• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • پاپی:خط کہانیاں،آج کی سچائیاں/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط1)

پاپی:خط کہانیاں،آج کی سچائیاں/ڈاکٹر خالد سہیل ۔مرزا یاسین بیگ(خط1)

خط نمبر ۱
کیا آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں؟

محترمہ و معظمہ جنابہ رضوانہ صدیقی صاحبہ !

زندگی دلچسپ بھی ہے اور پراسرار بھی کیونکہ وہ ایک حیرت کدہ ہے۔ آج میں ایک معمہ‘ ایک بجھارت اور ایک پہیلی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہورہا ہوں عین ممکن ہے اس بجھارت’ اس معمے اور اس پہیلی کی کنجی آپ کے پاس ہو۔

ممکن ہے آپ ایک اجنبی ہوں اور مجھے بالکل نہ جانتی ہوں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ آپ مجھ سے مل چکی ہوں اور مجھے اچھی طرح جانتی ہوں-

کیا آپ نے سنا ہے کہ بعض دفعہ انسان غلطی سے صحیح کام کر جاتا ہے یا غلط راستے سے صحیح منزل تک پہنچ جاتا ہے۔

میں آپ کو اس میسج کا پہلے بیک گراؤنڈ بتاتا ہوں اور پھر حرف مدعا بیان کرتا ہوں۔

میں فیس بک کی دنیا میں قدرے نووارد ہوں اور اکیسویں صدی کی جدید ٹکنالوجی سے کافی حد تک نابلد بھی۔میں اپنے بچپن کے دوست رضوان سلیم کی تلاش میں نکلا تھا اور جب رضوان ٹائپ کیا تو ان کے نام کی بجائے فیس بک پر رضوانہ صدیقی کا نام ابھر آیا اور میں کافی دیر تک کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے فیس بک نے نہ چاہتے ہوئے بھی میرے دل کے تاروں کو چھیڑ دیا ہو اورکسی نےمیرے من کے نہاں خانے میں سرگوشی کی ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں جن کی میں تلاش میں ہوں یا آپ ان کی ہم نام ہیں؟ اس کا صحیح جواب تو آپ ہی دے سکتی ہیں میں صرف اس کا جواب دینے میں آپ کی کچھ مدد کر سکتا ہوں۔

کیا آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں جن کی بیس سال پیشتر پاکستان میں کسی عرفان قمر سے چند ملاقاتیں ہوئی تھیں؟

کیا آپ وہی رضوانہ ہیں جن کے بال اتنے لمبے تھے کہ ٹخنوں کو چھوتے تھے؟

کیا آپ وہی رضوانہ ہیں جو یونیورسٹی کے دور میں بیت بازی کے مقابلوں میں حصہ لیا کرتی تھیں اور اپنی یونیورسٹی کے لیے انعام جیتا کرتی تھیں۔ مجھے یاد آ رہاہے جب ہم دونوں نے لاہور میں نیشنل بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔آپ کراچی یونیورسٹی کی ٹیم میں تھیں اور میں پشاور یونیورسٹی کی ٹیم میں۔ ہم دونوں کی ٹیم فائنل تک پہنچ گئی تھی۔ مقابلہ بہت سخت تھا۔ آخری منٹ میں میں نے د سے شروع ہونے والا ناصر کاظمی کا شعر پڑھا تھا

؎دل تو میرا اداس ہے ناصر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

اس شعر  کے پڑھنے سے ہماری ٹیم ایک نمبر سے جیت رہی تھی۔ اگر آپ کی ٹیم کو ی سے شعر یاد نہ آتا تو ہم فائنل جیت جاتے لیکن آخری تیس سیکنڈ میں آپ نے جو شعر پڑھا تھا وہ مجھے آج بھی یاد ہے

؎یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

آپ کی ٹیم کو گولڈ میڈل ملا اور ہماری ٹیم کو سلور میڈل۔ مقابلے کے بعد میں نے آپ کو مبارکباد دی تھی اور آپ سے کہا تھا کہ میں بھی آپ کی طرح مرزا غالبؔ کا مداح ہوں اور ثبوت کے طور پر اسی غزل کا مقطع سنایا تھا

؎یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتےجو نہ بادہ خوار ہوتا

کیا آپ وہی رضوانہ ہیں جو تقریری مقابلوں میں بھی شرکت کرتی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ملتان کے ایک تقریری مقابلے میں موضوع تھا

؎جدا ہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

آپ نے ایک اسلامی ریاست کے حق میں تقریر کی تھی۔ اور میں نے کہا تھا کہ

مذہب انسانوں کا ہوتا ہے ریاستوں کا نہیں۔ ریاست کی نگاہ میں سب شہری برابر ہوتے ہیں۔اس مقابلے میں مجھے پہلا اور آپ کو دوسرا انعام ملا تھا۔

اس مقابلے کے بعد آپ مجھے مبارکباد دینے آئی تھیں لیکن اس دن آپ نے جس انداز سے مجھے دیکھا تھا اس پر مجھے فراز کا شعر یاد آ گیا تھا

؎یہ کن نظروں سے تو نے آج دیکھا

ترا یہ دیکھنا دیکھا نہ جائے

امید ہے اب تو آپ کو ماضی کی بہت سی خوشگوار یادوں نےگھیر لیا ہوگا۔

یہ پیغام لکھتے ہوئے اب مجھے خود احساس ہو رہا ہے کہ میں جذبات کی رو میں کچھ زیادہ ہی کہہ گیا ہوں۔ دراصل آپ کی یاد نے میرے دل میں بہت سی سرگوشیاں کیں اور میرا قلم عالمِ وارفتگی میں ماضی کے دریا میں دور تک بہتا چلا گیا۔

اگر آپ وہ رضوانہ صدیقی نہیں ہیں جن کی میں تلاش میں ہوں تو پھر میں معذرت کے ساتھ یہی کہہ سکتا ہوں

؎آرزو اور آرزو کے بعد خونِ آرزو

ایک مصرعہ میں ہے ساری داستانِ زندگی

اور اگر آپ وہی رضوانہ صدیقی ہیں جن سے میں بیس سال پیشتر مل چکا ہوں‘جب آتش جوان تھا’ تو یہ میری خوش بختی ہوگی۔

آپ کے جوابی پیغام کا شدت سے انتظار رہے گا۔

مخلص

عرفان قمر

خط نمبر ۲۔۔۔
پریم پترکی راکھ

تمہارا پریم پتر پڑھ کر پہلے جتنا ہنسی آخر میں اتنی ہی اداس ہوگئی۔

مسٹر!

تم کون ہو؟ کہاں سے ہو؟ کیوں ہو؟ مگر جو بھی ہو ، جہاں سے بھی ہو ، بہت خوب ہو۔ جب میں نے تمہارا یہ ”پریم پتر“ پڑھا تو پہلے زیرلب مسکرائی ، پھر دانت نکال کر ہنسی اور چند سیکنڈوں بعد قہقہے مارنے لگی ۔ وہ تو شکر ہے کہ کوئی میرے قریب نہیں تھا ورنہ مجھے پاگل سمجھتا یا پھر اپنی دماغی حالت کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مجھے اسے بھی تمہارا یہ ”محبت نامہ“ پڑھ کر سنانا پڑتا۔

پتہ نہیں یہ خط تم نے خود لکھا ہے یا کسی نے تمھیں لکھ کردیا ہے ، ہے چاشنی سے بھرپور اور وہ بھی ادبی چاشنی سے ۔ اسے پڑھ کر کسی بھی عورت کا دل وقتی طور پر پسیج سکتا ہے ، اس کے مَن میں ، مَن مَن بھرکے لڈّو پھوٹ سکتے ہیں اور وہ کچھ دیر کے لیے تمہارے بارے میں سوچ سکتی ہے۔

سچ سچ بتاؤ فرزانہ صدیقی کی جگہ فیس بک پر خواتین کے نام نوٹ کرکرکے تم نے کتنی خواتین کو یہی متن بھیجا ہے؟ اور کتنیوں کے جواب پاکر پھولے نہیں سمارہے ہو۔ اگر تم نے یہ خط خود لکھا ہے تو میری طرف سے داد وصول کرو کہ تمھیں لکھنا خوب آتا ہے ۔ آج کے دور میں اس طرح کی نستعلیق معشوقانہ اردو کم از کم میں نے برسوں بعد پڑھی ہے۔

مجھے تم چچا غالب کے رشتےدار لگتے ہو شاید تمہارے بارے میں ہی چچا غالب پیش گوئی کرگئے تھے کہ

؎گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

کعبے سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

پتہ نہیں یہ محض ایک فلرٹیشن ہے یا تمھیں اپنے دل میں بسی کسی یاد سے واقعی سچی انسیت ہے جس کا تم نے خوب فسانہ بنایا ہے ۔ میرے فیس بک پر اسٹیٹس اور اشعار کا انتخاب دیکھ کر تم نے نجومیوں والی نفسیات سے کام لیا ہے اور بیت بازی و تقریری مقابلوں کی بپتا لکھ ڈالی ہے جو اس ایج گروپ کی لڑکیو ں پر فٹ بیٹھتی ہے ۔ ان دنوں غیرنصابی سرگرمیوں میں ان ہی دو طرح کے بین الکلیاتی مقابلے خوب ہوا کرتے تھے اور تم نے ان کی منظر کشی میں جس طرح اپنے آپ کو ہیرو اور مخاطب خاتون کو ہیروئین بناکر پیش کیا ہے وہ تمہاری ذہانت و یادداشت کا اچھا ملغوبہ ہے۔

سچ پوچھو تو بہت دنوں بعد ایسی کسی شرارت پر میں دل کھول کر ہنسی ہوں اور ہنستے ہنستے اپنے ماضی میں کھوگئی ۔ واپس آئی تو تمہارا فیس بک پیج دیکھا ۔ تم ایک پینتالیس چھیالیس کے مرد ہو اور چہرے سے معتبر بھی لگتے ہو اور پرانےعاشق مزاج شناسا بھی ۔ بقول شاعر

؎بہت عجیب ہے یہ قربتوں کی دوری بھی

وہ میرے ساتھ رہا اور مجھے کبھی نہ ملا

عجیب روہانسی ہورہی ہوں ۔ کیا لکھنا ہے یا کیا نہیں لکھنا ہے ، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ وقت شناسائی کو اجنبیت میں بدل دیتا ہے ۔ اجنبی کو پہچاننا اور پھر اس سے گفتگو کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا خاص طور پر ایک عورت کے لیے ۔ فیس بک ویسے بھی قابل اعتبار نہیں ۔ کس کے بھیس میں کون بیٹھا ہے اور کیا چاہتا ہے یہ سمجھنا مشکل کام ہے ۔

سچ سچ بتاؤ کیا تم واقعی عرفان قمر ہو؟ تمہاری یادداشتوں میں کچھ اور ہے تو وہ بھی لکھو ۔ ثابت کرو کہ تم عرفان قمر ہو اور یہ بھی بتاؤ کہ یہ راکھ اڑانے کیوں آئے ہو؟ کیا ملےگا اس سے؟ کالج کی لڑکی کے لیے بعد کے بیتے بیس پچیس سال صرف دو یا ڈھائی دoائی نہیں ہوتے بلکہ اس کے جسم اور دل کا سودا ہوتے ہیں ۔ وہ صرف زندگی نہیں اپنی قسمت اور خواہشات بھی گزارچکی ہوتی ہے ۔ مردوں کے پینتالیس سال تو تجربات کا کھیل ہوتے ہیں جس کے بعد عشق اور زندگی سے لڑنے کے لیے وہ نئے ہتھیار پالیتے ہیں مگر ہمارے خطے کی عورت اس عمر تک ہتھیار ڈال چکی ہوتی ہے ۔

میں نے جس جگہ بیٹھ کر تمہارا یہ پریم پتر پڑھا ہے اب اس جگہ سے چپک کر رہ گئی ہوں ۔ جانے والے جاتے سمے بھی خالی عورت چھوڑ جاتے ہیں اور اپنی مرضی کی اچانک واپسی پر بھی عورت کو خالی ہی سمجھتے ہیں۔ اب تم نے لکھ دیا ہے تو جلد سے جلد اور بہت کچھ لکھو اس خالی جگہ کو بھرو ۔ وہ پتھر مت بنو جسے پانی میں پھینک کر صرف ارتعاش سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ۔ رضوانہ صدیقی کی تصدیق چاہتے ہو تو اپنی مصدقہ شناخت بھیجو۔ کوئی پرانی تصویر’ کوئی پرانی ایسی بات جو ہم نے کی ہو اور کوئی تیسرا اس سے واقف نہ ہو ۔

تمہارا پریم پتر پڑھ کر پہلے جتنا ہنسی آخر میں اتنی ہی اداس ہوگئی ہوں۔

نہ مخلص ، نہ دوست

بےنام

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *