دو ٹکے۔۔۔ایڈووکیٹ محمدعلی

پدرسری یعنی ہمارے معاشرے میں عموماً مرد ظالم ہوتا ہے اور خاتون مظلوم لیکن دونوں کو ہی کسی نہ کسی جگہ فائدہ یا لیوریج حاصل ہوتا ہے۔

شادی اور عائلی زندگی کی بات ہو تو مرد یوں مظلوم ہے کہ اسے پیسہ اور کیرئیر بنانا ہے بغیر گنجا اور موٹا ہوئے، تو اگلی جانب سے شادی کا استخارہ بھی ٹھیک آئے گا۔

اگر وہ بیٹی کا باپ ہے تو گھر معقول بلکہ پوش علاقے میں ہو۔ اس کا خود کا سوشل اسٹیٹس لڑکے والوں سے برابر یا بہتر ہو وغیرہ۔

عورت یوں مظلوم ہے کہ اگر وہ شادی کرنا چاہتی ہے تو اس کا رنگ روپ رنگ گورا کرنے والی کریموں کے معیار کا ہو، وزن کفار کی نیکیوں کی طرح کم ہو اور جو وہ پڑھی لکھی ہو کر کام کرے تو شوہر سے ہر بات میں اجازت لے اور اپنی زبان کے واسطے خود ہی تالے بھی خرید لے، مینٹل ہیلتھ اور دیگر مسائل گئے بھاڑ میں۔

اب یہ مسئلہ کہ شدید ترین ضرورت کے وقت کوئی کسی کو چھوڑ دے تو اس کا جائزہ آپ بندے کے حالات دیکھ کر لگا لیجیے۔ اگر واقعاً ایسا کرنا بجا ہے تو ٹھیک ورنہ بندہ خود غرض و ابن الوقت ہوگا۔

تو۔۔۔مرد یا عورت دونوں 2 پیسے/ٹکے کے ہوسکتے ہیں چاہے ان کی تربیت بہتر انداز سے ہی کیوں نہ کی جائے۔

بات جب پیسے اور اختیار کی آتی ہے تو رال ٹپکنے سے خود  کو بچانا ہی اصل کردار اور تربیت ہے۔

تو کیا کِیا جائے؟؟

مرد و عورت پارٹنر ہیں اور پارٹنر شپ باہمی تعاون کی خواستگار ہوتی ہے، اور فی زمانہ جو معاشی معاملات کی تنگی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے گھرداری میں مرد و عورت دونوں کو بقدرِ لیاقت اور سمجھ بُوجھ شامل ہونا اور رہنا چاہیے،اور خواتین کو اعلیٰ تعلیم و ہنر بھی مردوں کی طرح ہی دلوانا چاہیے۔

صرف یہ کہنا کہ بس مرد کمائے اور عورت گھر میں رہے، بالکل ٹھیک نہ ہوگا، بلکہ بعضے مرد تو اس لائق ہیں کہ انہیں چار دیواری سے باہر نہ نکلنے دیا جائے اور خواتین ایسی صلاحیت رکھتی ہیں کہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے کاروبار کو چار چاند لگا دیں۔
وغیرہ وغیرہ۔

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *