• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط8/پروفیسر حکیم سید صابر علی

استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط8/پروفیسر حکیم سید صابر علی

پرنس آئی لینڈ کی سیاحت
ہوٹل میں قیام کے تیسرے روز پورا گروپ گائیڈ enderکی قیادت میں پرنس آئی لینڈ کے لیے روانہ ہوا،ایک گھنٹہ ڈرائیو کے بعد ہم لانچ تک پہنچے،موسم ابرآلود ہونے کی وجہ سے قدرے سرد تھا،راستے میں قدیم عماراتاور طویل،بلندو بالا پتھروں کی دیواریں دیکھیں،جو بعض جگہ سے منہدم ہوچکی تھیں،اور بعض جگہ اُسی طرح موجود تھی،گائیڈ نے بتایا کہ بازطینی دور میں استنبول کو محفوظ رکھنے کے لیے شہر کے گردا گرد یہ دیوار تعمیر کی گئی تھی۔
گائیڈ نے بتایا کہ ہماری لانچ اُسی راستے سے گزرے گی،جہاں دوسمندروں dead seaکا پانی باہم ملتا ہے۔روایتی طور پر پانیوں کا رنگ مختلف نظر آتا ہے۔دو تین میل گزرنے کے بعد بتایا گیا کہ سمندر کاوہ ناکہ ہے جسے آبنائے فاسفورس کہتے ہیں،جہاں سے پہلی جنگ عظیم نیترک بادشاہ نے برطانیہ کو جنگی جہاز گزارنے کی اجازت نہ دی،ترکی نے جرمن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا،جب برطانیہ نے جنگ جیتی تو خلافت کا خاتمہ رنے،ترکی کے حصے بخرے کرنے،ترکی پر اعلان باالنور مسلط کردیا،کمال اتاترک کی قیادت میں حکمران طبقے نے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کرکے سیکولر ریاست کے قیام کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں :استنبول!تجھے بُھلا نہ سکوں گا(سفرنامہ)۔۔۔قسط7/پروفیسر حکیم سید صابر علی

ہم فیری کے اوپر کھلی فضا میں سمندر کا نظارہ کررہے تھے،کہ ٹھنڈی اور تیز ہوا نے ہمیں مجبور کردیا کہ نیچے پُرسکون کیبن میں چلے جائیں۔فیری کی کھڑکیوں سے اتنبول کی عمدہ تعمیرات دیگر شہروں کی شاندار عمارات،کارخانے یوں نظر آتا تھا کہ پیچھے کی طرف دوڑرہے ہیں۔بائیں طرف کھلا سمندر اور اس کی تیز لہریں نظر آئیں۔ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد جزیروں کا سلسلہ شروع ہواکھڑکیوں میں سے درخت،سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں،اورعمارات نظر آئیں،آٹھ جزیروں میں سب سے بڑا جزیرہ ہمیں دکھانے کے لیے لیجایا جارہا تھا۔

جب ہمارا پورا گروپ لانچ سے اُترا تو گائیڈ کی رہنمائی میں بارونق بازار سے گزرے،نماز ظہر کا وقت تھا،ایک ہوٹل سے دریافت کیا تو اُس نے اشارے سے بتایا کہ فلاں دکان کے سامنے سیڑھیاں اوپر جاتی ہیں،نماز اور وضو کا بندوبست ہے،الحمدللہ کہ ہم تینوں دوستوں نے عمداً ظہرین ادا کی،تاکہ ہر پہلو سے اطمینان ہوا کہ سفر میں نماز ضائع نہیں گئی۔بارونق بازار سے گزر کرٹاور سکوئیر تک گئے،جہاں سے بازار گزر کر ہم house and cart(تانگہ گھوڑا) جہاں چھوٹے pany houseتانگوں میں جُتے ہوئے تھے۔

گائیڈ نے پورے گروپ کا کرایہ خود ادا کیا،ہم چارافراد اس تانگے میں سوار ہوئے۔دوگھوڑے ہر تانگے کو کھینچتے تھے،گھوڑے تانگے نے بیس منٹ اس جزیریے کی اہم سڑکوں پر شہر کا چکر لگوایا،ایک جگہ پہنچ کر ہر گھوڑے کو روکا گیا،تاکہ سیاح اپنی مرضی سے فوٹو لے سکیں،اور کسی کو پریشانی نہ ہو،یہ شہر زیادت کی طرح کا خوبصورت علاقہ ہے،مری کی طرح موسم گرما میں لوگو ں کی سیاحت کا مرکز ہے،بلند و بالا چیڑ کی طرح سر سبز درخت ہیں۔

ہمیں بتایا گیا کہ اس جزیرے کی مجموعی آبادی بمشکل دس ہزار ہے،جو سردی کے موسم میں گرم علاقوں میں منتقل ہوجاتے ہیں،اکثر مکان بند اور ہوٹل ٹھہرے محسوس ہوئے،جب موسم گرما آتا ہے تو اس شہر کی آبادی لاکھوں سے تجاوز کرجاتی ہے،رہائش کے لیے جگہ نہیں ملتی۔

اسی اثناء میں دوپہر کے کھانے کا بندوبست ایک ریسٹورنٹ میں کیا گیا،اس کے شیشوں سے سمندر کا دلکش منظر اور اٹھتی لہریں لہروں کے ٹکرانے سے جھاگ کا بننا اور تحلیل ہونا خوب لگا۔شیشوں سے پار درجنوں سمندری بگلے آکر باہر بیٹھے یوں محسوس ہوتا کہ یہ بھوکے ہیں اور خوراک کے متلاشی ہیں۔کھانے میں مچھلی اور چکن لایا گیا۔چھوٹے سائز کی مچھلی جلد،سر،آنکھوں،دُم کے ساتھ جو grill پر بھونی گئی تھی۔ساتھ ہی آلو بینگن انڈے کا سالن،پالک کی ڈش،اور دیگر پکوان پھیکے تھے۔اس طرح کی مچھلی سعودی عرب میں بھی ایک دعوت میں پیش کی گئی،یہی کہہ سکتا ہوں کہ مچھلی “زہنہار”کی!
تقریباً اڑھائی بجے واپسی ہوئی،موسم مزید سرد اور ہوا مزید تیز تھی،گرم ٹوپی،مفلر،جرسی کا سہارا لیا۔سبھی مسافر چھت کی بجائے کیبن میں بیٹھ گئے۔
جاری ہے

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *