چچا انکل اور ماما انکل۔۔۔عارف خٹک

ہمارے ایک چچا ہیں۔اللہ ان کو خوش رکھے۔ چچا ہمارے گاؤں کے واحد بی اے فیل تھے۔ 1980 میں بی اے کا پہلا امتحان دیا اور 1990 تک مسلسل اور مستقل مزاجی سے وہ امتحان میں  فیل  ہوتے رہے۔ حالانکہ دس سال کے اس عرصہ میں روس کو افغانستان میں شکست ہوگئی، امریکہ بہادر سُپر پاور بن گیا،مگر چچا جان جہاں سے چلے تھے وہیں کے ہوکر رہے۔ 1990 میں ایک دن دادا ابو نے شملہ پہننے کے بعد جب کراس میں ریوالور واسکٹ کے نیچے پہن کر امتحانی گتہ ہاتھ میں پکڑا تو علاقے کے لوگوں نے باجماعت ان سے پوچھا کہ ملک صاحب کہاں کے ارادے ہیں؟۔ تو دادا ابو نے کہا کہ ہر سال سیف اللہ خان کو بی اے امتحان کی مد میں دس ہزار دیتے دیتے عاجز آچکا ہوں، اب خود جاکر امتحان دوں گا اور سیف اللہ خان کو پاس کرواوں گا۔

ان سے بچپن میں ہم بڑے ہی تنگ تھے۔ انھوں نے ہمارا جینا محال کیاہوا  تھا۔ ہر وقت انگریزی میں بات کرتے تھے، حتی کہ جذبات میں آکر چاچی کو بھی انگریزی میں ہی  کھری کھری   سنا دیتے تھے۔ چاچی بیچاری جو نسلاًدیہاتی ہے، جنہوں نے آج تک کُرک بازار کا منہ نہیں دیکھا۔ ہونق بن کر ان کا منہ دیکھتی تھی۔

انگریزی بولنے کا بخار اس کوایسا چڑھا کہ ایک تبلیغی جماعت والے ان کو سہہ روزے پر لیکر گئے،تو مغرب کی نماز کے بعد انھوں نے فضائل اعمال بھی انگریزی میں سنانے  شروع کردیے۔تو امیر صاحب نے انہیں یہ کہہ کر مسجد سے چلتا کیا کہ اللہ کو انگریزی سخت ناپسند ہے۔

ہم حجرے میں بزرگوں سے کچھ سیکھنے کیلئے جیسے ہی چارپائی پر بیٹھتے تو چچا جان انگریزی میں طبعیت اور پڑھائی کا پوچھنے لگتے،اور  ہم حسین محبوبہ کی طرح اپنی انگلیاں دانتوں میں دبا لیتے۔
بکری کو انگریزی میں شیپ کہتے ہیں۔ درخت کوٹری  کہتے ہیں۔ چچا کو انکل اور ماموں کو ماما انکل یہ سب ہم نے چچا جان سے ہی سیکھا۔ چچا جان کے پاس روز کرک سے ڈان اخبار آتا تھا۔اور چچا اخبار گود دبا کر گاؤں کے بازار میں  بیٹھ کر اخبار پڑھتا،اور سب کو باخبر رکھتاکہ آج ضیاءالحق نے شریعت  نافذ کرلی ہے۔ ایک دن ریڈیو سنے بغیر بازار چلا گیا تو الٹا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اخبارمیں  ہینو ٹرک کے اشتہار میں ٹرک اُلٹا نظر آرہا تھا، تو سب کو بتا دیا کہ آج پاکستان میں خیر خیریت ہے بس ایک ٹرک اُلٹ گیا ہے۔ لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔

ہماری اردو پر جب ہماری اپنی قانونی بیگم ہنستی ہیں کہ “ہے” اور “ہیں” میں جو بندہ فرق نہیں کرسکتا۔وہ بھی اردو میں افسانے لکھتا ہے۔ ہم نے کہا کہ جب کوئی خاتون مردوں کو درست نہانے کے طریقے بتا سکتی ہیں تو ہم بھی افسانے لکھ سکتے ہیں۔

زیادہ بحث کرے  تو ہم بھی چچا سیف اللہ خان کے بھتیجے رہ چکے ہیں۔ آگے سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے پشاور سے فقط پشتو پڑھی ہے۔اور روس سے روسی۔ لہذا اردو اپنی زبان کبھی رہی نہیں۔ یہ الگ بات کہ انعام رانا اور ہارون ملک کی انگریزی کبھی متاثر نہیں کرپاتی، کیونکہ ماما انکل اور چچا انکل کی تفریق وہ بھی نہیں کرسکے۔ انعام رانا تو ولایت بیٹھ کر انگریز کی کی زبان اور عزت اس لئے خراب کرنے پر تلا ہوا ہے کہ انگریزوں نے ان کے اباؤاجداد کے راجواڑوں کا بھی یہی حال کیا تھا۔ بلکہ ہم نے تو انگریز کو بھگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جب ہماری انگریزی کی بات آتی ہے تو ہم اپنے کان یہ کہہ کر لپیٹ دیتے ہیں کہ اپنی زبان اردو ہے۔ میں اپنی زبان کی موجودگی میں غیر کی بولی   کیوں بولوں۔ بلکہ میرا تعلق اس کٹر دیوبندی خاندان سے ہے جو انگریزی طرزِ تعلیم کو حرام سمجھتے ہیں۔ البتہ روسی طرز تعلیم کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔ کیونکہ روسی بھی ہماری طرح انگریز دشمن قوم ہے۔ لہذا ان کے اس کارنامے کی وجہ سے وہ کمیونزم کو  سپیس دیتے ہیں۔ جیسے مولانا فضل الرحمن صاحب کی اقتدا میں اچکزئی نے نماز پڑھی اور انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے۔

چچا سیف اللہ خان تو خوش قسمت تھے ان کا بی اے دادا نے پاس کروا دیا۔ رونا اپنی قسمت پر آرہا ہے ہماری ایم اے اردو کو کون پاس کروائے گا۔ تاکہ زوالوجی میں ڈاکٹریٹ بیوی ہماری اردو ٹھیک کرنے کے طعنے نہ دے۔ حالانکہ اس بیچاری سے جب ہم “Pre Ejaculation ” اور “Post Ejaculation ” کا فرق پوچھتے ہیں تو آگے سے کہتی ہیں مرجا میری پہلی M.Sc کمپیوٹر سائنس میں تھی۔
ویسے ہی بتا دیں کہ یہ ایجوکولشین ہوتا ہے۔ کہیں ہم سے اپنے خان صاحب کو کوئی ٹارگٹ نہیں کروانا چاہ رہا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *