حجاب، دینی احکام اور اس کیلئے پیش کردہ امثال

حجاب، دینی احکام اور اس کیلئے پیش کردہ امثال
عظیم عثمانی

پردہ دار اور بے پردہ عورت کی مثال اس لالی پاپ جیسی ہے جو …
پردہ دار اور بے پردہ عورت کی مثال اس ٹافی جیسی ہے جو …
پردہ دار اور بے پردہ عورت کی مثال اس ہیرے جیسی ہے جو …
پردہ دار اور بے پردہ عورت کی مثال اس چلغوزے جیسی ہے جو …
.
سوال یہ ہے کہ یہ رنگ برنگی امثال دینا اور طرح طرح کی چیزوں سے عورت کے پردے کا تقابل کرنا کیا فی الواقع اتنا ہی ضروری ہے؟
کیا ایک عورت کے پردہ دار ہونے کیلئے اتنی دلیل کافی نہیں کہ یہ اسکے رب کا حکم ہے؟ اس کی انفرادی اور معاشرتی پاکیزگی میں معاون ہے؟ اور اس کی بطور مسلمہ کردار سازی کرتا ہے؟
.
میں مانتا ہوں کہ بعض اوقات بات سمجھانے کیلئے تمثیل کا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے مگر میرا احساس یہ ہے کہ لوگوں نے لاشعوری طور پر لالی پاپ، ٹافی، ہیرے، کیلے اور چلغوزے جیسی تمثیلوں کو ہی اصل دلیل بنا کر پیش کردیا ہے. ان امثال سے کسی بہن کو پردے کی ترغیب تو کیا ہوگی؟ امکان ہے کہ کسی سلجھے دماغ کی خاتون کو اپنا لالی پاپ سے تقابل غصہ ہی دلادے. بہتر ہے کہ پردے کی ترغیب قران، سنت اور امہات المومنین رضی اللہ عنہا اجمعین کی سیرت کو مثال بنا کردی جائے.
.
یہاں میں کھلے الفاظ میں وضاحت کردوں کہ پردہ کرنے اور پردے کی ترغیب دینے کا میں اتنا ہی قائل ہوں جتنا کوئی دوسرا مذہبی مزاج رکھنے والا انسان اور دل سے چاہتا ہوں کہ ہر مسلم مرد و عورت پردے کا بھرپور اہتمام کرے. سوشل میڈیا پر اسوقت جو حجابی ہفتہ کچھ بہنوں بھائیوں کی جانب سے جاری ہے، وہ بھی میرے نزدیک ایک احسن قدم ہے. اختلاف فقط اس طریق سے ہے جو بعض اوقات اس ضمن میں اختیار کیا جاتا ہے. یہ حال پردے تک ہی موقوف نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر دین سے منسلک دیگر شعائر کی ترغیب بھی بجائے قران و سنت کو مرکز بنائے، اسی طرح کی مثالوں سے یا عقلی موشگافیوں سے دی جانے لگی ہے. آپ کو بہت سے ایسے بھلے مانس مسلمان ملیں گے جو آپ کو بتائیں گے کہ نماز سے کتنی اچھی جسمانی ورزش ہوتی ہے یا روزہ رکھنے سے انسان کتنا فٹ رہتا ہے. کچھ کہیں گے کہ ہاتھ سے کھانا اسلئےکھانا چاہیئے کہ آپ کہ ہاتھوں کی انگلیوں سے ایسی شعائیں نکلتی ہیں جن سے آپ کا ہاضمہ بہترین رہتا ہے. یا پھر یہ ارشاد ہوگا کہ داڑھی اسلیۓ رکھو کہ اس سے مردوں کو جلد کا کینسر نہیں ہوتا. اپنی بات کی تاویل میں عین ممکن ہے کہ وہ کسی گمنام سائنسی تحقیق کا بھی حوالہ دے ڈالیں. میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کس بات میں کتنی صداقت پوشیدہ ہے یا پھر یہ سب صرف عقیدت پر مبنی مفروضے ہیں. بات جو بھی ہو پر سوچنا یہ ہے کہ ہم نماز روزہ یا کوئی اور مذہبی عمل اسلیۓ نہیں کرتے کہ اس سے کوئی جسمانی فائدہ حاصل ہو بلکے صرف خالص احکام الہی کی تعمیل میں کرتے ہیں. جسمانی تندرستی کے لئے یوگا سمیت اور بہت سے بہتر طریقے موجود ہیں. لہٰذا میری ناقص راۓ میں دینی احکام کو دنیاوی فوائد سے جوڑ کر پیش کرنا درست رویہ نہیں ہے. اس سے بعض اوقات غلط پیغام جاتا ہے. آپ اسے بہت احتیاط رکھتے ہوئے ضمنی طور پر تو شائد پیش کرسکیں لیکن انہیں ہی بطور دلیل پیش کرنا احقر کی رائے میں غلط روش ہے. اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ توپ سے آپ مکھی بھی مار سکتے ہیں ، مگر توپ کی فضیلت یا مصرف بتاتے ہوۓ کوئی بھی صاحب عقل اسکا ذکر نہیں کرے گا. دینی احکام کی حکمت و مقاصد بھی ان سطحی باتوں سے بہت بلند ہیں. آپ بس پردے سمیت دیگر احکامات کو براہین سے دین ثابت کریں. اہل ایمان کی جانب سے بس اتنی دلیل کافی ہے کہ ہم دین پر عمل اپنے اخلاقی وجود کے تزکیئے اور اپنے رب کے قرب کے واسطے کرتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *