ترکش وفد کے ہمراہ وادی ء مہران کا دورہ۔۔۔(قسط2)محمد احمد

ناشتے سے فراغت کے بعد یہ وفد صاحبِ اعلاء السُنَن حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ کے شاگردِ رشید حضرت مولانا مفتی عبدالحی الحسنی السندی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات اور اجازت حدیث لینے ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ حضرت سے ملاقات کا وقت پہلے سے طے شدہ تھا، ان کے فرزند ارجمند حضرت مولانا بنیامین نے ہمارا استقبال کیا اور حضرت کے گھر لے گئے، کچھ ہی دیر میں حضرت مولانا شیخ عبدالحی صاحب دامت برکاتہم العالیہ تشریف لائے اور مختصر حال  احوال کے بعد حضرت مولانا عبدالباقی ادریس السندی صاحب نے کچھ احادیث کی عبارت پڑھنی شروع کی، ہم شرکاء مجلس کے علاوہ ایک عالمِ دین ترکی سے بذریعہ موبائل بھی شریکِ سماعت تھا۔ اس کے بعد حضرت نے شرکاءِ مجلس کو اجازت حدیث سے نوازا اور سب کو حدیث کی سند عطا فرمائی، اس کے بعد مہمانوں کا اکرام کیا گیا۔
اس دوران ہم نے یہ موقع غنیمت جان کر حضرت شیخ کو رابطہ علماء السند کا تعارف کرایا جس پر حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ نے نیک خواہشات کا اظہار فرمایا اور ہم نے مختصر حالات اور تعارف جاننے کی بھی گزارش کی۔۔

یہ بھی پڑھیں:ترکش وفد کے ہمراہ وادی ء مہران کا دورہ۔۔۔(قسط1)محمد احمد
اپنا ابتدائی تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ ہمارا خاندان بلوچستان ضلع نوشکی سے ہجرت کرکے ضلع نواب شاہ آیا تھا، میں نے ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم ٹنڈو الہیار تشریف لے گئے، دورہ حدیث بھی یہیں سے 1967 میں کیا اس کے بعد درس وتدريس کا آغاز نواب شاه سے کیا۔ دریا خان مری میں پڑھا چکے ہیں، اب مستقل کئی سالوں سے ٹنڈو آدم کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ مدینۃ العلوم میں شیخ الحدیث کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ بنین وبنات دونوں میں حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ بخاری شریف کا درس دیتے ہیں۔ دورہ حدیث میں طلبہ کا نتیجہ قابل تعریف ہے۔ وفاق المدارس العربیہ کے امتحانات میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں۔ دورہ حدیث میں طلبہ کی تعداد ہر سال بیس سے اوپر ہوتی ہے۔ حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے الیکشن بھی لڑچکے ہیں۔ اولاد ماشاء اللہ نیک صالح ہے۔ شاگردوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں کافی نامور علماء کرام بھی شامل ہیں۔

طلبہ کی استعداد دن بدن کیوں کمزور ہوتی جارہی ہے؟ اس سوال کے جواب میں  انہو ں نے فرمایا کہ موجودہ نصاب اور وفاق المدارس العربیہ اس کا ذمہ دار ہے۔حضرت شیخ دامت برکاتہم العالیہ سے تقریباً گھنٹے سے زائد ملاقات رہی بہت ہی خوش اخلاق اور سادہ مزاج کے حامل تھے۔ ضعف، پیرانہ سالی اور علالت کے باوجود کافی دیر تک بیٹھے رہے، اور ہم طالب علموں کی تشنگی اور پیاس بجھاتے رہے، اور ساتھ میں کلمات خیر اور ناصحانہ باتیں بھی ارشاد فرماتے رہے۔ ان نصیحتوں اور ارشادات میں ہمارے لیے بڑا سامان تھا۔

حضرت ظریفانہ مزاج کے مالک بھی تھے، کافی لطائف سنا کر مجلس کو کشت زعفران بناتے رہے، جب ہم نے اجازت مانگی تو کہا: اتنی  جلدی؟ تو ہم نے کہا کہ حضرت! سفر طویل ہے اور وقت کم ہے۔
اس کے بعد ڈھیر ساری دعاؤں  کے ساتھ رخصت کیا۔

حضرت کے تقویٰ و پرہیزگاری کا یہ عالم ہے کہ ولی کامل پیر طریقت حضرت مولانا محمد حسن عباسی رحمہ اللہ (شاہ پور چاکر والے) نے وصیت فرمائی تھی کہ میری نماز جنازہ عبد الحی پڑھائے گا۔ حسبِ وصیت آپ کی نمازِ جنازہ حضرت مولانا مفتی عبد الحی صاحب نے پڑھائی۔

یقین جانیے  ان کی مجلس میں ایک عجیب روحانی اور نورانی کیفیت تھی، بس ان کی زبان سے موتی جھڑ رہے تھے۔ اسلاف کی یاد تازہ ہوگئی، نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کی تنگی کے باعث غمگین دلوں کے ساتھ اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہوئے۔
(جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *