مولانا عبیداللہ سندھی اور علماء سندھ۔۔محمد احمد

تاریخ جب ادھوری اور ناقص لکھی جاتی ہے تو کئی پہلو ناتمام اور تشنہ رہ جاتے ہیں۔ اب یہ تو تاریخ پر عبور اور اس فن میں اختصاصل رکھنے والے بتاسکتے ہیں کس نے اپنا فریضہ پورا نہیں کیا اور ادھورا سچ لکھا ہے۔ آج کی نشست میں ہم جس موضوع پر خامہ فرسائی کرنا چاہتے ہیں اس کا تعلق بھی تاریخ سے ہے۔ ہم بھی تاریخ کے طالب علم ہیں اور اس فن سے ہماری دلچسپی ہے۔ بارہا قلمکاروں نے ایک غلطی بار بار دہرائی اور مسلسل اس کا اعادہ کیا جاتا رہا ہے۔ کوشش کریں گے اس حوالے سے اپنے قارئین کو حقیقت حال سے آگاہ کریں۔ ہمارے دوست جب سندھ کے ماضی قریب کی
سیاسی صورتحال اور تحریکوں  پر اظہار خیال کرتے ہیں تو علماء سندھ کی جدوجہد کو امام انقلاب مولانا عبيد الله سندھی رح سے مستعار اور ان کا مرہون منت سمجھتے ہیں۔
بے شک مولانا سندھی رح ایک بڑی انقلابی شخصیت تھے۔ ایک بات وضاحت کے طور پر ذہن نشین کرلیں اس مضمون میں کسی کی تعریف اور تنقیص مقصود نہیں محض تاریخ کی درست سمت اور نظر انداز کیے ہوئے پہلو کو واضح کرنا مقصد ہے۔

اب آتے ہیں ہمارے دوستوں کی اس بات کی طرف کہ اس میں کتنا وزن ہے؟ سندھ کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کو یہ بات بچگانہ معلوم ہوتی ہوگی کیونکہ سندھ صدیوں سے ہے یہ بڑا مردم خیز خطہ ہے۔ مجاہدین اور اولیاء نے اس دھرتی سے جنم لیا ہے۔ یہاں ہر دور میں تحریکیں چلتی رہی ہیں اور ہر زمانے کے علماء کرام نے اپنے اپنے دور کے ظالموں اور طاقتور حکمرانوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ تاريخ کے صفحات اس پر گواہ ہیں۔ اگر وہ یہ دعویٰ  کریں اور یقیناً کریں گے ہمارا مدعی برصغیر اور اس کی تحریکات ہیں لیکن ہمیں تب بھی اتفاق نہیں کیونکہ مولانا سندھی نے بھرچونڈی شریف ضلع گھوٹکی میں سید العارفین حافظ محمد صديق صاحب رح کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور وہاں دو ماہ تک قیام رہا۔حافظ صاحب نے مولانا سندھی کو اپنا روحانی بیٹا قرار دیا تھا اور ان پر پدرانہ شفقت فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ حافظ محمد صديق بھرچونڈی رح نے اپنے نامور خلفاء کی موجودگی میں فرمایا کہ :جیساکہ عبیداللہ نے خدا کے لیے اپنے والدین کو چھوڑا ہے اس لیے ابھی میں والدین کے تمام فرائض ادا کرونگا۔ پھر مولانا سندھی کو شیخ الہند کی خدمت میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دیوبند روانگی کے وقت مولانا سندھی کے لیے یہ دعا فرمائی :
اے اللہ! عبیداللہ تیرے حوالے ہے، ان کو علم کی دولت سے مالا مال اور مشرف فرماء۔ اور اپنے خلفائے کرام کو مولانا سندھی کے بارے میں وصیت کی تھی کہ ان کا خاص خیال رکھنا۔ جب مولانا سندھی تعلیم حاصل کرکے خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف پہنچے تو حضرت حافظ محمد صديق صاحب کا دس روز پہلے انتقال ہوچکا تھا مولانا سندھی کو یہ خبر سن کر بہت دکھ، رنج اور دلی صدمہ ہوا۔
مولانا عبیداللہ سندھی اپنی ذاتی ڈائری میں لکھتے ہیں:
اس کے بعد مولانا تاج محمود امروٹی صاحب نے اپنے مرشد کا وعدہ پورا کیا اور وہ میرے لیے والد کی طرح تھے۔ مولانا سندھی صاحب امروٹ شریف میں سات سال رہے۔درس وتدريس، صحافت اور تبلیغی زندگی میں مصروف اور مگن رہے۔ اب پتہ نہیں کیوں تاریخ نویسوں اور سوانح نگاروں  نے مولانا سندھی کے ان سات سالوں کا تذکرہ گول کردیا ہے۔مولانا سندھی پر کام کرنے والا بڑا نام اور شارح پروفیسر سرور صاحب کی کتابیں بھی اس حوالے سے خاموش ہیں اس کی کچھ تلافی عبد الحميد خان نے اپنی کتاب” مرد مؤمن “میں کی ہے۔

صاحبو!
فراغت کے بعد والے متصل سات سالوں  کا تذکرہ اردو کتابوں سے گُم ہے اگر کہیں تذکرہ ہے تو نامکمل اور ادھورا، یہیں سے ہمارے بعض قلمکاروں اور لکھاریوں کو  د ھوکہ ہوا  ہے۔
آئیے! ہم سات سالوں کا کچھ تذکرہ کرتے ہیں فراغت کے متصل بعد والا وقت ہر ایک کے لیے اہم ہوتا ہے کیونکہ اس میں اپنے جدوجہد کا طریقہ کار اور راستے کا انتخاب، منزل کا تعین کیا جاتا ہے۔ جس نے فوراً  بعد کوئی فیصلہ نہ کیا اور بیٹھا  رہا تو انقلاب تو کجا اپنی زندگی بھی نہیں بدل سکتا۔ مولانا سندھی کے یہ سات سال امروٹ شریف میں امام المجاہدین اور قطب الاقطاب مولانا ابو الحسن سید تاج محمود امروٹی صاحب رح کی نگرانی میں گزرے اور حضرت امروٹی نے مولانا سندھی صاحب کو درس و تدريس کا میدان فراہم کیا سینکڑوں شاگرد مہیا کیے، جلد امروٹ شریف نے عظیم درسگاہ کا درجہ حاصل کیا اور مولانا سندھی کے لیے عظیم الشان کتب خانے کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے مولانا سندھی نے خوب استفادہ کیا اور ایک پریس محمود المطابع کے نام سے وجود میں لایا گیا۔  جس سے بیشمار کتب اور ایک ماہنامہ” الاخوان “چھپتا رہا دوسری طرف ذاتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں۔ اور شادی کا انتظام بھی حضرت امروٹی صاحب نے فرمایا مولانا سندھی کا نکاح اسلامیہ کالج سکھر کے استاد محمد عظیم یوسفزئی صاحب کی بیٹی سے کروایا۔ غرض مولانا سندھی صاحب فراغت کے بعد ایسی جگہ قیام پذیر رہے جہاں ان کا  علمی فکری اور نظریاتی سفر مزید بلندیوں کی طرف  جاری رہا۔  بے شمار شاگرد اور ہزاروں کتابوں نے ان کی سوچ اور فکر  کو مزید بلند کیا۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ  ہوگا  کہ مولانا سندھی کی زندگی میں فکر انقلاب کو پروان چڑھانے والےانہی بزرگوں کا ساتھ ہے ، جہاں یکسوئی سے مرشد کامل صحبت میں اپنا سفر طے کرتے رہے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں مولانا سندھی کی تربیت میں جہاں شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کا ہاتھ ہے اور وہاں ان کی تعلیم وتربيت میں سندھ کے بزرگوں کا بھی بڑا کردار ہے۔ جنہوں نے مولانا سندھی کی ہر میدان میں مدد کی اور مواقع فراہم کیے۔ کچھ  دوستوں کو یہ بھی مغالطہ  ہے کہ وہ حضرت امروٹی کو نرا اور مطلق صوفی سمجھتے ہیں۔حالانکہ حضرت امروٹی سراپا مجاہد اور ایک عظیم قائد بھی تھے۔ سندھ میں انگریز سے مقابلہ اور للکارنے کا کام حضرت امروٹی نے کیا اور سندھ کے لوگوں میں آزادی کی روح پھونکی تحریک ہجرت کی قیادت کی اور ہر تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مولانا سندھی جب حضرت شیخ الہند محمود الحسن دیوبندی رح کے مشن پر افغانستان تشریف لے گئےتو حضرت امروٹی کے مریدین نے بارڈر کراس  کرنے میں مدد کی اور شیخ عبدالرحیم نے اپنی بیوی کے زیور بیچ کر سات ہزار روپئے فراہم کیے۔پھر امروٹ میں قیام کے دوران ہی مولانا محمود الحسن دیوبندی کا مولانا سندھی کے توسط سے مولانا تاج محمود امروٹی صاحب سے تعلق ہوا۔ امروٹ کے بعد مولانا سندھی پیر جھنڈو میں رہے اور مدرسہ دار الرشاد کی بنیاد رکھی اور مولانا سندھی کا مولانا محمد صادق مدرسہ عربیہ مظہر العلوم کھڈہ کے بانے سے بھی گہرا تعلق تھا یہ ان کے ہمعصر اور مولانا محمود الحسن دیوبندی کے شاگرد تھے۔ الغرض مولانا سندھی کی شخصیت بہت جامع کمالات رکھتی  تھی ان کی خدمات کے اعتراف پر ہر ایک مجبور ہے لیکن علماء سندھ کی خدمات کو مولانا سندھی کی جدوجہد کا مرہونِ منت کہنا زیادتی ہے۔ کیونکہ یہاں کے علماء کرام اپنے سلف واکابرین کے راستے پر چلے  ہیں اور ان کے دیے ہوئے مشن پر آگے بڑھے  ہیں۔ مولانا سندھی کے کردار اور سوچ میں اس کا نمایاں کردار تھا۔ ہاں البتہ مولانا سندھی نے اپنے سندھ میں رہنے کے زمانے میں شاگردوں ہم فکر ہم خیال لوگوں کی جماعت تیار بھی کی اور اس کو سرگرم کرنے کے لیے کوشاں رہے لیکن زیادہ پذیرائی نہیں ملی بعد میں اس فکر سے وابستہ حضرات بڑی تیزی سے جمہور سے ہٹتے گئے۔ آخر کار وہ اب خالصتاً  مولانا سندھی کے فکر والے احباب نہیں رہے باقی سندھ کے علماء کرام مولانا سندھی کے قدر دان اور دل سے احترام کرتے ہیں۔ خلاصہ کلام جن جن علماء کرام نے تحریکات میں مولانا سندھی صاحب کے ساتھ کام کیا یا تو ان کے مربی تھے یا ہمعصر تھے۔ مولانا تاج محمود امروٹی، مولانا دین محمد وفائی، مولانا محمد صادق اور شیخ عبدالمجيد وغیرہ باقی مولانا سندھی کے شاگرد بھی آخر میں ساتھ ہوگئے تھے۔ مولانا سندھی صاحب کی تعلیم وتربيت میں علماء سندھ کا نمایاں کردار ہے۔ اور انہوں نے مولانا سندھی کو پلیٹ فارم مہیا اور اسباب فراہم کیے جس سے مولانا سندھی کو اپنے پروگرام اور مشن کو آگے بڑھانے میں مدد ملی یہ تاریخ کا وہ پہلو ہے جس کو اردو کتابوں میں جگہ نہیں مل سکی اب کیوں نہیں ملی؟ اس کا جواب آپ خود تلاش کریں ہم نے یہ مواد سندھی مستند کتابوں کے ذریعے آپ کے گوش گزار کیا ہے۔ اگر ہم سے نتیجہ نکالنے میں غلطی ہوئی ہے تو احباب مطلع کریں رجوع میں دیر نہیں لگے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *