امت فرقیہ پر افسو س کیوں؟۔۔۔۔ہما

نفرتوں کو بوکر بھی انتظار کرتے ہیں فصل ہو محبت کی

چھوڑ کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا ،ریت اس نگر کی ہے۔۔۔

ایک تکلیف سے بلکتا زخمی فقیر اگر کسی ایسے محل کے سامنے صدائیں لگانے بیٹھ جائے جہاں کسی دوسرے ملک کے بادشاہ کی سواری نے گزرنا ہو تو فقیر کو کچھ دے دلا کر ٹھکانے لگایا جائے گا ؟یا بادشاہ کی سواری روک کر انتظامات و معاملات روکے جائیں گے؟

یقینا ً فقیر ہی کو جلد از جلد اٹھاکر الٹی سیدھی مرہم پٹی کرکے دھتکار کر محل کے سامنے سے دور کردیا جائے گا اور بادشاہ کی آمد سے قبل اس جگہ کو بھی صاف کردیا جائے گا جہاں فقیر کے رستے زخموں سے خون کا کوئی قطرہ بھی گرا ہو۔

ایسا ہی کچھ واقعہ پاکستان کے ساتھ انڈیا کے معاملے میں ہوا، جب پاکستان دنیا بھر کے سامنے مقدمہ کشمیر پیش کررہا تھا ،اسے بتارہا تھا کہ نہتے کشمیریوں کا خون کیا جارہا ہے، اور تمام تر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے تو ایسے نازک وقت میں پاکستان کے برادر اسلامی ملک یو اے ای نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو اعلی سرکاری اعزاز سے نوازدیا
آج زیادہ تر پاکستانی اس بات پر افسوس کا شکار ہیں کہ امت مسلمہ نے پاکستان کے مقابلے میں مودی (بھارت) کو فوقیت دی۔۔۔امت مسلمہ کی متحدہ جماعت وہی او آئی سی ہے ناں جو ہر اسلامی ملک پر ظلم و تشدد کیخلاف صرف اور صرف قراردادیں پاس کرتی ہے؟

اور یہ وہی او آئی سی ہے ناں جس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس رواں سال پاکستان کے بغیر ہوگیا تھا؟
حالانکہ پاکستان نے شدید احتجاج کیا تھا کہ انڈیا کی وزیر خارجہ کا دعوت نامہ کینسل کیا جائے لیکن اسوقت بھی پاکستان کو سفارتی سطح پر پسپائی ہوئی جبکہ انڈین وزیر خارجہ نے پورے اعزاز کے ساتھ اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔
یہ امت مسلمہ اسوقت بھی موجود تھی ناں جب پاکستان سے جرنیلوں کو کرائے کا قاتل سمجھ کر ہائیر کیا جاتا رہا،
جنرل ضیاءالحق کے ہاتھ فلسطین میں پچیس ہزار معصوم خون سے رنگین ہیں، آج بھی تاریخ میں اس خونی ہولی کو black september کے نام سے جانا جاتا ہے جب ایک اسلامی ملک کی فوج کے سربراہ نے ایک اسلامی ملک کے کہنے پر ایک اسلامی ملک کے معصوم لوگوں کا خون بہایا

، اسی طرح اسلامک ملٹری اتحاد کی سربراہی شکریہ شریف کررہے ہیں اور یہ اتحاد کن اسلامی ممالک پر بمباری کررہا ہے؟؟ کون قاتل ہے اور کون مقتول؟؟؟
امت مسلمہ تو وہاں بھی موجود ہے،

ا س امت مسلمہ کو اس سب تناظر میں دیکھ کر امت فرقیہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا،

یہاں سب اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑتے ہیں، یہ اپنا ملکی مفاد ہی تو تھا کہ پاکستان نے “”سب سے پہلے پاکستان “””کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے اس اسلامی ملک کو جوشاید دنیا کا واحد ملک تھا جہاں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت تھی ایک  ایسی آگ کے حوالے کیا کہ اس آگ کے اٹھتے شعلوں سے ہم بھی محفوظ نہ رہ سکے،۔

اب برادرانِ اسلامی ممالک سعودیہ عرب کی انڈیا میں سرمایہ کاری ہو یا یو اے ای کے سربراہان کی جانب سے مودی کو اعلی سول ایوارڈ کا نوازا جانا۔۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جیت ہمیشہ طاقت اور عزت کی ہوتی ہے، بھیک مانگنے والے ممالک کی نہیں  ،اپنی عزت و غیرت بیچنے والوں کی نہیں، ایک سابق امریکی فوجی سربراہ کا وہ بیان آج بھی ریکارڈ پر ہے کہ پاکستانی وہ قوم ہیں جو ڈالر کی خاطر اپنی ماں تک کو بیچ سکتے ہیں۔

اس سب شرمناک صورت حال کی ذمہ دار کوئی فرد واحد یا صرف  حکومت نہیں بلکہ اب تک کی تمام حکومتوں کی کارستانیاں کارفرما رہی ہیں لیکن عمران حکومت نے بھی اس قوم کو فقیر بناکر اس کی رہی سہی عزت ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔

حلف اٹھاتے ہی حکومت وقت کا سب سے بڑا ایجنڈا چندہ جمع کرنا، مختلف در کھٹکھٹانا تھا،
اس ملک کے عوام کی غربت ہر دور کے حکمران بریف کیس میں بند کرکے دنیا کے ہر معتبر ملک اور ادارے میں کروڑوں کا سفر طے کرکے پہنچتے رہے
اور چند سکوں کی خاطر اس قوم کارہا سہا وقار مجروح کرتے ہوئے اسے مزید قرضوں کے بوجھ تلے دباتے رہے ،
پھر ایسی محکوم قوم جس سے کسی کا کاروباری مفاد وابستہ نہ ہو دو طرفہ برابری کی بنیاد پر تعلقات نہ ہوں ایسی قوم کو ہڈی تو ڈالی جاسکتی ہے،ان کی بھو بھو پر دھیان نہیں دیا جاسکتا کہ آخر وہ اسقدر تکلیف میں کیوں چیخ رہا ہے۔

پاکستان مسئلہ کشمیر کو چین کی حمایت کی وجہ سے اس سکیورٹی کونسل میں لے جانے میں کامیاب ہوا جس کی سینکڑوں قراردادیں انڈیا اپنی ہٹ دھرمی سے کچلتے ہوئے آج کشمیر کو اپنی آئینی جاگیر قرار دے چکا ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت کو دنیا بھر میں زبانی احتجاج کے سوا کوئی حق حاصل نہیں ہے،  وزیراعظم  عمران خان نے بروز جمعہ 30 اگست کو ملک بھر میں کشمیر سے یکجہتی کیلئے خاموشی اختیار کرکے کھڑے رہنے کی اپیل کی،جو دنیا آپ کی چیخوں اور صداؤں کو نظر انداز کررہی ہے کیا وہ آپکی خاموشی کو سنے گی؟

وزیراعظم نے اس احتجاج میں اعلان کیا کہ ہم ایک احتجاج پلین کیا ہے جس کا نام ہشدے انڈیا کشمیر سے کرفیو اٹھا،اپنےروایتی انداز میں دنیا بھر کو چند دھمکیاں دے ڈالیں، شاید موصوف وزیراعظم  اس بات سے ناواقف ہیں کہ دنیا انکی دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں،حکومت ِ وقت بھی کیا کرےانہیں بھی اپنی مدت حکومت پوری کرنی ہے اور اسوقت تک احتجاج کا ہر وہ انوکھا شوشہ ایجاد کرنا ہے جس سے ملکی عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاسکے کہ وہ سفارتی سطح پر مقدمہ کشمیر کو بہت ہی باریک بینیوں سے لڑ رہے ہیں۔

بہتر ہوگا کہ اب بھی حکمران کسی خام خیالی سے نکل کر حقیقی دنیا میں آجائیں، عمران خان کو دورہ امریکہ میں کس قدر پذیرائی ملی، کس قدر کامیابیاں ملیں ،اس بات کا پول بھی اب ٹرمپ مودی فرانس ملاقات کی گرمجوشی نے کھول ہی دیا ہے۔اور یہ ملاقات بھی آپ کے خود مختار ملک کی فضاؤں سے گزر کر عمل میں لائی گئی، مزید سرکاری وضاحتیں دی گئیں کہ فضائی حدود استعمال کرنے سے روکنے پر ہمارا امیج دنیا میں خراب ہوتا۔

آپ کا امیج؟؟؟

کسی بھی ملک پر کوئی پابندی لگانے سے آپکا مورال ڈاؤن ہوتا ہے پھر قوم کو جنگ کی تیاری مکمل رکھنے کے بھڑکیلے بیان کیوں سنائے جاتے ہیں؟؟

اب بھی وقت ہے امت فرقیہ سے امید لگانا چھوڑیئے، اس خوش فہمی سے دامن چھڑائیے کہ آپ کے میٹھے میٹھے اسلامی بھائی ہونے کی بناء پر وہ آپ  مسلمانوں کا سہارا بنیں گے،یہ امت فرقیہ کیکر کے درخت کی مانند ہے، اور اسکی کاشت کاری میں چند بیج آپ کے حصے میں بھی آتے ہیں تو کیکر کے درخت سے انگور کی امید چھوڑیئے اور ہوش کیجیے اور سانپ کو پکڑنے کی کوشش کیجیے وگرنہ ہمیشہ کی طرح لکیر پیٹ کر دنیا کو  اپنی اور کشمیری عوام  کی  کہانیاں سناتے رہیں گے کہ ہم نے سانپ کو مارنے کی بہت کوشش کی ،اور ہمیں اخلاقی کامیابیاں ملیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *