ریزن (18)۔۔وہارا امباکر

مقدون سے سکندر جب 334 قبلِ مسیح میں فوج لے کر نکلے تو ان کی عمر 22 برس تھی۔ فتوحات کا سلسلہ انہیں درہ خیبر اور پھر اس سے آگے تک لے آیا۔ جب ان کا انتقال 33 سال کی عمر میں ہوا تو اپنی مختصر سے زندگی میں اتنا کچھ کر چکے تھے کہ انہیں سکندرِ اعظم کہا جاتا ہے۔

سکندر کی فتوحات کے وقت مشرقِ قریب اوروک جیسے شہروں سے بھرا پڑا تھا جو ہزاروں سال سے موجود تھے۔ (اور یہ واقعی بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے)۔ اپنے فتح کردہ قدیم شہروں کی گلیوں میں پھرتے وقت سکندر نے عظیم محل دیکھے ہوں گے۔ وسیع باغات جنہوں خاص بنی نہروں سے سیراب کیا جا رہا ہو گا اور پتھر کے ستونوں کے سہارے کھڑی عمارات جن پر بھینسے اور اڑنے والے شیر بنے ہوں گے۔ یہ زوال پذیر معاشرے نہیں تھے۔ جاندار اور متحرک تھے۔ لیکن ان کے کلچر کے مقابلے میں انٹلکچوئل میدان میں یونان سے آنے والے آگے نکل چکے تھے۔ اور اس کی ایک مثال ان کا نوجوان قائد تھا۔ سکندر، جس کو تعلیم خود ارسطو نے دی تھی۔

میسوپوٹیمیا کی فتح کے ساتھ یہ احساس مفتوح علاقوں میں در آیا کہ ہر یونانی چیز بہتر ہے اور یہ مشرقِ وسطیٰ کے کلچر میں جلد سرایت کر گیا۔ بچوں نے یونانی زبان سیکھنا شروع کر دی۔ یونانی شاعری پڑھی جانے لگی۔ کُشتی کا کھیل بھی اپنا لیا گیا۔ یونانی آرٹ فارس میں مشہور ہو گیا۔

بیروسس، جو بابل کے پریسٹ تھے یا فلاوئیس جوزیفس جو یہودی تھے، اپنی تاریخ لکھتے وقت یہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے خیالات یونانی خیالات سے زیادہ مختلف نہیں تھے۔ ٹیکس کا نظام بھی بدل گیا۔ اس کو بھی نئے آنے والے یونانی حروفِ تہجی میں لکھا جانے لگا۔ تختیوں کے کونیفورم کی جگہ پیپرس نے لے لی۔ لیکن یونانی کلچر کا جو سب سے بڑا پہلو سکندر ساتھ لائے تھے، اس کا تعلق آرٹ یا انتظامی امور سے نہیں تھا۔ یہ وہ تھا جو انہوں نے خود ارسطو سے سیکھا تھا۔ یہ ہماری دنیا کو سمجھنے کی جدوجہد کا ریشنل طریقہ تھا۔ انسانی تاریخ کے خیالات کا ایک نیا باب تھا۔ اور ارسطو نے خود بھی اپنے سے پہلے آنے والوں کے خیالات کی بنیاد پر عقلیت کی یہ عمارت کھڑی کی تھی۔ یہ کئی نسلوں کے سائنسدانوں اور فلسفیوں کے خیالات تھے، جو انسانی فکر کو اگلی منزل تک لے کر گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ہم ماڈرن سوسائٹی میں رہتے ہیں اور ایک سائنسی سوچ کی طویل تاریخ سے مستفید ہوتے ہیں۔ یہ خیال کہ نیچر کا سٹرکچر ہے اور اس میں آرڈر ہے، ہمیں چونکاتا نہیں۔ آج ہم اپنا وقت گھنٹوں اور منٹوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ جگہ کے لئے عرض بلد اور طول بلد استعمال کرتے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں کے نمبر اور نام ہیں۔ اگر سٹاک مارکیٹ گر جائے تو ماہرین وضاحت دیتے ہیں کہ اس کی وجہ مہنگائی کے بارے میں پریشانی ہے یا چین کی نئی پالیسی ہے یا سیاست کی فلاں خبر ہے۔ غلط ہوں یا صحیح، ہم توقع رکھتے ہیں کہ وضاحت کاز اور ایفیکٹ کی بنیاد پر ہو گی۔

فطرت میں اس آرڈر کی اور اس کازل دنیا کی توقع ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ یہ ہمارے شعور میں رچی بسی ہوئی ہے لیکن کیوں؟ ریاضیاتی یا سائنسی روایت کے تصورات اور فریم ورک کے بغیر اور بغیر اس آئیڈیا کے کہ ریاضیاتی پیشگوئی کی جا سکتی ہے، تجربات کئے جا سکتے ہیں جو ایک ہی نتائج دیں گے۔ وقت کی پیمائش سے ان واقعات کا ربط جوڑے بغیر، اس کا پتا لگا لینا آسان نہیں ہے۔ اس صورت میں یہ یقین کہ نیچر میں فزیکل قوانین کا آرڈر ہے؟ یہ اتنا ہی عجیب ہوتا جتنا آج ہم پرانی تھیوریوں کو سمجھتے ہیں (یا شاید جیسے ہم سے ہزار سال بعد آنے والے ہماری تھیوریوں کو سمجھیں گے)۔

فطرت میں باقاعدگی کیوں ہونی چاہیے تھی؟ اس کو ایسے تصورات سے کیوں سمجھ آ جانا چاہیے تھا جو عقل میں آ جائیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آئن سٹائن کو بھی چکراتا رہا۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا، “یہ ایک بے ہنگم دنیا ہونی چاہیے تھی جس کو ہمارے ذہن کو کسی بھی طرح سے نہیں سمجھنا چاہیے تھا۔ لیکن یہ اس توقع کے خلاف ہے۔ اس کائنات کی سب سے ناقابلِ فہم چیز یہ ہے کہ یہ قابلِ فہم ہے”۔

گائے کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ زمین اسے کونسی فورس سے پکڑ کر رکھتی ہے۔ کوے کو اڑنے کے لئے ایروڈائنامکس کا پتا لگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور یہی آئن سٹائن کی حیرت کی وجہ تھی۔ دنیا میں باقاعدگی ہے اور یہ باقاعدگی قابلِ فہم ہے اور انسان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اس نیچر کے بلیوپرنٹ کا پتا لگا سکے اور یہ صلاحیت بہت ہی منفرد ہے۔ اور اس کے اہم مضمرات ہیں۔

کوے اور گائے کے برعکس ہم اس علم سے کائنات کے ڈیزائن کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ اس کو استعمال کر کے اس میں اپنی جگہ پہچان سکتے ہیں۔ اس فطری دنیا میں جوڑ توڑ کر کے نئی ٹیکنالوجی اور پراڈکٹ بنا سکتے ہیں۔ اپنی زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔

اور یہ وہ سوچ تھی جو چھٹی صدی قبلِ مسیح میں ابھری۔ یہ انقلابی مفکر یونان میں ایجین کے ساحل پر رہتے تھے۔ ارسطو سے چند صدیاں پہلے ۔۔۔ جب انڈیا میں مہاتما بدھ نیا فلسفہ لا رہے تھے اور چین میں کنفیوشس۔ اس وقت ابتدائی یونانی فلسفی کیاوس کے تصور کو کاسموس میں بدل رہے تھے۔ اس کائنات کی تنظیم کی تلاش ایک پیراڈائم شفٹ تھی۔

یہ علاقہ جس نے یہ انقلابی مفکر پیدا کئے، انگور کی بیلوں، انجیر کے باغوں، زیتون کے درختوں اور ترقی کرتے شہروں کی زمین تھا جو دریاوٗں کے سمندروں کے گرنے کے سنگم پر واقع تھے۔ یہ آئیونیا کا علاقہ تھا اور اس کا اہم شہر ملیٹس کا شہر تھا۔ دسویں صدی قبلِ مسیح میں پہلے کارین اور پھر ایتھنز سے آنے والوں کا بسایا شہر چھٹی صدی میں یونان بھر سے بہتر زندگی کی تلاش میں آنے والے غریب اور محنتی مہاجرین کا شہر تھا۔

(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *