جہاں کیلاشا بستے ہیں۔ جاویدخان/قسط1

ایک اَبر آلُود دن:
دس اَگست 2018ء ایک اَبر آلود دن تھا۔ وقاص جمیل نے اپنی فولادی گھوڑی(مٹسو بِشی) کو تھپتھپایا تو وہ خوشی سے گُرکنے اَور کانپنے لگی۔اُس کی کپکپاہٹ میں چُستی تھی اَور فولادی عزم تھا۔ شام کے پانچ بج کر پچپن منٹ پر مِٹسو بِشی میں شاہد حفیظ،شفقت اَور منصور اسماعیل کو لادا،پچھلی نشستوں میں سے ایک کھولی۔مجھے بٹھایا، ایک پر ہم پانچ لوگوں کاسامان ٹھونسا،دروازہ بند کیا اَور گاڑی شاہراہ ِغازی ِملت پر موڑ دی۔چندقدم آگے پٹرول پمپ پر فولادی گھوڑی کو سیر ہو کر پیٹرول پینے کے لیے روک دِیا۔جب مِٹسوبِشی کاجی بھر گیاتوپٹر ول کی قیمت 7900 روپے بنی۔

خُدا نے جانداروں کے لیے اس زمین پر سمندر بنائے،دریابہادئیے،گلیشرمنجمند کر دیے اَور اِن فولادی مشینوں کے لیے زمین کی پرتیں کھول دیں۔کروڑوں سال قبل اسی زمین پر ہزاروں ٹن وزن لیے بڑے بڑے دیوہیکل جانور دند ناتے پھرتے تھے۔اِن کے چلنے سے دُور دُور تک زمین لرزتی تھی۔اِن میں مگر مچھ تھے جو بڑے ڈائنوسارز کو گردن سے پکڑ کرایک جھٹکے سے ندی میں لاکر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے تھے۔دیوہیکل سانپ تھے جن کے سامنے آج کاایناکونڈا ایک سنپو لیا ہے۔بڑے بڑے تنوں والے درخت تھے جنھیں صرف ڈائنوسارزکھاتے تھے۔

اس دیو ہیکل مخلوق پر طرح طرح کے عذاب ٹُوٹ پڑے۔عظیم برفانی اَدوار،آسمان سے شہابیوں کی بارش اَور پھر زمین کاتلپٹ ہوجانا۔یہ دِیوہیکل اجسام مٹی کی گہرائیوں میں بندہو کرٹھوس،مائع اَور گیس کی شکل میں ڈھل گئے۔آج زمین کااِنسان پرتیں کھول کر اس توانائی کو استعمال کررہا ہے۔ہماری ساری جھل مل کرتی زندگی اسی کی مرہون منت ہے۔اس جھل مل نے ایک طرف تو اس گولے (زمین) میں کاربن بھر دی تو دوسری طرف یہ ذرائع بس ڈیڑھ سو سال تک رہ گئے ہیں۔

گاڑی آہستگی سے کھُلی سڑک پر رواں تھی۔وقاص جمیل (گڈو)نے ذمہ داریاں تقسیم کرنا شروع کردیں۔شاہد حفیظ مالیات،شفقت معاون،منصوراسماعیل ناظم ِصلوٰۃ اَور وقاص جمیل بِالاتفاق ناظم سفر مقرر ہوگئے۔اِس عمل کے سوطرح کے فوائد گنوائے جاتے ہیں۔ثواب،سفرمیں سہولت اَور نظم و ضبط وغیرہ۔

جسّہ پیر (پہاڑ) کے دائیں وتر پرسُورج ایک سُرخ کُرّے کی مانند تھاپھردُھندنے اسے دُھندلا دِیا۔اِس پہاڑ پر اَکثر شام کے وقت بادلُوں میں ڈُوباسورج سُرخی لیے ہوتاہے۔بارہا اِسے کھَلاٹوپّا(سیاحتی مقام)اَور دوسری جگہوں سے د یکھا جاسکتاہے۔یہاں کامنظر کبھی کبھار اس تصویر جیسا ہوتا ہے جہاں شام کے وقت سمندر میں سورج ڈُوب رہا ہوتاہے۔ سورج صرف لال ہوتا ہے یہ لالی سمندر میں ڈھلکتی رہتی ہے۔ یہاں کے منظر میں بادلوں کے اِس سُرخ سمندر کے اُس طرف دریائے جہلم کے پار پاکستان کاسب سے بڑا سیاحتی مرکز مری ہے ذرا سا پُشت پر کچھ بائیں اُترائی میں پاکستان کا سب سے امیر شہر اسلام آباد ہے۔چوٹیوں پرکہر تھی اور نالہ گوئیں مِٹیالاتھا۔

سڑک پھرسے تارکول ڈالنے کے لیے تیار کی جارہی تھی۔بار بار یہ غازہ اُکھڑ کر اِس کی جُھریاں نمایاں کردیتا ہے۔ساون کی برکھائیں اَور چیت کی شوریدہ سری اس کے میک اَپ کی دشمن ہیں۔
آزادپتن (پُل)پر ایک کتبہ لگاہے ”پڑتال براے جنگل۔“ماحو ل دُشمنی اِس خطے میں تیزی سے پھیلتی جارہی ہے۔جِس کاتدارک ممکن نہیں لگتا۔آزادکشمیر کے گیارہ فیصد رقبے پر جنگلات بُری طرح مٹ رہے ہیں۔صرف مظفرآباد سے قیمتی دِیاروں کی دس سے زیادہ گاڑیاں پاکستان جاتی ہیں۔نیلم کا دیار دُنیا میں بہترین ہے۔باقی حصوں سے بیاڑ،چیڑ اَور ٹالی، جنگل کے جنگل صاف ہو رہے ہیں۔مُتبادل لگائے جانے والے جنگلات کی پرورش کی رفتار کے مقابلے میں کٹاؤ کی رفتار زیادہ ہے۔محکمہ جنگلات کا یہ کتبہ سچائی اَور جھوٹ کے درمیان بیچ و تاب کھا رہا ہو گا۔ نہ جنگل ہیں نہ پیداوار ہے۔

بِسم اللہ ہوٹل پر چائے کے لیے رُکے۔ٹافیاں لیں وقاص جمیل کو یہاں چائے کامزا آگیا۔ اب ہم نشیب میں آگئے تھے۔ یہ علاقہ گرم ہے اَور ہوابھی بند ۔اے۔سی چلادِیا گیا تھا۔آزاد پتن پار کرتے ہی رات کی سیاہی چھانے لگی تھی۔وقت اَور ہم منزل کی طرف کی بڑھ رہے تھے۔ ایسی مسابقت میں رفتار ہمیشہ وقت کی تیز ہوتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ چلنے والوں کی تعداد کم ہے۔اَور وقت کو پھلانگنے والے ہر زمانے میں نایاب رہے ہیں۔انھیں وقت اَمر کر دیتا ہے ہمیشہ کے لیے۔

رات کی دیوی اُتر آئی تھی،ہم دریا کنارے خراماں خراماں آگے بڑھ رہے تھے۔دریائی حصار سے نکلے تو سڑک چیڑ وں کے گھنے جنگل میں داخل ہوگئی۔کہوٹہ سے پیچھے اَور آزادپتن سے آگے یہ گھنا جنگل اَور اِس کی خاموش دُنیا میری پسندیدہ ہے۔بکریاں اَور مویشی یہاں رات گئے تک گھومتے رہتے ہیں بل کہ اکثر پالتو جانور رہتے ہی اِسی جنگل میں ہیں۔گرما میں چیڑوں کی شاخیں پنجاب کی حدت کو پنکھا لگا کر اے۔سی میں بدل دیتی ہیں۔یوں پنچھیوں کی موسیقی اَور ہَوا کی سرسراہٹ میں طبعیت ترو تازہ ہو جاتی ہے۔شام رات میں بدل گئی تھی۔جنگل میں ٹڈیوں کاساز بج رہاتھااَور طبعیت کو سکون دینے والی ہَوا تھی۔مَیں نشست اَور سامان کے دَرمیان دراز ہو گیا۔بھلے دس،پندرہ منٹ ہی سہی جب آنکھ کھُلی تو ہشاش بشاش تھا۔ہم شاہراہ کے مصروف حصے سے گُزر رہے تھے۔ رات گر م ہُونے لگی تھی اَورمَیں گرم رات کو جھیلنے کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔

رات ساڑھے دس بجے ہم راول پنڈی کے کھوکھر ہوٹل پہنچے۔ذرا پیچھے ہم نے عرفان اشرف کو بیٹھایا تھا۔کھوکھر ہوٹل ایک چھوٹاسادیہاتی منظر لِیے ہُوئے تھا۔صحن میں لگے درختوں پر برقی قمقموں کی لڑیاں چڑھی ہوئی تھیں۔اک کشادگی سی اس ہوٹل کی قربت میں محسوس ہورہی تھی۔کھُلا سبزہ زار،درخت،مسجد،فاصلوں پر نشتیں اوران پر بیٹھے ہوئے لوگ جو کشادہ دلی سے کھانا کھا رہے تھے۔ بیت الخلا ذرا ہٹ کر فاصلے پر بنائے گئے ہیں۔ بہاں گرم راتوں میں گرمی بھی اسی کی قربت میں بستی ہے۔پسینے سے سب ہی شرابُور ہورہے تھے۔

عظیم مادر علمی:

عرفان اشرف ایک کھلنڈرا سا نوجوان ہے۔میرا ماضی عظیم مادرعلمی حسین شہید کالج سے وابستہ ہے۔پُرانی عمارت جس کے بازؤوں میں کئی خوب صورت صحن ہوتے تھے۔سیمنٹ کے بینچ،صحنوں میں لگے ہوتے تھے۔مرکزی راستہ  اَور سبھی صحن مور پنکھوں کی باڑوں سے گھیرے رہتے۔جنھیں وقت نے قدآدم سے کچھ اُونچاکر دیا تھا۔کالج کی عمارت کئی ایک بازو پھیلائے کھڑی تھی۔انہی بازؤں میں سے ایک کے آخری کونے میں لائبریری تھی۔جس میں طلبہ بیٹھ کر اخبار اَور کتابیں پڑھتے تھے۔سیاست،کشمیر کی تحریک آزادی،انقلاب،رومانس،عشق اَور محبت کے کچے کتھارسس۔ایک آدھ رجسٹر جس پر انقلابی یاپھر رومانوی اشعار ہوتے۔وادی پرل (راولاکوٹ)کے قلب میں یہ ہماری خُوب صوُرَت درس گاہ تھی۔عرفان اشرف اس درس گاہ کے صحنوں میں بچھی رَوَشوں پر سگریٹ کا  دھواں اُڑاتا دُبلا پتلا نوجوان تھا۔آج کل مشرق وسطی ٰ کی تپتی ریت میں مستقبل ڈھونڈ رہا ہے۔اس کی تلاش ابھی جاری ہے۔چند دنوں کے لیے وطن آیا تھا۔اَور راول پنڈی سے ہمارا ہم سفر ہوگیا۔اِس قافلے میں مادر علمی کادوسرا ساتھی منصور اِسماعیل تھا۔عرفان اَشرف ہمارے قافلے کا چھٹافرد بنا۔

میڈیا ٹاؤن کی کِسی گلی میں ایک گھر ہماری منزل تھا۔ہم نے راول پنڈی کی جھلستی شب وہاں گزارنی تھی۔میرے اُستاد اَور منصور اِسماعیل کے بہنوئی شاہد سعید صاحب نے حال ہی میں بنوایا تھا۔مگر اُدھر جانے سے قبل منصور اِسماعیل نے چائے کی پیش کش کر ڈالی۔
میڈیا ٹاؤن جاگ رہا تھا۔نئے پاکستان کی آس میں جھنڈے اورجھنڈیاں لیے اسٹالوں کے اسٹال شہر کے چوراہوں پر کھڑے تھے۔گاڑی شاہراہ عام پر رُکی اَور ایک گلی میں داخل ہوگئے۔آغاز میں ہی  دائیں ہاتھ بابُوجی ہوٹل کھُلا تھا۔ہوٹل کے سامنے اَور سڑک کے پار بھی کُرسیاں تھیں۔سڑک کے پار کُرسیاں لگنے سے کچھ ہوٹل سڑک پار بھی بَن گیا تھا۔گاڑیوں کی آمد ورفت اَور ”ویٹرنگ“ اَپنے اَپنے ضابطوں کے تحت جاری تھی۔شام کو تھکے ہارے لوگ یہاں کھانا کھانے اَور چائے پینے آتے ہیں۔گرمی کی ماری رات کو پنکھے ہَوا دے دے کر تھک گئے تھے۔چھتوں سے لٹکتی یہ فولادی پھرکیاں گرم ہَوا کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام ہوگئی تھیں۔ہم ہوٹل کے گرم ہال میں بیٹھنے کے بجائے،باورچی خانے کے ساتھ لگی پلاسٹک کی کرسیوں پر براجمان ہوگئے۔باورچی خانے کی نیلی رنگ دار جستی چادر کی کھڑکیوں پر حضرت اقبال کا شعر یوں لکھا تھا۔ ؎
اَئے طاہر لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پر واز میں کوتاہی۔
اور اسی شعر کے نیچے شکر کولا،دُودھ کی بوتلیں،جُوس،سوڈا اَور لَسی درج تھا۔یہ بابوجی ہوٹل تھا۔
چاے پی کر روانہ ہوئے تو کچھ ہی لمحوں میں،ایک مکان کے سامنے جارُکے جوایک گلی کے نکڑ پر تھا۔ حبس زیادہ تھا۔تین کمروں میں نیچے گدے بچھائے اَور سو گئے۔صبح ساڑھے چار بجے بیدار ہُوئے۔غسل کیانماز اَداء کی اَور باہر آگئے۔

فاختاؤں کے ڈیرے:
وقاص نے پیش گاہ (پورچ) میں کھڑی گاڑی باہر نکالی۔صبح کے دُھندلے گَرد آلود اُجالے میں گھر کے سامنے بائیں طرف گُزرتی برقی تاروں پر فاختاؤں کا ایک جوڑابیٹھا تھا۔کبوتر کے خاندان سے تعلق رکھنے والا یہ پرندہ سُریلا،بے ضرر اَور خُوب صُورَت ہے۔ سُناہے پرندوں میں سب سے زیادہ پُراَمن ہے۔اِسی لیے جہاں جہاں اَمن قائم کرنا ہو اِسے بہ طور نشاں کے رکھ لیا جاتاہے۔پھر سالوں تک خون آشام ایام امن کی آس میں گزرنے لگتے ہیں۔نہ آس ٹوٹتی ہے نہ ہی یہ معصوم پنچھی کچھ کر پاتا ہے۔ہاں شور اَور آلُودگی سے دُور جگہوں پر اس کے میٹھے سُرلطف دیتے ہیں۔کہر میں لِپٹے اس شہر میں،برقی تاروں پر یہ پُرامن جوڑا ہمیں خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔اِسے پُرامن ہی چھوڑ کر ہم گاڑی میں بیٹھ گئے۔بارش کے قطرے گرنے لگے تھے۔ہم آہستہ آہستہ تنگ گلیوں سے باہر آئے۔مرکزی شاہراہ پرمِٹسوبِشی تیزی سے منزل کی طرف بڑھنے لگی۔

صبح کے آٹھ بج چُکے تھے۔راستہ  کافی طے ہوچُکا تھا۔بھوک پریشان کر رہی تھی۔سُورج کی کِرنیں میدانی سڑک پر پڑ رہی تھیں۔جی ٹی روڈ پر ”نعمت کدہ ہوٹل“ کے سامنے گاڑی مُڑی اَور سڑک سے قدرے ہٹ کرگُرکی پھر بند ہوگئی۔لوگ کھری چارپائیوں پر بیٹھے ناشتا کر رہے تھے۔دو خالی چارپائیاں ہم نے سنبھال لیں۔ناشتے میں تلے ہُوے اَنڈے،پراٹھے،دال اَور خشک چپاتیوں کے ساتھ چائے تھی۔یہ ہمارا بھرپور ناشتا تھا۔ڈٹ کر کھانے میں میرے کارواں کا کوئی ثانی نہیں۔

ناشتاختم ہُوا تو مَیں اَور وقاص جمیل اُٹھ کھڑے ہُوئے۔چھوٹی سی چہل قدمی کرنی تھی۔چندپشتو بولنے والے بچے ہمارے پاس آکر لڑنے لگے۔اِنھوں نے ناشتا نہیں کیا تھا۔وقاص جمیل نے جیب سے پچاس روپے کانوٹ نکالا اَور ایک کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا ”لو! سب ناشتا کرلو۔“پچاس روپیہ لے کر سب خُوشی خُوشی ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے مگر کچھ آگے جاکر لڑ پڑے۔وقاص جمیل کے پُوچھنے پر ایک نے بتا یا یہ افغانی ہیں اَورہم پاکستانی ہیں۔باجوڑ والے بچوں نے افغانی بچوں کو چلتا کر دیا تھا۔جب کہ وہ اپنا حصہ مانگ رہے تھے۔دوسرے گروہ کا اصرار تھا کہ اب ہم بھی پاکستانی ہیں۔ہم سے و ہ ٹُوٹی پھوٹی اُردو میں بات کر رہے تھے۔اِن میں فیاض اَور عمران کابل سے تھے اَور جواد کے ساتھ ایک دوسرا بچہ باجوڑ سے۔
اگرچہ یہ اپنی اس وقت اپنی شناخت سے زیادہ پیسوں کے لیے لڑ رہے تھے لیکن یہ سب ایک جیسے تھے۔اَن میں ذرّہ بھر بھی تفریق نہ تھی۔ان سب کے کپڑے پھٹے ہوئے اَور بہت ہی میلے تھے۔سب پیٹ کے لیے لڑ رہے تھے۔دونوں گروہ اس وقت لاوارث تھے۔ان میں سے ایک نے چھٹی جماعت سے سکو ل چھوڑا ہُوا تھا۔ یہ سب جس ملک کی وراثت کے دعویدار تھے وہ اناج سے بھرا ہُوا ہے۔اِس کی کھیتیاں ابھی بنجر ہُونے سے کوسوں دُور ہیں۔اس کی بالی بالی اناج سے بھری ہے۔بَس وہ اَور اُن کی کلا س کے لوگ بھوکے ہیں۔
وقاص نے پچاس کا نوٹ واپس لیا اَور دس دس روپے اُنھیں الگ الگ دِیے۔اَب جھگڑا ختم تھا۔نہ کوئی افغانی تھا،نہ باجوڑوی نہ ہی کابلی سب بھوکے تھے بھوک مٹانے چلے گئے۔جب کہ ہم سب اپنی منزل کو چل دِئیے۔

جاری ہے

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *