بیجنگ سرمائی کھیلوں کی شاندار میراث/زبیر بشیر

بیجنگ سرمائی کھیلوں کے انعقاد کو ایک برس ہو چکا ہے۔ ان مقابلوں نے بے مثال انعقاد کے بعد شاندار روایات چھوڑی ہیں۔ یہ کھیل ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئے جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا عروج پر تھی۔ اس مشکل صورت حال میں کھیلوں کا انعقاد ایک بڑی کامیابی تھی۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس نا صرف کھیلوں کے شائقین بلکہ پوری دنیا کے لیے جوش، طاقت اور امید کا پیغام لائے۔ بیجنگ سرمائی اولمپکس کی وجہ سے چین میں برف کے کھیل مقبول ہوئے اور اس حوالے سے عوام کے جوش و خروش میں بے پناہ اضافہ ہُوا۔

حالیہ دنوں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ایک مضمون شائع کیا  جس  میں   بیجنگ سرمائی اولمپکس کی کامیابیوں اور اثر و رسوخ کا مثبت جائزہ لیا گیا ۔  بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے کہا کہ بیجنگ سرمائی اولمپکس کو  ایک سال ہو گیا ہےاوراب سرمائی اولمپکس کے تمام مقامات عوام اور مقامی کھلاڑیوں کے لیے دستیاب ہیں۔چین کی سرمائی کھیلوں کی صنعت عروج پر ہے۔سرمائی اولمپکس کی وجہ سے    تقریباً 346ملین چینیوں نے  سرمائی کھیلوں میں شرکت کی۔ موسم سرما میں کھیلوں نے چینی عوام کے لیے وسیع اور پائیدار سماجی اور اقتصادی فوائد پیدا کیے ہیں۔ مضمون میں یہ بھی بتایا  گیا ہے کہ دنیا بھر میں کل 2.01 بلین ناظرین نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کو  ٹی وی  اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پردیکھا، جو کہ 2018 کے پیونگ چانگ سرمائی اولمپکس کے ناظرین کی تعداد سے 5 فیصدزیادہ ہے۔

اس کے علاوہ  بیجنگ سرمائی اولمپک اور پیرالمپک سرمائی کھیلوں کی پہلی سالگرہ  کی مناسبت سے 2022 بیجنگ سرمائی اولمپک اور پیرالمپک سرمائی کھیلوں کے بعد ہیریٹیج رپورٹ اور2022  بیجنگ سرمائی اولمپک اور پیرالمپکس پوسٹ گیمز سسٹین ایبلٹی رپورٹ  باضابطہ طور پر جاری کی گئیں۔  “2022 بیجنگ سرمائی اولمپک اور پیرالمپکس سرمائی کھیلوں کے بعد ہیریٹیج رپورٹ” کو سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ، جس میں بنیادی طور پر سرمائی اولمپک کھیلوں کے بعد گزشتہ سال سرمائی اولمپک ورثے کی کامیابیوں کو بروئے کار  لانے اور استعمال کرنے ،  برف کے کھیلوں کو فروغ دینے اور مقبول بنانے ، شہروں اور خطوں کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے اور معاشرتی تہذیب اور ترقی کو فروغ دینے کے لئے ترقیاتی تصورات، منصوبوں اور اہم اقدامات کو متعارف کرایا گیا ہے۔

اگر کہا جائے بیجنگ 2022 کے سرمائی اولمپک کھیل کھیلوں کے عالمی مقابلے سے کہیں زیادہ تھے تو بے جا نہ ہوگا۔ ایک سال بعد بیجنگ سرمائی کھیلوں کی کامیابیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے، ہم یہ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کھیل ایک ایسی دنیا میں لوگوں سے لوگوں کے رابطے اور دوستی کا سبق تھے جو اب بھی کووڈ-19 وبائی کی وبا اور یورپ میں سیاسی و سلامتی  کی کشیدہ صورتحال کا مقابلہ کر رہی ہے۔

بغیر کسی دشمنی کے صاف مسابقت کا خیال ، جو کہ ایک اولمپک روایت ہے۔ سیاست کی دنیا میں دوستی اور ہمدردی کی اہمیت کو پیش کرنے کے لیے اہم ہے، کیونکہ ہم انسانی فطرت کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جب لوگوں کو پرسکون اور دوستانہ ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ ایسا ماحول جسے بیجنگ سرمائی کھیلوں کے منتظمین بنانے میں کامیاب رہے۔

سرمائی کھیلوں کے ذریعے چین اپنے پرامن اقتصادی عروج کے ثمرات دکھانے میں کامیاب ہوا۔ کھیلوں کی فنکارانہ اور تکنیکی طور پر حیرت انگیز افتتاحی تقریب نے مختلف سیاسی، ثقافتی اور سماجی ڈھانچے والے ممالک کے لیے دوستی اور پرامن بقائے باہمی کا پیغام بھیجا، ان پر زور دیا کہ وہ اولمپک جذبے کے گرد متحد ہوجائیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی کھلاڑیوں اور یورپ کے کھلاڑیوں سمیت بعض عالمی رہنماؤں کے سرمائی کھیلوں میں شرکت کے فیصلے نے ایک مضبوط پیغام دیا کہ بات چیت ہمیشہ کرپان سے بہتر ہوتی ہے۔چین کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپ کامیابیوں میں سے عوام کی فلاح و بہبود اور اعلیٰ معیار زندگی کو خطرے میں ڈالے بغیر تمام شعبوں میں سبز تبدیلی کے حقیقی معنی کو بیان کرنا تھا۔

بیجنگ سرمائی کھیلوں کو “ہائی ٹیک اولمپک گیمز” بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ 5 جی ٹیکنالوجی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، بگ ڈیٹا، سیٹلائٹ نیویگیشن، مصنوعی ذہانت اور دیگر ہائی ٹیک مہارتوں کو مختلف شعبوں میں موثر طریقے سے استعمال کیا گیا، جس سے معلومات کی ترسیل اور لاجسٹک خدمات کو مزید فروغ دیا گیا۔

نقل و حمل، پارکنگ اور کھلاڑیوں کی منتقلی سمیت دیگر  کاموں کو AI اور پیچیدہ 5G نیٹ ورکنگ سسٹمز کے ذریعے زیادہ موثربنایا گیا تھا۔ اسی طرح ہائی ٹیک ذرائع  کے استعمال کی بدولت پوری دنیا میں ٹی وی سگنل ہائی ڈیفینیشن  اور بلا تعطل پہنچائے گئے۔

بیجنگ گرمائی اور سرمائی اولمپکس کے درمیانی عرصے میں  چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور سب سے بڑا مینوفیکچرنگ ملک اور عالمی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑا حصہ دار بن گیا۔ اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو انسانیت کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے چین کی پرامن تعاون اور جیت کے تعاون کی پالیسی کی مکمل علامت ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اولمپک جذبے سے بہتر کوئی بھی چیز دوستانہ مقابلے اور باہمی احترام کی علامت نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح، بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کے تصور چین سے بہتر کوئی نمائندہ نہیں ہو سکتا۔ 2022 کے سرمائی اولمپکس کے انعقاد کے ذریعے، چین نے ثابت کیا کہ جب امن اور دوستی کی بات آتی ہے تو چین واقعی ایک عالمی رہنما ہے، ان کھیلوں کے کامیاب انعقاد سے چین نے دنیا کو  پیغام دیا کہ اگر عزم مضبوط تو وبا کو شکست دی جا سکتی ہے، اقتصادیات بحال ہو سکتی ہے اور کامیابیوں کا باہمی اشتراک کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments

Zubair Bashir
چوہدری محمد زبیر بشیر(سینئر پروڈیوسر ریڈیو پاکستان) مصنف ریڈیو پاکستان لاہور میں سینئر پروڈیوسر ہیں۔ ان دنوں ڈیپوٹیشن پر بیجنگ میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس سے وابستہ ہیں۔ اسے قبل ڈوئچے ویلے بون جرمنی کی اردو سروس سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ چین میں اپنے قیام کے دوران رپورٹنگ کے شعبے میں سن 2019 اور سن 2020 میں دو ایوارڈ جیت چکے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply