جین کا ظلم ۔ جین (5)۔۔۔وہاراامباکر

ائیولوجسٹ فرٹز لینز نے ایک بار کہا تھا، “نازی ازم اپلائیڈ بائیولوجی تھی”۔ جنوری 1933 میں ایڈولف ہٹلر نے اقتدار سنبھالا تھا۔ نازی نظریے کے مطابق نسلی ہائی جین ٹھیک کرنا ضروری تھا۔ اس کو پیش کرنے والے پلوٹز کا کہنا تھا کہ جس طرح انسانی اپنی ہائی جین کا خیال رکھتا ہے اور پاکیزگی حاصل کرتا ہے۔ ویسے ہی قوموں کو کاٹھ کباڑ اور فاضل لوگ حذف کر کے اپنی ہائی جین کا خیال رکھنا ضروری ہے تا کہ ایک صحتمند اور خالص نسل بن سکے۔ جس طرح جاندار اشیاء اپنے خراب خلیے قربان کر دیتی ہیں، ایک سرجن خراب اعضاء کاٹ پھینکتا ہے تا کہ جسم صحت مند رہ سکے، ویسے ہی یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ عظیم مقصد کی خاطر بے رحمی سے ضرر رساں جین آبادی میں پھیلنے سے روکے۔

امریکہ میں یوجینکس کیمپ کھل چکے تھے۔ جرمن یوجینکس اسی سے متاثر ہو کر ریاستی پروگرام کے تحت ناقص جین آبادی سے ختم کر رہے تھے۔ قیصر ولہلم انسٹی ٹیوٹ نسلی سائنس کا اکیڈمک مرکز تھا۔ نسلی بائیولوجی جرمن یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بن گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :جین کی صدی ۔ جین (4) ۔۔وہاراامباکر

پلوٹز کے خیالات ہٹلر نے جیل میں پڑھے تھے اور ان سے فوراً متاثر ہوئے تھے۔ ہٹلر کا خیال تھا کہ یہ ناقص جین قوم کے لئے سست زہر ہیں اور ایک مضبوط ملک کے بننے میں رکاوٹ ہیں۔ حکومت میں آ کر ہٹلر کو ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا موقع مل گیا۔ حکمران بننے کے پانچ ماہ بعد سٹیریلازیشن کا قانون بن گیا۔ “جو جینیاتی مرض کا شکار ہو گا، اس پر آپریشن کیا جا سکتا ہے”۔ وراثتی بیماریوں کی فہرست بنائی گئی۔ ذہنی کمزوری، شٹزوفرینیا، جذام، ڈیپریشن، اندھا پن، بہرا پن، جسمانی معذوری اس میں آئے۔ ایسے شخص کو عدالت میں پیش کیا جاتا۔ کورٹ سے اجازت ملنے پر اس کو سٹیریلائز کر دیا جاتا۔ خواہ اس کی مرضی ہو یا نہیں۔

اس کی عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے قانونی عملدرآمد کے ساتھ پراپیگنڈا مہم شروع کی گئی۔ سرکاری ادارے کی طرف سے فلمیں بنائی گئیں۔ داس اربے (ترکہ) اور اربکرانک (وراثتی بیماریاں) جیسے مشہور ہونے والی فلمیں سینیما میں چلیں۔ ایک معذور عورت کے ہونے والے معذور بچے کی وجہ سے دونوں کی زندگیاں اجڑ جانے کی غمزدہ اور جذباتی داستان بہت مقبول ہوئی۔ ایک اور فلم اولپیا جس میں ایک جرمن کھلاڑیوں کے پرفیکٹ جسم جو جینیاتی پرفیکشن کا شاہکار ہیں۔ ان کی جسمانی صلاحیتیوں پر ہر کوئی رشک کرتا دکھایا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف نسلی طہارت کی حد رفتہ رفتہ پھیلتی گئی۔ نومبر 1933 میں اس کی زد میں خطرناک مجرم بھی آ گئے۔ ان خطرناک مجرموں میں سیاسی مخالفین، صحافی اور لکھنے والے بھی تھے۔ اکتوبر 1935 کے نورمبرگ قوانین میں جرمن لوگوں کے جین یہودیوں سے ملنے پر پابندی عائد ہو گئی۔ یہودی آریا نسل سے ملاپ نہیں کر سکتے تھے۔ شادی ممنوع قرار دے دی گئی۔ یہودیوں کے گھروں میں جرمن خواتین کا کام کرنا منع قرار پایا۔ 1934 میں ہر ماہ پانچ ہزار لوگ سٹیرئلائز ہو رہے تھے۔ دو سو وراثتی صحت کی عدالتیں فُل ٹائم یہی کیس سن رہی تھیں۔ منظوری ملنے میں کسی تاخیر کا سامنا نہیں تھا۔ کیس اور اپیلیں فٹا فٹ نمٹائی جا رہی تھیں۔

امریکہ میں یوجینکس کے حامی جرمن پروگرام پر رشک کر رہے تھے۔ لاتھراپ سٹوڈورڈ نے لکھا کہ “ہماری ریاست کیوں اتنی کمزور ہے؟ ہمیں جرمن مثال سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ باہمت قومیں ایسی ہوتی ہیں”۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سٹیرئلائزنش سے قتل تک کا سفر چپکے سے ہوا تھا اور پتا بھی نہیں چلا۔ 1935 میں ہٹلر نے اس پروگرام کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ سب سے موثر طریقہ کمزور جین والوں کو ہی ختم کر دینا تھا لیکن اس پر ری ایکشن کیا ہو گا؟ یہ موقع 1939 میں آیا۔ رچرڈ اور لینا کرشمار نے استدعا کی کہ ان کا بچہ گیارہ ماہ کا ہے۔ نابینا ہے اور بازو اور ٹانگیں بھی ٹھیک نہیں۔ اس کو مضبوط جرمن قوم کے جینیاتی پول میں نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی اجازت فوری مل گئی اور پروگرام کو بچوں کو ختم کرنے تک جلد ہی بڑھا دیا گیا۔ ایسے لوگوں کو لبن سن ورٹس لبن کہا گیا یعنی “زندہ رہنے کے لئے ناکارہ”۔ اب خیال یہ تھا کہ نسلی طہارت صرف مستقبل میں ہی کیوں؟ آج ہی کیوں نہیں۔

اس کی ابتدا تین سال سے کم عمر معذور بچوں کو ختم کرنے سے ہوئی۔ ستمبر 1939 تک یہ خاموشی سے مزید پھیل چکا تھا۔ اس سے اگلی باری کم سن مجرموں کی آئی۔ ڈاکٹر انہیں جینیاتی لحاظ سے ناقص قرار دے دیتے۔ کئی بار بہت معمولی جرائم کی سزا بھی موت بن گئی۔ اور پھر یہ بڑوں تک پہنچ گیا۔

ملک بھر میں لوگوں کو ختم کرنے کے مراکز بننے لگے۔ ہاڈامار میں پہلا گیس چیمبر بنا۔ کاربن مونوآکسائیڈ کے ذریعے موت دے دی جاتی۔ سائنس اور میڈیکل ریسرچ کے نام پر یہ کیا جاتا رہا۔ “ان کے جسم کے اعضاء، ٹشو اور دماغ محفوظ کئے جا رہے ہیں تا کہ ان سے ہم سائنس کو آگے بڑھا سکیں”۔ ڈاکٹر ان کی لاشوں پر آپریشن کرنے کی پریکٹس کرتے۔

سٹیرئلائزشن قانون کا نشانہ 1933 سے 1943 کے درمیان چار لاکھ افراد بنے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہودی پن” اور خانہ بدوش ہونا بھی کروموزوم کے ذریعے آگے منتقل ہوتا ہے۔ جرمن سیاسی کلچر میں اختلاف کرنا اور سوال اٹھانا روکا جا چکا تھا۔ جو کہہ دیا گیا، اب اس کو ریسرچ سے ثابت کیا جانا تھا۔ اس کے حق میں سائنسی شواہد لانے کی ذمہ داری قیصر ولہلم انسٹی ٹیوٹ کی تھی۔ اوٹمار وون ورشیور نے تحقیق سے بتایا کہ ہسٹیریا اور پاگل پن یہودیوں کی صفات ہیں اور یہودی خود کشیاں بھی زیادہ کرتے ہیں۔ “موت کا فرشتہ” کے لقب سے مشہور ہونے والے ڈاکٹر جوزف مینگیل کو پی ایچ ڈی دی گئی۔ بڑی ٹریجڈی ابھی آنی تھی۔

ان معذوروں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ کم افسوسناک نہیں تھا لیکن یہ آنے والے وقت کے آگے ماند پڑ گیا۔ چھ ملین یہودی، دو لاکھ خانہ بدوش، کئی ملین روسی اور پولش، بہت سے سیاسی مخالف، آرٹسٹ، لکھاری، اختلاف کی جرات کرنے والے اس نسلی صفائی کے عمل میں مارے گئے۔

جینوسائیڈ کا لفظ جین سے نکلا ہے۔ جین اور جینیات کے نام پر سے نازیوں نے اپنا ایجنڈا شروع کیا تھا، اس کو برقرار رکھا تھا اور جواز بنایا تھا۔ بڑی خاموشی سے یہ جینیاتی تعصب نسلی قتل و غارت مین بدل گیا تھا۔ ذہنی معذوروں کو انسانیت کے رتبے سے گرا دینا پہلا قدم تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس طرح نازی وراثت کی زبان کو اپنے ایجنڈے کے لئے توڑ مروڑ رہے تھے، ویسا ہی کام ایک اور طاقتور یورپی ریاست کر رہی تھی۔ وراثت اور جینز کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لئے بالکل مخالف سمت میں مروڑنے والی یہ ریاست سوویت یونین تھی۔ بائیں بازو کے سائنسدان اور انٹلکچوئل 1930 کی دہائی میں تجویز پیش کر رہے تھے کہ وراثت بے معنی چیز ہے۔ ہر چیز کو ڈھالا جا سکتا ہے۔ ہر شخص بدلا جا سکتا ہے۔ جینز بورژوا طبقے کا دیا گیا سراب ہے تا کہ انفرادی فرق نمایاں کئے جا سکیں۔ ریاست کا کام ہر ایک کو برابر کر دینا ہے اور شناخت مٹا دینا ہے۔ جس چیز کی صفائی کی ضرورت ہے، وہ جین نہیں، دماغ ہیں۔

جس طرح نازی کر رہے تھے، وہی طریقہ سوویت کا تھا۔ یعنی غیرمعیاری سائنس۔ 1928 میں لایسینکو نے خود کو اور اپنے سوویت افسران کو قائل کر لیا تھا کہ فصلوں کو بھی خاصیتیں سکھائی جا سکتی ہیں۔ “جینیات پرستوں نے جین کا تصور گھڑا ہے تا کہ لڑکھڑاتی ہوئی اور قریب المرگ بورژوا سائنس کو سہارا دیا جا سکے۔ یہ سب فراڈ ہے”۔

لائسنکو کی تھیوری سوویت سیاسی ایجنڈا سے مطابقت رکھتی تھی۔ چاول اور گندم کی شاک تھراپی کے ذریعے تربیت کی جا سکتی ہے تو سوویت عوام کی بھی کی جا سکتی ہے اور سیاسی مخالفین کو بھی شاک تھراپی سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

نازی اور سوویت ایک دوسرے کے بالکل مخالف سمت میں تھے۔ نازی نظریے کے مطابق جین قسمت تھی۔ ایک خانہ بدوش ایک خانہ بدوش ہی ہے۔ سوویت کے مطابق سب کچھ پروگرام ہو سکتا ہے۔ ہر شناخت مٹائی جا سکتی ہے اور شخصیت بدلی جا سکتی ہے۔ “ہر کوئی کچھ بھی بن سکتا ہے”۔

ڈارون اور مینڈیل سوویت یونین میں ممنوع قرار پائے۔ لائسنکو کی مخالفت کرنے والے سوویت سائنسدانوں کو قید خانوں میں بھیج دیا گیا۔ عظیم سوویت ماہرِ جینیات نکولائی واویلوف کو بدنامِ زمانہ ساراٹوف جیل میں پھینک دیا گیا۔ ان پر بائیولوجی میں بورژوا نظریات پھیلانے کا الزام لگا۔ ان کا انتقال وہیں پر ہوا۔

نازی ازم اور لائسنکوازم کی بنیاد حیاتیاتی وراثت کے قوانین پر تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے 180 درجے کی مخالفت پر تھی۔ دونوں میں انسانی شناخت کو اپنی مرضی کے سیاسی ایجنڈا میں شامل کیا گیا تھا۔ جین اور وراثت کا تعلق ریاست اور ترقی سے بتایا گیا تھا۔ سب کچھ وراثت ہے، نازی ازم کا مرکزی خیال تھا۔ سب کچھ متایا جا سکتا ہے، سوویت ریاست کا مرکزی خیال تھا۔ ریاستی جبر کے نظاموں کو اپنی مرضی کی سائنس سے سہارا دیا گیا۔ بیسویں صدی کے وسط میں جین ۔۔۔ یا اس کا انکار ۔۔۔۔ اہم سیاسی اور کلچرل آلہ تھا۔ یہ تاریخ کا خطرناک ترین خیال تھا۔ بیسویں صدی کے سب سے بڑے قتلِ عام اس باعث ہوئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نازی ازم کا سب سے بدنامِ زمانہ کیمپ آشوٹز میں دس لاکھ یہودیوں، پولش، جپسی اور سیاسی قیدیوں کو مارا گیا۔ 27 جنوری 1945 کو سوویت ریڈ آرمی یہاں تک پہنچ چکی تھی۔ سات ہزار قیدی رہا کروائے جا سکے۔ یہاں پر مارے جانے والے اور دفن ہونے والوں کے مقابلے میں بہت قلیل تعداد زندہ بچی۔ اس وقت تک یوجینکس ایک قابلِ نفرت لفظ بن چکا تھا۔ نازی جینیات انسانیت پر ایک گہرے زخم کا نشان تھی۔ نازیوں کی سائنس میں آخری شرکت یوجینکس کو شرم کی علامت بنا دینا تھا۔ ان کا پروگرام دنیا بھر کے لئے اور آنے والے وقتوں کیلئے سبق آموز تھا۔ امریکہ میں یوجینکس کا خاتمہ 1939 سے ہو گیا اور 1945 میں اس کے پرجوش سپورٹر بھی جیسے اپنی یادداشت کا یہ حصہ کھو چکے تھے۔ یوجینکس کا آغاز ایک شاندار مستقبل کے خواب سے ہوا تھا۔ اس کا اختتام تاریخِ انسانی کے خوفناک ترین باب کا خاتمہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن یہ جین کیا ہے؟ خالی ایک تصور ہے یا کوئی شے؟ اس کی سب سے پہلی جھلک برطانوی سائنسدان نے دیکھی تھی جو فلو کا علاج ڈھونڈ رہے تھے۔
(جاری ہے)

ساتھ لگی تصویر لائسنکو کی۔ اس میں یہ گندم کو “تربیت” دے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *