سوئے ہوئے نگر کی کہانی۔۔۔(23)ڈاکٹر ستیہ پال آنند

پہاڑوں سے گِھری گلپوش وادی تھی
وہ ننھا سا نگر
وادی کی مشفق گود میں بیٹھا ہوا
لگتا تھا جیسے ننھا بچہ سو رہا ہو
(اوں غوں کرتا ہوا اِک*” پالنے” میں (*پنگھوڑا)
کچھ مکاں پکے تھے ،اینٹوں سے بنے تھے
بیشتر کچے تھے، مٹی کے گھروندے
لوگ سب نادار تھے ۔۔۔ قلاش، خستہ حال، لیکن
دل کے اچھے اور خوش گزران ۔۔۔
حاجتمند کی حاجت روا رکھنےکے قائل

لوگ وادی کی ڈھلانوں پر
ارا ضی کا ذرا سا ایک ٹکڑا
مانگ لیتے تھے پہاڑی سے
کڑی محنت سے بوتے، پالتے تھے
فصل کو ۔۔۔ اور جب انہی ڈھلوان کھیتوں میں
مکئی کے سبز، پیلے، لال بھُٹے جگمگاتے تھے
تو ننھا سا نگر
وادی کی مشفق گو د میں ایسے ہمکتا تھا
کہ جیسے
چاند کو مٹھی میں اس نے بھر لیا ہو
“فصل ماں کا دودھ ہے ۔۔۔
(دھرتی ہی سب جی جنتوؤں کی ماں ہے ” (جی جنتو : مخلوق
کھیتوں کی ڈھلانیں یہ کہاوت جانتی تھیں
شِیر ِ مادر کی بشارت
ہر نئے موسم میں دیتی تھیں
نگر کے باسیوں کو
اپنے بچوں، پوتے، پوتی اور ناتی، ناتیوں کو

٭
اک سہانی شام کو بھونچال آیا
زلزلہ، جو
شہر سے آئے ہوئے کچھ لوگ اپنے
ساتھ لائے تھے، ٹرکوں، گاڑیوں میں
اونچی آوازوں کے بھونپو
اور ان پر بولنے والے وہ شہری لوگ
آوازوں کی مقناطیسیت سے
یہ بتاتے تھے کہ اب اک زلزلے کی
آمد آمد ہے، انہیں تیار بر تیار رہنا چاہیے

زلزلہ آیا۔۔۔ بموں، میزائلوں،توپوں کی
بم چخ، گڑگڑاہٹ، ٹھن، ٹھنا ٹھن
کی سماعت پاش آوازیں اٹھیں
۔۔اور پھر
اونچے پہاڑوں کی طنابیں ہل گئیں
کھیتوں کی دھرتی میں دراڑیں پڑ گئیں
یوں مادر ِ مشفق کا سینہ شق ہوا
جیسے کبھی سالم نہ تھا۔۔۔۔
اور فصلیں
جو کہ دانوں سے مرصع
اپنے خوشوں کو اٹھائے
منتظر تھیں ،گاؤں والو ں کی
کہ آ کر یہ تحائف ان سے لے لیں ۔۔۔
سب فسادی ، بر سر ِ پُر خاش ہاتھوں سے جلا ڈالی گئیں۔

نفرت کے تودے آسماں سے یوں گِرے
اوزار، ہل، سامانِ ِ خورد و نوش
صحنوں میں بندھے سب ڈھور ڈنگر
اور گھر بھی ۔۔۔
دب گئے ، جیسے کبھی تھے ہی نہیں ۔۔۔

کچھ رہ گیا تو
نیم مردہ لوگ ۔۔۔آدھی سے بھی کم تعداد میں
زخمی پرندوں کی طرح
ٹوٹے ہوئے، ہلکان، گھائل
راکھ چہروں پر پُتی
آنکھیں کھلی، لیکن
بہت کچھ دیکھ کر بھی دیکھنا جیسے کٹھن ہو
ڈھہ چکے کچے گھروں سے رینگتے
ہاتھوں کے بل چلتے ہوئے
ملبے کے ڈھیروں سے
کوئی برتن، کوئی ٹوٹی ہوئی گُڑیا
کوئی اِک اَدھ جلا کپڑا
بچانے کے تردد میں
پریشاں حال ۔۔۔ بےچارے

وہ سارے لوگ
جو بھونچال اپنے ساتھ لائے تھے
نہ جانے، کب کے رخصت ہو چکے تھے
اغلباً
اک اور ننھے سے نگر کی کھوج میں
۔۔۔جو سو رہا ہو!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *