مشہور ہونا بھی عذاب ہے(کراچی کتب میلہ رپورٹ)۔۔۔عابی مکھنوی

مشہور ہونا کتنا بڑا عذاب ہے یہ آج کراچی کتب میلہ کی یاترا کے دوران پتا چلا ۔پہلا دھچکا اُس وقت لگا جب گاڑی پارک کر کے اُترا تو ایک گارڈ نے آ گھیرا ۔ میں ابھی کچھ شرمانے جھجھکنے کی ایکٹنگ کرنے ہی لگا تھا کہ گارڈ صاحب گویا ہوئے کہ ” آپ شکل سے تو پڑھے لکھے آدمی لگتے ہیں، دیکھتے نہیں کتنا رش ہے گاڑیوں کا اور آپ نے دوسری گاڑی کے ساتھ اتنی جگہ چھوڑ کر گاڑی لگا دی ، یہ جگہ ضائع ہو جائے گی ۔ خیر معذرت کر کے گاڑی ڈھنگ سے پارک کر دی ۔
کتب میلے کی طرف جانے لگا تو اچانک پیچھے سے ایک نسوانی اواز آئی ۔
ایکسکیوزمی۔۔
دل کی دھڑکن کچھ تیز ہو گئی کہ ابھی آواز آئے گی کہ ” آپ عابی مکھنوی ہی ہیں نا ؟
رُکا، مڑ کر دیکھا تو ایک معمر خاتون بہت سے کتابوں کے تھیلے تھامے اپنی گاڑی کے پاس کھڑی تھیں ۔
وہ آپ یہ تھیلے ذرا تھام لیں گے تا کہ میں اپنی گاڑی کا دروازہ کھول لوں ؟
خیر تھیلے تھامے اور دعائیں سمیٹ کر کتب میلے کے ہال کی طرف روانہ ہو گیا ۔
داخلے کی جگہ دو دو سکیورٹی گیٹ لگے تھے جہاں سے لوگ گزر کر ہال میں جا رہے تھے ۔ گارڈ ایک آلہ سا تھامے سائیڈ پر کھڑے تھے ، کسی کی چیکنگ نہیں کر رہے تھے ۔
میں بھی گیٹ سے گزر گیا لیکن پھر آواز آئی مولانا ایک منٹ !
مڑ کر دیکھا تو گارڈ اپنی طرف بلا رہا تھا ۔
کچھ حوصلہ ہوا کہ چلو کسی نے تو پہچانا ۔
پاس پہنچا تو اُس نے وہ آلہ میری بغلوں میں مار مار کر میرے  کتکتاریاں  نکالنی شروع کر دیں ۔مایوسی تو سیکھی ہی نہیں ،سو یہی سوچا کہ بیچارے کیا جانیں کسی لکھاری کو ، ڈیوٹی سے فرصت ملے تو کتاب بھی پڑھیں ۔
اب اپنے  سٹال پر پہنچا تو اعظم کوہستانی بھائی کو موجود پایا جن کی بدولت کتاب  سٹال پر سجی تھی ۔
اُن سے فون پر ہی رابطہ تھا ۔
مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے۔۔پاس پہنچا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک فہرست حوالے کر دی کہ یہ کتابیں یہاں مل رہی ہیں ۔
آپ پسند فرما لیں اور بتا دیں کون کون سی کتابیں درکار ہیں ۔
میرا حلق خوشی کے مارے خشک ہو چکا تھا ۔ بڑی مشکل سے بتایا کہ ” وہ جی ! میں عابی مکھنوی ہوں “۔۔
اوہ اچھا اچھا ! تو آپ کی شاعری کی کتاب ہے وہ کیا نام ہے یار ، بہت اچھا سا نام ہے ۔ پھر آنکھیں بھینگی کر کے انہوں نے دور ایک کونے میں پڑی میری کتاب سے نام پڑھا ۔ ہاں ہاں ” زخم تازہ رکھتا ہوں “۔
ماشاءاللہ صبح سے پانچ کتابیں آپ کے کہنے پر تحفتاً دے چکا ہوں ۔ باقی پچانوے بچی ہیں ۔ ان شاءاللہ ختم ہو جائیں گی اگر کتب میلہ دس پندرہ دن مزید چلتا رہا ۔
وہیں سیڑھیوں کی ریلنگ کا سہارا لے کر کھڑا ہو گیا اور ہر آنے جانے والے کو گھورنے لگا ۔ خواتین کی اکثریت نقاب میں تھی ۔ حضرات کو میں نے گھورنا مناسب نہیں سمجھا ۔
بہرحال آج بہت سے لوگوں کو اتنا گھورا کہ دوبارہ کبھی ملے تو ضرور پہچان لیں گے کہ یہ تو وہی بندہ لگتا ہے جو کتب میلے میں کھڑا ہمیں گھور رہا تھا ۔
شام پانچ بجے سے رات نو بجے تک تو ایک لمحے کی فرصت نہیں ملی ۔ لوگوں کو گھور گھور کر ہاتھ شل ہو چکے تو  سٹال انتظامیہ کو مصروف دیکھ کر بغیر دعا سلام کے ہی گھر واپس لوٹ آیا ۔
آج بہت تھک گیا ہوں فینز کو گھور گھور کے ۔ کل ان شاءاللہ امیر عکرمہ اور عاتکہ بتول کو ساتھ لے جانے کا سوچ رہا ہوں ، شاید انہیں کوئی پہچان لے ۔
یہ مشہور ہونا بھی کسی عذاب سے کم نہیں ۔
اللہ کا بہت کرم ہے مجھ پر ویسے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *