• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور ۔۔۔۔۔فلسفہ اقبال/ارسلان صادق

مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور ۔۔۔۔۔فلسفہ اقبال/ارسلان صادق

الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن

مُلا کی اذان اور، مجاہد کی اذاں اور

زیر بحث عنوان بالا میں جو شعر ہے وہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی تصنیف بال جبرائیل کی ایک نظم حال ومقام سے اخذ کیا گیا ہے جس کا مقصد واضح طور پر فلسفہ اقبال کو دورحاضر کے سانچے میں رکھ کر قلم آزمائی کرنا ہے۔ اس سے پیشتر کہ میں تفصل کی ڈ گر پر اپنا قلم رواں کروں میں چاہتا ہوں کہ شعر کے معانی و مفہوم سے آپ کو آگاہ کردوں۔ اس شعر میں اقبال بتلا رہے ہیں کہ آپ کی سماعتوں سے دن میں پانچ مرتبہ جو اذان ٹکراتی ہے تو اس کے الفاظ میں تو اللہ کی بڑائی بیان کی جاتی ہے اور موذن آپ کو نماز و فلاح کی دعوت دے رہا ہوتا ہے مگر فی زمانہ اکثر آپ جس مسجد میں اپنا قدم رکھو گے تو وہاں ایک خاص مسلک کے لوگ پائیں گے اور ممبر پر امام یا مُلا ایک خاص مسلک یا گروہ کی نمائندگی کرتا دکھائی دے گا۔ مگر اس کے برعکس ایک مرد مجاہد جس کو اقبال نے مرد مسلمان اور شاہین کہا ہے وہ اذان بلند کرتا ہے تو مومن کے رگ و ریشے میں خون آگ بن کر دوڑنے لگتا ہے۔ مجاہد کی اذان سراسر اللہ کی وحدانیت اور اتحاد ملت کا پیغام دیتی ہے گو کہ وہی الفاظ ہیں وہی معنی ہیں لیکن دونوں کا اثر جدا جدا ہے۔

فلسفہ اقبال جس دور میں مُلا اور مذہبی پیشوائیت پر تنقید کرنے نکلا وہ 19ویں صدی تھی جب یورپ دنیا پر اس حد تک اپنا سکہ جما چکا تھا کہ تاریخ میں اسے یورپ کی صدی کہا جانے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی سلطنت اس قدر پھیل چکی تھی کہ انگریز راج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے وقت مسلم دنیا میں صرف چار ممالک آزاد تھے۔ باقی تمام مسلم ممالک پر انگریز، فرانسیسی اور ولندیزی قابض تھے۔ یہ مسلمانوں کے انتہائی زوال کا دور تھا۔ 1857ء کے بعد تو مسلمانوں کی حالت  بہت زیادہ پست تھی۔ نامور مورخ ولیم ہنٹر نے مسلمانوں کی حالت زار پر اپنی کتاب “ہمارے ہندوستانی مسلمان” میں لکھا ہے کہ

“ایک صدی قبل حکومت کے تمام ذمہ دار عہدوں پر مسلمانوں کا قبضہ تھا۔ ہندو محض شکریے کے ساتھ ان چند ٹکڑوں کو قبول کر لیتے جو ان کے سابق فاتح اپنے دستر خوانوں سے ان کی طرف پھینک دیتے تھے اور انگریزوں کی حیثیت چند ایک گماشتوں اور کلرکوں کی تھی(لیکن اب یہ حال ہے کہ) ابھی پچھلے ایک بہت بڑے محکمےکے بارے میں معلوم ہوا کہ وہاں ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جو مسلمانوں کی زبان پڑھ سکے۔ دراصل کلکتہ کے سرکاری دفتر میں مسلمان اب اس سے بڑھ کر کوئی امید بھی نہیں رکھ سکتے کہ قلی ، چپڑاسی، دواتوں میں سیاہی بھرنے یا قلموں کو ٹھیک کرنے کے سوا اور کوئی نوکری  حاصل کر سکیں۔۔ یہ حقیقت ہے کہ جب یہ ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان ہی سب سے اعلی قوم تھی۔ وہ دل کی مضبوطی اور بازوؤں کی توانائی ہی میں برتر نہ تھے بلکہ سیاسیات اور حکمت عملی کے علم میں بھی سب سے افضل تھے لیکن اس کے باوجود حکومتی ملازمتوں کا دروازہ ان پر بالکل بند ہے۔ غیر سرکاری ذرائع زندگی میں بھی انھیں کوئی نمایاں مقام حاصل نہیں”۔

ان حالات میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی راہنمائی کی، انھیں تعلیم کی جانب راغب کیا اور معروضی حالات کے پیش نظر جدید علم الکلام کی بنیاد ڈالی۔ ایک تقریر میں سر سید نے کہا:

” اس زمانے میں ایک جدید علم الکلام کی حاجت ہے جس سے یا تو ہم علوم جدید کے مسائل کو باطل کر دیں یا مشتبہ ٹھہرادیں یا اسلامی مسائل، مسائل کو ان کے مطابق کر کے دکھائیں”۔

اقبال اپنے جدید افکار کے اعتبار سے سر سید احمد خان کے پیروکار تھے البتہ سر سید نے عقل اور سائنس کے معیاروں پر زور دیا جبکہ اقبال نے اسلامی روایات کو مجروح کیے بغیر دینی مسائل کو جدید افکار کی روشنی میں پیش کیا۔ اقبال جب شعور کی منزل تک پہنچے تو اہل مشرق مغربی تہذیب کے غلبے میں جکڑے جا چکے تھے۔ اہل مشرق ذہنی طور پر مغرب والوں سے مرعوب ہو چکے تھے اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں مغرب کی تقلید ناگزیر نظر آتی تھی۔ ان حالات میں اقبال کو مشرقی گھریلو ماحول ملا۔ ان کا خاندان مذہب، تصوف، زہد اور ریاضت کے ساتھ مکمل منسلک تھے۔ اقبال نے اسلامئ تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا۔ قرآن فہمی کا شوق ان کو ورثے میں ملا تھا۔  ابتدائی زندگی میں ہی ان کے ذہن پر مذہب کی ایسی گہری چاپ تھی کہ مغربی تہذیب تندوتیز ہوائیں بھی اقبال کے افکار کو نہ بدل سکیں اور آخری دم تک اسلام سے جڑے رہے البتہ انہوں نے بنیاد پرستی اور قدامت پرستی کی بجائے اسلام کی نئی تعبیر پر زور دیا۔

حضرت علامہ اقبال نے مسلمانوں میں مروجہ غیر اسلامی تصورات و نظریات پر سیر حاصل بحپ فرمائی اور جو نظریات ملت مرحومہ کی زبوں حالی کا باعث ہوئے۔ ان کی شدید مزمت اور تردید کی اور تنگ نظر ملاوں کے اپنی طرف سے جاری کردہ تصورات کو تنقیدی ہدف میں رکھا۔ بقول اقبال:

شیر مردوں سے سوا بیشہء تحقیق تہی 

رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

ہم اس دور حاضر میں بھی مذہیی پیشواؤں کے دیئے ہوئے تصورات دین پر عمل پیرا ہیں جو حقیقت میں دین اسلام کے احکامات کے متصادم ہے اور ان پر عمل کرنا بھی شرک کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ کے احکامات کو چھوڑ کر غیر اللہ پر عمل کرنے سے ہم دین اسلام سے خارج ہو جاتےہیں۔ ایک حدیث مبارکہ میں بیان ہے کہ ایک دفعہ ایک نصرانی رسول اکرام ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دوران گفتگو حضور نے اس نصرانی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ لوگوں کا سب سے بڑا جرم یا گناہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے مذہبی راہنماوں کو خدا بنا رکھا ہے۔ نصرانی نے جواب میں کہا کہ نہیں ہم تو خدا پر ہی ایمان رکھتے ہیں اتفاق سے نصرانی کے گلے میں صلیب کا نشان لٹک رہا تھا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے گلے میں یہ صلیب کا نشان کیوں پڑا ہوا ہے۔ اس نے جواب میں کہا کہ یہ ہمارے مذہبی پیشواؤں کا حکم ہے، تو اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسی کو مذہبی پیشواوں کو خدا بنانا کہتے ہیں۔ مذہبی پیشواؤں اور ُملاوں نے مسلمانوں کی عمل کی قوتوں کو شل کر دیا ہے اور دین حق کا مثالی نظام حیات رسمی مناجاتوں، مراقبوں، چلہ کشیوں، شخصیت پرستیوں میں گم ہو کر رہ گیا اور وہ مسلمان جن کو اللہ تعالی نے بہتریں قوم کہا اور اقوام و عالم کی نگرانی کا شرف بخشا۔ ملاوں کا دین ہمارے لیے فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بنا آ رہا ہے۔ آج وہ اقوام جو خدا اور مذہب کے نام تک سے نا آشنا ہیں دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ اور کئی مسلمان ان کے حاشیہ بردار بنے ہوئے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کے درباروں میں ترساں و لرزاں ہاتھوں میں کشکول لے کر پہنچتے ہیں۔ علامہ اقبال اپنے زمانے کے علماء سے اختلاف اصولی اور فکری بنیاد پر تھا۔ اقبال کا روئے سخن کسی خاص ملا کی طرف نہیں ہے۔ انہوں نے جو کچھ بھی کہا وہ مذہبی پیشوائیت کے ادارے کے خلاف ہے۔ یہ نشتر زنی ملائیت کے منفی اور غیر اسلامی تصورات جو مسلمان کی تباہی و ذلت کا باعث بن رہے ہیں کی قابل تردید مزمت ہے۔ علما قرآن و حدیث کے علم سے مکمل آگاہی نہیں رکھتے اس لیے مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں تقسیم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مولویوں کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجہ سے مسلمان قوم زوال کا شکار ہے۔ اقبال نے اپنے آرٹیکل “قومی زندگی” میں تحریر کیا:

” مولوی صاحبان کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی شہر میں اتفاق سے جمع ہو جائیں تو آیات مسخ یا آیات ناسخ و منسوخ پر بحث کرنے کے لیےباہمی نامہ و پیام ہوتے ہیں اور اگر بحث چھڑ جائے اور بالعموم بحث چھڑ جاتی ہے تو ایسی جوتیوں میں دال بٹتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ پرانا علم و فضل جو علمائے اسلام کا خاصہ تھا، نام کو بھی نہیں رہا۔ ہاں مسلمان، کافروں کی ایک فہرست ہے کہ اپنے دست خاص سے اس میں روز بروز اضافہ کرتے رہتے ہیں”

1910ء کے خطبہ علی گڑھ میں اقبال نے مولویوں اور واعظوں کے بارے میں کہا:

“ہمارے ہاں مسلمانوں کی اخلاقی تربیت کا کام مولویوں اور واعظوں کے انتہائی نااہل طبقے کے ہاتھ میں ہے اور اسلامی تاریخ و ادبیات سے متعلق ان مولویوں اور واعظوں کا علم بے حد محدود ہے”

آج کے دور میں ہماری نگاہ میں گو خدا کی رحمت کی چند بوندیں ایک بحر زخار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن ملا کی نظر میں اللہ تعالی کی رحمتوں کا موجیں مارتا ہوا سمندر چند قطروں سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ یہ رحمتوں کا بحر بے پایاں ہمیں قرآن عطا کرتا ہے اور ملا حضرات اس سے بالکل بے خبر ہیں۔ ملا کا دل عالم بالا کے جواہر پاروں سے جو قرآن میں درج ہے بالکل بے خبر ہے ان کے نزدیک کتاب اللہ جو حکمتوں اور انسان کی زندگی کے لیے ابدی اور اٹل قوانین کا بے نظیر  مخزن و معدن ہے محض قصہ کہانیوں کی کتاب ہے۔ ملا نظام مصطفی کی عظمتوں کو سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہے اور ان کی وسعت نگاہ بالکل مفقود ہے۔ یہ ملا اور اس کے مکتب کے لیے قرآن مجید کے اسرار و مطالب ایسے ہیں جیسے ایک مادر زاد اندھے کے لیے سورج کی روشنی ناقابل فہم ہے۔

اقبال ماضی کے صوفیائے اکرام کی بڑی عزت کرتے تھے اور ان کی روحانی تعلیمات نیز ہندوستان میں اشاعت و تبلیغ اسلام کے سلسلے میں ان کی خدمات کے معترف تھے۔ اقبال اکثر روحانی فیض کے حصول کے لیے درگاہوں پر بھی جاتے تھے۔ حضرت نظام الدین اولیاء ، حضرت شیخ احمد سرہندی ، مجدد الف ثانی، حضرت علی ہجویری داتا گبج بخش، اقبال کے محبوب صوفیا میں سے تھے، لیکن ہم عصر پیروں اور درویشوں میں سے اکثریت کو وہ مسلمانوں کے عہد تنزل کی یادگار سمجھتے تھے اور ان کی نااہلی، عادات و خصائل اور طور طریقوں کے سبب انھیں اپنی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔ اقبال نے پیروں کی کرامات کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ مسلمان اپاہج اور نکمے  ہو گئے ہیں ان کی نظر سے مجاہدین اسلام کے زریں کارنامے اوجھل ہو چکے ہیں لیکن پیروں کی کرامات ان کے قلب میں پیوست رہتی ہیں۔ یہ کشمکش حیات سے فرار اور اعتراف شکست ہے۔ دنیا میں اصل طاقت تو بازو مرد مومن کی کرامات سے قائم ہونے والی حکومت ہے۔ اور یقین کرو اس سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں ہے۔

محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا 

اور بندہ آزاد ہے خود زندہ کرامات

قدیم تاریخی مطالعے سے ایک حقیقت منکشف ہوئی کہ زوال پزیر قوموں نے ہر دور میں خود ساختہ اور فنائیت میں لی ہے۔ جب روح آپ کی فنا ہو جائے تو مداخت کی قوت نہ ہانے کی وجہ سے آپ مسائل کے ساتھ دست و گریباں ہو جاتے ہیں۔ اقبال “جاوید نامہ” میں ملا کے بارے میں لکھتے ہیں :

” دین حق کافری کی وجہ سے رسوا تر ہے کیونکہ ہمارا ملا کافر گر مومن ہے۔ اس قرآن فروش کی طرفہ باتوں کے سبب میں نے جبرائیل کو بے چین پایا۔ وہ کم نگاہ، کورذوق اور فضول گو ہے۔ اس کی باتوں سے ملت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ہے۔ مکتب و ملا اور قرآن پاک کے اسرار کی مثال یوں ہے جیسے مادرزاد اندھا اور آفتاب کی روشنی۔ کافر کا دین جہاد کی فکر و تدبیر اور ملا کا دین فی سبیل اللہ فساد”۔

دین کافر فکر و تدبیر جہاد 

دین ملا فی سبیل اللہ فساد

اقبال مثنوی اسرار خودی کے ایک شعر میں لکھتے ہیں:

“واعظوں کا یہ حال ہے کہ وہ ہاتھ ہلا ہلا کر کہانیاں بیان کرتے ہیں۔ ان کی تقریروں میں لفاظی بہت ہوتی ہے مگر معانی کم”۔

اقبال کے مطابق قومی اخلاقی تربیت کا جو کام علما اور واعظ انجام دے رہے ہیں وہ بالکل بھی اس کے اہل نہیں ہیں۔ ان کا علم بہت محدود ہے حالانکہ اخلاق اور مذہب کی تعلیم کے لیے علماء کو تاریخ، اقتصادیات، عمرانیات اور قوم کے ادب سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے لیکن اس کے برعکس علماء نے اپنی بے عملی کے ساتھ خزبہ جہاد کو ٹھنڈا کر دیا۔ اقبال کی اصل خواہش تھی کہ مساجد کے خطیب اور امام علوم دینی اور دینوی سے پوری طرح آگاہ ہوں تاکہ مسلمانوں کی رانمائی کر کے ایک مثالی معاشرہ قائم کرنے کا مثبت کردار ادا کر سکیں۔

اقبال شروع سے ہی فرقہ ورایت کے بہت خلاف تھے۔ اقبال نے مسلمانوں میں فرقہ بندی  اور باہمی انتشار اور ہر قسم فرقہ بندیوں اور نسلی و نسبی اور ملک و قومیت پر تفاخر کو مسلمان قوم کیلئے زہر تصور کیا۔ مسلمانوں میں جو غیر اسلامی عوامل جیسے نفرت و حقارت اور عداوت پیدا ہوتی اس کی بھرپور مذمت کی تاکہ ان خطرناک رجحانات سے قوم کو محفوظ کیا جا سکے جس نے ملی وحدت اور جمعیت کو پارہ پارہ کر دیا۔ ان کے خیال میں تنگ نظری، انتہا پسندی اور شدت پسندی نے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اقبال نے فرقہ وارانہ تحریروں کے بارے میں ایک انٹر ویو میں کہا

” لیکن اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں تحریر کی آزادی کو دبانے کا خواہش مند ہوں کیونکہ میرے خیال سے آزادیء تحریر قوم کی ترقی کا ایک اہم جزو ہے۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ دیسی زبانوں کے جرائد کو اپنی طاقت اور اپنے اثر سے بخوبی واقف ہیں اپنی ذمہ داریوں کو بھی اچھی طرح محسوس کرنے لگیں۔ میرا خیال ہے کہ ہر شخص اس معاملہ میں میرے ساتھ اتفاق کرے گا کہ ملک کے بہترین مقاصد کے پیش نظر یہ امر نہایت ضروری ہے کہ ایسی تحریروں کو جو فرقہ ورانہ کشیدگی پیدا کرتی ہیں، روکا اور دبایا جائے۔ اگر کوئی اور صورت نہ ہو تو قانون ہی کے ذریعے سے اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔”

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں

چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامئہ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تیری تحریر سے

دیکھ! کوئی دل نہ دکھ جائے تیری تقریر سے

ایک خدا ایک ضابطہ حیات اور زندگی کا ایک مقصد رکھنے والوں میں انتشار و افتراق کی موجودگی نہایت افسوس ناک ہے۔فرقہ بازی اللہ تعالی کے نزدیک شرک عظیم ہے۔ارشاد باری تعالی ہے کہ مشرکوں میں نہ ہو جانا جنہوں نے دین میں رخنے ڈال کر ملت کو فرقوں میں بانٹ دیا۔ اور ہر فرقہ اپنے معتقدات میں مگن اور فرحان ہو گیا اور دوسروں کو بھٹکا ہوا تصور کرنے لگا۔ اقبال نے اپنے انگریزی مضمون ” اسلام بحیثیت ایک اخلاقی اور سیاسی نصب العین” میں تحریر کیا:

” جب حق بجائے خود خطرے میں ہو تو اس کی تاویلات پر مت لڑو۔ رات کو تاریکی میں چلتے وقت ٹھوکر کھانے کی شکایت کرنا بے معنی ہے۔ آءو ہم سب مل کر آگے بڑھیں۔ طبقاتی امتیازات اور فرقہ بندی کے بت ہمیشہ کے لیے پاش پاش کردیں تاکہ اس ملک کے مسلمان ایک بار پھر ایک عظیم، با معنی قوت کی صورت میں متحدہ ہوں۔”

اقبال نے وطن پرستی کی مذمت یورپ میں نیشنلزم یا قومیت پرستی کے تباہ کن اثرات کو پیش نظر رکھتےہوئے کی اور مسلمانوں کو اس قومیت پرستی کے زہر سے اپنے آپ کو محفوظ و مامون کرنے کے لیے اس سے اجتناب کرنے کی تلقین کی ہے۔ لیکن افسوس کہ اہل یورپ کی وجہ سے قومیت پرستی کی لعنت ہمارے اندر سازشوں کے ذریعے داخل کر دئ ہے۔ انہوں نے اسلامی ممالک میں اپنے نسلی علاقائی امتیازات اور مفادات کی اوٹ میں اس کو چھوٹی چھوٹی مملکتوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ امریکہ کی ایک خفیہ رپورٹ مطابق “اسلام کا بنیاد پرست” ان کا سب سے اہم دشمن ہے جسے وہ جتم کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ ایجنسیز نے مسلمانوں کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ سب سے پہلے وہ لوگ آتے ہیں جو اسلام کو ایک مکمل نظام حیات سمجھتے ہیں۔ جو اسلام کو مذہب کے علاوہ سیاسی اور سماجی زندگی گزارنے کا طریقہ سمجھتےہیں۔ دشمن کی نظر میں یہ سب سے پڑے تصور کیے گئے ہیں اور ان کو ختم کرنے کی سازشیں سب سے زیادہ کی گئی ہیں۔ پھر دوسرے نمبر پر روایتی علماء آتے ہیں جو اپنی مدرسوں اور مسجدوں کے اندر پڑھانے میں مصورف رہتے ہیں۔ ان کہ خیال سے یہ طبقہ خطرناک  نہیں ہے لیکن اگر یہ طبقہ اسلام کے بنیاد پرست کے ساتھ شامل ہو جائیں تو بہت بڑا طاقت بن سکتے ہیں لہذا وہ ان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر جدیدیت پسند مسلمان جو اسلام کی ایسی تعبیر کر رہے ہیں جو یورپ کی تہذیب کے ساتھ مل رہی ہے۔ اور یورپ نے ایسوں کی مدد کرنے کا منصوبہ کیا ہے اور سب سے آخر میں سکیولر آ جاتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام نام ہے نماز، روزہ، حج زکوۃ  کا اور اس کے علاوہ دوسری زندگی سے مذہب کا تعلق نہیں۔ اہل یورپ آخری دونوں طبقات کو سپورٹ کر کے اسلام کی اصل صورت اور مکمل سیایسی اور سماجی نظام کو دبا دینا چاہتے ہیں۔

ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا میں ایک بھی اسلامی تحریک کامیاب نہ ہو سکی اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنا سیاسی نظام چھوڑ کر دوسروں کے نظام پر عمل پیرا ہونا شروع کردیا۔ ہم نے سوشلزم کا سیاسی، معاشئ، اور معاشرتی نظام اس زندگئ کے فلسفے پر مبنی اپنی تہذیب میں شامل کر لیا۔ یہ نظام مذہب کو بہت ساری بیماریوں کا گڑھ تصور کرتا ہے۔ یاد رکھیے اسلام صرف روحانی احکام اور نظریات یا مذہبی رسوم و مراسم کا نام نہیں یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو زندگی کے ایک ایک گوشے پر محیط ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا سارے اجتماعی زندگی سے۔ ایک مومن کی منزل مقصود کے لیے آغاز سفر لا الہ پر ایمان محکم سے ہوتا ہے اور اس پر عمل جزبہ جہاد سرشار ہو کر ہر قسم کے غیر اسلامی اداروں کو ختم کرنے سے ہو سکتا ہے۔لا الہ کی منزل تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ ماسوا اللہ کی حکومتوں کو قبول نہ کیا جائے۔ لا کا مرحلہ مشکل ترین مرحلہ ہے جو ایک مجاہد کا مرحلہ ہے جو ہر قسم کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مرحلہ جذبہ عشق یا ذوق و شوق اور سوز و درد کے حامل لوگ ہی سر دھڑ کی بازی لگا کر ہی طے کر سکتے ہیں۔ علامہ فرماتے ہیں:

لا مقام ضرب ہائے پے بہ پے

این غور رعد است نے آواز نے

اللہ تعالی کے ارشاد کے مطابق مسلمان وہ لوگ ہیں جو اپنی جان اور مال خداوند کے پاس جنت یا جنتی معاشرے کے عوض فروخت کر دیتے ہیں۔ درحقیقت اقبال نے مرد مومن کے لیے ہی مجاہد کا استعارہ استمعال کر کے بتایا ہے کہ کس قدر سوز اور فرق ہوتا ہے ایک ملا اور مجاہد کی اذان میں۔ اور ہماری ناقابل رشک بلکہ ناگفتہ بہ حالت کا واحد علاج قرآن کے جملہ احکام سے اجتماعی طور پر والہانہ وابستگی میں مضمر ہے اور جب تک مسلمان مختلف فرقوں کو چھوڑ کر اور غیر اللہ کی اطاعت کر کے منشائے الہی کے مطابق قرآن کے احکام کو زندگی کے تمام گوشوں اور شعبوں پر کامل طور ہر نافذ نہیں کرتے ان کی موجودہ پستی کا مداوا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور یہ مقصد قرآن مجید پر تفکر و تدبر اور اجتہاد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور یہ کام تفقہ فی القرآن اور علوم جدیدہ کے ماہرین کے ہاتھوں سے ہی انجام پا سکتا ہے۔ جب تک مسلمان کے قول اور فعل اس قدر خوبصورت اور خوب سیرت نہ ہو جائیں کہ ان میں خدائی صفات اور رسول اکرم صلہ کے اسوہ حسنہ کی جھلکیاں نظر یا ہر لحاظ سے دنیا سے منفرد اور مثالی نظر نہ آئے تو وہ اقبال کا مجاہد نہیں کہلا سکے گا۔ اقبال ایک متروک نظام ” فریادامت” کے چند اشعار کے ساتھ ہی میں اس مضمون کا ختم کرتا یوں کہ:

تیری الفت کی اگر ہو نہ حرارت دل میں

آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

ارسلان صادق
ارسلان صادق
میرا نام ارسلان صادق ہے۔ میں جڑانوالہ فیصل آباد کا رہائشی ہوں۔ میں گونمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ کانون کا طالب علم ہوں۔ لکھنا میرا شوق ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *