درمیاں فہم محبت۔۔۔۔(قسط 1) ماریہ خٹک

محبت تو اس جھرنے جیسی ہوتی ہے جو بس بہتا جلا جاتا ہے یہ سوچے بغیر کہ اس کا پانی کہاں پہنچ رہا ہے اور کس کام آرہا ہے ۔
اس نے اپنی اپنی بڑی بڑی آنکھیں سوالیہ انداز سے مجھ سے ملائیں اور بڑی گھنی پلکوں کو جھپکایا۔۔ بھوری سبزی مائل آنکھوں میں بلا کا سحر تھا۔۔۔
جیسے مجھ سے اپنی بات کی تصدیق یا تردید کروانا چاہ رہی ہوں ۔
لیکن عُریزہ تم محبت کو سمجھتی ہی نہیں ہو پگلی، ابھی تمہیں کیا پتہ محبت کے رنگ جتنے بھی نکھرے نظر آئیں لیکن قوس قزاح کے رنگوں کی زندگی محض چند پل ہی ہے  ۔ میں نے سامنے بڑے پتھر پہ بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
اس نے چشمے کے نیچے گھڑا رکھا ،تھوڑا پانی گھڑے میں بھرا تو اسے گرا کر گھڑے کو پھر سے خالی کردیا ۔۔۔۔
اس کے خوبصورت ہاتھ گھڑے کے لال رنگ پہ پانی گرنے سے مزید خوبصورت لگ رہے تھے۔ درخت کے پتوں کو جب ہوا حرکت دیتی تو سورج کی کرنیں براہ راست کبھی اس کے چہرے کبھی ہاتھوں پہ پڑتیں تو اس کا سرخی مائل سفید رنگ مزید دمکنے لگتا۔۔۔۔

پتہ ہے ہم نے ابھی اس گھڑے سے آخری گلاس پانی پیا تھا گھر سے آتے ہوئے اور وہ بالکل صاف تھا شفاف ۔۔۔۔لیکن پھر بھی تم نے کئی  بار اس گھڑے کو کھنگالا تاکہ بھرے جانے والے پانی کی شفافیت میں کوئی  شک نہ رہے ،حالانکہ گھڑا صاف ہے پانی صاف ہے۔۔۔۔ اور اس میں کسی شک کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔

اس کا مکمل دھیان پانی پر تھا سنہری بال ماتھے پر سے نیچے کو جھولتے اس نے دونوں ہاتھوں سے گھڑا چشمے کے نیچے تھام رکھا تھا ۔بنا ہاتھ لگائے وہ بالوں کو جھٹکتی اور آنکھوں سے دور کرتی ۔۔۔

محبت بھی ایسی ہی ہے وہ جتنی صاف ہو جتنی پاکیزہ ہو اور اس کے خلوص میں کسی بھی شک کی گنجائش نہ ہو لیکن اگر مرد ذات سے شادی سے پہلے محبت کے نام پہ تعلقات رکھو گی تو اس کے دل میں بالکل اس طرح شک کا بیج پڑے گا جیسے تم نے صاف ہونے کے باوجود متعدد بار اس صاف گھڑے کو کھنگالا اور مسلسل کھنگالتی رہی کیونکہ تمہیں وہم تھا کہ کوئی  بھی چیز پانی کی شفافیت پہ سمجھوتہ نہیں کرنے دے گی۔۔

مرد بھی شادی کرکے بھی ایسی لڑکیوں کو خوش نہیں رکھتے بلکہ ذہنی اذیت اور شک میں ہی اسے زندگی بھر پیستے رہتے ہیں۔۔۔۔ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ۔

اچھا جلدی کرو تم اپنا گھڑا دو مجھے ۔۔میں اسے بھی بھر دیتی ہوں اور دیکھ لینا بالکل بھی نہیں کھنگالوں گی تمہارا گھڑا۔۔ وہ شرارتی انداز سے مسکرائی ۔۔۔۔
چشمے سے ہاتھ میں کچھ پانی لے کر اس نے مجھ پر پھینکا اور ہنستی ہوئی  کہنے لگی ۔وقت وقت کی بات ہے میں اسے اتنی محبت دوں گی شک کے کیڑے کو اس کے دماغ سے نکال کر چپل سے ایسے کچل دوں گی اس نے میرے پاس پڑے ٹوٹے گھڑے کے ٹکڑے پہ پاؤں مارا (جو غالبا چشمے پہ آئی  کسی اور لڑکی سے ٹوٹ کر بکھر گیا تھا)۔۔۔اور پاؤں مارتے ہی اس کا پاؤں مٹی پہ پڑا جہاں پانی کیوجہ سے کیچڑ ہی کیچڑ تھا اور پھر اس کا پاؤں بجائے رکنے کے دور تک اس کے وجود کو لیتا گیا وہ بری طرح پھسل کر گر پڑی  تھی۔۔
میں  نے  بھاگ کر اسے   اٹھایا”وائی  اللہ مڑہ شمہ ” (ہائے اللہ میں مرگئی ) اس نے کچھ روتے اور کچھ درد کو چھپاکر ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔
وہ اٹھی اور پاؤں اور کپڑے جو کیچڑ میں خراب ہوئے تھے چشمے کے نیچے ہی دھونے لگی ۔
اور شکی کیڑوں کو چپل مارو۔۔۔ ہاہاہاہا
پگلی یہ تو صرف خیال میں مرد کے شکی کیڑے کو مارا تو گری اور درد ملا اور میں نے سنبھال لیا۔۔۔
اصل میں مرد ذات کے کیڑے کو مارنے کی کوشش کی ناں تو جان سے جاؤ گی اور کوئی  سنبھال بھی نہ پائے گا ۔

وہ کپڑے سوکھنے کے انتظار میں دھوپ میں کھڑی تھی کیونکہ گیلے کپڑوں سے رستہ چلنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔وہ بار  بار ہاتھ اور پاؤں سہلا رہی تھی اور کلائی  پہ بندھی گھڑی کو کلائی  پہ یہاں وہاں کررہی تھی ۔۔۔۔
کیا ٹائم ہوا ہے ؟ میں نے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
سارے بج گئے ہیں ۔۔۔۔اس نے شرارتا کہا ۔
کیا مطلب سارے بج گئے ہیں ۔۔۔
گھڑی خراب ہے تبھی تو پانی میں بےفکر ہوکر ہاتھ ڈالتی ہوں اس نے آنکھوں کو شرارت سے گھماتے ہوئے کہا ۔۔۔
حد ہے یعنی تم گاؤں کی لڑکیاں بھی عجیب ہو یارا۔۔۔۔
چھوڑو نہ منڑے یہ بتاؤ تمہارا کسی لڑکے سے چکر وکر تو نہیں ہے کالج میں ۔۔۔اس نے ذومعنی جملے میں بہت کچھ کہا۔۔۔۔
توبہ توبہ یارا کیسی باتیں کرتی ہو استغفار کرو۔۔۔۔میں نے خفگی سے کہا ۔۔۔
کیوں تم تو کراچی میں کالج جاتی ہو ناں وہاں پہ کسی سے دوستی نہیں وہاں تو بہت لڑکوں سے دوستیاں کرتی ہیں کراچی کی لڑکیاں ۔۔۔۔۔اس نے اپنی بڑی بڑی سبزی مائل بھوری آنکھوں کو اک ادا سے پھیلاکر کہا ۔۔
یہ کیا ۔۔ہم علم حاصل کرنے جاتے ہیں دوستیاں کرنے نہیں ۔۔۔اور تم سے کس نے کہہ دیا کہ کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں لڑکوں سے دوستیاں رکھتی ہیں ۔اور پھر ہمارا کالج صرف گرلز کالج ہے وہاں لڑکیاں ہی پڑھتی ہیں۔ اور کالج سے باہر کی زندگی کا  ذمہ دار کالج تو نہیں ناں ۔۔۔۔ہم مکمل پردے کے ساتھ کالج سے گھر اور گھر سے کالج جاتے ہیں۔ ۔۔۔ میں نے اب مکمل ناراضگی اور حیرانگی کی ملی جلی کیفیت میں جواب دیا۔
ہاں لیکن شہر کی لڑکیاں بہت آزاد خیال ہوتی ہیں۔ وہ لڑکوں سے تحفے تحائف، موبائل پر باتیں، تصویریں اور بہت کچھ کرتی ہیں ۔اس نے اب میرا پارہ ہائی  کردیا تھا ۔۔۔۔
اچھا تو مطلب کہ شہر کی لڑکیاں بہت آزاد خیال ہیں؟ اور گاؤں کی لڑکیاں؟؟ ان کے بارے میں کیا کہتی ہو؟

موقع نہ ملنے کی وجہ سے اگر گاؤں کی لڑکی پاکیزہ خیالوں کی  امین ہوگئی  تو شہر کی لڑکی موقع ہوتے ہوئے بھی پاکیزہ جذبوں کی امین ہوسکتی ہے ۔بات بنیاد پر ہوتی ہے۔ گاؤں یا شہر پر نہیں ۔
“منڑے تہ خو سمہ خفا شے ” (تم تو بالکل ہی ناراض ہوگئی ) میں تو مذاق کررہی تھی اس نے مناتے ہوئے کہا ۔۔۔۔آؤچلیں اس نے گھڑا میرے سر پہ رکھا اور اپنا اپنے سر پر رکھتے ہوئے کہنے لگی ناراض مت ہونا بس ویسے ہی پوچھ لیا تھا۔۔۔۔۔جاری ہے

ماریہ خان خٹک
ماریہ خان خٹک
میرا نام ماریہ خان ہے خٹک برادری سے تعلق ہے ۔کراچی کی رہائشی ہوں ۔تعلیم ،بچپن اور دوستوں کے ساتھ سندھ کی گلیوں میں دوڑتی رہی ہوں ۔ کتابوں کے عشق اور مطالعے کی راہداری کو عبور کرکے خود قلم اٹھانے کی لگن ہے ۔طالب دعا ہوں اللہ تعالی قلم کا حق ادا کرنے کی توفیق دے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *