• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سقوط ڈھاکہ۔ کون سا مو ڑ ہم سے غلط کٹ گیا۔۔۔۔۔محمد عمران ملک

سقوط ڈھاکہ۔ کون سا مو ڑ ہم سے غلط کٹ گیا۔۔۔۔۔محمد عمران ملک

دسمبر شروع ہوتا ہے تو ایک احساس ہے جو رگوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ ایک زخم ہے جو آج بھی تازہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ایک شیر تھا میں ارض بنگال کا۔۔۔۔۔ وہ بنگال جس نے آزادی کی تحریک میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ وہ بنگال جس میں پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ وہ بنگال جس کے اے کے فضل حق نے قراردار پاکستان پیش کی تھی۔ آج کے دن وہ بازو ہم سے کٹ گیا تھا۔یعنی کہ ایک بازو پہ  اُڑتا ہوں آج کل کہ دوسرا دشمنوں کو گوارا نہ تھا۔ اپنوں کی دھوکا بازی یا غداری، دشمنوں کی چال یا سازش۔۔ جو بھی تھا اسلام کے نام پر لیا جانے والا ملک کٹ چکا تھا۔ آج سال ہا سال گزرنے کے بعد بھی ہم خود کو ادھورا محسوس کرتے ہیں۔

ہم نے کبھی رک کر سوچا کہ ایسا کیوں ہوا؟۔۔۔ کون سا موڑ ہم سے غلط کٹ گیا؟زندہ قومیں تو اپنی شکست سے سبق سیکھتی ہیں۔ بلکہ کھیل کی شکست کو بھی آئندہ کی حکمت عملی بنا لیا جاتاہے۔ لیکن ہم نے آج تک اپنی شکست کو سمجھا، نہ ہی حالات کو بہتر کیا۔یہ بیسویں صدی میں مسلمانوں پر ٹوٹنے والی سب سے بڑی قیامت تھی۔ سولہ دسمبر 1971 ریس کورس کا میدان تھا ، جی ہاں یہ وہی میدان تھا جس میں قائد اعظم نے تقریر کی تھی ۔ڈھاکہ جیسے پُر رونق شہر میں اداسی کے سائے چھا چکے تھے۔ وہ دل شکست سے بوجھل تھے جنہوں نے اس وطن کی آبیاری خون سے کی تھی۔ دوسری طرف قاتل ہاتھوں میں نیزے لیے اور زبان پر جئے ہند کے نعرے لگاتے اس میدان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ریس کورس کے میدان کو بھارتی فورسز نے گھیر رکھا تھا۔وہ آج شادماں اور خوش تھے کہ انہوں نے ایک ایسے ملک کے ٹکڑے کر دیئے تھے جو اللہ اور رسول ﷺ کے نام پر وجود میں آیا تھا۔

گزشتہ صدی میں اہل پاکستان کو دو سانحات سے گزرنا پڑا ایک تو قیام پاکستان کے وقت ہجرت کا طویل سفر اور اس کی مشکلات اور دوسرا سقوط ڈھاکہ۔ مؤرخین اس کو سقوط غرناطہ سے بھی بڑا سانحہ سمجھتے ہیں۔ وہ دن اس قدر تاریک تھا کہ شاید کسی رات کے اندھیرے سے بھی بڑھ کر تاریک۔ آل انڈیا ریڈیو سے اس اعلان نے سینوں کو چیر دیا کہ محمود غزنوی کے جانشینوں نے اندرا گاندھی کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ مسعود مفتی لکھتے ہیں کہ ہیک: یوں لگتا ہے کہ سب کچھ ہی ختم ہو گیا۔ ۔نہ جہان ہے نہ جان۔۔نہ آس رہی نہ احساس۔۔۔پاکستانی جھنڈے کے چاند تارے یہاں کیا ڈوبے کائنات کے مہ و انجم ٹوٹ گئے۔۔۔میں ہمیشہ یہ سمجھتا تھا کہ میں نے موت کو بارہا دیکھا ہے ۔۔۔جان کنی میں اکڑتے اور کھینچتے ہوئے انسانی جسم کو دیکھا ہے۔ جنازوں کو کندھے دئیے ہیں، لاشوں کو لحد میں اتارا ہے۔ پسماندگان کو پچھاڑیں کھا کھا کر گرتے دیکھا ہے۔۔۔۔مگر جو کچھ آج دیکھ رہا ہوں اس سے اندازہ ہوتا کہ میں نے آج سے پہلے موت کو کبھی نہیں دیکھا۔ موت کا اصل روپ آج دیکھ رہا ہوں، اب اگر میرے گرد قاش بہ قاش کٹے ہوئے انسانی بدن پڑے ہوں اور ان سے خون ٹپک رہا ہو تو میں کہوں گا یہ موت نہیں ہے۔۔۔۔۔ اتنے بڑے گروہ میں ہر چہرہ اکیلا ہے۔ اپنی ذات میں دھنسا ہوا ، بے یارو مددگار، دوسرے کی مدد کرنے سے قاصر، خود کو مدد ملنے سے مایوس، ہر کوئی نفسا نفسی کے عالم میں پل سراط پر اپنا توازن رکھ رہا ہے۔ کہ نیچے نہ لڑھک جائے۔ میں ادھر ادھر نظر دوڑاتا ہوں تو ڈھاکا کی نکھری ہوئی رات خاموش ہے۔ پتے سرسراتے ہیں تو جیسے حسرتیں سسکیاں لے رہی ہیں۔ اجنبیت اور بیگانگی سر راہ بکھری پڑی ہے۔میں اس رات کا موازنہ اس رات سے کرتا ہوں جب پاکستان بنا تھا۔ تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی شب جیسے کل کی بات ہو لاہور کی چھتوں پر لوگوں نے ولولہ انگیز نعرے لگائے تھےکہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ ۔۔۔۔۔۔ان دنوں ڈھاکہ میں بھی یہی نعرے گونجتے تھےمگر آج ہم اس کوچے سے بارش سنگ کے ساتھ نکالے جا رہے تھے ، تو یہ سیکولر سوشلسٹ اسٹیٹ آف بنگلہ دیش ہے اور یہاں کے جلسوں میں صرف جئیے بنگلہ دیش کا نعرہ گونجتا ہے”۔ مسعود مفتی مزید کہتے ہیں کہ ہم نے مملکت خداد پاکستان بنا کر آللہ کو دھوکا دینے میں بنی اسرائیل کو بھی مات کر دیا اور ایک ایسے معاشرے کو جنم دیا جس میں ایک دیانت دار آدمی کےلیے ذہنی اذیت اور ذاتی تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔۔ کچھ  بھی نہیں۔آج کی رات اس وعدہ خلافی کی سزا ہے جو ہم نے 1947 والی رات کا وعدہ پورا نہ کر کے کی ہے”۔

ادھر ڈھاکہ چھاؤنی کا منظر یہ ہے کہ افواج کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، لوگ کونوں میں دبک کر رونے لگے جیسے کسی عزیز کو کھو دیا ہو۔ صدیق سالک کہتے ہیں کہ “یہ گریا و زاری کسی سپاہی کے شایان شان تو نہ تھی لیکن جواں مرگ پر کس کا  کلیجہ منہ کو نہیں آتا۔ چوبیس سالہ پاکستان کا آدھا دھڑ کاٹ کر الگ پھینک دیا گیا تھا۔۔۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے سامنے سرد مجسمے رکھے ہیں جن کی زبانیں گنگ اور چہرے سُن ہیں اس سناٹے میں صرف نگاہیں بولتی تھیں اور وہ بھی کہتی کم اور پوچھتی زیادہ تھیں۔ ان کا ایک ہی سوال تھا یہ سب کیا ہوا؟ کیوں کر ہوا؟
لاکھوں افراد اس منظر کو دیکھنے کے لیے تماشائی بنے تھے کہ اب ریس کورس کے میدان میں کیا ہو گا۔ سارا ہجوم گویا پاگل ہو چکا تھا۔ بھارت اپنی پچیس سالہ جدوجہد کی کامیابی پر خوش تھا اور شادیانے بجا رہا تھا ۔ مکتی باہنی اپنے خون کی پیاس نہتے عوام کے خون سے بجھا رہے تھے۔ لوگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر گھروں سے نکالا گیا۔ سنگینوں پر چڑھایا گیا۔ ایک خون آشام مناظر تھے جو معلوم نہیں تاریخ نے کس حوصلے سے محفوظ کیے ہوں گے ۔۔۔

کیا ہندوؤں نے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا تھا؟کیا واقعی دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈوب چکا تھا؟کہانی اتنی سادہ نہیں کہ ایک ملک کے دوٹکڑے ہو گئے ۔ بلکہ در حقیقت اوپر والے سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بات کہ جغرافیائی فاصلہ تھا۔ زبان الگ تھی۔ کوئی چیز قدر مشترک نہ تھی۔ ایک بے بنیاد دلیل ہی کہی جا سکتی ہے۔ کیا جدید ذرائع مواصلات نہیں تھے، جن کو اس فاصلے کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا نہیں بلکہ “نئے پاکستان” کے ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمٰن دراصل انتہا درجے کے لالچی ، خود غرض اور بے اصول سیاست دان ثابت ہوئے۔ اور ان ہی نے تفریق بھی پیدا کی اور مشرقی اور مغربی پاکستان میں پھیلے ہوئے منفی اثرات کو اور زیادہ اجاگر کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ علامہ مشرقی نے اس المیے کے بارے میں ایک جلسے میں پہلے آگاہ کر دیا تھا ” مسلمانوں آج اس پلیٹ فارم سے میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں غور سے سنو اور بغور سنو ، مستقبل میں کسی وقت اور تمہیں ایک خطرناک صورت حال کا سامنا ہو گا، مجھے صاف نظر آ رہا ہےکہ 1970میں اس قوم پر ہر طرف سے یورش ہو گی۔ داخلی صورت حال خراب بلکہ بہت خراب ہو جائے گی۔ ایک بڑے پیمانے پر عام کشت و خون ہو گا۔ میری لکھ لو کہ 1970 میں پاکستان کی خود مختارانہ حاکمیت کو ایک بڑا ہی سخت خطرہ ہو گا۔” علامہ مشرقی نے اس دوران ایک تجویز دی کہ دونوں حصوں کے لوگوں کی ثقافت کی خلیج کو پاٹنے کا ایک حل ہے اور وہ یہ کہ دونوں حصوں کی دس دس لاکھ آبادی کو ایک دوسرے حصے میں آباد کر دیا جائے لیکن اس تجویز پر اس وقت کسی نے غور نہیں کیا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان جغرافیائی سے زیادہ ثقافتی فاصلہ اصل مسئلہ تھا۔ یہ ایک ٹائم بم تھا جو وقت آنے پر پھٹ گیا۔اور لاالہ کے اسلامی رشتے کوختم کر گیا زبان کے مسئلے نے اس بم کو ایٹم بم بنا دیا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اسی زبان کے مسئلے نے اور نفرتوں کو جنم دیا۔ہندو اساتذہ شر پھیلانے میں پیش پیش تھے ادھر مغربی پاکستان سے بھی پیار کی بات نہیں کی جا رہی تھی ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگا کر نفرت میں اضافہ کیا گیا تھا، بنگالیوں کو ملیچھ اور بدبودار کہا گیا۔ حالانکہ اسلام نے عربی اور عجمی کی قید کوختم کیا تھا، کاش کچھ لوگ سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ایک بار ہی اسلام کی آغوش میں لے لیتے کیوں کہ ان سب عصبیتوں کا علاج تو اسلام ہی تھا لا الہ الا اللہ کا نعرہ ہی تھا۔

وہ کون سے مظاہر تھے جنہوں نے ہمیں اس نہج پر لا کر کھڑا کر دیا تھا۔؟ وہ کون سے عوامل تھے جو اس موڑ پر لے آئے تھے سب معاملات کو ۔ سب سے پہلا ہندو فیکٹر تھا جو پاکستان بننے کے بعد مغربی پاکستان سے تو چلے گئے تھے لیکن مشرقی پاکستان میں ویسے ہی رہے جیسے قیام پاکستان سے پہلے رہ رہے تھے۔ مشرقی پاکستان کا ہندو بنگالی بولتا تھا جب کہ مغربی پاکستانی مسلمان وہاں اجنبی ٹھہرا۔ ہندوؤں نے اس بات کو لے کر گہری سازش کی تھی جس میں وہ کامیاب ہوا۔ دوسرا فیکٹر وہی انگریز کا چھوڑا بیوروکریسی سسٹم تھا جس نے اور خاص چور پر مغربی پاکستان سے جانے والے بیورو کریٹس جو کہ زیادہ تر اردو اور پنجابی بولتے تھے۔ ایوب خان کے زمانے میں  بیورو کریسی کو ہر مرض کی دوا سمجھ لیا گیا تھا۔ پاکستان دی انگما آف پولیٹیکل ڈیویلپمنٹ کے مطابق “ایوب خان کا خیال تھا کہ اسلام ملک کو متحد رکھنے کے لیے ناکافی تھا” اس خیال نے معاملات بگاڑنے ہی تھے۔عوام بیزار اور خود پسند افسران کو چن چن کر پھولوں کی بستی میں بھیجا گیا جو وہاں ان پتیوں کو نوچ نوچ کر کھاتے تھے۔ ان ہی غلط فہمیوں کی بنیاد پر ایک اور فیکٹر معاشی اور اقتصادی عدم مساوات بھی تھا۔ بنگالی سانحہ مشرقی پاکستان کی بنیادی وجہ ہی معاشی عدم مساوات کو کہتے ہیں۔ ہر گزرت سال کے ساتھ مغربی پاکستان میں صنعتی خوش حالی آ رہی تھی اور مشرقی پاکستان میں کوئی بہتری نہیں آ سکی تھی۔ان ہی عوامل میں اہم ترین سیاسی عوامل تھے۔ ان کا تعلق پاکستان کی تاریخ میں ان نحوست زدہ فیصلوں سے تھا جنہوں نے اس ملک کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔ مسلم لیگ کے کئی دھڑے بن چکے تھے۔ مشرقی پاکستان میں اس کی مقبولیت ختم ہو کر رہ گئی تھی اور اس خلا کو علاقائی جماعتوں نے پورا کیا۔ بیورو کریٹس مسلم لیگ پر قابض ہو گئے تھے، جنہوں نے مسلم لیگ کو بے حیثیت کر دیا تھا۔ غلط فہمیوں کے سلسلے کی ایک کڑی مغربی پاکستان کے حکمرانوں کا رویہ اور طرز عمل تھا جو مشرقی پاکستان کے لوگوں سے روا رکھا گیا۔ الطاف گوہر نے یہ روایت بیان کی ہے کہ ایوبی دور میں نواب آف کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے وہ مشرقی پاکستان بہت کم جاتے تھے ایک دفعہ گورنر کانفرنس کے لیے ڈھاکہ گئے مجھے رات کے کھانے پر بلایا اور اس بات کی وضاحت کی کہ میں اپنا باورچی ، سبزی ، گوشت ، مصالحے اور پانی ساتھ لایا ہوں یہ میں نے مشرقی پاکستان کے معاملے مین احتیاط کی ہے۔ اب جس ملک کے گورنر کی یہ حالت ہو کہ وہ وہاں کے باورچی کے بنے کھانے نہ کھائے تو دوسری طرف نفرت نے تو جنم لینا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ منظر بھی تھا کہ جس مغربی پاکستان کے لیڈر نے بنگالیوں کو محبت دی ان کو بنگالیوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا۔

ان سب فیکٹرز کے ہوتے ہوئے چھ نکات کے تیل نے جلتی کو اور بھڑکا دیا تھا۔ چھ نکات کا زہر ملک و قوم کی رگ و پے میں دوڑ گیا۔ یہ نکات مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے اہم نکات تھے جنہوں نے ملک کے اندر مزید آگ لگا دی تھی۔ ساست دان ایک دوسرے کے گریبان کو آ گئے تھے۔ بھٹو نے شیخ مجیب کو چھ نکات پر مناظرے کا چیلنج دیا تھا لیکن عین وقت پر بھٹو نہ پہنچے جب کہ عوامی لیگ نے اپنے سیکرٹری کو بھیجا تھا۔
ون یونٹ کا خاتمہ ایک اور فیکٹر تھا جس نے ملک کو دو لخت کرنے میں کردار ادا کیا۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے حتمی کردار تو چار افراد ہی تھے۔ جنہوں نے اس ملک کو  تقسیم کر کے ہی چھوڑا۔ قدرت نے ان سے انتقام تو خوب لیا کہ آج پاکستان تو موجود ہے لیکن وہ موجود نہیں۔ جعفر سے بڑا غدار شیخ مجیب الرحمٰن اور مجیب کے ساتھ پھر اس کے گماشتے بھی تھے۔ 1970 کے انتخابات سے شیخ مجیب نے بہت فائدہ اٹھایا اور اس ملک کی تقسیم کو اپنے ایجنڈے کا حصہ بنایا۔ مجیب کے ساتھ مولانا بھاشانی تھے جس کو مغربی پاکستان اور پنجاب سے خاص قسم کی نفرت تھی مولانا بھاشانی نے انتخابات کا بائی کاٹ کر کے مجیب کے لے راستہ آسان کر دیا تھا۔

ادھر جیسے شیخ مجیب جھوٹے دعوے اور بول ادا کر کے مشرقی پاکستان کے لوگوں کوورغلا رہا تھا ادھر بھٹو نے مغربی پاکستان میں اپنی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا ایک بنگلہ بدھو کہلایا تو دوسرا قائد عوام۔۔۔اصغر خان نے مشرقی پاکستان میں ہٹھیار ڈالنے کی واردات ذمہ داری بھٹو پر عائد کی تھی۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کی تاخیر اصل میں بھٹو کی ہی ایک چال تھی۔ جو اس نے انڈیا کے کہنے پر اتنی تاخیر سے پیش کی کہ بالآخر پندرہ دسمبر آ گیا۔ جب بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل ہو چکی تھی۔بھٹو نے بعد میں پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کی فلم خاص طور پر منگوائی اور بار بار ٹیلی ویژن پر چلوائی ۔ تا کہ فوج کی تضحیک کی جاسکے۔

یحیی ٰخان بھی ان ہی کرداروں میں شامل تھا جس نے مشرقی پاکستان کو الگ کرنے میں حصہ ڈالا۔ پروفیسر جی ڈبلیو چوہدری نے لکھا ہے کہ کہ یحیٰی خان میں نہ  بصیرت تھی  نہ صلاحیت۔دشمن نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا کہ ایک عیاش قسم کا حکمران پاکستان پر مسلط ہے تو کیوں نہ اپنا وار کیا جائے۔

بس ان ہی سازشوں اور سازشیوں نے مل کر پاکستان کو دو ٹکڑوں میں بدل دیا۔ کاش ہم ان واقعات سے سبق سیکھتے اور بچے کھچے ملک کی حفاظٹ کرتے لیکن سانحات ویسے ہی آج بھی جاری ہیں جو پچاس سال پہلے جاری تھے۔ دشمن اب بھی وار کرتا ہے اور اس ملک کے درپے ہے لیکن اس ملک کی حفاظر فرمانے والے اللہ ہے جو اس ملک کی حفاظت فرما رہا ہے۔

پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور فیکلٹی ممبر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور پی ایچ ڈی اسکالر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *