دیوار برلن تلے دفن افسر شاہی۔۔فہد رضوان

فروری کم سے کم میری معلومات کے مطابق دو بڑے مارکسی ادیبوں کی پیدائیش کا مہینہ ہے ۔ فیض احمد فیض اور بریخت۔ فیض ہندوستان میں پیدا ہوئے اور بریخت جرمنی میں ۔۔۔ دونوں کی نظریاتی وابستگی کمیونزم سے کوئی ڈھکی چھپی نہیں، اگر تو ان دونوں کا کام کچھ اوسط درجے کا ہوتا تو اس کو یہ کہہ کر مسترد کیا جا سکتا تھا کہ یہ سب تو سرخ پراپیگنڈہ ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اول الذکر کا مقام جنوبی ایشیا کی جدید شاعری اور موخرالذکر کا جدید یورپی تھیٹر میں اس قدر بلند ہے کہ ان کے بغیر بات کہے نہیں  بنتی، لہذا دوسرا طریقہ کار جو نیولبرل سرمایہ داری کے پرزہ کارپوریٹ کرتے ہیں  وہ یہ ان کے انقلابی نظریات کو، مسخ کر کے ان کو موجودہ اقتصادی ڈھانچے اور پیداواری رشتوں کے لیے  بے ضرر بنا دیا جائے۔

فیض کے ساتھ تو جو کچھ ہو رہا ہے  وہ سب جانتے ہیں، بریخت کے ساتھ بھی یہ ہی  ظلم ہو رہا ہے۔  بریخت کے سیاسی نظریات کو چھپانا بہرحال ایک مشکل عمل ہے۔  آخر  جس انسان کا پہلا لکھا ڈرامہ سپارٹکس تھا اس کے ادب سے کیسے بورژوا ‘حسن’ کشید کیا جا سکتا ہے؟ وہ جو کہتا ہے۔۔

جس شام دیوار چین مکمل ہوئی تھی؟ وہ تمام مزدور کہاں گئے؟۔۔

جرمن کمیونسٹ پارٹی کا رکن بریخت ، کوئی عقیدہ پرست قسم کا مارکسسٹ نہیں تھا۔ کارل کورش اس کا اچھا دوست تھا جس کے افکار پر بعد میں یوروکمیونزم کھڑا ہوا۔ اسی طرح بریخت کو ٹراٹسکی سے بھی کوئی بعد نہیں تھا جس کی کتابیں وہ تیس کی دہائی میں پڑھتا رہا۔ بعد میں جب سوویت افسر شاہی نے مشرقی جرمنی میں مزدوروں کو کچلنے کے لیے  ٹینک چڑھائے، تب بریخت نے اس سانحے کو اس طرح بیان کیا:

The Secretary of the Writers’ Union
Had leaflets distributed in the Stalinallee
Stating that the people
Had forfeited the confidence of the government
And could win it back only
By redoubled efforts. Would it not be easier
In that case for the government
To dissolve the people
And elect another?

بہرکیف، اس کے لکھے ڈرامے ، ماں (جو میکسیم گورکی کے ناول سے اخذ کردہ تھا)، گلیلو نے اس وقت کے جرمن معاشرے میں ایک انقلابی ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔ نظام سرمایہ داری ، فاشزم اور ملائیت کے ہاتھوں کس طرح عام عوام پر جبر ڈھایا جاتا تھا، اس کے ڈرامے سب سے پردہ اٹھا دیتے تھے۔ ایک ڈرامہ جس نے بہت شہرت پائی اس کا نام تھا” مدر کریج” (ماں کا حوصلہ)، یہ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے  جو جنگ سے جڑی معشیت کے  ذریعے روپیہ کمانا چاہتی ہے  تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ بھر سکے مگر  آخر میں اس کے سارے بچے جنگ کی نذر ہو  جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی مکروہ حقیقت ہے جو جنگ کے ساتھ جڑی معشیت اور مالی مفادات کو بے نقاب کرتی ہے۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے مگر یہ ماں لالچی ہے۔ یہ خون اور آگ سے روپیہ کما رہی ہے مگر اس کے نتیجے میں اس کے اپنے بچے قتل ہو رہے ہیں مگر اس ریاست کو اس کی پرواہ نہیں۔ (دور نہیں، اپنے اس پاس دیکھیے، آج بھی یہی کچھ ہو رہا ہے) ۔۔۔۔۔۔۔

اس ڈرامے نے جرمن فاشسٹوں کو بریخت کی جان کا دشمن بنا دیا۔ کیوں نا فاشسٹ بریخت سے نفرت کرتے ، آخر وہ ان کی لگائی آگ اور جنگی جنون کے مقابلے میں اپنا تھیٹر لے  آیا تھا۔ پولیس نے اس پر پابندی لگا دی، فاشسٹوں نے ڈرامے میں کام کرنے والے اداکاروں کو مارنا شروع کر دیا۔ بریخت خود جان بچا کر فن لینڈ چلا گیا۔ پیچھے اس کی کتابوں کو جلایا جانے لگا۔ اس پر بریخت نے ایک اور ڈرامہ لکھا جس کا موٹو ،ہینرخ ہاین کے ایک مصرعے سے لیا گیا تھا:

جو آج کتابیں جلا رہے ہیں، کیا کل وہ انسان نا جلائیں گے؟

اور پھر دنیا نے دیکھا کہ انیس سو بتیس ، تینتیس میں کتابیں جلانے والے فاشسٹوں نے بعد میں کس طرح لاکھوں انسانوں کو بھٹیوں میں جھونکا۔ بریخت پر فن لینڈ میں ایک قاتلانہ حملہ ہوا، وہ امریکہ چلا گیا۔ وہاں جا کر اسے نظام سرمایہ داری میں موجود نام نہاد آزادی کے بھی بہت سے تجربات ہوئے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں اس کے چالیس ڈراموں پر پابندی لگا دی گئی۔ جنگ کے بعد اس پر امریکی دشمنی کا الزام لگا دیا گیا اور اس کو بھی چارلی چپلن اور درجنوں ہالی ووڈ ایکٹروں ، کہانی نویسوں کی طرح ، امریکی حکمران طبقے کی کمیونسٹ دشمنی کا عتاب سہنا پڑا۔ بریخت اس سب کے بعد واپس جرمنی آ گیا۔ برلن میں اس نے اپنی تھیٹر کمپنی کا  آغاز کیا۔ اب اس مارکسٹ ادیب کا سامنا سرکاری مارکسزم سے ہوا۔ یہاں بھی اس کی اکثر نومولد مشرقی جرمنی کی افسرشاہی  سے ٹھنی رہتی۔ کبھی اس کے ڈراموں کو ترمیم کر کے پیش کیا جاتا، کبھی بند کر دیا جاتا۔ پھر جب جرمن مزدوروں کی تحریک اور ہڑ تال  کو سوویت ٹینکوں سے کچلا گیا تو اس نے جو کچھ لکھا۔۔ وہ اوپر لکھ چکا ہوں  ۔

بریخت کو سرکاری کمیونسٹ پارٹی نے مرنے کے بعد اپنے حساب سے تروڑمروڑ کر اپنے مفاد کے لیے پیش کیا۔ دیوار برلن کے گرنے سے ایک سال قبل اس کا مجسمہ مشرقی جرمنی کی حکومت نے برلن میں ایستادہ کیا۔ مجسمے کے نیچے بریخت کے یہ اشعار لکھے تھے:

Who still lives, should not say never!
The secure is not secure
So, the way it is, it will not remain

مگر سوشلزم کے نام پر سوشلزم سے غداری اور اسے مسخ کرنے والی مشرقی جرمن افسرشاہی نے اسی نظم کے یہ دو مصرعے غائب کر دیے :

After the rulers have spoken
The ruled will speak

مگر اس سے فرق ہی  کیا پڑتا تھا؟ سال بعد عوام بولے اور دیوار برلن کے ساتھ ساتھ ان پر مسلط افسرشاہی بھی اس کے ملبے تلے دفن ہو گئی۔
بریخت کو اذیتیں  دینے والا فاشزم اور سرکاری ‘مارکسسٹ’ افسرشاہی تاریخ کی گرد ہو چلی، مگر سرمایہ داری اپنے جبر کے ساتھ اسی طرح باقی ہے ، مگر کب تک؟ تاریخ کا پہیہ ہے اس نےآگے ہی چلنا ہے۔ اور ہر انسان دشمن ، حریت فکر اور اجتماعی فلاح کے مخالف نظام کو مٹا دینا ہے۔ تبدیلی تو آنی ہے۔ بریخت کے ہی الفاظ میں :
Because things are the way they are, things will not stay the way they are…..

اس لیے ۔۔۔۔ فکر مت کیجیے، ہم تاریخ کی درست سمت پر کھڑے ہیں۔

فہد رضوان
فہد رضوان
میں پیشے کے لحاظ سے ایک انجینیر ہوں۔ تاریخ، ادب، فلسفے سے شغف ہے۔ ایک سیاسی اور ماحولیاتی ایکٹوسٹ ہوں اور پچھلے دس سالوں سے لیفٹ کے ساتھ وابستہ ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *