ایشیائیوں کے گھروں میں چوری کی وارداتیں۔۔طاہر انعام شیخ

سکاٹ لینڈ کی ڈائری
یوں تو ملک بھر میں چوریاں سارا سال ہوتی رہتی ہیں لیکن جس طرح سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیا کے موسم ہوتے ہیں، برطانیہ میں بھی چوریوں کا ایک خاص موسم ہوتا ہے، سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی جب دن چھوٹے اور اندھیرا بڑھ جاتا ہے ، شام ہوتے ہی گلیاں سنسان لگتی ہیں تو ایسے میں چوروں کے پیشہ ور گروہ سرگرم ہو جاتے ہیں، سخت گرمیوں کے موسم میں بھی ان کو خاصے مواقع ملتے ہیں۔ جب لوگ گرمی کی وجہ سے دن کے وقت کھڑکیاں کھولتے ہیں ا ور رات کو بند کرنا بھول جاتے ہیں، پیشہ ور چوروں اور منظم گینگز کا ایک خاص نشانہ پاکستانیو ں اور دیگر ایشیائیوں کے گھر ہیں۔ جہاں سے انہیں سونے کے زیورات اور نقدی ملنے کی امید ہوتی ہے، یہ منظم گینگ کئی افراد پر مشتمل ہوتے ہیں جن میں تالہ اور دروازہ کھولنے یا توڑنے کے ماہر سے لے کر بجلی، الارم یا ویڈیو کا کنکشن کاٹنے والے بھی شامل ہیں۔ ٹارگٹ کردہ مکان کی کئی دنوں تک نگرانی کی جاتی ہےاور مناسب موقع پر خالی مکان کے سامنے کے دروازے اور پچھواڑے میں ایک ایک آدمی کھڑا ہو جاتا ہے جو موبائل فون پر گروپ کے ساتھ رابطے میں ہوتے ہیں اور کئی شخص کے آنے یا ایمرجنسی کی صورت میں گروپ کوآگاہ کرتے ہیں بقایا چار یا پانچ آدمی گھر کے اندر داخل ہو جاتے ہیں جو فوری طور پر ایک ایک کمرے کی تلاشی لینا شروع کردیتے ہیں، ان لوگوں کے ہاتھوں میں دستانے اور ہاتھوں میں میٹل ڈیٹیکٹر (METAL DETECTOR) ہوتے ہیں، جو آسانی کے ساتھ زیورات والی جگہ کی نشاندہی کردیتے ہیں۔ اکثر کاروباری افراد ٹیکسز سے بچنے کے لئے نقدی بنک میں رکھنے کے بجائے گھروں میں اپنے بستر کے نیچے LOFT یا دیگر جگہوں پر رکھتے ہیں جسے یہ تجربہ کار چور چند ہی منٹوں کے اندر لے کر فرارہو جاتے گذشتہ چند سال کے درمیان صرف برطانیہ میں پاکستانیوں اور ایشیائیوں کے گھروں سے کروڑوں پونڈ مالیت کے زیورات اور نقدی چوری ہو چکی ہے، زیورات ایشیائی عورتوں کی بہت بڑی کمزوری ہے ،ان کے دماغ میں برصغیر کا وہی پرانا تصور بیٹھا ہوا ہےکہ زیورات امارات کی نشانی ہے علاوہ ازیں پاکستانی گھرانوں میں زیور نسل در نسل چلتا ہے۔ ہر نئی نسل اس میں اضافہ کرنے کی کوشش ہی کرتی رہی ہے جو اس کو اپنی بیٹیوں کے جہیز یا پھر بہوئوں کے حوالے کردیتے ہیں بعض ایسے خاندان بھی ہیں جو سونے کو ایک بہترین سرمایہ کاری بھی تصور کرتے ہیں جس کی قیمت دیگر اشیا کے مقابلے میں تیزی سے بڑھتی رہی ہے کچھ افراد سونے کے زیورات کو کسی مشکل وقت میں فوری سہارے کے طور پر بھی لیتے ہیں جس کو بیچ کر وہ اپنا کام مکمل کرسکتے ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اکثر بینکوں نے اپنے لاکرز میں سونے کے زیورات رکھنے کا سلسلہ بند کردیا ہے کیونکہ ایسے لاکرز بھی چوروں اور ڈاکوئوں کا نشانہ رہے ہیں اب اگر کچھ بینک اس مقصد کے لئے لاکرز دیتے بھی ہیں تو ان کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے چنانچہ اکثر گھرانے اسے گھروں میں ہی رکھنے پر مجبور ہیں۔ سونا چوروں کا اس وجہ سے بھی خصوصی ٹارکٹ ہوتا ہے کہ اس کو پگھلا کر شکل تبدیل کرکے فوری طور پر بیچ دیا جاتا ہے یا پھر اس کو ایک شہر سے چوری کرکے کس دور دراز کے شہر میں لے جایا جاتا ہے اور اس سلسلہ میں منظم گروہ موجود ہیں۔ گلاسگو، برمنگھم ، مانچسٹر، بریڈ فورڈ، لیسٹر ، لندن اور اس کے نواحی قصبے چوروں کا خصوصی نشانہ ہیں۔ شروع شروع میں زیادہ تر ایشیائی نوجوانوں کےگینگ ہی ان چوریوں میں ملوث تھے لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنے گروپ میں گورے بھی شامل کرلئے بلکہ زیادہ تر نے تو یہ طریقہ اختیار کیا کہ خود پس پردہ رہ کر ان جرائم کو منظم کرتے ہیں تاکہ خود پکڑے جانے سے محفوظ رہیں۔ ان کے گروپس میں عورتیں بھی شامل ہوچکی ہیں جو کسی شادی بیاہ کی تقریب میں اس بات پر خصوصی نظر رکھتی ہیں کہ کون سی عورتوں نے زیادہ زیورپہنا ہوا ہے اور پھر وہ یہ تمام معلومات گروپ کو مہیا کرتی ہیں جو موقع پاکر اس گھر میں چوری کرتے ہیں یہ گروپس اب اتنے منظم ہیں کہ بعض ہالیڈیز کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد کو بھی انہوں نے ساتھ ملالیا ہے جو ان کو بتاتے ہیں کہ فلاں فلاں ایڈریس والا ایشین خاندان فلاں فلاں تاریخ کو اتنے دنوں کے لئے بیرون ملک چھٹیاں گزارنے جارہا ہے یہ چور ایسے گھروں کو آسانی کے ساتھ اپنا نشانہ بنالیتے ہیں۔ بعض اوقات ٹیکسی ڈرائیور بھی ان گروپس کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کو ایسے مسافروں کے متعلق بتا تے ہیں جن کو یہ ائرپورٹ پر چھوڑ کر آتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے بچنے کا بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ اپنا زیور کسی بنک یا سیکورٹی کمپنی کے لاکرز میں رکھیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو گھر میں کوئی مضبوط سیف ہو جس کو چور نہ اٹھا کر لے جاسکیں نہ ہی توڑ سکیں، نیز گھر میں ہر وقت کسی فرد کو موجود رہنا چاہئے۔ مکان میں اچھے تالے لگوائیں۔سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرائیں اور ممکن ہو تو ایسا الارم لگوائیں جس کا پولیس کے ساتھ براہ راست رابطہ رہتا ہے۔ اگر چہ اس کی پولیس کو ماہانہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے اگر آپ گھر سے زیادہ دیر کے لئے باہر جانے لگیں تو اپنے ہمسایوں کو اطلاع کرکے جائیں۔ پڑوسیوں کی نگہداشت کی اسکیم میں حصہ لیں اور گلی میں کسی بھی مشتبہ شخص کی حرکات کو نوٹ کریں اور فیس بک پرتمام علاقے کے لوگوں کو مطلع کریں اپنے زیورات کی انشورنس کرائیں اور ان کی تصاویر بناکررکھیں تاکہ چوری کی صورت میں پولیس ان کی شناخت کرسکے۔ عورتوں کا سرعام بازار وغیرہ میں سونا پہننا بعض اوقات ان کے لئے نہایت خطرے کا باعث بھی بن چکا ہے جب کہ ڈاکوئوں نے راہ چلتے ان کو گرا کر زبردستی ان کے زیورات اتروالئے، اور یہ زیور ان کے لئے رحمت کے بجائے زحمت بن گئے ۔یہ عورتیں نفسیاتی طورپر خوف و دہشت کاشکار بن گئیں، سب سے بہتر تو یہی ہے کہ سونا مناسب اور معمولی مقدار میں صرف اتنا ہی رکھیں جس کوآپ ہر وقت پہن سکیں ،مثلاً کانوں کی بالیاں یا پھر کوئی چوڑی، برطانیہ میں پیدا ہونے والی نئی نسل تو اس کی ویسے بھی کوئی زیادہ شوقین نہیں، سونے پر لگائی گئی رقم کو کسی دوسرے کاروبار میں استعمال کریں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *