شعور۔۔۔۔مختار پارس

میں کون ہوں اور کیا چاہتا ہوں۔سوال اہم ہے،جواب نہیں۔۔۔
سوچ کے دروازے پر دستک ضروری ہے۔دروازہ کھلنے کا انتظارکچھ معنی نہیں رکھتا،جس کو وسعتِ ادراک حاصل ہے،صرف وہی ہم راز اور بہی خواں بننے کا حقدار ہے،تڑپ خود بخود مکان ڈھونڈ لیتی ہے۔کون جانے کہ میں کس مکان میں رہتا ہوں،کسے خبر کہ میں کچھ چاہتا بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔
جب رہے نام اللہ کا تو پھر شناخت کیا ضروری ہے،زرد پتوں کی کیا مجال ک درختوں سے اگلی بہار آنے تک کی مہلت لے لیں۔کیا کوئی لہر بھی کبھی دوبارہ ساحل پر لوٹ کرآئی۔سب رنگوں نے گردشِ دوراں کی عمیق اور اسود گہرائیوں میں غرق ہوجانا ہے،مگر وہ ساعت جس کی مدت آنکھ جھپکنے تک محدود ہے،اور جِسے ہم دائرہ ء حیات کہتے ہیں،ہزار سال پر بھی بھاری ہے،اگر اس نے وہ خیال دیکھ لیا جسے امر و نہی کا حساب رکھنا ہے۔
مجھے ان نوازشوں کی طلب تو نہ تھی،نہ میں نے سماوات سے طعام دہن مانگا تھا،اورنہ میں قیامِ طویل کا طلبگار تھا،میں نے تو سرکشی مانگی تھی،جو عطا ہوگئی۔ان اس انکار کا کیا کروں جو صحرا نوردوں کے نصیب میں لکھ دیا گیا ہے،میں لاکھ سر جھٹکوں سراب تو آنکھوں سے ٹکرائے گا۔آنکھیں موند لینے سے جھوٹ نظر آنا بند نہیں ہوتا،جتنے بھی دلنشیں ذائقے ہیں،سب سراب ہیں۔۔۔پھولوں کی مہک سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں،نہ پہناوے کی کوئی حیثیت ہے اور نہ اُترن کی۔عجب داستان ِ بغاوت ہے،کہ کچھ کہا بھی نہیں،کچھ کِیا بھی نہیں اور کچھ سُنا بھی نہیں۔
حاصلِ حیات صرف انکار ٹھہرا۔کیا خبر کہ جب زمین پھٹے اور پہاڑروئی کے گالوں کی طرح اُڑنے لگیں،اس وقت بھی انکار ہوجائے اور آتشیں باب کی طرف جانے والیسارے راستے متقفل ہوجائیں،حکمت ِانکار سے انکار ممکن نہیں،اور اسباب ِ انکار توسعیِ روشن کی نوید دیتے ہیں۔
میں اپنی طرف ہزار میل کا سفر بھی طے کیوں نہ کرلوں مجھے لوٹ کر تو جانا ہے،قافلے واپسی کی طرف رواں دواں ہوں توآوازِ جرس بیتاب ہوجاتی ہے۔
اگر واپسی کا سفر کسی اپنے کی خواہش میں ہو تو عداوات اور عقیدت ہاتھوں میں ڈال کر بھاگتی نظر آئیں گی،اب اپنے کی مرضی ہے کہ وہ عداوت بازو پکڑ ل یا عقیدہ کو گلے سے لگا لے۔اپنے کو کوئی اپنا کہے تو وہ دامن میں نور و شعور کیونکر نہ بھرے گا۔
پیداکرنے والے تفریق نہیں کرتے،تخلیق کا روں کو عطا کرکے خوشی محسوس ہوتی ہے،بنانے والے مٹی میں محبت گوندھ کر بناتے ہیں،تخلیق ہونے والوں کو بالکل نہیں جچتا کہ وہ اپنے سے مختلف ہونے کا تقاضا سوچیں،کوئی برسرِ توقیر ہے تو کوئی برسرِ پیکار۔دونو ں کی وجہ محبت ہے اوراس کے سوا کچھ نہیں،نہ شاہ گداؤں کی جگہ لے سکتے ہیں،اور نہ ہی درویش سخی دامنوں کی۔عطا کا رضا سے تعلق ہے۔مخلوق کا خدا سے فقط یہی تعلق ہے۔باقی سب گورکھ دھندا ہے،کوئی جیسا بھی ہے،جو بھی ہے،رضا کے سورج میں نہا چکا تو طلوع ہوگیا۔
یہ بھٹکتے رہنے کا سفر ختم ہوسکتا ہے،دلِ مضطر میں کیف و سرور کا حصول یقیناً ممکن ہے،مگر نگاہِ منتظر کی تلاش ضروری ہے،دست و پا کا مقصد کسی کو سہارا دینے کے سوا کچھ نہیں،کھنکھناتے ہوئے سِکے اور اِتراتے ہوئے لہجے فسانے اور فسوں سے زیادہ کچھ نہیں،دیے ہوئے کو خود پر لگانا مقصدِ زیست ہر گز نہیں،ہر راستے پر ہمارا امتحان ہے،کہیں کوئی زار و قطار رورہا ہے تو کہیں کوئی افسردہ آنکھوں سے ماتم کناں ہے،کسی کے صحن سے خالی ہنڈیا بجنے کی آواز گونجتی ہے،اور کسی کے گھر سے امیدوں کے سِسکنے کی سرسراہٹ ہے،کہیں کوئی چہچہاہٹ ہے،کبھی کوئی نقرئی آواز میں ہنستا ہے،کہیں مسکراہٹیں سرگوشیاں کرتی ہیں،کون جانے کہ ان آوازوں میں سے کس آواز میں خدا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *