یوسفی صاحب سے لغات سے متعلق کچھ باتیں۔۔حافظ صفوان محمد

یوسفی صاحب قبلہ سے کوئی بیس سال کے قریب تعلق رہا۔ میرے پاس سے بعض ضروری چیزیں گم ہوگئی ہیں اور اب امکان بھی نہیں کہ مل سکیں اس لیے یوسفی صاحب کی نادر چیزیں بھی کھیت رہیں۔ ان “نوادر” میں ان سے فون پر کی گئی باتوں کے نوٹس بھی ہیں جو اب صرف مٹی مٹی یادوں کی صورت میں باقی ہیں۔

لغات کے بارے میں یوسفی صاحب کہتے تھے کہ سب سے اچھا لغت علمی اردو لغت ہے اور جامع اللغات۔ ان کو علمی اردو لغت کے بعض اندراجات کے صفحہ نمبر بھی یاد تھے حتیٰ کہ پروف کی بعض اغلاط بھی۔ مثلًا ایک بار خبر چلی کہ لوگ دیار کی لکڑی کو بالن کے طور پر جلا رہے ہیں۔ مجھے فون کیا اور دیار کی لکڑی پر باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ علمی اردو لغت میں یہ اندراج فلاں صفحے پر ہے لیکن اس کے ہجے “دیار” نہیں ہیں۔ میں نے دریافت کیا تو فرمایا کہ میاں، صفحہ نمبر بتا دیا ہے۔ آگے خود تلاش کیجیے۔

https://web.facebook.com/hafizsafwan/videos/10158192899708023/

https://web.facebook.com/hafizsafwan/videos/10158192898728023/

آج “شامِ شعریاراں” کے مطالعے کے بعد یوسفی صاحب کو 4 اکتوبر 2014 کو لکھا ایک خط ملا جس کا متن اور پکچر پیشِ خدمت ہے۔ مجھے یہ کتاب یارِ طرحدار رانا اظہر کمال صاحب نے بھیجی تھی اور اس کے بعد خانِ اعظم سلمان سعد خان نے۔ لیجیے کچھ پڑھ لیجیے۔

محترم و مکرم انکل مشتاق احمد یوسفی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ

اللہ کی ذات سے امید کرتا ہوں کہ آپ بخیریت ہوں گے۔

’’شامِ شعریاراں‘‘ مکمل ہوئی۔ ’’شامِ شعریاراں‘‘ خیالات اور حقائق کا ایک سمندر ہے جس کی تہہ میں وہ آبدار موتی ہیں جو اردو کے بے مثال لفظ خزانے سے لیے گئے ہیں۔ سعادت مند ہے وہ جس پر زبانِ اردو نے اپنے لفظ خزانے کو کھولا، اور سعید ہے وہ جو اِسے استعمال کرکے اپنی آخرت بھی بنالے اور دنیا بھی۔

صفحہ 23 پر آپ نے پلیٹس سے ’’دِرِڑھ‘‘ اور ’’دِرِڑھتا‘‘ کے کچھ معنی بزبانِ انگریزی دیے ہیں جن میں کے کچھ کو آپ نے آئندہ صفحات میں قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ کے لیے برتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ یہ لفظ دور دور تک نظر آنے والی معلوم تاریخ میں صرف اور صرف قائدِ اعظم کے لیے موزوں ہیں۔ یہ مضمون لکھ کر آپ نے قلم توڑ دیا ہے۔ میں یہ مضمون پڑھ کر ہُک ہُک رویا ہوں۔ یہ مضمون پڑھ کر بھی اگر کوئی آپ کو مزاح نگار کہتا ہے تو نرا کور ذوق ہے۔ آپ وہ ظالم لکھاری ہیں جو مرثیے کو بھی شگفتہ لفظوں میں کہنے کا ملکہ رکھتا ہے اور منہ پر بے درنگ سنا دیتا ہے۔

آمدم بر سرِ مطلب۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرا تیار کردہ اردو-اردو لغت بالکل مکمل ہونے والا ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ’’دِرِڑھ‘‘ کو اپنے لغت میں بطور سرلفظ داخل کرکے آپ کے متذکرۂ بالا پیرا گراف میں موجود الفاظ کو اُن کے مناسب مترادفات سمیت ترجمہ کروں۔ یہ اندراج مع ذیلی اندراجات منسلک ہے۔ عرض پرداز ہوں کہ اِس پر قلم لگا دیجیے۔ یہ بھی عرض ہے کہ ایک مثالی جملہ بھی حضرت قائدِ اعظم کے لیے گھڑ دیجیے۔ یہ کام آپ ہی کو سزا وار ہے۔

اور آخری عرض یہ ہے کہ اِس خط کا جواب دیجیے اور یہ قلم لگا کاغذ مجھے بھیج دیجیے۔ وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کے خط کا اشتہار نہیں لگائوں گا۔

مزید کوئی امر لائقِ تذکرہ نہیں۔
والسلام
محتاجِ دعا
بندہ حافظ صفوان محمد

درڑھ سک د، کس ر۔ صف۔
مضبوط، سخت، ٹھوس، درشت، خِلقی خوبیوں اور ذاتی صلاحیتوں کی وجہ سے نہ کہ کسی بیرونی عامل کی وجہ سے طاقتور، پر اثر، کسی منصب کے بغیر ذی اثر، استوار، مضبوطی سے گڑا یا مضبوط بنیاد والا، سیسہ پلائی ہوئی بنیاد والا، بنیانِ مرصوص والا؛ زاہدانہ زندگی گزارنے والا، درویش، جسے لالچ دینا یا خریدنا ممکن نہ ہو، جو لالچی نہ ہو، جو بِک نہ جاتا ہو، صاحبِ کردار، سخت کوش؛ راسخ یا واثق عقیدے والا، راسخ العقیدہ، مذہب و اخلاقیات کے صحیح تسلیم شدہ عقائد کو ماننے اور اُن پر عمل کرنے والا، بدعات اور لگاوٹوں سے دور، روایت پسند؛ قوی اعصاب کا مالک جو آسانی سے خوف زدہ یا برہم یا برانگیختہ نہ ہوتا ہو، فولادی اعصاب والا، حاوی، مضبوط جمعیت والا، یکدل ہونے کی بنا پر نمایاں کارکردگی کی اہلیت کا حامل؛ مضبوط تن و توش کا، تنو مند، نکلتے قد والا، طویل قامت، سرو قد؛ بارعب شخصیت کا حامل، جس کے چہرے سے رعب اور عزم و اعتماد جھلکتا ہو، استقامت کی تصویر، مجسم استقامت، بااعتماد سپاٹ چہرے والا، جس کے چہرے مہرے اور وضع قطع سے نفاست جھلکتی ہو، نفیس، مجسم نفاست، خوش خصال، باوقار؛ ہیرا صفت، ہیرا آدمی؛ میدانِ جنگ میں اور دفاع میں مضبوط، میدانِ عمل میں جوش و خروش سے ڈٹا رہنے والا، دبنگ، اپنے دلائل منوا لینے والا؛ ہیرو، نمونۂ خوبی، سورما، ساونت، جس کی محبت عام ہو، محبوب، بے حد مقبول، سربر آوردہ، مرد، رجلِ رشید، خاص مرکزی مردانہ کردار (کسی کہانی، نظم یا کسی شعبۂ زندگی کا)، مثالی آدمی یا کردار، مافوق الفطرت خصوصیات کا حامل، دیو مالائی کردار، دیوتا، سحر انگیز شخصیت، غیر معمولی طور پر جرات مند، جری، جی دار، جیالا؛ ملکی و سماجی قوانین کا پابند، ذاتی اور سماجی زندگی میں شائستہ اصولوں، رکھ رکھائو، نظم و ضبط اور سخت نظام العمل پر کاربند؛ مدد گار، طرفدار، مستقل مزاج ساتھی، وفا دار، وفا کیش، وفا شعار، عقیدت کیش، مخلص، معتبر، معتمَد، بھروسے کا/ کی، صحیح، درست؛ والہ و شیدا، گرویدہ؛ دھن کا پکا، غیر مذبذب، سرگرم، پرجوش؛ دماغی لحاظ سے توانا و مضبوط، سوچ و فکر کی غیر متزلزل صلاحیت والا، مضبوط قوتِ ارادی والا، رائے پر مستحکم، سلیم الفکر، جس کی فکر کے سانچے میں نقب لگانا ممکن نہ ہو، جس کی فکر آلودگی کا شکار نہ ہو، جس کی رائے ڈانوا ڈول نہ ہوتی ہو، جو دو دِلے پن یا دو رائیت کا شکار نہ ہوتا ہو، خوش فکر؛ عہد پورا کرنے والا، صادق الوعید، صادق، قول کا پکا، زبان سے نہ پھرنے والا، صادق القول؛ اپنی بنیاد کو مضبوط رکھنے والا یا اپنی بنیاد پر مضبوطی سے قائم، پکے پیروں پر، اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والا؛ پکڑنا، (بات یا رائے پر) زور دینا/ اصرار کرنا، موقف یا مطالبے پر ڈٹا رہنا؛ سچا دوست، دوستی نباہنے والا، پائیدار دوستی رکھنے والا؛ مستحکم، مستقل، محکم؛ مصمم، پکا، پختہ، مقرر، ثابت قدم رہنے والا، فیصلے پر جم جانے والا، کسی کام میں دلجمعی سے لگا رہنے والا، کسی کام میں مدتِ دراز سے جٹا رہنے والا، اصل مہیج کے ہٹ جانے کے بعد بھی ردِ عمل جاری رکھنے والا، جس کے پائے استقلال میں لرزش یا لغزش نہ آئے، ہائو ہوٗ پر کان دھر کے منزل کھوٹی نہ کرنے والا، راہِ راست پر یا ایک ہی سمت میں چلنے پر مائل، صراطِ مستقیم کا راہی، کجروی سے محفوظ، راستہ چھوڑ کر اِدھر اُدھر نہ بھٹکنے والا، وہ جو بچلنے، بھٹکنے اور بہکنے سے محفوظ ہو، وہ جو الٹے پائوں نہ پھر جاتا ہو، وہ جو گھڑی گھڑی حکمتِ عملی کو یکسر تبدیل نہ کرتا ہو؛ عالی ہمت، بلند نظر، خوب سوچ بچار کرکے جچا تلا فیصلہ کرنے والا، جس کا فیصلہ اٹل ہو، جو حالات سے متاثر ہوکر یا دبائو قبول کرکے جھک نہ جاتا ہو، سہی قامت؛ قطعیت کے ساتھ بات کرنے والا، جسے اپنی بات اور موقف کے سچا ہونے پر کامل یقین ہو، اپنی بات کو برملا اور بے محابا کہنے کی جرات رکھنے والا، جس کے لہجے میں جلالی تیقن اور گھن گرج ہو، گرجدار آواز والا، بے خوف اور بے درنگ بولنے والا؛ صاحبِ عزیمت، اولوالعزم، بلند عزائم والا، فیصلہ کن اور آہنی عزم والا، غیر متزلزل عزم رکھنے والا، عزمِ صمیم کا حامل، جو ڈھلمل نہ ہو؛ واضح اور معین ہدف رکھنے والا، طے کردہ ہدف سے نگاہ نہ پھیرنے والا؛ یقینی، جس کی خوبیوں کی زمانے اور طویل تجربے نے تصدیق کر دی ہو، جس چیز یا شخص کے بیان یا خوبی یا عقیدے وغیرہ کی توثیق و تصدیق یا تائید عدالتی شہادتوں سے ہوتی ہو، مصدقہ، بے یقینی یا ابہام سے مبرا، غیر مبہم، شک و شبہ سے بالا۔ نیز اکیف درڑھتا/ درڑھتائی۔ [س]

درِڑھ آچاری عقیدے کا بہت پکا، راسخ العقیدہ، بہت مخلص عقیدت مند۔
درِڑھ/ درِڑھا بھکتی وفا شعاری؛ وفا شعار اور نہایت شیدائی محبوبہ یا بیوی۔
درِڑھ پھل سخت چھال والا پھل جیسے اخروٹ۔
درِڑھ رہنا بنیاد پر قائم رہنا، استوار رہنا۔
درِڑھ مشتی ہتھیلی کو سختی سے بند کیے ہونے کی کیفیت، مراد مضبوط گھونسہ؛ خرچ میں بہت محتاط ہونا، جز رسی، کنجوسی؛ ندیدہ پن، لالچی پن۔
درِڑھ نِشچے عزمِ مصمم، اٹل فیصلہ؛ انتہائی اعتماد، کامل بھروسہ۔
درِڑھانا مضبوطی لانا، (کسی چیز میں) قوت پیدا کرنا؛ ثابت کرنا، تصدیق کرنا۔
۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *