محکمہ ریلوے کی زبوں حالی۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

SHOPPING

پاکستان کا محکمہ ریلوے بجائے فائدے کے ایک بوجھ بن چکا ہے جو   کسی المیے  سے کم نہیں۔ ریلوے کے مسائل کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران بہت سے مواقع پر چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار  کیا ۔ انھوں نے وزیر ریلوے سے استفسار کیا کہ ٹرین میں آگ لگنے کے معاملے پر آپ نے کیا کارروائی کی۔ اس واقعہ کے بعد آپ کو تو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس کے 29 ذمہ داران کو نکال دیا گیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے ملازمین کو تو نکال دیا، بڑوں کی باری کب آئے گی۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ بڑوں کی باری بھی آئے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ایک سینئر اور تجربہ کار وزیر تھے، لیکن آپ کا ادارہ سب سے نااہل ہے اس کو تو درست کر دیں۔ یہ بابو بیٹھ کر صرف کرسیاں گرم کرتے ہیں۔ ان کی بجائے پروفیشنل لوگ لے کر آئیں۔ آپ کی وزارت سب سے ٹھیک چلنی چاہیے۔ دنیا میں ہمارے انجینئر ٹرینیں چلا رہے ہیں لیکن ہمارے ریلوے کا یہ حال ہے۔ عدالت نے ریلوے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش اداہ بنانے کیلئے بزنس پلان طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی۔

ریلوے کی حالت ِ زار پر عدالت عظمیٰ کا ازخود نوٹس بلاشبہ ایک احسن اقدام ہے۔ ہمارا محکمہ ریلوے جو کسی وقت میں ایک بہترین ریلوے نظام ہوا کرتا تھا آج تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس کا اندازہ اس مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج ہماری ریلوے کی آمدن پچاس پیسے ہے جبکہ خرچ ایک روپے سے بھی  زیادہ ہے۔ گزشتہ برس پارلیمنٹ میں بتایا گیا کہ ریلوے خسارہ 28 ارب کے لگ بھگ ہے۔ یہ پہاڑ جیسا خسارہ ایک لمبے عرصے پر محیط دیگر نااہلیوں کیساتھ ساتھ اس امر کی عکاسی بھی کرتا ہے کہ دراصل ریلوے کا انٹرنل آڈٹ کا سسٹم ہی درست نہیں ہے جس کے تشکیل نو کی ازحد ضرورت ہے۔ ہماری یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہمیں جس طرح کا بہترین ریلوے کا نظام ملا ہم نے اسے مزید بہتر کرنے کے بجائے اس کا بیڑا غرق کر دیا۔ انگریز جو بہترین ریلوے سسٹم ہمارے لیے چھوڑ کر گئے ہم نے اسے مزید بہتر بنانے کے بجائے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ ریلوے ہمارے لیے ایک تاریخی ورثہ سے کم نہیں رہا۔ دوسرے ممالک نے اپنے ریلوے کو بہترین بنا لیا لیکن ہم نے اس کو پہلے سے بھی بدتر کر دیا۔

اگر ہم اپنے ہمسایہ ملک ایران کو دیکھیں تو انھوں نے 2025 تک اپنے ریلوے ٹریک کو دس ہزار کلو میٹر مزید توسیع دینے کا پلان بنایا، جس پر بہت تیزی سے عملدرآمد بھی جاری ہے، اور غالب امکان ہے کہ وہ بآسانی اپنا مطلوبہ ہدف حاصل کر لیں گے۔ دنیا بھر میں بہت تیزی سے زیرِ زمین ریلوے ٹریک بچھانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں پہلے سے موجود ریلوے ٹریک بڑھنے کی بجائے کئی دہائیوں کی عدم توجہی کے باعث مسلسل ناکارہ ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا بلٹ ٹرینز چلا رہی ہے لیکن ہمارے ہاں بہت مشکل بلکہ مستقبل قریب میں تو کم از کم ناممکن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ پرانا ہونے کی وجہ سے کئی جگہوں سے ریلوے ٹریک ہی بہت کمزور ہیں ، جس کو ریپئر تو کر دیا جاتا ہے لیکن اس پر اب بہترین اور تیز رفتار ٹرین چلانا ہی ناممکن بنتا جا رہا ہے۔

آج ریلوے کی حالت ِ زار دیکھیں تو رونا آتا ہے۔ بجائے ترقی کرنے کے یہ محکمہ روز بروز تنزلی کا شکار ہے۔ حادثات میں بھی بہت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران بیسیوں حادثات ہو چکے ہیں۔ بہت سی جگہوں پر ریلوے پھاٹک ہی موجود نہیں ہے اور حادثات کی سب سے بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ ریلوے خسارہ ہے کہ جس کے خاتمے کی کوئی صورت ہی دکھائی نہیں دیتی۔

کافی عرصہ پہلے ریلوے اچھا خاصا منافع بخش ادارہ تھا۔ ایک وقت تھا کہ پاکستان میں ٹرین کے ذریعے سواری بڑے فخر اور بڑی شان سے کی جاتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے آج حال یہ ہے کہ لوگ اس کو بدترین سواری سمجھتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ ٹرین آنے کی ٹائمنگ بہت زبردست تھیں اور آج اکثر ٹرینیں تو ویسے ہی بند کر دی گئی ہیں۔ میں اپنے آبائی علاقے کی بات کروں تو آج سے بیس سال قبل ہمارے اسٹیشن پر تین ٹرینیں رُکا کرتی تھیں لیکن آج بجائے ٹرینوں کی تعداد بڑھنے کے صرف ایک ٹرین رہ گئی ہے۔ پورے پاکستان میں یہی حال ہے۔

SHOPPING

یہ ایک المیہ نہیں تو اور کیا ہے؟ لوگ ٹرینوں کا ٹریک ہی اکھاڑ لے گئے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ شیخ صاحب ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ وہ پانچ سال کے اندر ریلوے خسارہ ختم کر دیں گے۔ یہ کس طرح کریں گے اس کا آج تک معلوم نہیں ہو سکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ رشید ایک جہاں دیدہ زیرک  وزیر ہیں ،اب انھیں واقعی اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ریلوے نظام میں بیشمار اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کے فرسودہ اور پرانے نظام کو ختم کرکے محکمے کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا جس کیلئے ترقی یافتہ ممالک کے ریلوے نظام سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس سے قبل بھی ریلوے کے وزیر رہ چکے ہیں۔ یہ وزارت ان کیلئے نئی نہیں ہے۔ انھیں ریلوے کا بخوبی علم ہے۔ اب انھیں اپنی وزارت پر مکمل طور پر فوکس کرنا ہو گا اور مشکل فیصلے لے کر ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ محکمہ ریلوے کو خسارے سے نکال کر ایک بہترین اور منافع بخش ادارہ بنایا جا سکے۔

SHOPPING

چوہدری عامر عباس
چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *