• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • میرے متعلق بی بی سی اردو کی کہانی گمراہ کُن اور بغیر میری رضامندی کے شائع ہوئی ہے۔عرفان جونیجو

میرے متعلق بی بی سی اردو کی کہانی گمراہ کُن اور بغیر میری رضامندی کے شائع ہوئی ہے۔عرفان جونیجو

(راشد احمد)اپنی دلچسپ ویڈیوز کی وجہ سے شہرت پانے والے پاکستانی ولاگر عرفان جونیجو نے کچھ دن قبل یوٹیوب پہ ایک ویڈیو اپ لوڈ کی جس میں انہوں نے عارضی طور پہ یوٹیوب چھوڑنے اور مقبولیت و شہرت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پہ بات چیت کی اور وجودی بحران کا تذکرہ کیا اور ولاگنگ کے بعد اپنی اگلی منزل کے حوالہ سے کافی دلچسپ انداز میں بات کی جس میں انہوں نے ایک اور مشہور امریکی ولاگر کے حوالہ سے یہ بات کی کہ اگر ٹارزن ایک ہی شاخ   کو پکڑے رہے اور اسی پہ جھولتا رہے تو وہ اگلی شاخ پہ نہیں جاسکتا۔اگلی شاخ اور نئے درخت پہ جانے کے لیے اس کا پہلی شاخ کو چھوڑنا ضروری ہےعرفان کا اسی تسلسل میں کہنا تھا کہ اب ولاگنگ ان کی دلچسپی نہیں رہی اور وہ اپنی اگلی منزل کا تعین کریں گے اور وہ جو بھی بنائیں گے دل سے بنائیں  گے اور اس میں انہیں بہت خوشی ہوگی ۔

جونہی یہ ویڈیو یوٹیوب پہ اپ لوڈ ہوئی تب سے یہ زیر ِ بحث ہے۔عرفان کے چاہنے والے ان کی واپسی کے لیے بہرحال پُرامید ہیں اور خود عرفان نے بھی اپنی ویڈیو میں اشارے دیئے ہیں اور قبل ازیں بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ شاید فلم میکنگ یا ہدایت کاری وغیرہ کی طرف جائیں۔اسی سلسلہ میں وہ مختلف کمپنیوں کے لیے اشتہارات وغیرہ بھی تخلیق کرتے رہے ہیں جن کو بھرپور مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔

 

اس ویڈیو کےکچھ  دیر بعد عرفان جونیجو سے بی بی سی اردو کی نامہ نگار سارہ عتیق نے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ان کے یوٹیوب چھوڑنے اور ذہنی صحت کے حوالے  سے ایک  سٹوری کر رہی ہیں جس کے لیے وہ ان کی رائے جاننا چاہتی ہیں۔اس پہ عرفان جونیجو کے بقول انہوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ انہیں بتایا کہ میں اس بارے  میں   مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا،جو کہنا تھا وہ میں اپنی ویڈیو میں کہہ چکا ہوں اور میں معذرت خواہ ہوں کہ اس پہ بات کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔اس کے بعد بی بی سی کی رپورٹر نے انہیں دوبارہ میسج کیا کہ انہوں نے ایک اور یوٹیوبر سعدالرحمان عرف ڈکی بھائی سے آپ کی ذہنی صحت کے متعلق بات کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں آپ نے ذاتی مسائل کی وجہ سے یوٹیوب چھوڑا ہے،اس پہ آپ کیا کمنٹ کریں گے؟اس پہ عرفان جونیجو نے کہا کہ میرا کمنٹ یہ ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ بی بی سی جیسے ادارے کے صحافی کسی کی ذہنی صحت کو اپنی ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔اس کے بعد عرفان جونیجو کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر استعمال کرکے خبر شائع کی گئی اور پھر سوشل میڈیا پہ بھی عرفان کی تصاویر استعمال کرکے اس خبر کی تشہیر کی گئی۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد عرفان جونیجو نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پہ اس کے خلاف احتجاج کیا اور رپورٹر سے ہونے  والی گفتگو کے  سکرین شاٹس بھی شیئر کیے کہ کس طرح ان کے منع کرنے کے باوجود بھی ان کے نام پہ کہانی شائع کی گئی۔

عرفان جونیجو کا کہنا تھا کہ بی بی سی نے ان کی اجازت اور مرضی کے بغیر ان کے متعلق رپورٹ شائع کی ہے اور ان کی تصاویر بھی ان کی اجازت کے بغیر استعمال کی گئی ہیں۔ڈکی بھائی کے بیان کے متعلق بھی عرفان کا کہنا تھا کہ ان کا بیان بھی تروڑ مروڑ کر شائع کیا گیا اور ان کی تصاویر اور بیان بھی ان کی اجازت کے بغیر شائع کی گئیں۔عرفان کا کہنا تھا کہ یہ  کس قِسم کی صحافت اور کیسا رویہ ہے؟ان کا مزید کہنا تھا کہ امید ہے کہ نامہ نگار جو ویوز اور کلک حاصل کرنا چاہتی تھیں وہ انہیں مل گئی ہوں گی۔

عرفان جونیجو نے نامہ نگار سے ہونے والی گفتگو کے  سکرین شاٹس بھی اپنے انسٹاگرام اکاونٹ پہ شیئر کی ہیں جہاں وضاحت سے عرفان جونیجو کا موقف ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس کے متعلق انگریزی کا محاورہ TO Milk استعمال کیا ہے ۔

عرفان کی معذرت کرلینے اور کوئی موقف نہ دینے پہ نامہ نگار نے ڈکی بھائی سے رابطہ کیا اور پھر ڈکی بھائی کے موقف پہ عرفان کا کمنٹ لینا چاہا۔عرفان جو پہلے ہی منع کرچکے تھے اس صورت حال پہ یہ کمنٹ کرتے ہیں:

عرفان کا کہنا تھا کہ :
It is very sad to see that bbc journalists want to milk somebody’s mental health for a few clicks
بہت افسوس کی بات ہے کہ کہ بی بی سی کے صحافی کسی کی ذہنی صحت کو اپنی ویب سائٹ وغیرہ کے ویوز بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا تھا کہ ان کی نیت ویوز کی نہیں تھی،انہوں نے عرفان سے تبصرہ کرنے کی درخواست کی تھی،لیکن عرفان نے تبصرہ نہیں کیا۔
عرفان جونیجو کا کہنا ہے کہ انہوں نے نامہ نگار سے کہا تھا کہ میں اس موضوع پہ مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا اور میں نہیں چاہتا کہ میری ذہنی صحت یا میرے یوٹیوب کیریئر کے متعلق مزید کوئی بات ہو۔اس پہ نامہ نگار کا کہنا تھا کہ یہ کہانی آپ کے متعلق نہیں ہے بلکہ عمومی ذہنی صحت کے بارے  میں ہے۔اس کے بعد جب کہانی شائع ہوئی تو وہ زیادہ تر میرے متعلق ہی تھی،میری تصاویر اور میری کہانی کا استعمال کیا گیا،اسی طرح ڈکی بھائی کے علم میں لائے بغیر کہ کوئی مضمون شائع ہونا ہے ان سے موقف لے کر شائع کردیا گیا۔اس طرح ایک ایسی صورت حال پیدا کی گئی جو نامناسب اور خود صحافتی اصولوں کے خلاف ہے۔
بی بی سی کی طرف سے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے سوشل میڈیا پہ مختلف لوگوں کی طرف سے memes بھی بننے شروع ہوگئے ۔عرفان جونیجو نے خود بھی دو میمز شیئر کیں۔

عرفان جونیجو ملک پیک!

’’بی بی سی اردو کا ہیڈکوارٹر۔خالص ہی سب کچھ ہے‘‘!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *