فوری انصاف۔۔۔عزیز خان/قسط4

کر و مہربانی تم اہل زمین پر۔۔عزیز خان/قسط3

صادق آباد تحصیل سندھ بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے اس کا کچھ حصہ تھانہ بھونگ کی طرف سے ضلع راجن پور کی تحصیل شاہ والی سے جا ملتا ہے۔ تین طرف سے گھری اس تحصیل میں دولت کی بے تحاشا روانی ہے۔بڑے بڑے ناموار سیاست دان اور زمیندار اس تحصیل میں رہائش پذیر ہیں صرف تھانہ بھونگ میں چار سٹیٹس ہیں۔جمال دین والی سٹیٹ جس میں مخدوم احمد محمود ا ور علی اکبر محمود۔بھونگ سٹیٹ جس میں رئیس شبیر، رئیس منیر، رئیس محبوب وغیرہ۔رحیم آباد سٹیٹ جس میں لغاری خاندان آباد ہے چوتھی سٹیٹ نواز آباد ہے جو سابقہ وزیرتسلیم نواز گردیزی کی ہے۔زرعی زمین زرخیز اور زمیندار خوشحال ہیں اسی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے لیے بھی صادق آباد تحصیل ہمیشہ سونے کی چڑیا رہی ہے۔

کوٹ سبزل میں میری تعیناتی کے دوران کئی ایسے واقعات ہوئے جو میرے تھانہ میں نہیں ہوئے تھے مگران تھانوں میں ہوئی وارداتیں ٹریس کرنے میں افسران ہمیشہ مجھے بلایا کرتے تھے۔مورخہ 02-08-1992کو وارث علی بھٹہ سکنہ شاہد کالونی اور حافظ مقصود صبح چار بجے ورزش کرنے اورہیڈ برج صادق آباد پہنچے تھوڑی دیر بعد ایک کار جس میں تین آدمی سوار تھے آئے اور اسلحہ کے زور پر وارث علی اور حافظ مقصود کو اغوا کرلیا ملزمان کار میں سوارتھے۔ اشرف پیٹرول پمپ کے پاس وارث علی نے مذاحمت کی جبکہ حافظ محمود نے کار کا سٹرینگ قابو کر لیا۔اس کشمکش میں کار کاپچھلا دروازہ کھل گیا کیونکہ کار آہستہ ہوچکی تھی وارث علی کار سے باہر کود گیا۔جبکہ ملزمان حافظ مقصود کو اغواہ کر کے لے گئے۔جوں ہی ASPاللہ ڈینو خواجہ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو وہ خود بھی موقعہ پر پہنچ گئے اور مجھے بھی کوٹ سبزل سے بلوالیاساتھ ہی ہدایت کی کہ SHOسٹی صادق آباد کی مدد کروں کافی محنت کے بعد مقدمہ میں سے ایک ملزم عبدالستارولد عصمت اللہ جوکہ دہہ مانک تھانہ ڈھرکی کا رہائشی تھا کو ٹریس کر لیا۔اب مسئلہ اسکی اور بقیہ ملزمان کی گرفتاری کا تھا۔لیکن ملزم عبدالستار روپوش تھااور اپنے رہائشی علاقہ میں بھی نہیں آرہاتھا۔

میں نے اپنی تعیناتی میں یہ مشاہدہ کیا کہ سندھ کے جرائم پیشہ افراد جوپنجاب میں واردات کرتے ہیں جبکہ وہ اپنے رہائشی علاقہ میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف سندھ میں کوئی مقدمہ نہیں ہوتا اس لیے نہ تو سندھ پولیس انھیں تنگ کرتی ہے اور نہ ہی کسی کو ا ن کے جرائم کی بھنک پڑتی ہے۔تھانہ کندکوٹ جوکہ کشمور سے آگے ہے وہاں میرا ایک بیج میٹ نیاز چانڈیو بطور SHOتعینات تھا اور سندھی ملزمان کی گرفتاری میں ہمیشہ میری مددکرتاتھا۔حافظ مقصود کو اغواہ ہوئے دو ماہ ہونے والے تھے ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ عبدالستار ملزم نے کند کوٹ آنا ہے میں نے فوری طور پر نیاز چانڈیو سے رابطہ کیا اور اسے ملزم کے تمام کوائف بتائے۔جس نے مجھے سے وعدہ کیاجیسے ہی ملزم گرفتار ہوگا آپکو بتادوں گا۔ایک گھنٹہ بعد مجھے نیاز چانڈیو کی ٹیلی فون کال آئی کہ ملزم ستارکو ہم نے گرفتار کرلیا ہے آکر لے جائیں۔ میں فوری طور پرکند کوٹ روانہ ہوگیا نیاز چانڈیو نے ہماری خوب خدمت کی بکرے کی سجی جوسندھی روایتی ڈش ہے ہمیں کھلائی اور ملزم بھی ہمارے حوالے کردیا۔ویسے اکثر سندھ پولیس پنجاب پولیس کی مدد نہیں کرتی ہے۔

واپسی پر میں ملزم کو تھانہ کوٹ سبزل لے آیا دوران تفتیش اس نے انکشاف کیا کہ حافظ مقصود کواغواہ کے بعد اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کردیا اور اسکی لاش کوگڈو بیراج سے آنے والی نہر میں پھینک دیا تھا۔میں نے SSPذوالفقار چیمہ اور ASPاللہ ڈینوخواجہ کوتمام حالات بتائے جنھوں نے ملزم کو SHOسٹی صادق آبا دکے حوالے کرنے کا کہا بقیہ ملزمان کے نام بھی میں نے SHOسٹی صادق آباد کو بتادیئے ملزم عبدالستار جو بھی SHOسٹی صادق آباد کے حوالے کردیااب بقیہ ملزمان کو گرفتار کرنا اسکی ذمہ داری تھی۔

اسی طرح کا دوسرا مقدمہ 204/92مورخہ 10-08-1992کو تھانہ سٹی صادق آباد میں ہی درج ہوا۔اس مقدمہ کا مدعی محمد اقبال کلواڑ تھا۔اس مقدمہ میں ملزمان 26-02-1992کوسوزوکی کارصادق آباد سے کرایہ پر لے کر گئے جس کا ڈرائیور غلام صفدرتھاجو سات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اس کی چار بیٹیاں بھی تھیں گھرکااکیلا کمانے والا فرد تھا۔ مدعی اپنے طور پرکار و ملزمان تلاش کرتا رہاچھ ماہ گزر گئے لیکن کارنہ ملی اور نہ ہی ملزمان و غلام صفدر مغوی کاکوئی پتہ چلا۔اس دران مدعی یا صفدر کے ورثاء نے پولیس سے بھی کوئی رابطہ نہ کیامدعی کے درخواست دینے پر آخر کار اس وقوعہ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ایف آئی آر نمبر/92 204کے مطابق نامعلوم افراد سوزوکی کارکرایہ پر لے کر گئے تھے جس وقت ملزمان کار کرایہ پر لے کہ جا رہے تھے تو وہاں پر موجود ایک ڈرائیور حاجی اسلم گبول بھی موجود تھا جس نے ملزمان کو دیکھا۔ان کے حلیہ جات بھی اس نے بتائے مزید بتایا کہ ملزمان سرائیکی زبان بول رہے تھے۔ اس مقدمہ کی تفتیش میں،بھی میں سٹی صادق آباد پولیس کے ساتھ شامل رہا۔ان وارداتوں کی وجہ سے SSPذوالفقار چیمہ نے سابقہ SHOکو تبدیل کر کے منیر افضل خان سب انسپکٹر جوکہ احمد پور شرقیہ کا رہنے والا تھا کو بطور SHOسٹی صادق آباد تعینات کردیا۔منیر افضل خان (مرحوم) انتہائی دلیر پولیس آفیسر تھا میں نے اورمنیر افضل نے اس کیس پر کافی محنت کی ایک دن مدعی مقدمہ نے اطلاع دی کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ ان کی سوزوکی کارضلع اٹک کی پولیس نے برآمد کی ہے اورتھانہ صدر اٹک میں موجود ہے میں بھی کار شناخت کرکے آیا ہوں وہ واقعی میری کار ہے۔ اس اطلاع پرہم نے فوری طورپر اپنا ایک سب انسپکٹر اٹک روانہ کیا جس نے وہاں سے بذریعہ ٹیلی فون بتایا کہ واقعی سوزوکی کار تھانہ پر موجود ہے جسکو زیردفعہ 550ض ف قبضہ میں لیا ہوا ہے کار محمد الیاس نامی شخص جو کہ چک 23/pتھانہ صدر خانپورضلع رحیم یار خان کا رہنے والا ہے کہ قبضہ سے ملی تھی اس کے پاس گاڑی کے کاغذات نہ تھے لہذا کار کوپولیس نے قبضہ میں لیا۔میری اور منیرافضل کی تعیناتی خانپور میں بھی رہی تھی ہم فوری طورپر خانپور روانہ ہوگئے ملزم الیاس کا پتہ کیا جو خوش قسمتی سے اپنے گھر پر مل گیاکیونکہ وقوعہ کو چھ ماہ ہوچکے تھے اس لیے اسے تسلی تھی کہ وہ پکڑا نہیں جائے گاتفتیش میں ملزم الیاس نے انکشاف کیا کہ اس واردات میں میرے ساتھ اصغر ولد یوسف آرائیں جوکہ چک 23/pکا ہی رہنے والا ہے بھی شامل تھااس کے علاوہ تین افراد نذیر، باسط اور غفار بھی شامل ہیں۔ملزم محمداصغر بھی اپنے گھر سے مل گیا دونو ں ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ ڈرائیور غلام صفدر کے انھوں نے ہاتھ، پاؤں باندھے اوراسکا گلا دبا کر قتل کردیا تھا۔ لاش کوبعد میں تھانہ ظاہر پیر کی پولیس چوکی چاچڑاں سے آگے پل لنجی وال کے قریب ویران علاقہ کے سرکنڈوں میں پھینک دیا تھا۔میں اور منیرافضل خان فوری طور پر ملزمان کو ہمراہ لے کرموقع پر پہنچے ملزمان کی نشاندہی پر پل لنجی وال کے قریب جھاڑیوں میں سے انسانی ہڈیاں برآمد ہوئیں۔ہڈیوں سے گوشت غائب تھا جبکہ اسکے ہاتھ اور پاؤں اسی طرح بندھے ہوئے تھے موقع پر سخت بدبو تھی ہڈیاں اکٹھی کر کے انہیں ہسپتال ظاہر پیر بھجوایادیا گیااورملزمان کو لے کرواپس صادق آباد پہنچ گئے۔

مقتول غلام صفدر کے جنازہ میں بہت لوگ تھے سب ہی غمزدہ تھے کیونکہ قبل ازیں بھی میں لکھ چکا ہوں کہ مقتول گھر کا واحد کفیل تھا اس کے علاوہ کمانے والاکوئی نہ تھاحافظ مقصود اور غلام صفدر کو اغواہ اور قتل کرنے دینے کی وجہ سے صادق آباد کی عوام میں پولیس کی کارگردگی کے خلاف شدید اشتعال پایاجاتا تھا۔ASPصاحب نے منیر افضل خان کو میٹنگ میں یہ ہدایت کی ان ملزمان کی حفاظت کا خصوصی خیال کریں۔

زمانہ طالبعلمی سے ہی مجھے بیڈمنٹن کھیلنے کا شوق تھا۔میں نے بیڈمنٹن کے مختلف نیشنل لیول کے ٹورنامنٹ بھی کھیلے منیر افضل خان بھی بیڈمنٹن کھیلنے کا شوقین تھا دوران ملازمت بھی یہ شوق ختم نہ ہوا۔میں روزانہ رات کو آٹھ، نو بجے کوٹ سبزل سے صادق آباد آجاتا تھا جہاں ہم کلب میں اکٹھے بیڈمنٹن کھیلا کرتے تھے۔ مورخہ11.10.1992 منیر افضل خان کی سرکل گشت تھی گیم کھیلنے کے بعد میں کوٹ سبزل جانے کے لیے نکل ہی رہا تھا کہ وائرلیس آپریٹر نے سرکاری گاڑی کے سیٹ پرمنیر افضل خان کو بتایا ” فوری طور پر تھانہ پہنچیں ایمرجنسی ہے “میں بھی منیر افضل خان کے ساتھ تھانہ سٹی صادق آباد آگیا۔وہاں پر محرر عبدالغفور پریشان کھڑا تھا نے بتایا کہ 12بجے تھانہ سے سیکنڈ شفٹ کی گشت میں نے نکال دی تھی احتیاطََ حوالا ت کو چیک کیا تو حوالات تھانہ کی شمالی دیوار میں باتھ روم کے ساتھ نقب لگی ہوئی تھی میں نے فوری طورپر حوالات کا تالا کھولا اوراندر جاکر دیکھا تو قتل اور اغواہ کے ملزمان الیاس، اختر اورعبدالقادر حوالات سے فرار ہوچکے تھے۔میں نے منیرافضل کے چہرہ کی طرف دیکھا اتنی محنت سے ملزمان کو ٹریس کرنا، گرفتار کرنااور اب اس طرح ملازمین کی غفلت اور لاپرواہی سے خطرناک ملزمان کا اس طرح حوالات میں نقب لگا کر فرار ہوجانا انتہائی شرمندگی کی بات تھی۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح SSPاور ASPکو اس وقوعہ کے بارے میں بتایا جائے۔منیرافضل خان نے کہا کہ آپ ASPصاحب سے بات کریں میرے لیے تو یہ ڈوب مرنے کا مقام ہے میں نے اسے حوصلہ دیا اورساری بات ASPاللہ ڈینوخواجہ کو بتائی یہ سن کر انھوں نے غصہ کا اظہار کیااور بولے میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ان ملزمان کی حفاظت کرنی ہے۔ ایسے حالات میں پولیس آفیسر کو پریشان نہیں ہونا چاہیے اگر پولیس آفیسر پریشان ہو اور اپنے ہوش و حواس قائم نہ رکھے تو پھر ایسے مجرمان کی دوبارہ گرفتاری بہت مشکل ہوجاتی ہے۔SSPذوالفقار چیمہ کی بھی تھوڑی دیر بعد مجھے ٹیلی فون کال آگئی چیمہ صاحب کمال کے حوصلہ مند انسان اور آفیسرتھے بس اتنا کہا ” عزیز اللہ یہ ملزمان مجھے ہر صورت میں دوبارہ گرفتار چاہیں “کسی بھی غیرت مند پولیس افیسر کے لیے اتنے الفاظ ہی کافی ہوتے ہیں۔

ASPصاحب نے سرکل کے تمام SHO’sکو بلوالیااورمختلف ریڈنگ پاڑٹیاں بنا کر ان ملزمان کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے گھر ریڈ کرنے کے لیے روانہ کردیامیں اور منیرافضل خان بذریعہKLPروڈ خانپور کی طرف روانہ ہوگئے ابھی ہم تھانہ رکن پور کی حدود میں پہنچے تھے کہ وائرلیس پر SHOصدر صادق آباد نے اطلاع دی کہ ابھی ابھی تین کس ملزمان نے آزاد نرسری علاقہ تھانہ سٹی صادق آباد کے نزدیک سید نامی شخص کا موٹر سائیکل یاماہا 100سی سی،اس کی ایک بندوق دونالی معہ چرمی پیٹی جس میں کارتوس تھے چھین لی ہے اور فرار ہوگئے ہیں ملزمان نہر پنجند کی پٹڑی لے کر جارہے ہیں ہوسکتا ہے یہ حوالات سے بھاگے ہوئے ملزمان ہوں۔ہم نے ضلع کی باقی موبائلز کو بھی بذریعہ وائرلیس ناکہ بندی کا کہا اور خود بھی نہر پنجند کی پڑی پر ملزمان کے عقب میں روانہ ہوگئے تھوڑی دور پہنچے تو گاڑی کی روشنی میں ایک موٹر سائیکل نظر آئی ہماری گاڑی دیکھ کر ملزمان نے موٹرسائیکل پٹڑی پر پھینک دی اور قریبی جھاڑیوں میں بھاگ گئے جوں ہی ہم قریب پہنچے تو ملزمان نے جھاڑیوں میں سے پولیس پر فائرنگ شروع ہوگئی ہم نے بھی جوابی فائرنگ کی جوابی فائرنگ کی تھوڑی دیر بعدملزمان کی جانب سے فائرنگ کی آواز بندہوگئی ہمارے ساتھ آئے پولیس ملازمین کرالنگ کرتے ہوئے تھوڑا آگے گئے تو میں ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا ہوا تھا۔میں اور منیر افضل خان بھی زخمی ملزم کے پاس پہنچ گئے بقیہ دوملزمان بھی تھوڑی دور تشویش ناک حالت میں زخمی پڑے ہوئے تھے جنھیں ہم نے شناخت کیا یہ وہی ملزمان تھے جو حوالات تھانہ سٹی صادق آباد سے فرار ہوئے تھے۔میں نے زخمیوں کو فوری طور پر گاڑی میں ڈال کر قریبی ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن اتنی دیر میں تینوں ملزمان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے۔ اسی دوران SSPرحیم یار خان کی گاڑی بھی وہاں پہنچ گئی جس میں ریاض ڈرائیور اور عبدالھادی گن مین تھے۔ملزمان کے قبضہ سے ملنے والا موٹر سائیکل بھی صادق آباد سٹی سے چھیناہوا نکلا۔ وائرلیس پر میں نے اس مقابلہ کی اطلاع SSPرحیم یار خان کو دی جنھوں نے تمام پولیس پارٹی کو شاباش دی۔

اتنے خطرناک ملزمان کو ایک ہی رات میں دوبارہ ٹریس کرنا اور کیفر کردار تک پہنچانا ہماری بہت بڑی کامیابی تھی۔جس پر SSPذوالفقار چیمہ بہت خوش تھے۔انھوں بذریعہ ٹیلی فون مجھے حکم دیا کہ ان ملزمان کی لاشوں کو چوک غوثیہ صادق آباد میں عبرت کے لیے لٹکا دیا جائے میں نے ASPاللہ ڈینوخواجہ کو SSPصاحب کا حکم سنا دیا۔ASPصاحب نے ہمیں کہا کہ تین ملزمان جو پولیس مقابلہ میں ہلاک ہوئے کیونکہ اب وہ اس دنیامیں نہیں رہے ان کا اسطرح چوک میں لٹکایا جانا مسائل پیدا کرسکتا ہے۔میں SSPصاحب سے بات کرتا ہوں۔بڑی مشکل سے منت سماجت کے بعد SSPصاحب کو اس بات پر راضی کرلیاکہ لاشوں کو چوک میں نہ لٹکا یا جائے۔۔چیمہ صاحب راضی توہوگئے لیکن انھوں نے یہ کہا کہ یہ لاشیں صبح دس بجے غوثیہ چوک میں لے کر آجائیں میں بھی آؤں گا۔لیکن صبح کے اخبارات میں یہ خبریں لگ چکی تھیں کہ ملزمان کی لاشوں کو چوک میں لٹکا دیاگیا۔ چیمہ صاحب صبح ٹھیک دس بجے غوثیہ چوک پہنچ گئے ان کے آنے سے قبل ہی ہم نے ملزمان کی لاشوں کو ٹریکٹر ٹرالی میں رکھ کر غوثیہ چوک پہنچادیا۔عوام کا جمع غفیر وہاں موجود تھا جو پولیس کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔چیمہ صاحب نے وہاں لوگوں سے خطاب کیا میرا اور منیرافضل خان کا ہاتھ پکڑکہ بلند کیا اور لوگوں کو بتایا کہ یہ وہ افسران ہیں جنھوں نے اپنی جان پر کھیل کر ان ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا۔ملزمان کی لاشوں کو چوک میں رکھنے سے یہ فائدہ ہوا کہ سندھ سے آنے والے جرائم پیشہ افراد ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ “باقی تو سب ٹھیک ہے مگر لاشوں کو چوک میں رکھنا غلط بات ہے”۔ صادق آباد میں وارداتیں ہونا ایک دم کم ہوگئیں۔ سچ کہتے ہیں کہ جس ضلع کا DPOاور تھانہ کا SHOتگڑا ہو اس کے علاقہ میں جرائم کم ہوتے ہیں۔

18اگست 1992کو پولیس لائن رحیم یارخان میں SSPذوالفقار چیمہ نے رحیم یار خان ضلع کے معززین،میڈیا اور سرکاری افسران کو بلوایا جہاں انھوں نے اپنی تقریر میں پندرہ منٹ تک میری تعریف کی اور مجھے ضلع کے بہترین SHOکی شیلڈ دی۔میرے لیے یہ اعزاز تھا کہ ذوالفقار چیمہ جیسے ایماندار پولیس آفیسر نے میری خدمات کو سراہا۔نئے آنے والے پولیس آفسران کو میں بس یہی کہوں گا کہ جوبھی کا م آپ کریں وہ نیک نیتی اور ایمانداری سے کریں کسی لالچ اور خوف میں کیا جانے والا کوئی بھی عمل ٹھیک نہیں ہوتا جس کام میں آپکا ضمیر مطمن نہ ہو وہ کبھی نہ کریں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *