس سے اتنا ضرور ہوگا کہ پوری دنیا میں آپ کی ایک اور امیج ابھر کر آئے گی کہ آپ نے ایک معتدل شہری کی حیثیت سے اپنی بات رکھی اور حل کے لیے معقول آپشن بھی پیش کیے لیکن حکومت اور عدالت ہی اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے تو کوئی کیا کرسکتا ہے؟ اس طرح آپ گیند فریق ثانی کے پالے میں بڑی آسانی سے ڈال کر اسے پوری دنیا کے سامنے کٹہرے پر کھڑے کرکے جوابدہ بنا دیں گے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *