فرعون ثانی

“کیادریائے نیل میرے حکم سے نہیں بہتا”
اپنے تمام تر دعوٰی کے باوجود فرعون کے اس استعجاب آمیز سوال نے اس کی خدائی کا پول کھول دیا۔ فرعون تو ڈھلمل یقینی کے عالم میں ہی رہا اور کیوں نہ رہتا ہر شخص اپنے آپ سے واقف ہے۔ فرعون بھی جانتا تھا کہ وہ خدا ہرگز نہیں ہے گو کہ رعایا کے سامنے نہ کہتا۔

ایک مخلوق لیکن ایسی ہے جسے اپنی خدائی کا یقین ہے یہ اور بات ہے کہ اس کی یہ خدائی صرف اس کی زیر نگین مخلوق تک ہی محدود ہے ۔ اور وہ جو اپنے سے کمتر پر فولاد کی طرح سخت ہوتے ہیں اپنے ہی سے ایک درجہ بلند کے سامنے بریشم کی طرح نرم ہوجاتے ہیں۔ اور یہ برا وقت کسی پر بھی سکتا ہے۔ دور کیوں جائیں۔ جب کبھی ایک آدھ بار زندگی میں ایسا موقع آیا کہ اپنے ہم کار رفقاء پر ترقی دی گئی تو وہ جو کل تک برابر کے دوست تھے یکایک بہت نیچے کہیں نظر آنے لگتے ہیں۔ گردن اپنی جگہ سے کئی انچ اونچی ہوجاتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ کسی سریے نے اسے کاندھوں سے بلند رکھا ہوا ہے۔

tripako tours pakistan

یہ مخلوق تمام ملازمت پیشہ لوگوں کا مقدر ہے۔ ایسا شاید ہی کوئی ہو جس پر یہ پیر تسمہ پا سوار نہ ہو۔ یہ عجیب و غریب قوم جو “باس” کہلاتی ہے اس کے بارے میں ، اپنی طویل ملازمت پیشہ زندگی میں، آج تک یہ نہ جان پایا کہ یہ کرتی کیا ہے۔

ایک طوطے بیچنے والے کا قصہ سنا کہ کوئی اس سے طوطا خریدنے آیا۔ پہلے طوطے کی قیمت اس نے بتائی، دوسرے کی پہلے سے کچھ زیادہ بتائی۔ یہ دونوں طوطے ہر وقت پنجرے میں متحرک نظر آتے۔ تیسرے طوطے کی قیمت اس نے پہلے دو طوطوں سے کہیں زیادہ بتائی۔ یہ ایک سست الوجود سا طوطا تھا اور ایک طرف پڑا ہوا تھا۔ خریدار نے پوچھا کہ بھئی اس میں ایسی کیا بات ہے کہ اس کی قیمت اس قدر زیادہ ہے، جبکہ پہلے دونوں طوطے چونچال اور چاق و چوبند نظر آتے ہیں ۔
طوطے والا بولا یہ کچھ نہیں کرتا یونہی ،پڑا رہتا ہے اور یہ دونوں طوطے اسے “باس” پکارتے ہیں۔

خیر یہ تو حاسدوں نے اڑائی ہے کہ باس کچھ نہیں کرتا، صرف حکم چلاتا ہے۔ باس اپنے ماتحتوں کے بارے میں یہی گمان رکھتا ہے۔جب سے میں سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور واٹس ایپ پر کچھ زیادہ ہی متحرک ہوا ہوں، یار دوست توقع رکھتے ہیں کہ میں ہر روز کوئی مزیدار سی چیز ان کی تفریح طبع کے لیے پیش کرتا رہوں گا۔ میری یہ شہرت میرے باس تک بھی پہنچ گئی۔ ایک دن کام میں الجھا ہوا تھا کہ باس کا ای میل آیا کہ وہ جو تم funny jokes بھیجتے ہو مجھے بھی بھیجو۔ میں نے جواب دیا کہ باس اس وقت تو بہت کام میں مصروف ہوں، بعد میں ضرور بھیجوں گا۔
جواب آیا” ہاہاہا، بہت مزیدار ہے، ایک اور بھیجو”

لیکن یوں نہیں کہ باس مجھے فارغ اور نکما سمجھتا ہے، مجھے اپنی اہمیت کا احساس ہوتا ہے جب میں باس سے کسی کام کے لیے چھٹی مانگتا ہوں، اس دن مجھے احساس ہوتا ہے کہ دفتر کا سارا نظام صرف میری ہی صلاحیتوں کا مرہون منت ہے اور میرے بغیر دفتر کا سارا کام مفلوج ہوجائے گا۔

حاسدوں نے گھڑ رکھا ہے کہ وہ جو باس ہوتے ہیں، انہیں اپنے ماتحتوں کی مشکلات اور ضروریات کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کم از کم میں اپنے باس کے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ احکامات جاری کرنے سے پہلے ہماری ذاتی مصروفیات اور ضروریات کے متعلق ضرور پوچھتے ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں ہی کی بات ہے، سوزی، باس کی سیکریٹری جو دفتر میں قتالہ عالم مشہور ہے اور “جو بڑھ کر خود اٹھالے ہاتھ میں جام اسی کا ہے” کی تعبیر بنی رہتی ہے۔ باس کو رجھا نے اور لبھانے کو فرض منصبی جانتی ہے۔ تو اس شام دفتر کے بند ہونے سے کچھ پہلے باس نے اسے اپنے کمرے میں طلب کیا۔ سوزی تو گویا منتظر تھی، لہکتی، مٹکتی کوئے یار کی سمت لپکی۔ کچھ ہی دیر بعد جھلاتی، تلملاتی باہر آئی۔ ہاتھوں میں کاغذات کا پلندہ تھا۔ اس خاکسار نے حیرانی سے پوچھا کہ خیر تو ہے” جانے میں قدم اور تھے، آنے میں اور”
وہ بولی تو گویا آتش فشاں سا پھٹا۔ کہنے لگی باس نے دیکھتے ہی پوچھا آج شام کو کیا کر رہی ہو، میرے تو دل کی کلی کھل سی گئی، میں نے کہا کچھ نہیں باس ، بالکل فارغ ہوں،
یہ سننا تھا کہ اس حرامی نے یہ پینتالیس صفحے ہاتھ میں تھما دیے کہ چلو اچھا ہوا ، انہیں آج ہی ٹائپ کر لاؤ۔

سارے باس کو ئی زاہد خشک نہیں ہوتے۔ بلکہ ہمارے باس کی حس مزاح تو دفتری میٹنگز میں عروج پر ہوتی ہے۔ مجھے تو اس قدر ہنسی آتی ہے کہ میں تو اب اپنی اصلی ہنسی ہی بھول گیا ہوں۔ دوسرے ہم کار بھی پیچھے نہیں رہتے، لگتا ہے باس کے لطیفوں پر ہنسنے کا مقابلہ ہورہا ہے۔ انہی دنوں ایک ایسی ہی میٹنگ میں ہم سب کی ہنسی کے فوارے ابل رہے تھی لیکن سوزی بت بنی بیٹھی تھی، میں آہستگی سے ٹہوکا دیا تو اس کی سرگوشی کچھ اس طرح ابھری کہ باس کے علاوہ ہر کسی نے سن لی۔ کہنے لگی، ” میرے لیے ہنسنا ضروری نہیں، میں استعفیٰ  دے چکی ہوں۔”

ہمیں نجانے کیوں گمان سا ہوتا ہے کہ سارے کام ہم سب مل کر کر رہے ہوتے ہیں۔ جب باس کے بھی باس یعنی ہمارے دفتر بڑے صاحب کے ساتھ میٹنگ ہوتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سارے مشکل کام تو باس نے ہی تنہا سرانجام دیے تھے۔ ہاں البتہ جہاں کہیں کچھ غلط ہوتا ہے تو باس اپنی ٹیم کی کوتاہی اور غفلت کا اعتراف کرنے میں ہر گز بخل نہیں کرتا۔

اور شاید اسی کو تنظیمی مہارت کہتے ہیں کہ خود کچھ نہ کرو لیکن اپنے ماتحتوں سے پورا کام لو۔ لیکن اگر اس کی بناء پر کوئی یہ سمجھے کہ باس کوئی بہت ہی ذہین اور اسمارٹ بندہ ہے تو یہ ایک عظیم غلط فہمی ہےُ اگر آپ کا باس آپ سے زیادہ ذہین ہوتا تو آپ وہاں نہ ہوتے۔ ۔

باس خدا کی خاص مخلوق ہے، کچھ ایسی حرکات جو دفتر میں اگر آپ کریں تو معیوب جانی جاتی ہیں، جیسے کام کے دوران اونگھنا یا سونا بہت بری بات ہے، لیکن باس کبھی نہیں سوتا، بلکہ آرام کر رہا ہوتا ہے جو اتنے بڑے کام کرنے کے بعد اس کا حق ہے۔آپ جو دفتر میں میز کی درازوں میں بسکٹ اور چپس وغیرہ چھپا کر کھا رہے ہوتے ہیں تو ظاہر ہے دفتری آداب کے خلاف کام کر رہے ہیں، باس البتہ کھائے تو وہ اپنی قوت بڑے کاموں کیلئے مجتمع کر رہا ہے کہ اسے توانائی کی ضرورت ہم سے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے باس جو ٹھہرا۔آپ اگر کام چھوڑ کر اخبار پڑھ رہے ہیں یا انٹر نیٹ دیکھ رہے ہیں تو یہ کام چوری اور ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے۔ باس اگر یہی کچھ کر رہا ہے تو وہ دراصل ضروری معلومات اکٹھی کر رہا ہے۔

باس کبھی غلطی نہیں کرتا بلکہ نئے آئیڈیاز آزما رہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ یہ کہتا ہے کہ ‘ہمیں ، اب پروڈکشن میں اضافہ کرنا ضروری ہے تو وہ اپنے آپ سے ہرگز مخاطب نہیں ہوتا۔ میں یہ سب شکایتا” نہیں کہہ رہا۔ مجھے اپنی ملازمت بہت عزیز ہے خاص کر ان دنوں جب میں چھٹی پر ہوتا ہوں۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ بعضے اس وقت تک گدھے کی طرح محنت نہیں کرتے جب تک کہ باس ان پر سواری نہ کررہا ہو۔

ہمارا باس اکثر کہتا کے میں اپنی ٹیم کی قدر کرتا ہوں، لیکن ہماری تنخواہوں کی رسید کچھ اور ہی داستان سنا رہی ہوتی ہے۔ ہاں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کسی اہم کام یا میٹنگ کے لیے وہ آپ کو پہلے سے مطلع کرتا ہے اور آپ اس کے لیے زبردست تیاری کرکے اپنے خیالات لے کر باس کے کمرے میں داخل ہوتے ہیں۔ جب آپ باہر آتے ہیں تو آپ کے پاس صرف باس کے خیالات ہوتے ہیں اور آپ کی تیاری کہیں فضاؤں میں گم ہو چکی ہوتی ہے۔

میرے دفتر میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دن بھر کی خستگی اور خواری اور باس کے ساتھ ” متھا پھوڑی” کی کلفت دور کرنے کے لیے شام کو شراب خانہ خراب کا سہارا لیتے ہیں، وہ اگر یہ کام صبح سویرے کرلیں تو اس سارے جھنجھٹ کی نوبت ہی نہ آئے۔اگر آپ ہمت کرکے اپنے باس کو بتادیں کہ آپ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو یقین جانیے کئی مصیبتوں سے فراغت پا جائیں گے، ملازمت بھی انہی میں سے ایک ہے۔

بدخواہوں کو شاید پھر یہ گمان گذرے گا کہ میں نے حسب معمول سماجی زرائع ابلاغ (سوشل میڈیا) سے لطیفے کشید کیے ہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھئیے اور انگریزی ترکیب کے مطابق اپنے آپ کو میرے جوتوں میں محسوس کریں اور سچے دل سے بتائیں کہ کیا آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ نہیں گذرتی۔۔ اگر آپ کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہوتا تو اس کے معنی ہیں کہ آپ خود باس ہیں۔

 

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”فرعون ثانی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *