ڈیڑھ سو کا لیکچر۔۔۔مطربہ شیخ

تقریبا بیس سال پہلے ماسٹرز کیا تھا تو آگاہی ہوئی  تھی کہ لیکچرار شپ کے لئے تو اپلائی تب ہی ہو سکتا ہے جب گورنمنٹ کیطرف سے آسامیاں جاری ہونگی ، لیکن صورتحال یہ بھی تھی کہ پورے کراچی کے کالجز اور گنی چنی جامعات میں لیکچرار اور اساتذہ کی ضرورت تھی ، مختلف طلبہ تنظیموں نے اس ضمن میں رپورٹس بھی بنائی   تھیں لیکن وہی بات کہ گورنمنٹ اور اسکے عہدے دار کب کسی کی سنتے ہیں ۔ کچھ قابل اور فارغ التحصیل طلبہ کو عارضی طور پر لیکچرر شپ ملی تو معلوم ہوا کہ ایک لیکچر کے ڈیڑھ سو روپے ، بیس سال پہلے یہ ڈیڑھ سو تھے اور اب دو ہزار اٹھارہ میں یہ پانچ سو ہو گئے ہیں گویا بات سینکڑوں سے آگے نہیں بڑھی ہے ۔ اور یہ ادائیگی بھی کافی دن کے بعد کی جاتی ہے ۔ ضابطے کی لاتعداد کاروائیاں کی جاتی ہیں ۔ ساری ضابطے کی کاروائیاں صرف شعبہ تعلیم میں ہی کی جاتی ہیں ، باقی محکمہ جات اس سے مبرا نظر آتے ہیں ۔ اور ہم خود کو عظیم مسلمان اور عظیم قوم گردانتے ہیں ۔ جس دیس میں اسکولوں کی عمارات میں مویشی پالے جائیں اور استاد کی تنخواہ گھریلو اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہ ہو ، وہاں تعلیم کا یہی حال ہوتا ہے جو ہمارے یہاں ہے ۔ رہی سہی کسر پچھلے پندرہ سالوں سے جاری سماجی و میڈیا ئی  کشمکش نے پوری کر دی ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق چانسلر اور دیگر اساتذہ کو جس طرح ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا ، وہ ایک شرمناک و اذیت ناک فعل ہےاور اللہ کا شکر ہے کہ پہلی بار سوشل میڈیا کے ساتھ صحافتی برادری کے دل کو بھی کچھ ہوا اور اس ضمن میں احتجاج سامنے آیا ۔

لیکن اگر یہ احتجاج اسوقت آ جاتا جب جامعہ کراچی کے پروفیسر کامریڈ ڈاکٹر حسن ظفر عارف ۔ پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد اور محترمہ مہر افروز کو اسی طرح ہتھکڑیاں لگا کر حراست میں لیا گیا اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کر کے جیل بھیجا گیا ۔ بعد ازاں مقدمے کے بعد باعزت بری بھی کر دیا گیا ، لیکن کامریڈ اور قابل فلسفے کے استاد ڈاکٹر ظفر عارف کو رہا کر دینے کے باوجود مورخہ تیرہ جنوری کو 2018 کو اپنے دفتر سے گھر جاتے ہوئے لاپتہ کر دیا گیا، صبح خبر چلی کہ انکی تشدد ذدہ نعش انکی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ملی ہے ۔ سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تو انکی موت کو طبعی قرار دیا لیکن پروفیسر صاحب کے بدن اور سر پر تشدد کے واضح نشانات تھے ۔ اس وقت نہ جانے کن مصلحتوں کے تحت کسی نے وہ احتجاج نہیں کیا جس کے حقدار ڈاکٹر ظفر عارف صاحب تھے ۔ انکی زندگی بے دردی و بے انصافی کے ساتھ چھینی گئی  ۔ پنجاب میں ابھی تو بات صرف ہتھکڑیوں تک آئی  ہے ، لیکن بر وقت اور درست موقع پر احتجاج کر لیا جاتا تو ہتھکڑیوں کی نوبت بھی نہ آتی ۔احتجاج اور حق بات کہنے اور لکھنے سے ظلم بڑھتا نہیں بلکہ مٹ جاتا ہے ۔ اپنے آپ کو ہر سطح پر اس قابل کیجئے کہ حق بات کہہ سکیں اور لکھ سکیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ڈیڑھ سو کا لیکچر۔۔۔مطربہ شیخ

  1. Two things to comments:
    1. When teachers would be paid peanuts, only monkeys shall be created. See the fee structure of any private school, compare with the govt schools and at the same time compare with the private school without mighty banner of school systems, you will know why our education system is under the influence of degradation. In a country where a pair of shoes costs more than the salary of an educator, hand-cuffing is merely symbolic to the mind set and notion of the whole society that how it treats the elite force of nation building.
    2. Professor Zafar Arif had been a torch bearer of a community in an apartheid society. Do you think that in such a society which clearly is marked between the “who is who”, there could be a more meaningful treatment with the Comrade? Its a society of self proclaimed righteous elements which ONLY whose thoughtfulness is limited to 2 prongs: one belongs to the soil and if one belongs to the specific religious sect. In such a society, hand-cuffing is matter of petty issue. The issue of this society is to get liberated from the bigotry of every type – be it blind folded religious herds or followers of “mutal’a-e-Paksitan.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *