بادبان!ٹمٹماتے چراغوں کی داستان(قسط11)۔۔۔۔محمد خان چوہدری

گزشتہ قسط:

ابا جی آپ نے آنٹی زہرا سے شادی کر لینی تھی ناں ، سُنا ہے وہ ہر شرط مان کے آپ سے بیاہ  کرنا چاہتی تھی !
باوا جی نے لمبی سانس لی اور کہا، اصغر میں تمہیں کسی سوتیلی ماں کے حوالے نہیں  کر سکتا تھا۔۔
باہر منشی کے کھانسنے کی آواز آئی ، دونوں نے چہرے صاف کیے باوا جی نے اسے آواز دی ۔ چائے نہیں  لائے تم ۔۔
وہ فلاسک اور کپ اٹھائے بیٹھک کے اندر آیا، پرانا سنگی تھا صورت حال سمجھ گیا، بات کرنے کو بولا۔۔
مُرشد آپ نے بشیر کو تو بنک میں بھرتی کرا دیا اب اس چھوٹے ساجُو کو بھی کسی کام لگائیں آڑھت تو بند ہو گئی اور یہ دوبارہ سکول بھی نہیں  جاتا، دس جماعت پاس کرتا تو کوئی  چنگی نوکری کر لیتا،اصغر نے خود کپ پکڑے چائے انڈیلی اور باوا جی کو پکڑائی۔
باوا جی نے کہا مانیا ویکھ تو اور میں تو اب کام کاج سے فارغ ہو رہے ہیں اب اصغر اور ساجد کام سنبھالیں گے۔
ساجد اب اصغر کے ساتھ رہے گا جیسے تم میرے ساتھ تھے، وہ سمجھدار ہے اور تم سے بہتر کاریگر ہے ہر شے کا !
آج سے وہ بیٹھک پہ  رہے گا، گیراج کے ساتھ والا کمرہ خالی کراؤ اور اس کا بیڈ روم تیار کرو۔
اصغر حیران رہ گیا کہ باوا جی کو کیسے اس کی یہ بات بن کہے پتہ چل گئی کہ وہ ساجد کو ساتھ رکھنا چاہتا ہے !

نئی قسط

شروع سے باوا جی وقار شاہ کا اپنے نام کی طرح وقار اور رکھ رکھاؤ اپنے آبائی  گاؤں کی طرح چک میں بھی باوقار تھا۔۔یہاں بھی شاہ پور والی کے سارے لوگ انہیں جانتے تھے لیکن سارے معاملات لین دین سب منشی کے ہاتھ تھا،وہی سب سے ڈیل کرتا۔ آم کے باغ کا سودا اور دیگر اجناس کی سیل لاکھوں میں ہوتی ، منشی رقم وصول کر کے خرچے کے پیسے رکھ کے باقی پوسٹ آفس میں باوا جی کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتا، اصغر کے آنے سے بھی یہ روٹین نہیں  بدلی تھی، ہاں اب وہ اپنے طور پہ پراپر حساب اپنے پاس بھی لکھ لیتا،بنک سے ڈیل فائنل ہونے اور ٹھیکیدار حق نواز کو کام ملنے کے دوران باوا جی کی اس سے سرسری ملاقات ہوئی،وہ اسی چک کے مستری ربنواز کا بیٹا تھا جو ترقی کر کے کنٹریکٹر بن گیا، منشی کے ساتھ اس کا یارانہ تھا، دوسرا ریفرنس اس کے بیٹے کا تھا جو اسی چک کا ہونے سے کالج میں اصغر کا سینئر اور دوست تھا ، بی اے کر کے اب لاہور لا کالج میں پڑھ رہا تھا، باوا جی نے حق نواز کو ڈیرے پہ  بلوایا، اس کے لئے یہ بڑی عزت افزائی  تھی۔

بیٹھک پہ  منشی اور اصغر کی موجودگی میں اس کی باوا جی سے ملاقات ہوئی  ۔ یہ دونوں اس کے سپورٹر تھے جس سے اسے کافی اعتماد ملا، ورنہ باوا جی کی شخصیت دیکھ کے ہی بندے نروس ہو جاتے۔باوا جی نے بھی اسے بڑی شفقت سے پاس بٹھا کے سمجھایا ، بنک کی بلڈنگ ،بنک کے نہیں  باوا جی کے پیسوں سے بنے گی۔ پرانی دکانوں اور گودام کی ساری اینٹیں اور لکڑی سنبھال کے باوا جی کے حاطے میں رکھی جائے گی۔مٹیریل ، لیبر اور دیگر اخراجات کے ٹوٹل خرچے پر پندرہ فیصد منافع حق نواز کا جائز حق ہو گا، حساب لکھا جائے گا۔۔بنک سے ضرورت کے مطابق ادائیگی باوا جی کے نام کے امپرسٹ اکاؤنٹ سے ہو گی،بلڈنگ تو سیدھی کالم کنسٹرکشن ہونی ہے، ایک ماہ میں دونوں چھت ڈال دی جانی چاہیے ۔ پہلی قسط کا چیک اصغر نے لکھا ، باوا جی نے سائن کیا، حق نواز نے درخواست کی کہ شام کو باوا جی سائیٹ پہ  دعا کروا کے کام کو ہاتھ لگانے تشریف لائیں، باوا جی نے مسکرا کے آشیرباد دی ، منشی کو وہاں دیگ پکوا کے بانٹنے کا حکم دیا،شام کو منڈی میں محفل میلاد کا سماں تھا، اصغر نے آڑھت والے فون سے لاہور ہوٹل میں ریزرویشن کرائی ،حق نواز کے بیٹے سے اسکے ہاسٹل میں بات کی ، اسے اگلے دن ظہر کے ٹائم پہ  کربلا گامے شاہ پہ  ملنے کا وقت دیا۔

روضہ پاک مخدومہ حضرت سیدہ رُقعیہ بنتِ علی علیٰہ سلام المعروف بیبی پاک دامن

ملتان سے گاؤں بائی  روڈ جیپ پہ جانے اور دو دن لاہور رکنے کا پروگرام تو طے تھا منشی کے بیٹے ساجد کا بھی ساتھ جانا شامل تھا، جیپ کی سروس اور۔ چیکنگ مکمل تھی، رات کو جب پیکنگ ہوئی  تو باوا جی پریشان ہو گئے۔۔۔
اصغر نے انکا پرانا سوٹ لے جا کے کب درزی کو ناپ دیا انہیں علم نہیں  ہوا، بوسکی کے دو لشکتے شلوار قمیض سوٹ چیک والی واسکٹ ۔اس سے میچنگ پی کیپ ، براؤن شوز، موزے ، بنیان ، آزاربند تک موجود تھے۔
صبح سارے معاملات پہ  منشی کو فائنل ہدایات دے کے اور کسی ضروری بات پر اکبر شاہ کے گھر گاؤں میں پیغام دینے کے سپیشل آرڈر دے کے، ناشتہ کر کے روانگی ہوئی۔
ڈرائیو بڑی پُرسکون تھی، ساہیوال سے نکل کے بریک کی، ہلکا لنچ کیا، باوا جی نے بزرگوں کی کہانیاں سناتے تھکن نہ ہونے دی، لاہور میں ملتان روڈ سے اتر کے جب داتا دربار پاس پہنچے تو واقعی ظہر کی اذان ہو رہی تھی، حق نواز کا بیٹا شفقت نواز کربلا گامے شاہ کے موڑ پہ  لگے خوانچے والوں کے پاس موڑھے پہ  بیٹھا تھا، اصغر کی جیپ تو ویسے یونیک تھی اور وہ اس پہ  چک سے کتنی بار کالج آتا جاتا تھا، دور سے پہچان کے اٹھا ،سڑک پہ  آ کے اشارے کرتے ہوئے،جیپ روکی، اصغر نے سامنے پارکنگ کی طرف آنے کو کہا، جہاں پارک کر کے سب پیدل کربلا گامے شاہ کے اندر چلے گئے، باوا جی وضو کر کے نماز پڑھنے لگے، اصغر اور شفقت مقدسات کو  سلام کر کے صحن میں بیٹھ گئے ساجد بھی اردل میں تھا۔ اصغر نے مقصد کی بات کی کہ وہ بی اے کے رزلٹ کے بعد لا کالج میں داخلہ لینا چاہتا ہے، لیکن بندوبست ایسا ہو کہ اس کی حاضری لگتی رہے، تیاری تو اسے شفقت جب چک آئے جائے گا، کرا دے گا۔بس امتحان دینے لاہور آنا پڑے ۔۔۔۔ باوا جی بھی شریک گفتگو ہو گئے، شفقت نے ہنس کے کہا، کہ اصغر شاہ جی سیدھا کہیں لا کی ڈگری خریدنی ہے ! اصغر تھوڑا شرما سا گیا، باوا جی نے تفنن میں کہا کہ ہمارے علاقے میں تو کراچی کے پڑھے کتنے وکیل ہیں جو شاید کراچی کبھی گئے بھی نہیں، اتنی دیر میں دو ملنگ نیاز لے کے آ گئے، باوا جی نے ان سے چائے پلانے کی فرمائش کی، تھوڑی دیر میں وہ دونوں نیلی چینک اور مٹی کے پیالے اٹھائے واپس آئے ۔
آپس میں بحث کر رہے تھے، جُبہ اور ٹوپی والے نے پیالوں میں چائے ڈال کے پکڑاتے بھی دوسرے ملنگ جس نے گلے میں منکوں کی مالا، اور پاؤں میں کڑیاں پہنی تھیں بات جاری رکھی بولا یہ ہمدانی ہیں ۔ دوسرے نے کہا مشہدی !
بچے تو پریشان سے ہوئے لیکن باوا جی مزے سے چائے کی چسکیاں لیتے رہے، ملنگ سوال جواب کرتے رہے،
چائے پی چکے تو جُبہ پوش نے باوا جی کو جھک کے سلام کرتے کہا ،  مُرشد آپ ہمدانی سید ہو ناں ؟

فلیٹیز

دوسرا جھٹ سے بولا،نہیں، آپ مشہدی پیر ہیں، باوا جی نے دونوں کے کندھے تھپتھپائے، جیب سے سو کا نوٹ نکالا اور پوچھا کون لے گا، دونوں بولے ، میں ۔ میں۔ باوا جی نے کہا ایک نوٹ دو بندے لے سکتے ہیں تو ایک بندہ دو کیوں نہیں  ہو سکتا، میں مشہدی ہمدانی ہوں ۔۔ پھر دوسرا نوٹ بھی نکالا دونوں کو ایک ایک پکڑاتے ہوئے کہا۔۔
شاہ وزیر کو سلام کہیں۔ دونوں ملنگوں کی آنکھیں ڈبڈبائی  سی لگیں، دونوں سر جھکا کے بولے مُرشد وہ بھی یہی کہہ رہے تھے، آپ ان سے ملیں گے نہیں  ؟ باوا جی نے بھرائی  آواز میں کہا، نہیں  اسے کہو جمعرات کو گاؤں میں دربار پہ  ملیں گے۔ جُبہ پوش نے نیاز کا پیکٹ باوا جی کو دیا اور دونوں الٹے پاؤں برتن اٹھائے واپس چلے گئے،اصغر نے پارکنگ سے جیپ نکالی، ٹرن لے کے مال روڈ پہ  پہنچے تو شفقت کو ہوٹل چلنے کی دعوت دی، اس نے ہنس کے کہا، میس میں حاضری بند کرا کے آیا ہوں، باوا جی کی صحبت نصیب سے ملی ہے، رات تک میں انکی خدمت میں حاضر رہوں گا، باوا جی نے  اسے دعا دی، اصغر کالج کے دوران دو تین بار زیشان اور شفقت کے ساتھ لاہور گھومنے آ چکا تھا، اسمبلی حال کراس کر کے جب اس نے جیپ فلیٹیز ہوٹل کے پورچ میں روکی تو باوا جی مسکراتے نیچے اترے
ویٹرز سامان اتارنے لگے، اصغر ریسپشن کاؤنٹر پر گیا ۔ سویٹ نمبر بارہ اس نے بک کرایا تھا، چابی تھامی۔
باوا جی شفقت اور ساجد لاؤنج میں رکے، اصغر جیپ پارکنگ میں چھوڑ کے آیا، تو باوا جی نے اسے تھپکی دیتے کہا۔
یاداشت بہت اچھی ہے، بچپن کی سنی کہانی یاد ہے، میں دس سال بعد اس ہوٹل میں آیا ہوں، جہاں کبھی ہم مہینے میں دو بار ضرور آ کے ٹھہرتے تھے، اور میں ہمیشہ اسی سویٹ میں رہتا، ویسے یہ بارہ نمبر تمہیں یاد تھا یا چانس ہے ؟۔۔۔
اصغر نے کہا ابا جی وہاں بیٹھ کے بتاؤں گا، سویٹ میں سامان رکھا گیا، ساجد کو ویٹر کے ساتھ سرونٹ روم بھیج کے روم سروس پہ چائے آرڈر کر کے اصغر واش روم سے فریش ہو کے آیا تو باوا جی باتھ روم سے فارغ ہو آئے۔۔بڑے صوفے پر دراز ہو گئے، تو شفقت نے بات بڑھائی  ۔۔ کہنے لگا،باوا جی اصغر نے ایف اے اور میں نے بی اے ساتھ ساتھ کیا، یہ کالج میں میرا لاڈلا چھوٹا بھائی  مشہور تھا
ان دو سالوں میں آپ تو چک دو بار آئے، مجھے زیارت نصیب نہ ہوئی  لیکن اصغر نے آپکے بارے اتنی باتیں بتائی ہوئی  ہیں کہ لگتا ہے ہم آپ کے ساتھ رہ رہے تھے، ایک بار ہم لاہور آئے تو ہوٹل پہ بات ہوئی  اصغر نے مال روڈ کا جغرافیہ بتا دیا جو اس نے آپ سے سنا ہوا تھا، کہ گالف کلب میں گالفر، فلیٹیز میں گھوڑوں کی ریس کھیلنے والے ٹھہرتے ہیں، ٹی ہاؤس میں اخباری  لکھاری، لارڈز پہ  کاروباری اور شیزان میں شرفا بیٹھا کرتے ہیں۔
باوا جی کو یاد آ گیا کہ یہ تو ان کے فرمان تھے جو باتوں میں اصغر نے سنے ہوں گے۔۔۔
چائے پیتے اصغر نے بڑا سرپرائز دیدیا، ذرا جوش میں کہنے لگا، کل آپ ریس کورس جائیں گے۔

ریس کورس

شفقت ڈنر کر کے گیا، اس دوران اصغر کی لا گریجوایشن کی ترکیب فائنل ہو گئی،صبح ڈائیننگ حال میں ناشتے پر ایک نہیں  دو سرپرائز موجود تھے، باوا جی کے پرانے بیلی۔یار۔دوست ! اور گرائیں ۔
چو ہُڑکانہ میں تعینات ڈپٹی فوڈ ڈائریکٹر راجہ جی، اور ساتھ علاقے کے رئیس چوہدری صاحب وہ بھی ریس کے لئے رات ہی پہنچے، وہ تو آتے رہتے تھے لیکن باوا جی دس سال بعد آئے، ناشتے پہ ایک گھنٹہ وہ کڑیاں ملاتے رہے،اصغر اپنی بچپن کی طرح انکی گفتگو سنتے، کہانی تصور میں لاتے ،اسے یاداشت میں محفوظ کرتا رہا۔۔
تیار ہونے کمروں میں گئے، اصغر نے باوا جی کو بوسکی کا سوٹ اوپر واسکٹ، ساتھ شوز پہنائے سر پہ  پی کیپ لئے جب باوا جی راجہ اور چوہدری صاحبان کے ساتھ ریس کورس گراؤنڈ کے انکلوژر میں پہنچے تو لوگ انکی طرف متوجہ ہوئے، وقفہ طویل تھا پہچاننے میں وقت لگا۔ پھر پرانے سنگی ایک کے بعد ایک ملنے انکی سیٹ پر آنے لگے۔
باوا جی ایک عرصہ لاہور ریس کورس کی ممتاز شخصیت رہے  تھے، ایک وقت ان کے تین گھوڑے ریس میں ہوتے۔ریس ہوتی رہی ، شور شغل مچتا رہا باوا جی کے دل میں اصغر کی محبت اتنی بڑھتی گئی ۔۔ہر باپ پدری شفقت سے بیٹے کو دعا دیتا ہے ۔ لیکن جو بیٹا جوان ہوتے باپ کی جوانی اس طرح واپس کھینچ لائے جیسے اصغر نے ریس کورس باوا جی کو لے جا کے کی تو تب دی گئی دعا بیٹے کی کمائی  ہوتی ہے، جس کا بدل نہیں۔

شام کو باپ بیٹا بی بی پاکدامن کے مزار پہ  حاضری دینے گئے ۔ وہاں باوا جی نے چادر چڑھائی ، اصغر نے زائرین میں نیاز تقسیم کی ، باوا جی نے نوافل پڑھے، زیارت معصومین پڑھی تو وہاں موجود لوگ ان کی اقتدا میں صلوات و سلام پڑھتے شریک ہو گئے، اصغر نے سرائیکی کا ایک بند پڑھا تو سامعین کے اصرار پر اسے بارہا دہرایا۔ رقت اور کُرلاٹ سے مجلس کا سماں بندھ گیا۔ باوا جی نے دعا کرائی، اور رخصت ہوئے۔
ہوٹل پہنچے ۔ ۔منہ ہاتھ دھو کے ڈنر کیا۔ ساجد کو بلا کے پیکنگ کی ، صبح کے سفر کی تیاری کر کے سوئے۔
باوا جی گرچہ بہت تھک گئے تھے لیکن نیند بہت دیر میں آئی۔ وہ گاؤں میں اصغر کو جس روپ میں اب متعارف کرانا چاہتے تھے اس کے منظر سوچتے رہے، رد عمل کیسے ہو گا یہ فکر بھی جاگزیں تھی،اصغر نے جیپ کا فیول ٹینک فل کرا لیا تھا، ساجد کو یہ کہہ دیا کہ صبح اٹھ کے اسے اچھی طرح صاف کر لے۔۔
جاری ہے۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *