قلمی اور علمی خودکش بمبار۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد

بارہا “آزادی اظہار رائے” اور “اظہار بیانِ نفرت” کا فرق سمجھانے کی خاطر بلاگز اور کالم لکھ چکا, ہوں ، بارہا “تنقید” اور “تضحیک” کا فرق سمجھانے کے لیئے قلم گِھسایا, بارہا “سوال” اور “اعتراض” کا فرق سمجھانے کو الفاظ کا پہاڑ توڑا اور بارہا “بحث” اور “مکالمے” کا فرق سمجھانے کے لیئے مقدور بھر علم کے بل پر سعی کی لیکن نتیجہ گر “ڈھاک کے تین پات” نہیں تھا تو “حکم کے اِکے” بھی ثابت نہیں ہوئے۔

پھر کہتا ہوں کہ قلم اور منہ پر بم باندھ کر “قلمی و علمی خودکش حملہ” مت کیا کریں اہل علم و دانش, آپ صرف علم کے چیتھڑے ہی نہیں اڑاتے خود کے علم اور قلم پر اعتماد کرکے انتہا پر جاکر بلی چڑھ کے بلکہ متلاشیان علم و حق کو بھی انجانی جنت کے لیئے زبردستی لے جاتے ہیں۔

زرد صحافت و کتابت کے بعد اب  زرد بلاگنگ بھی اپنا مقام بناتی جارہی ہے, جو  زرد صحافت و کتابت سے زیادہ خطرناک ہے کہ اخبار اور کتاب تو خرید کر کوئی پڑھے گا اور پھر بھٹکے گا, لیکن سوشل میڈیا پر بلاگ تو مفت و مفتی مل جاتے ہیں پڑھنے والوں کو جن کو پڑھ کر کسی کو بھی بھٹکنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ پڑھنے والوں کی سوچ اور سوچنے کا زاویہ یکساں نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ دلائل میں وزن مطالعے و مشاہدے اور ذاتی تجربے سے پیدا ہوتا ہے نا کہ زور قلم, زور بازو اور زور دار آواز سے۔

ایک سادہ سا اصول ہے مکالمے کا کہ طرفین ایک دوسرے کو برابر موقع  دیں بات کرنے اور سوال کرنے کا اور کسی صورت علمی مکالمے کو ذاتی بحث نا بنائیں۔یہاں کوئی بھی کسی مخصوص علم اور ہنر کا سکالر نہیں کہ وہ یہ کہے کہ میرا علم حرف آخر ہے, تو پھر رہ جاتی ہے انا اور خود پسندی جو مکالمے کو بحث بنا کر چھوڑتے ہیں۔اور میرا ذاتی تجربہ ہے کہ مکالمہ کسی نتیجے پر پہنچ کر ختم ہوجاتا ہے پر بحث؟, یہ موئی بحث اس انسان کے مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتی جس نے اپنی زنذگی میں شروع کی ہو یا کروائی ہو۔۔۔بحث برائے بحث دراصل اس پنجابی لوک گیت کی طرح ہے جس میں دو خواتین ایک دوسرے کو کوس رہی ہوتی ہیں کہ

سوکن,
سوکنے,
سوکن,
سوکنے,
چپنی چہ پانی لے کے ڈب مر,
توں مر,
توں مر,
نی تو مر۔ ۔ ۔

اب ہوتا کیا ہے کہ دونوں ہی بس بولتی رہتی ہیں, ایک بھی چپنی میں پانی لیکر اور ڈوب کر مرنے کو تیار نہیں ہوتی جبکہ ان کے ساتھ دیگر کورس میں “آھو نی آھو” کرنے والی پھپھے  کٹن اور چسکیلی خواتین پیچھے ہلکی آنچ کی ڈھولکی اور دف بجاتی رہتی ہیں کہ ان دو خواتین کی “سوکن, سوکنے” چلتی رہے اور ان کے چسکے پورے ہوتے رہیں جبکہ دراصل ضرورت ادھر کسی گھبرو کی ہوتی ہے جو آکر ان دونوں کو ہی چپنی میں پانی ڈال کر دے اور کہے کہ

“جاؤ ہن تسیں دونویں ڈب مرو”۔

یہی حالت اس وقت نوآموز اور تجربہ کار اہل علم و دانش افراد کی دیکھنے, پڑھنے اور سننے کو ملتی رہتی ہے فیسبک پر۔اس وقت ایکٹوازم اور آن لائن صحافت میں قلمی اور علمی خودکش بمباروں کی بہتات ہے۔انکی علامات بھی وہی ہیں جو عام خودکش بمباروں کی ہوتیں ہیں مثلاً ۔۔۔۔

کم علم, ناخواندہ, آنکھوں پر ہلکے, کم عمر مطلب 18 سے 25 سال کے, نظریات و عقائد اور دستیاب غیر مصدقہ علم کی بنیاد پر انتہا پسند اور شدت پسند, تحقیق و تصدیق سے دور اندھی تقلید کے حامل, اپنوں کو ہی نشانہ بنانے والے, انجانی جنت کے مسافر اور ہر ایک کو دشمن اور مرتد سمجھنے والے۔

اوپر مذکورہ علامات کے حامل قلمی و علمی خودکش بمبار بس اس بات پر یقین محکم رکھتے ہیں کہ وہ درست اور کامل راں علم ہیں جبکہ باقی سب نابلد اور مرتد ہیں ان کے علم اور دلائل کے لہذا قلم اور منہ پر بم باندھ کر پھٹ جاؤ تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔

خدارا صحافت ایک پیغمبری پیشہ ہے لہذا اسکی حرمت کو سنبھالیں۔صحافتی اسلوب کا سہارہ لیں اپنی بات کو درست انداز میں بتانے اور سمجھانے کے لیے۔ورنہ یہ تو طے ہے کہ قلمی و علمی خودکش بمباروں کی قلمی و علمی خودکشی ان کے لیے  تو نقصان دہ ہے ہی, ساتھ ہی ان کے قارئین کی بلی بھی چڑھ جاتی ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *